تازہ تر ین

میاںمحمد بخش صاحبؒ

سجاد جہانیہ…. دیکھی سُنی
اس نام میں ہی ناسٹلجیا ہے۔ چھوٹی چھوٹی مگر حسین یادیں‘ جن میں کسی کی جوانی کے ماہ و سال گندھے ہیں اور کسی کے بچپنے و لڑکپنے کے۔ جو تب جوان تھے‘ اب عہدِ پیری میں بسر کیا کرتے ہیں اور لڑکپنے والے ادھیڑ عمری میں۔ ذکر کرنا چاہتا ہوں میاں محمد بخش سرکار کا اور ان کی سیف الملوک کا۔ مجھے نہیں پتہ کہ شہزادہ سیف الملوک کون تھا اور وہ پری بدیع الجمال کیا ہوئی۔ نہ ہی ان کے سفرالعشق سے دلچسپی ہے۔ مجھے تو بس میاں صاحب کے ان چند شعروں سے غرض ہے جن کی حرفوں میں میرا بچپن پرویا ہوا ہے۔ وہ دن جب میرا لڑکپن تھا اور ابا جی جوان تھے۔
اول حمد ثنا الٰہی‘ جو مالک ہَر ہَر وا
اس دا نام چتارن والا کسے میدان نہ ہردا
کام تمام میسر ہوندے‘ نام اوہدا چِت دھریاں
رحموں سُکے ساوے کردا‘ قہروں ساڑے ہَریاں
یادش بخیر! مولوی غلام رسول اور مولوی عبدالستار نے بہ زبانِ پنجابی جو قصہ یوسف زلیخا لکھا ہے‘ ہمارے ابا جی کو ان کے صفحات کے صفحات زبانی یاد ہیں۔ یہ دونوں کتابیں ہوش کی آنکھ کھولی تو گھر میں موجود پائیں۔ان کے علاوہ سیف الملوک کے بے شمار اشعار اباجی کو زبانی یاد تھے اور وہ موقع بہ موقع ان کتابوں کے اشعار پڑھا کرتے تھے۔ چوتھی جماعت میں ہمیں جو اردو کی کتاب پڑھائی جاتی تھی‘ اس میں ایک سبق میاں محمد بخشؒ پر بھی تھا۔ مجھے یاد ہے جس روز ہم نے جماعت کے کمرہ میں یہ سبق پڑھا تو اس کے آخر میں درج پنجابی شعر میں نے بہ اہتمام یاد کیا کہ ابا جی ہر وقت شعر سنایا کرتے تھے‘ آج میں ان کو سناﺅں گا۔ پھر جب انیس صد اڑسٹھ ماڈل کی اس گاڑی پر‘ جس کی اگلی سیٹ بھی پچھلی کی طرح بنچ جیسی لمبی ہوتی تھی‘ ابا جی مجھے سکول سے لینے آئے تو بستہ میں نے ابا جی اور اپنے درمیان پٹخ کر چھوٹتے ہی کہا ”ابا جی! شعر سناواں….؟“ انہوں نے کہا ضرور سناﺅ۔ تب میں نے بڑی ترنگ میں میاں صاحب کا یہ شعر سنایا۔
دنیا تے جو کم نہ آیا اوکھے سوکھے ویلے
اس بے فیضے سنگی کولوں بہتر یار اکیلے
انہیں خود سینکڑوں شعر یاد تھے مگر پتہ نہیں میرا دل رکھنے کو یا ان کو پسند آیا تھا یہ شعر‘ میری بڑی تعریف کی۔ پھر وہ اکثر کہا کرتے ”یار او شعر سنا میاں صاحب والا“ ا س کے بعد پھر عالم لوہار اور شوکت علی سے سن کر سیف الملوک کے بہت سے شعر یاد کئے۔ ابا جی ایک شعر پڑھا کرتے جس کی مجھے اُس وقت سمجھ نہ آتی مگر اسے سن کر ڈر لگتا تھا۔
لوئے لوئے بھرلے کڑیئے جے تُدھ بھانڈا بھرنا
شام پئی بن شام محمد گھر جاندی نے ڈرنا
جہانیاں منڈی کا سٹیشن‘ لودھراں خانیوال ریلوے لائن پر واقع ہے۔اس کے لمبے سے اکلوتے پلیٹ فارم کے آگے تین ریلوے پٹڑیاں لیٹی ہوئی ہیں جو اَپ اور ڈاﺅن‘ دونوں اطراف کچھ فاصلے پر جاکر ایک ہوجاتی ہیں۔ اب آگے کا جو منظرنامہ بیان ہوگا یہ چالیس بیالیس برس پہلے کا ہے‘ اب ان مناظر کو آبادی اور قبضے نگل چکے ہیں۔ پلیٹ فارم سے اتر کر ان تین لائنوں کو پار کرکے ریت کا میدان تھا۔ ٹیلے تو نہیں مگر ریت کی اونچی نیچی سطح‘ ایک چھوٹا سا قبرستان اور قبروں کے درمیان سے گزرتا ریتلا راستہ جس پر گڈ اور بیل گاڑیوں کے چلنے سے پہیوں کے نشانات والی دو خشک نالیاں سی متوازی چلی جاتی تھیں۔ راستے کے ساتھ اور قبروں کے درمیان اُگے آک اور دوسرے صحرائی پودے۔
یہ راستہ جاکر جرنیلی سڑک سے مل جاتا۔ کچی مگر بے حد چوڑی جرنیلی سڑک دور کہیں جاکر شیرشاہ سوری کی بنائی ملتان دہلی روڈ سے بغل گیر ہوتی۔ ریت کا یہ مختصر سا قطعہ ختم ہوتا تو ہمارے چک کی زمین شروع ہوجاتی جو آباد اور پکی تھی۔ چک کی آبادی وہاں سے کوئی پون کلومیٹر دور تھی۔ جرنیلی سڑک پر چڑھ کر ڈیڑھ دو سو قدموں کے بعد درختوں کا وہ گھنا جھنڈ جرنیلیسڑک کو اپنی آغوش میں لے لیتا جس کے ایک طرف ٹیوب ویل تھا اور دوسری طرف ایک بڑی سی قبر جس پر شام کے بعد کبھی کبھی دیا بھی جلتا نظر آتا۔ ٹیوب ویل سے نکلتا پانی کا کھالا جرنیلی سڑک کراس کر کے قبر کے پہلو سے ہوتا آگے نکل جاتا۔ یہاں اس جھنڈ کے عین درمیان اس کھالے پر پلیا بنی تھی۔ ان درختوں بارے آسیب کی کہانیاں مشہور تھیں۔ چک سے منڈی آنے جانے کا یہی راستہ تھا۔ اس پلیا سے گزرتے مجھے عجیب سا خوف اور سحر کا سا اثر محسوس ہوتا تھا۔
چھٹیوں میں یا ویک اینڈز پر جب چک گئے ہوتے تو کزنز کے ساتھ آوارہ گردی کرتے‘ شہر جاتے‘ ریلوے لائن پر سکے رکھتے اور ذرا بڑے ہوئے تو کبھی سینما دیکھنے شہر جاتے۔ تب واپسی اسی راستہ سے ہوا کرتی‘ عجیب آسیبی سا سفر ہوتا اس راستے پر پیدل چلنے کا۔ میاں محمد بخش کا یہ شعر سن کر یہی راستہ میری نظروں میں گھوم جاتا۔ مجھے لگتا جیسے چک کی کوئی لڑکی سٹیشن پر لگے ہتھ نلکے سے پانی کا گھڑا بھرنے گئی ہے اور میاں صاحب اس کو نصیحت کررہے ہیں کہ جلدی کرو‘ یہ نہ ہو شام ہوجائے اور پھر تم گھر کو لوٹتے ہوئے ڈر اور خوف کا شکار ہوجاﺅ۔ وہ ریتلا قبرستان اور درختوں کے جھنڈ‘ ان کے سائے میں لپٹی اندھیری قبر اور اس پر ٹمٹماتا مریل سی لَو والا دیا۔ پھر تصور میں ایک سہمی ہوئی لڑکی آجاتی جو ڈھاک پر گھڑا دھرے ڈری ڈری اس راستے پر چلی جاتی ہے۔
اب مجھے سمجھ آگئی ہے کہ میاں صاحب کون سے بھانڈے کو کس روشنی میں بھرنے کی بات کررہے ہیں اور اندھیرا ہوجانے پر کون سے گھر کو واپس جاتے‘ ڈرنے کا تذکرہ فرمارہے ہیں۔ سچ فرماتے ہیں میاں صاحب۔ گھر کو تو ہم نے بہرحال لوٹنا ہی ہے‘ اس سے مفر ممکن ہی نہیں۔ جہاں سے آئے تھے‘ وہیں ایک دن طلب کرلئے جائیں گے۔ جسم کا یہ لباس جو ہم نے پہن رکھا ہے‘ یہیں مادی دنیا میں چھوڑ کر ہمیں واپس جانا ہوگا۔ روشنی تیزی سے ختم ہوتی جارہی ہے اور ہمارے برتن خالی ہیں‘ اسی لئے ہم واپسی سے خوف زدہ رہا کرتے ہیں۔ ورنہ موت کے خوف کی کیا مجال کہ مومن کے قریب بھی پھٹک سکے۔
اس ناسٹلجیا نے مجھے گزشتہ دنوں اس وقت اپنی لپیٹ میں لیا جب بورے والا کے معروف پنجابی شاعر حنیف صوفی اور اُن کے شاعر صاحب زادے سفیان سیفی نے ایک مشاعرے میں بلواکر عزت افزائی کی۔وہ دعوت دینے کو ملتان تشریف لائے تھے۔ عرض کیا ”میں تو شاعر نہیں ہوں‘ کسی شاعر کو دعوت دینی چاہیے“ اس کے باوصف انہوں نے حکم دیا کہ ضرور آنا ہے، احباب دیرینہ فیاض احمد اعوان اور عثمان مغل کے ہم راہ شب کے پہلے پہر بورے والا پہنچے تو ڈاکٹر شاہد اقبال پیشوائی کو چونگی نمبر5 پر موجود تھے۔ ان کی میزبانی اور رہنمائی میں 10بجے کے قریب بلدیہ کے دفتر پہنچے تو پنڈال سج چکا تھا۔ بابا طالب جتوئی مشاعرے کی صدارت کو تشریف لاچکے تھے۔ مقامی شعراءکے ساتھ ساتھ ننکانہ صاحب سے لے کر بہاول پور تک کے شعرائے کرام موجود تھے۔ حنیف صوفی صاحب اور سفیان سیفی تو خیر میزبان تھے۔ عجز کا یہ عالم کہ باہر سے آئے مہمانوں کو عزت دی اور سٹیج پر بٹھایا‘ خود دونوں باپ بیٹا سٹیج پر نہیں بیٹھے‘ حالانکہ جگہ بھی موجود تھی۔
یہیں سٹیج کے پیچھے جو بڑا سا بیک ڈراپ لگا تھا‘ اس پر اہتمام کے ذیل میں ”مجلس میاں محمد بخش“ تحریر تھا۔ میاں محمد بخشؒ سرکار کا نام نامی پڑھ کر یہ ساری کیفیات مجھ پر بیت گئیں جن کا آغاز میں تذکرہ گزرا۔ اپنے حصے کی گفت گو کرتے ہوئے بھی میں نے حاضرین سے کم و بیش یہی احوال بانٹا۔ کچھ مناظر‘ کچھ حرف‘ کچھ واقعات زندگی کا اَن مِٹ نقش بن جاتے ہیں‘ روح تک پران کے پیوند لگ جاتے ہیں۔ جو یادیں آپ کے ساتھ بانٹیں‘ یہ میری روح کے پیوند ہیں۔ خیر! آپ محترم حنیف صوفی صاحب کے چند اشعار کا لطف اٹھایئے۔
مجبوری دی چکی گیڑن جاندا سی
اپنے اَلہے پھٹ ادھیڑن جاندا سی
دو ویلے او اُٹھ کے پت دی پھوہڑی توں
چودھریاں دے کم نبیڑن جاندا سی
(مجبوری کی چکی چلانے اور اپنے زخموں کو مزید ادھیڑنے کووہ دن میں دو وقت بیٹے کی صفِ ماتم سے اٹھ کر چودھریوں کے کام نمٹانے جاتا)
سُچیاں لعلاں دی ہن اصلوں ٹہور گنوائی جاندے
کچ دے منکے شہر دے اندر نہیر مچائی جاندے
دسوں خاں اُس گلشن دا کی سوہل سہپن رہنا اے
جتھے مالی کلیاں پُٹ کے اَک اُگائی جاندے
(کانچ کی گولیوں نے شہر میں وہ اندھیر مچایا ہے کہ سُچے موتیوں کی آن بان بھی جاتی رہی۔ اُس باغ کی خوب صورتی بھلا کیوں کر قائم رہے جہاں کے مالی کلیاں اکھاڑ کر آک کے پودے بورہے ہیں)
(کالم نگارسیاسی وادبی امورپرلکھتے ہیں)
٭….٭….٭


سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں




دلچسپ و عجیب
کالم
آپ کی رائے
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved