تازہ تر ین

ن لیگ اورگاندھی کے چیلے

سجادوریا….اظہار خیال
جی تو چاہتا ہے کہ الفاظ کے سےاہ ر نگ کو ماتمی رنگ کا نام دوں ،سےاپا گروپ تشکیل دوں اورغالب کے اشعار ” حےران ہوں، دل کو رﺅوں کہ پیٹوں جگر کو مےں“اےسے ترنم سے گنگناﺅں کہ ہر آنکھ اشکبار ہو جائے۔اےسا سےاپا پروگرام چلاﺅں کہ پورا ماتمی قبیلہ عش عش کر اٹھے ۔لےکن پھر سوچتا ہوں کس کس بات کا ماتم کیا جائے،قحط الرجال پر روئےں ےا ان کے حوارےوں کی عقل پر ماتم کےا جائے۔بھاڑے کے ٹٹو ہےں کہ دندناتے پھرتے ہےںاور کےا کےا نمونے ہےں کہ ضمےر نام کی چیز کو شاےد چند ٹکوں کے عوض سلا رکھا ہے۔ان کی ہمت کو داد ،ڈھٹائی کو سو سو سلام ،کہتے ہےں کہ نوازشریف اےک نظرےے کا نام ہے۔ ےہ اےسے ہی ہے کہ کوئی رات کو دن کہہ دے۔بے شرمی اور بے ضمیری کی حد ہے، پہلے خاموشی ِ،پھر دوسروں سے موازنہ ،مذمت پھر بھی نہیں کی۔ نواز شریف کا بےانےہ ”مےں نہیں تو کچھ بھی نہیں“۔نوازشریف اےک خود غرض اوراپنی ذات کے حصار مےںبند شخصےت کا نام ہے۔نہ کوئی نظرےہ ،نہ کوئی وژن، بس سازش اور کرپشن کی مہارت ہی ان کی واحد پہچان ثابت ہوئے ہےں۔
نوازشریف اےک منتقم مزاج فطرت کے مالک ہےں اور کسی بھی طرح فتح حاصل کرنا ان کے مزاج کا خاصہ بن چکا ہے۔اس کے لئے رشوت، ایمپائر سے مل کے کھےلنا،دھاندلی،ضمیرفروشی،کبھی مذہبی کارڈاورکبھی پنجاب کارڈ استعمال کرنا۔بےنظیر حکومت گرانے کے لئے پےسے پکڑنااورکبھی بے نظیر سے میثاق جمہوریت کرناسب جائز۔ا گرزرداری ان کی حکومت بچائے تو جمہورےت پسند ،نوازشریف ان کا ڈرائیور بن جائے، اس کو درجنوں ڈشز پےش کرے۔اگر زرداری ،پی ٹی آئی سے مل کر صادق سنجرانی کو چیئرمےن سےنےٹ بنوائے تو جمہورےت برباد۔ اس کا اےک ہی مطلب ذاتی مفاد بس۔
سوال تو ےہ بھی ہے کہ تین بار ملک کا وزیراعظم رہنے والا شخص اس قدر بےوقوف بھی ہو سکتا ہے؟اس کو ہوش نہ رہے کہ ملک کو بدنام کر دے؟ اچانک اور غےر ارادی طور پر اس نے اےسا بےان دے دےا ہو؟ جب ان سوالات کا جواب تلاش کرےں تو ےہ نوازشریف کی منصوبہ بندی کا حصہ معلوم ہوتا ہے، جنرل پرویزمشرف نے جب نوازشریف کو ہٹاےا تب سے وہ فوج سے نفرت کا جذبہ پالے ہوئے ہےں۔اس انتقام مےں بےنظیرکی مدد کی خاطرزرداری سے معافےاں مانگتے رہے،ان کے میثاق کا بنےادی معاہدہ ےہی تھا کہ دونوں پارٹےاں ،فوج کے خلاف متحد رہیں گی۔لےکن نوازشریف نے ےہاں بھی دھوکہ دےا۔ابھی بھی ان کی ٹیم مےں خواجہ آصف، پروےزرشید، آصف کرمانی ،مشاہداللہ وغےرہ ہی قابل اعتبار ہےں جبکہ چوہدری نثار علی خان کو ”ان“ کا ساتھی سمجھ کر کھڈے لائن لگا دےا ہے۔ان کی حالےہ حکومت کے دوران بھی کئی حادثات اےسے ہوئے،جن سے فوج مخالف اقدامات نظر آئے،مشاہداللہ کا بےان او ر ڈان لیکس کے واقعات اسی سلسلے کی کڑی معلوم ہوتے ہےں۔ممبئی حملے کے متعلق حالےہ بےان بھی سوچی سمجھی منصوبہ بندی اور ٹائمنگ کے تحت دےا گےا ہے۔جب وقت دےکھا کہ پاکستان عالمی سطح پر سفارتی مشکلات کا شکار ہے اور امریکہ کے ساتھ تعلقات سخت خراب ہےں ،پاکستان کے اداروں پر دباﺅ ہے،نواز شریف نے اسی اخبار کے اسی صحافی سرل المیڈا کو انٹروےو دےا جس نے ڈان لیکس کو اپنے اخبار مےں رپورٹ کےا تھا۔ا س وقت نوازشریف کا مقصد پاکستان کی مشکلات مےں اضافہ کرنا ہے تاکہ اسٹےبلشمنٹ پر دباﺅ بڑھاےا جا سکے، ان کو بدنام کےا جا سکے۔اسی دھمکی کا حصہ ہے جس مےں کہتے رہے کہ مےرے سےنے مےں بہت راز دفن ہےں، کھول دوںگا۔
ےہ الگ بات ہے کہ اپنے ملک کے اداروں پر پاکستان کے نقطہ نظرسے تنقید ہو سکتی ہے۔ان کی کارکردگی پر سوال اٹھاےا جا سکتا ہے۔ان کی ترجیحات سے اختلاف کےا جا سکتا ہے۔لےکن دشمن کے بےانئے کو مضبوط کرنے کے لئے اور اپنے اداروں کو دفاعی پوزیشن مےں کھڑا دےنا ،کسی بھی طرح محب وطن ہونے کا اظہار نہیں۔نواز شریف صاحب آپ کا طرزعمل پہلے ہی مشکوک تھا ۔کلبھوشن کے معاملے مےں آپ نے منہ مےں گھونگھنےاں ڈالے رکھیں،مودی کی ےاری آپ کو کشمیری قےادت سے پےاری تھی،آپ کو ممبئی حملے مےں ہلاک ہونے والوں کا درد ستا رہا ہے، ماڈل ٹاﺅن کے شہداءکے لیے اےک لفظ نہیں بولا۔آ پ کی سرگرمےوں کا جائزہ لےا جائے تو آپ کے بےانئے کو سمجھنا کوئی مشکل نہیں رہتا۔آپ کی ٹیم کی کوشش رہی کہ بےرونی عناصرسے مل کر فوج کو بےرونی محاذ پر الجھاےا جائے اور اےسے بےانات دے کر فوج پر دباﺅ برقرار رکھا جائے تاکہ اس کو کمزور کےا جا سکے۔مودی سے مشکوک ملاقاتےں،کلبھوشن پر خاموشی،اچکزئی سے ےاری اور اسفند ےار ولی سے محبت ،ےہی وہ کڑےاں ہےں جو آپ کی جمہورےت کا مقصد بتاتی ہےں۔
چیف اےڈیٹر ”خبرےں“ جنا ب ضےاشاہدصاحب نے اپنی کتاب ’گاندھی کے چےلے‘ مےں ان کرداروں کو پوری دےانت،ثبوتوں اور دلائل کے ساتھ ان کرداروں اور ان کی وابستگےوں کو بے نقاب کےا ہے،جن کو نوازشریف جمہورےت پسند سمجھتے ہےں۔ان کرداروں مےں اب نوازشریف کا بھی اضافہ ہو چکا ہے۔مجھے سمجھ نہیں آتی کہ نواز شریف کس نفسےاتی الجھن کا شکار ہےں ؟کےا ان کی ذات ملکی مفاد سے بالا تر ہے؟اس طرح وہ خدانخواستہ رےاست کو کمزور کردےں گے؟ ےہ ان کی بھول ہے بلکہ دےکھ بھی چکے ہےں ۔پوری قومی سلامتی کونسل ان کے بےان کی مذمت کے ساتھ اس کو مسترد بھی کر چکی ہے۔مےری نظر مےں انہوں نے خود کو اےکسپوز کر دےا اور عوام جان گئے کہ ووٹ کو عزت دو کے پیچھے کےا اےجنڈا ہے؟اسی طرح اپنی پارٹی کو بھی مشکل مےں ڈال دےا ہے،پوری ن لیگ اس وقت دفاعی پوزیشن مےں کھڑی ہے اور شہبازشریف کی مشکلات بھی بڑھ گئی ہےں۔اس ساری کوشش مےں مرےم نواز اور بھارتی مےڈےا خوش نظر آئے ہےں ،باقی ہر ہو شمند پاکستانی تشویش مےں مبتلا ہے۔کہتے ہےں حماقت اور بہادری مےں معمولی سی لائن ہی ہوتی ہے، ان حالات سے تو ےہی لگتا ہے کہ نوازشریف اےک بار پھر ”احمق“ ثابت ہوئے ہےں۔نوازشریف کو اندازہ نہیں ہو رہا ”وہ دن گئے جب خلیل خان فاختہ اڑاےاکرتے تھے“اب ان کی فلم کا ”دی اےنڈ“ ہو گےا ہے ۔ان کے بےان سے مےرا خےا ل ہے کہ رےاستی اداروں کا بےانےہ مضبوط ہوا ہے کہ نوازشریف مقامی کرداروں سے مل کر بےرونی اےجنڈے پر کام کر رہا ہے۔اس بےان پر پٹوارےوں کے علاوہ مسلم لیگی بھی پرےشان ہےں۔اس بےان کے پیچھے ان کا ےہ ےقین شامل ہے کہ ان کا سےاسی مستقبل ان کی کرپشن کی وجہ سے ختم ہو چکا ہے۔ اب وہ ےہ بھی نہیں چاہتے کسی اور کی عزت رہے اور شہبازشریف بھی پارٹی چلا سکےں۔
اس ساری صورتحال مےں کئی پڑھے لکھے پٹوارےوں کو بھی دےکھا اور دل دکھا کہ فکری بددےانتی بھی عروج پر ہے ،کبھی نوازشریف کے بےان کی حماےت کرتے ہےں اور کبھی موازنہ کرتے ہےں۔ کبھی کہتے ہےں کہ جھوٹ تو نہیں بولا۔ بس شرمندہ نہیں ہوئے اور مذمت نہیں ،جبکہ ان کے بڑے قومی سلامتی کمےٹی مےں نوازشریف کے بےان کی مذمت کر کے اسے مسترد کر چکے ہےں۔اس ساری صورتحال مےں لگتا ہے کہ مرزا غالب نے کسی اےسی صورتحال مےں ہی کہا ہوگا۔
حےران ہوں دل کو رﺅوں کہ پیٹوں جگر کو مےں
مقدور ہو تو ساتھ رکھوں نوحہ گر کو مےں
(کالم نگارقومی ایشوز پرلکھتے ہیں)
٭….٭….٭


سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں




دلچسپ و عجیب
کالم
آپ کی رائے
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved