تازہ تر ین

کچھ لفظوں کی املاءکے حوالے سے….(2)

ازھر منیر….فرینکلی سپیکنگ
سوال کیا جاسکتا ہے کہ عربی کے الفاظ قائم، دائم وغیرہ کا تلفظ بھی Ice, Time وغیرہ کی طرح ہے تو انھیں ہمزہ کے ساتھ کیوں لکھا جاتا ہے؟ جیسا کہ بیان کیا گیا، یہ عربی کے الفاظ ہیں اور ان کی املاءوہی رہے گی جو عربی میں ہے۔ اُردو اور پنجابی میں ان کا تلفظ Ice, Time کی طرح اس لےے ہے کہ ان دونوں زبانوں میں لب و لہجے کی مجبوری کی بنا پر ان کا تلفظ تبدیل ہو گیا ہے۔ عربی میں ان کا تلفظ قااِم اور دااِم ہے۔ جس طرح ہم مَحمود کو مِحمود اور اَحمد کو اِحمد بولتے ہیںاسی طرح ان الفاظ کا تلفظ بھی قااِم اور دااِم کے بجائے کھینچ کر قایم اور دایم ادا کرتے ہیں۔ یہ پنجابی اور اردو کا غلط العام ہے اور غلط العام فصیح ہوتا ہے۔ یعنی جس زبان کا غلط العام ہو، وہ زبان بولتے ہوئے ہم اس لفظ کا وہ تلفظ ادا نہیں کریں گے جو اس زبان میں جس سے یہ آیا ہے، ادا کیا جاتا ہے بلکہ وہ تلفظ ادا کریں گے جو اس زبان میں جو ہم بول رہے ہیں، بن گیا ہے۔
اردو کے چند مزید غلط العام دیکھیے: فارسی میں گُوش، رُوز، گُوشت، ہُوش، دِرخت، چِشم اور یِک ہیں لیکن اردو میں ان کا تلفظ گوش، روز، گوشت، ہوش، دَرخت، چَشم اوریَک ہے۔ اسی طرح عربی میں صَحن ہے لیکن اردو میں اسے صِحن ادا کیا جاتا ہے۔ یہ اردو کے غلط العام ہیں اور اردو بولتے ہوئے جو اِنہیں اِن کی اصل زبانوں کے مانند گُوش، رُوز، گُوشت، ہُوش، دِرخت، چِشم، یِک اور صَحن ادا کرے گا، وہ غلط ہوگا۔
ضمناً غلط العوام کی بات بھی ہو جائے۔ غلط العام کسی زبان کے ڈھانچے کے مطابق لفظوں کے تلفظ میں تبدیلی کا نام ہے۔ یعنی اس زبان کا جو اسٹرکچرہے، اس میں جس زبان سے وہ لفظ آیا ہے اگر اسے اس زبان کے تلفظ کے مطابق ادا کریں گے تو وہ اجنبی اور عجیب لگے گا۔ مثلاً اگر کوئی کہے میں دِرخت پر چڑھا، میں نے صَحن میں کرسی بچھائی،آج آلو گُوشت پکا ہے تو سننے والے کو یہ بری طرح کھٹکیں گے اور عجیب اور اجنبی لگیں گے۔
یہ غلط العام کا بیان تھا۔ غلط العوام اس سے مختلف چیز ہے۔ اس کی پہچان یہ ہے کہ ایک تو یہ جہالت کی بناءپہ ہوتا ہے، دوسرے اس سے معافی بدل جاتے ہیں۔ مثلا براہ مہربانی کو برائے مہربانی کہنا یا لکھنا۔ براہ مہربانی کے معافی ہیں: مہربانی کی راہ سے یعنی مہربانی کر کے جبکہ برائے مہربانی کا مطلب ہے: مہربانی کے لیے۔ اب جس نے براہ مہربانی کو برائے مہربانی لکھا یا ادا کیا، ایک تو اس نے جہالت کی بناءپہ ایسا کیا۔ یعنی اسے علم ہی نہیں کہ اصل لفظ کیا ہے۔ دوسرے اس نے اس کے معافی بدل دیے۔ یوں یہ غلط العام نہیں، غلط العوام ہے اور ہمیشہ غلط ہی رہے گا۔
قائم اور دائم کا تلفظ ہم نے ان لفظوں کو کھینچ کر قایم اور دائم تو بنا دیا اس لیے کہ اردو اور خاص طور پر پنجابی بولتے ہوئے ہم انھیں قااِم اور دااِم ادا کر ہی نہیں سکتے تھے۔ تلفظ بدلا لیکن ہم نے نہ اس کی املاءتبدیل کی، نہ کر سکتے ہیں۔ اس لیے کہ یہ عربی فارسی رسم الخط میں ہیں اور اپنی املاءساتھ لے کر آئے ہیں۔ تاہم Choice,Ice,Time وغیرہ کا معاملہ دوسرا ہے۔ یہ انگریزی کے لفظ ہیں اور ہم ان کا اسکرپٹ رومن سے بدل کر عربی فارسی کر رہے ہیں اور انھیں اسی طور لکھیں گے جو ان کا تلفظ ہے اور یہ تلفظ ٹاام، آ اس اور چوا اس نہیں، ٹایم، آیس اور چوایس ہے۔ یہی معاملہ ہندی الفاظ کا ہے جن کا رسم الخط ہم دیونا گری سے بدل کر عربی فارسی کرتے ہیں اور یہ الفاظ بھی اسی طرح لکھے جائیں گے جیسے ان کا تلفظ ہے۔
”لیے“ کی املاءبھی اسی طرح ہو گی جیسے اسے ادا کیا جاتا ہے۔ یعنی ل ی ے۔ اگر ہم اسے لئے لکھیں گے جیسا کہ غلط رواج چل نکلا ہے تو اس کا تلفظ لیے نہیں رہے گا بلکہ گئے کے وزن پر ہو جائے گا۔ یہی اصول کیے، دیے، سیے، پیے وغیرہ کے معاملے میں ہو گا اور انھیں کئے، دئے، سئے، جئے، پئے لکھنا غلط ہو گا۔
آیے اس معاملے کو ایک اور طرح سے دیکھتے ہیں۔ ذرا یہ الفاظ دیکھیے:
جیو، پیو، سیو
کیا ہم انھیں جﺅ، پﺅ، سﺅ لکھ سکتے ہیں اور پھر ان کو ان کے درست تلفظ کے مطابق ادا کر سکتے ہیں؟
نہ صرف یہ کہ اس کا جواب نفی میں ہے بلکہ کوئی بھی انھیں اس طرح نہیں لکھتا سوائے اس کے کہ وہ شخص محض ابتدائی سطح کی تعلیم کا حامل ہو۔
اب جیو اور جیے میں فرق صرف ”واﺅ“ اور ”ے“ کا ہے، تو اگر جیو کو ہمزہ کے بجائے ”ی“ سے لکھنا درست ہے تو پھر جیسے کو بھی اسی طرح ”ی“سے لکھنا درست ہے، ہمزہ سے نہیں۔ یہی معاملہ پیو اور پیے اور سیو اور سیے کا ہے۔
لئے صرف ایک جگہ لکھنا درست ہے۔
پنجابی میں۔ جیسے:
”میں اوہدے کے کولوں سو روپئے لئے۔“
یعنی میں نے اس سے سو روپے لیے۔
اور یہاں لئے کا تلفظ ٹھیک گئے کی طرح ہے۔
اس نوع کے کچھ اور لفظ اس طرح ہیں: چاہیے، لیجیے، کیجیے، پچیے، سینچیے، لیٹیے، رکھیے، جانیے، مانیے، پہچانیے، آیے، جایے، کھایے، اٹھایے، (ظلم) ڈھایے۔ جبکہ عام لکھے جانے والے کچھ انگریزی لفظوں کی املاءیوں ہو گی:
لاین، لایف، وایف، ڈایریکٹر، ڈایجسٹ، لفظوں کا ایک اور سیٹ ہے: انھیں، جنھیں، تمھیں، تمھارا، انھی وغیرہ۔ ان کو انہیں، جنہیں، تمہیں، تمہارا اور انہی لکھ دیا جاتا ہے۔ حالانکہ ان کو اسی طرح لکھنا ضروری ہے جو ان کا تلفظ ہے ان کا تلفظ نون اور میم کے ساتھ ان ہیں، جن ہیں، تم ہیں، تم ہارا اور ان ہی نہیں بلکہ مھ اور نھ کے ساتھ،انھیں، جنھیں، تمھیں، تمہارا اور انھی ہے۔ یعنی ان میں نون اور میم استعمال نہیں ہوئے، بلکہ ڈایگراف (Digraph) مھ اور نھ ہوئے ہیں۔ انھیں، جنھیں وغیرہ کو انہیں، جنہیں ایسے ہی ہے جیسے گھر کو گہر، بھرنا کو بہرنا، بھی کو بہی اور اچھا کو اچہا لکھ دیا جائے۔ اردو پنجابی کے ڈایگراف چودہ ہیں۔ یعنی بھ، پھ، تھ، ٹھ، جھ ،چھ، دھ، ڈھ، ڑھ، کھ، گھ، لھ، مھ، اور نھ۔ ان سے جو لفظ بنتے ہیں ان میں سے چند ایک یوں ہیں: بھر، پھر، تھالی، ٹھوکر، جھرمٹ، چھپنا، دھوبی، ڈھول، پڑھنا، کھولنا، گھر، چولھا، تمھیں، انھیں، چولھا کی طرح کولھا بھی لھ سے ہوں گے ل ہ سے نہیں۔
نثر میں تو انھیں، جنھیں کی املاءغلط لکھنے سے شاید بہت زیادہ فرق نہ پڑھتا ہو لیکن شاعری میں اس سے شعر کا وزن ہی درست نہیں رہتا۔ اس لیے کہ جب ہم ان کو انہیں، جنہیں، تمہیں، تمہارا اور انہی لکھیں گے تو پھر باندھیں گے بھی، ان ہیں، جن ہیں، تم ہیں، تم ہارا اور ان ہی۔ نتیجہ یہ ہو گا کہ شعر بے وزن ہو جائے گا۔ اور اسی لیے بہت سے لوگ ان کی غلط املاءکی بناءپہ ان کا غلط تلفظ باندھ دیتے ہیں اور یوں شعر وزن سے خارج ہو جاتا ہے۔
لیکن نثر میں بہت زیادہ فرق نہ پڑنے کے باوجود نثری تحریروں میں بھی انھیں ان کی درست املاءکے مطابق انھیں، جنھیں وغیرہ ہی لکھنا چاہیے۔ اس لیے کہ یوں تو نہیں ہو سکتا کہ ایک ہی لفظ کی نظم میں املاءاور ہو اور نثر میں اور۔ یوں بھی چاہے نثری تحریر ہو یا شاعری، کسی لفظ کی جو درست املاءہے وہی لکھنی چاہیے۔ سو نثر ہو یا نظم دونوں صورتوں میں ان الفاظ کو انھیں، جنھیں، تمھیں، تمھارا، انھی، چولھا، کولھا اور کولھو لکھا جانا چاہیے، انہیں، جنہیں، تمہیں، تمہارا، انہی، چولہا، کولہا اور کولہو نہیں۔(جاری ہے)
(کالم نگار سینئر صحافی‘ شاعر اور ادیب ہیں)
٭….٭….٭


سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں




دلچسپ و عجیب
کالم
آپ کی رائے
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved