تازہ تر ین

بات تو ابھی شروع ہوئی ہے

توصیف احمد خان

ہمارے وزیراعظم بھی بڑی دلچسپ شخصیت کے مالک ہیں۔ مذاق بھی خوب کر لیتے ہیں اور مذاق یہ ہے کہ اس بیان کی مسلسل تردید کئے جا رہے ہیں جس کی خود صاحبِ بیان بھی تردید نہیں بلکہ تصدیق کر رہا ہے۔ یہاں تک کہہ دیا کہ قومی سلامتی کونسل نے نوازشریف کی نہیں‘ ان کے بیان کو غلط شائع کرنے پر اخبار کی مذمت کی ہے۔ وہ اس کمیٹی کے اعلامیہ کی غلط تشریح کر رہے ہیں جس کے وہ خود چیئرمین ہیں۔ اس کا صاف اور واضح مطلب تو یہی ہے کہ اجلاس کا اعلامیہ جاری کرتے وقت ان سے پوچھنے تک کی ضرورت محسوس نہیں کی گئی اور انہیں یہ تک علم نہیں کہ اعلامیہ میں کیا کچھ لکھا گیا ہے۔
انہیں تو کہاگیا تھا کہ وہ اس شخص سے وضاحت لے کر آئیں جس کو وہ اپنا وزیراعظم قرار دیتے ہیں۔ وہ وضاحت کیا لائے….؟ وہی جو کچھ انہوں نے پریس کانفرنس میں کہا…. اس پریس کانفرنس میں جس کو خود ان کے اپنے زیرانتظام ٹی وی یعنی پاکستان ٹیلی وژن تک نے ٹیلی کاسٹ نہیں کیا…. اس سے جو باتیں سامنے آتی ہیں وہ کچھ اس طرح سے ہیں کہ ان کے وزیراعظم نے ان سے اصل بات نہیں کی اور محض ٹرخانے پر اکتفا کیا جس کے بعد وہ اپنی صاحبزادی کے ساتھ جلسہ میں تقریر کے لیے بونیر چلے گئے حالانکہ ان کی صاحبزادی ایک دن پہلے ہی حقیقت کا اظہار کر چکی تھیں کہ نوازشریف نے جو بیان دیا ہے وہی درست ہے۔ اس کے باوجود شاہد خاقان‘ شہبازشریف اور ترجمان مسلم لیگ اس کی تردید کیے جا رہے ہیں۔ پھر بونیر میں تو صاحبِ بیان نے خود کہہ دیا کہ یہ سب کچھ انہوں نے ہی کہا ہے۔ اس کا واضح مطلب ہے کہ یہ حضرات اور نوازشریف ایک پیج پر نہیں۔ دونوں فریقوں کی سمتیں جدا جدا اور سوچ بھی بالکل علیحدہ ہے۔
شہباز میاں تو ایک ہی بیان دے کر خاموش ہو گئے ۔ غالباً ان کو بات کی سمجھ آ گئی لیکن ایسا محسوس ہورہا ہے کہ ہمارے وزیراعظم اصل بات سمجھنے سے لاچار ہیں۔ یہ ان کی سادگی ہے‘ بھولپن ہے یا پھر اسے کچھ اور کہیں گے….! گزشتہ روز بھی لکھا گیا تھا کہ یہ معاملہ اتنا سیدھا نہیں۔ اس کے بعد پاکستانی نوجوان کے قاتل امریکی سفارتکار کرنل جوزف کو اچانک اور پراسرار طور پر پاکستان سے رخصت کرنے کے بعد بات کافی حد تک واضح ہو گئی ہے جبکہ یہ اطلاعات بھی ہیں کہ اگلی باری ڈاکٹر شکیل آفریدی کی ہے۔ وہی شکیل آفریدی جس نے امریکیوں کو اسامہ بن لادن تک پہنچایا۔اس کے بعد ہی امریکہ کی طرف سے ایبٹ آباد میں آپریشن کیا گیا۔
کہا یہ جا رہا ہے کہ امریکہ کرنل جوزف کے معاملے پر فوج سے ناراض ہے جبکہ اس سے دو روز قبل اس کے فرار کی کوشش ناکام بنا دی گئی اور امریکی طیارے کو واپس بھیج دیا گیا تھا۔ معلوم نہیں واپس بھیجا بھی گیا تھا یا نہیں۔ کیا پتہ طیارہ نور خان ایئربیس پر ہی کھڑا ہو کیونکہ امریکی اس قسم کی صورتحال کے عادی نہیں ہوتے۔ وہ اپنا بندہ لینے آئے تھے اور لے کر چلے گئے۔ دیکھتے ہیں شکیل آفریدی کو لینے کے لیے طیارہ کب آئے گا اور اس طیارے کے ساتھ کیا معاملہ پیش آتا ہے۔ طیارہ آیا تو وہ شکیل آفریدی کو لے کر ہی جائے گا۔
راقم کے خیال میں اب ہمارے قارئین کے ذہن میں بھی ایک واضح تصویر بن رہی ہو گی۔ بھارت کی تو نوازشریف کے بیان پر باچھیں کھلی پڑ رہی ہیں۔ سننے میں آیا ہے کہ امریکہ بھی بہت خوش ہے اور یہ اطلاع ہمارے لیے بہرصورت تشویشناک ہے کہ نوازشریف اس طرح کے کچھ اور دھماکے بھی کرنے والے ہیں جن میں اسامہ اور کارگل کا معاملہ بھی شامل ہے۔
اس سارے معاملے میں خبر دینے والے اخبار اور اس کے رپورٹر کی حیثیت بڑی پراسرار ہے۔ یہ اطلاع دلچسپ ہے کہ یہ رپورٹر سرل المیڈا ملتان کے جس ہوٹل میں ٹھہرا وہ پیپلز پارٹی کے رہنما اور سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کے صاحبزادے علی حیدر نے بک کرایا تھا۔ آپ دیکھیں اس سارے معاملے کی کڑیاں کہاں کہاں مل رہی ہیں۔ اس رپورٹر کے کچھ مشکوک رابطوں کی بھی اطلاعات ہیں۔ ایک یہودی صحافی ڈیکلن والش کو پاکستان کے مفادات کے منافی سرگرمیوں پر یہاں سے نکالا گیا تھا اور اس کے پاکستان میں داخلے پر بھی پابندی عائد کر دی گئی تھی جو ابھی تک برقرار ہے۔ سرل المیڈا کے اس شخص کے ساتھ بھی مراسم رہے ہیںیا ابھی تک ہیں۔ سوشل میڈیا میں ان دونوں کی تصاویر بھی جاری ہو چکی ہیں کہ اب لوگ دور دور کی خبر رکھتے ہیں۔
ہم اس ذکر کو چھوڑتے ہیں اور دوبارہ محترم وزیراعظم کی طرف آتے ہیں جو اپنی اس ضد پر قائم ہیں کہ نوازشریف نے اس قسم کا بیان نہیں دیاکل قومی اسمبلی میں بھی انہوں نے یہی کہا…. چلیں بیان نہیں دیا ہو گا! آپ جانیں اور نوازشریف۔ قوم آپ کی تردیدوں کے ذریعے نہیں بلکہ حقائق کی روشنی میں اپنا راستہ خود اپنائے گی اور اپنا فیصلہ خود کرے گی۔ ہم فی الحال یہ تصور کر لیتے ہیں کہ اخبار اور اس کے رپورٹر نے بیان کو اس کی اصل شکل میں پیش نہیں کیا بلکہ اس کو توڑ ا ہے اور مروڑا ہے۔ معلوم نہیں کتنا توڑا اور کتنا مروڑا ہے۔ یہ تو محترم شاہد خاقان عباسی ہی بہتر بتا سکتے ہیں‘ لیکن ہمارا ان سے وہی سوال ہے جو کل بھی تھا کہ کیا یہ بیان توڑنے مروڑنے پر اخبار کے خلاف کچھ کیا گیا ہے یا کم از کم اس سے پوچھا گیا ہے کہ اتنی سنگین غلطی کیسے کر دی گئی جو پاکستان کے مفادات پر ضرب کاری کی حیثیت رکھتی ہے جبکہ اس سب کچھ کا حقیقت کی دنیا سے بھی کوئی تعلق نہ ہو۔ حکومت یا اس کے کسی ادارے نے ابھی تک اخبار یا رپورٹر سے بات تک نہیں کی ہوگی جس کا صاف اور سیدھا مطلب ہے کہ نوازشریف نے جو کچھ کہا رپورٹر نے وہی لکھ دیا اور اخبار نے وہی چھاپ دیا۔ ہمیں یقین ہے کہ محترم وزیراعظم اس بارے میں کبھی کوئی استفسار نہیں کریں گے کیونکہ انہیں منہ کی کھانا پڑے گی یہ دوسری بات ہے کہ گزشتہ روز بھی وہ اپنے اس موقف پر اڑے رہے کہ ممبئی حملہ میں پاکستان سے لوگ جانے کی بات درست رپورٹ نہیں ۔ ہم دو تین دن سے پوچھ رہے ہیں کہ اگر یہ بات درست رپورٹ نہیں ہوئی تو پھر ہمیں یعنی پاکستانی قوم کو بتایا جائے کہ وہ درست بات کیا تھی جو نوازشریف نے کہی اور اخبار نے اسے کچھ سے کچھ بنا دیا۔
وزیراعظم یہ بھی فرماتے ہیں کہ وضاحت کے بعد بات ختم ہو گئی ہے…. تو حضور! یہ اتنی آسان بات نہیں جو آپ کی غلط وضاحت کے بعد ختم ہو گئی۔ آپ میں ہمت ہے تو اس کی وضاحت یا تردید خود نوازشریف سے کرائیں۔ بات تو تبھی کسی طرف لگے گی ورنہ تو بات ابھی شروع ہوئی ہے۔ عوام کسی کو سر پر اٹھاتے ہیں تو ایک دوسری بات سے بھی آگاہ ہیں کہ جو معاملہ یا شخصیت بوجھ بن جائے اسے اتار پھینکنا ہی مناسب ہوتا ہے…. ابھی تو لوگ عدالتوں میں جا رہے ہیں‘ تھانوں میں جا رہے ہیں۔ یہ لوگ غداری کے مقدمات درج کرانے کے درپے ہیں۔ ن لیگ کی حکومت تو ابھی تک پرویزمشرف کے خلاف کیس کو اس کے منطقی انجام تک نہ پہنچا سکی‘ ممکن ہے یہ معاملہ اس سے پہلے اپنے انجام کو پہنچ جائے۔
اس سارے معاملے میں ایک مثبت پہلو بھی سامنے آیا ہے کہ وزیراعظم نے ہمارے دوست راﺅ تحسین کو بحال کر کے ڈائریکٹر جنرل ریڈیو تعینات کر دیا ہے۔ راﺅ تحسین کو ڈان لیکس لے بیٹھی تھی اور وہ گزشتہ برس سے خوار ہو رہے تھے۔ آخر کار ان کی بھی سنی گئی کہ وہ اپنی نوکری کا آخری عرصہ سکون سے گزار سکیں گے۔
٭….٭….٭


سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں




دلچسپ و عجیب
کالم
آپ کی رائے
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved