تازہ تر ین

رمضان المبارک اور مہنگائی کا طوفان

عبدالودود قریشی

کل ممکنہ طور پر یکم رمضان المبارک ہوگا یہ برکتوں والا مہینہ ایثار،تقویٰ اور عبادات کے لئے مخصوص ہے جس میں عام مہینوں سے بڑھ کر عبادت کی جاتی ہے۔اس ماہ کے ہر عشرے میں الگ الگ ثواب بتائے گئے ہیں اس ماہ میں لیلةالقدر ستر ہزار راتوں سے افضل ہے مگر دوسری طرف تمام مسلمان رمضان المبارک کے آتے ہی ہر چیز مہنگی کر دیتے ہیں آج بھی کچھ دوستوں نے امریکہ اور برطانیہ سے تصاویر بھیجی ہیں جہاں پر رمضان المبارک کی مناسبت سے تیس دنوں کے لئے کھانے پینے کی چیزیں آدھی قیمت پر بیچی جائیں گی جبکہ مسلمانوں نے اپنے ہاں اس کی قیمتی دگنی کر دی ہیں ایئرلائنز بھی کوئی پیچھے نہیں ہیں رمضان المبارک میں عمرہ پر جانے والے زائرین سے دگنا ٹکٹ وصول کیا جاتا ہے جبکہ اسی جہاز میں کوئی سیاحت کرنے والا جائے تو اس کا ٹکٹ اس سے آدھا ہے مہنگائی کے طوفان کو روکنا حکومت وقت کی ذمہ داری ہے مگر وہ اس طرف متوجہ ہی نہیں ہے صرف حکومت ان بازاروں میں اپنی عملداری دکھاتی ہے جولوگ مخصوص دنوں میں لگائے جاتے ہیں۔ ایک ہی سڑک پر فروٹ اور سبزی کا ایک دکان میں بھاﺅ کچھ ہے اور دوسری میں کچھ۔ یہی حال آٹے،چینی،دال اور گھی کا ہے۔ اب ستر فیصد مشروبات پر ان کی قیمتیں تحریر نہیںہوتیں۔مشروب کی ایک بوتل کہیں تیس روپے کی ہے اور کہیں چالیس روپے کی پیور واٹر کی چھوٹی بوتل جس کی اصل قیمت پچیس روپے ہے تیس چالیس روپے سے لیکر اسی روپے تک فروخت ہورہی ہے پہلے اس پر بھی قیمت تحریر ہوتی تھی مگر اب وہ بھی ختم کر دی گئی ہے فقہا نے ناجائز منافع خوری کو ظلم اور زیادتی سے تعبیر کیا ہے کسی بھی حال میں زیادہ سے زیادہ منافع دس فیصد سے زیادہ نہیں لیا جاسکتا جبکہ روایتوں میں ہے کہ تین سے چار فیصد منافع ہی مناسب اور بہتر ہوتا ہے۔ ہمارے ہاں دوسوفیصد اور پانچ سو فیصد منافع معمول بن چکا ہے رمضان المبارک میں بڑے بڑے دکاندار بھی ریڑھیوں پر سامان رکھ کر سڑکیں بلاک کرکے سامان بیچتے ہیں جو قطعی طور پر ناجائز ہے۔مگر اسے معیوب نہیں سمجھا جاتا ہر سڑک اور چوراہے پر ٹریفک بند ہوجاتی ہے اور یہ ریڑھیوں پر سامان بیچنے والے دکانوں سے کئی گنا زیادہ سامان فروخت کرتے ہیں۔ خریدار یہ سمجھ کر سامان لے لیتا ہے کہ ریڑھی پر سامان بیچنے سے اخراجات کم ہوں گے لہٰذا یہ مناسب قیمت پر سامان فروخت کر رہا ہوگا مگر رمضان المبارک میں روزہ رکھ کر وہ شخص دھوکہ دہی کا مرتکب ہورہا تھا اور اکثر دکاندار کم قیمت پر لایا گیا سامان مہنگے داموں فروخت کرکے ساتھ قسمیں بھی کھا رہے ہوتے ہیں۔رمضان المبارک کا درس تو صبر ہے،تقویٰ ہے مگر محض بھوک پیاس برداشت کرکے برائیوں کو اپنا لینا رمضان المبارک کا مقصود و مطلوب نہیں ۔زمانہ تھا کہ مجسٹریٹ ،اسسٹنٹ کمشنر اور ڈپنی کمشنر خود بازاروں کے چکر لگاتے تھے پولیس کے تھانیدار اور تحصیلدار وغیرہ بھی اپنے اپنے علاقے میں قیمتوں پر نظر رکھتے تھے۔پرویز مشرف کے دور میں مجسٹریٹی نظام کے خاتمے اور ڈپٹی کمشنر کے نظام میں تبدیلی کے بعد اس طرح کی چیکنگ ایک خواب بن چکا ہے۔اب تو حد یہ ہے کہ ایک دکان سے نرخ پوچھ کر دوسری دکان پر جاﺅ تو وہ اسی چیز کی قیمت کئی گنا بتاتا ہے نہ لینے پر بدتمیزی پر اتر آتا ہے اور پھر یہ جملہ بھی کہتا ہے کہ میں روزے سے ہوں۔
رمضان المبارک میں علمائ،مشائخ کا بھی فرض بنتا ہے کہ وہ لوگوں کوقرآن واحادیث کی روشنی میں بتائیں کہ جائز منافع کیا ناجائز منافع کیا ہے۔کسی مال پر کتنا منافع لینا چاہیئے اور انھیں ذخیرہ اندروزی کے بارے میں احادیث مبارکہ بار بار پڑھ کر سنانی چاہئے کیونکہ رمضان المبارک میں اکثر اوقات ذخیرہ اندوزی کرکے سامان کو مہنگا کیا جاتا ہے سارا سال کھجوروں کو جمع کیا جاتا ہے اور پھر رمضان المبارک میں انھیں دگنی قیمت پر فروخت کیا جاتا ہے بیسن میں آٹا ملایا جاتا ہے اور اس ماہ مقدس میں بھی مرچوں،پتی اور ہلدی میں آدھے سے زیادہ ملاوٹ کی جاتی ہے ان دنوں چونکہ لوگ خیرات بھی کرتے ہیں لہٰذا کھانے پینے کی اشیاءاور فروٹ زیادہ استعمال ہوتا ہے اسی زیادہ کھپت کے پیش نظر اس کی قیمتیں بڑھا کر ناجائز منافع خوری کی جاتی ہے۔چیف جسٹس آف پاکستان میاں ثاقب نثار ملک سے باہر دورے پر ہیں ورنہ ان سے یہ توقع کی جاسکتی تھی کہ وہ اس حوالے سے انتظامیہ کو ہدایات جاری کرتے اور سارے ملک میں اشیاءخوردونوش کی ایک قیمت پر فروخت کو یقینی بناتے۔سرکاری سطح پر لگائے جانے والے ہفتہ وار بازاروں میں بھی یہی حال ہے جہاں ایک دکان آلو،ٹماٹر،پیاز،دھنیا مرچ ایک قیمت پر فروخت کرتی ہے اور دو دکانیں چھوڑ کرتیسرا دکاندار وہی سامان مہنگا فروخت کررہا ہوتا ہے ڈیوٹی پر تعینات سرکاری اہلکار شام کو اپنا حصہ وصول کر لیتے ہیں۔یہ وہی اہلکار ہیں جنہیں اس بات پر مامور کیا جاتا ہے کہ وہ ناجائز منافع خوری اور حکومت کی جانب سے مقرر کیئے گئے ریٹ سے زیادہ قیمت پر کسی کو اشیاءفروخت نہ کرنے دیں اشیاءکا ریٹ بھی روزانہ کی بنیاد پر منڈی میں فروخت ہونے والے سامان اس پر منافع اور ٹرانسپورٹ کا خرچہ ڈال کر طے کیا جاتا ہے جو دس فیصد سے بھی زیادہ بنتا ہے مگر اس کے باوجود ناجائز منافع خوری ایک وباءکی صورت اختیار کر چکی ہے۔حکومت وقت کی ذمہ داری ہے کہ وہ عوام کو مہنگائی کے طوفان سے بچاتے ہوئے سارے شہروں میں اشیاءخورنوش کی قیمت مقرر کرے۔ صبح شام چھاپے مارے جائیں اور ناجائز منافع خوروں کو کڑی سزا دی جائے تاکہ اس مقدس مہینے میں لوگوں کو ناجائز منافع خوری اور ڈکیتی سے بچایا جاسکے۔
٭٭٭


سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں




دلچسپ و عجیب
کالم
آپ کی رائے
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved