تازہ تر ین

کرپشن سے ضمیر فروشی تک

غلام اکبر …. مہمان کالم
اگر کسی نے کم فلبی کے بارے میں نہیں سنا تو میں بتاتا ہوں۔۔۔ وہ تین دہائیوں تک برطانیہ کی مرکزی انٹیلی جنس ایجنسی میں نہایت اہم عہدوں پر کام کرتا رہا۔۔۔ اس کی ذمہ داریوں میں اہم ترین ذمہ داری سوویت یونین کے جاسوسوں کی سرگرمیوں پرنظر رکھنا تھا۔۔۔ جس روز اس نے ریٹائر ہو کر اپنا عہدہ چھوڑنا تھا اس سے ایک روز قبل وہ خاموشی کے ساتھ برطانیہ چھوڑ گیا۔۔۔ بیروت کے ہوائی اڈے پر اس نے ایک ایسا اعلان کیا جس نے ساری دنیا میں کھلبلی مچادی۔۔۔”میں تھوڑی دیر میں یہاں سے پرواز کر جاﺅں گا۔۔۔ میری منزل ماسکو ہے۔۔۔ مجھے فخر ہے کہ میں نے تین دہائیوں تک نہایت عمدگی اور کامیابی کے ساتھ کے جی بی کے لئے برطانیہ میں خدمات انجام دیں۔۔۔ کیا یہ میرے لئے باعث ِ افتخار بات نہیں کہ اتنے عرصے تک میں نے نہ تو MI5“ نہ ہی MI6اور نہ سی آئی اے کو شبہ ہونے دیا کہ میں دراصل روس کا جاسوس ہوں۔۔۔“
کم فلبی کی کہانی مجھے یہاں نوازشریف نے یاد دلائی ہے۔۔۔ آپ یہ نہ سمجھیں کہ میں دونوں میں کوئی تقابل کررہا ہوں۔۔۔ کم فلبی نہایت ذہین اور زیرک شخص تھا۔۔۔ میاں نوازشریف محض قسمت کا دھنی ہے کہ اپنی تمام تر کم عقلی اور عدم تعلیم کے باوجود وہ اس ملک کا بڑا لیڈر بنا۔۔۔ اور تین مرتبہ اسے اس ملک کی وزارت عظمیٰ ملی۔۔۔لیکن قسمت ہمیشہ کسی مجرم کا ساتھ نہیں دیتی۔۔۔ میاں نوازشریف نے صرف ہوشربا کرپشن میں ہی نام نہیں کمایا۔۔۔ اس نے ضمیر فروشی میں بھی ایک نیا باب رقم کیا ہے۔۔۔اگر قسمت اس سے نہ روٹھتی۔۔۔ پاناما کا دھماکہ نہ ہوتا۔۔۔ بوکھلاہٹ اس سے حماقت درحماقت کرنے پر مجبور نہ کرتی۔۔۔ تو شاید وہ اس ملک کو لے ڈوبنے میں کامیاب ہوجاتا۔۔۔مگر اس کی قسمت اس سے روٹھ گئی۔۔۔ اس ملک کی قسمت جاگ اٹھی۔۔۔اور آج یہ شخص اس قابل بھی نہیں رہا کہ اپنا چہرہ خود آئینے میں دیکھے۔۔۔
یہ بات برنارڈشا کے ایک کردار نے کسی ڈرامے میں کہی تھی کہ امیر آدمی کا کوئی وطن نہیں ہوتا۔۔۔ وہ کرہ ارض کے جس خطے کو چاہے اپنا وطن بنا سکتا ہے۔۔۔میاں نوازشریف نے برطانیہ کو اپنا دوسرا گھر بنا رکھا ہے۔۔۔لیکن جب قسمت روٹھتی ہے تو ہر گھر کے دروازے آدمی پر بند ہوجاتے ہیں۔۔۔نون لیگی میاںصاحب کے بیان کے بارے میں وضاحت یہ پیش کررہے ہیں کہ ان کے بیان کو توڑ مروڑ کر پیش کیا گیا ہے۔۔۔ یہ وضاحت میاں شہبازشریف نے بھی پیش کی ہے۔۔۔بہتر یہ ہوتا کہ میاں صاحب خود کیمروں کے سامنے آتے اور قوم کو بتاتے کہ مجھ سے جو بیان منسوب کیا گیا ہے وہ جھوٹ ہے۔۔۔اب صرف ایک راستہ رہ گیا ہے۔۔۔میاں صاحب پر مقدمہ چلایا جائے۔۔۔ اپنی ساری وضاحتیں وہ عدالت میں پیش کریں۔۔۔
اس میںکوئی شک نہیں کہ ہم نے اپنی قومی شناخت پر بے غیرتی کا لیبل چسپاں کرلیا ہے۔ آج ماہرہ خان نامی ایک اداکارہ نے نیم برہنہ لباس میں دنیا بھر کے کیمروں کے سامنے اپنے جسمانی اثاثوں کی نمائش کرکے مملکتِ خدادادپاکستان پر(جسے اسلامی جمہوریہ بھی کہتے ہیں)بے غیرتی کی مہر تصدیق ثبت کردی۔ ایک چینل جو دن رات احادیث مبارکہ سے اپنے ناظرین اور سامعین کا جذبہ ءایمان تازہ کرتا رہتا ہے، اس نے بڑے احساسِ تفاخر کے ساتھ اعلان کیا کہ اس فلمی میلے میں دنیا کی توجہ کا مرکز بن کر ماہرہ خان نے اس قوم کا وقار ساری دنیا میں بلند کردیا ہے۔ دکھ مجھے اس بات کا ہوا کہ ان چینلز کے مالکان اسلام کا نام کیوں لیتے ہیں۔ اُن کے دلوں میں اِس خوف کی لہر کیوں نہیں دوڑتی کہ تعلیماتِ قرآن کا یوں بے دردی اور بے شرمی کے ساتھ مذاق اڑانے کی سزا جہنم کی آگ ہوگی۔؟
میں داڑھی پوش مولوی نہیں ہوں۔ میں نے دین کو اپنی کاروباری شناخت نہیں بنایا۔میں خود کو مردِ مومن بھی نہیں سمجھتا۔ میں نہیں جانتا کہ میرے دانستہ اور نادانستہ گناہوں کی مجھے کیا سزا ملے گی۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے مجھے یہ شعور ضرور دیا ہے کہ نیکی اور بدی ` اچھائی اور برائی `اور خیر و شر کی پہچان اپنی ناقص سمجھ کی بجائے قرآن حکیم کی تعلیمات کی روشنی میں کروں۔۔۔میں ایک پڑھا لکھا آدمی ہوں جس نے اپنی عمر کا بڑا حصہ دنیا بھر کے ادب کا مطالعہ کرنے میں صرف کیا ہے۔لیکن اپنی تمام تر روشن خیالی اور ترقی یافتگی کے باوجود میرے اندر یہ حوصلہ نہیں کہ میں ایک نیم برہنہ عورت کو بڑے فخر کے ساتھ اپنے ”ننگ“ کی نمائش کرنے پر اِس بدقسمت ملک کی پہچان قرار دے سکوںجسے اسلامی جمہوریہ پاکستان کہتے ہیں۔
اپنے پاکستان کو بدقسمت کہتے ہوئے مجھے بڑا دُکھ ہورہا ہے۔ لیکن اس سے بڑی بدقسمتی اس ملک کی کیا ہوگی کہ اس کا ایک سابق وزیراعظم کھلے عام دنیا کو دعوت دے رہا ہے کہ اپنی توپوں کا رُخ ہماری طرف موڑ دے۔۔۔؟ یہ شخص اس ملک کی بدقسمتی کا چلتا پھرتا اشتہار ہے۔ اس کی جہالت۔۔۔ اس کی کم علمی۔۔۔ اس کی حرص۔۔۔ اس کی ہوس۔۔۔ اس کی بے ضمیری۔۔۔ اور اس کی ملک دشمنی مجھے ابن علقمی کی یاد دلاتی ہے۔ابن علقمی کون تھا؟بغداد کا آخری وزیراعظم جس نے خونخوار ہلاکو خان کے ساتھ یہ خفیہ معاہدہ کیا تھا کہ اگر منگول وعدہ کریں کہ عباسی خلیفہ کو تخت سے اتار کر اسے یعنی ابن علقمی کو حکمران بنا دیا جائے گا تو وہ بغداد کے دروازے تاتاری لشکر پر کھول دے گا۔۔۔قدرت کے فیصلے بھی عجیب ہوتے ہیں۔۔۔ابن علقمی نے بغداد کے دروازے کھول دیئے۔ دریائے دجّلہ مسلمانوں کے خون سے سرخ ہوگیا۔ اتنے بڑے پیمانے پر قتل عام تاریخ نے شاید ہی کبھی دیکھا ہو۔ لیکن کیا ابن علقمی کو بغداد کا تخت ملا۔۔۔؟
ہلاکو نے اسے قالین میں لپیٹ کر مست ہاتھیوں کے سپرد کردیا۔ اپنے سپاہیوں سے اس نے کہا۔۔۔ ”جو شخص اپنی قوم کا وفادار نہ ہوسکا اس پر میں کیسے اعتماد کروں۔۔۔؟“
ارادے اِس بدبخت کے بھی ابن علقمی جیسے ہی ہیں جس کی بیٹی کہہ رہی ہے۔”نوازشریف اس دھرتی کا بیٹا ہے۔ وہ اس سے کیسے غداری کرسکتا ہے۔۔۔؟“
اے دُخترِ نواز۔۔۔ اس دھرتی کے کتنے بیٹوں کے محل لندن میں ہیں اور اس دھرتی پر بسنے والے کروڑوں لوگوں کی غربت و افلاس کا منہ چڑا رہے ہیں؟ اِس قوم کے زخموں پر نمک چھڑکنا بند کرو۔اپنی تمام تر بدقسمتیوں کے باوجود یہ ملک بہرحال منشائے الٰہی سے عالمِ وجود میں آیا تھا۔بے غیرتی ہمیشہ ہماری پہچان نہیں رہے گی۔بدقسمتی ہمیشہ ہمارا مقدر نہیں بنے گی۔ مجھے دُور سے اُن قدموں کی آہٹ سنائی دے رہی ہے جن کا انتظار آٹھ سو برس قبل بیت المقدس کو تھا۔ صلاح الدین ایوبیؒ جیسے مسیحا آسمانوں سے نہیں ٹپکتے۔۔۔ ہماری صفوں میں ہی جنم لیتے ہیں۔بیت المقدس لہو لہو ہے۔۔۔کشمیر لہو لہو ہے۔۔۔اور پاکستان پر بے غیرتی نے پنجے گاڑ رکھے ہیں۔
(بشکریہ:روزنامہ الاخبار)
٭….٭….٭


سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں




دلچسپ و عجیب
کالم
آپ کی رائے
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved