تازہ تر ین

گمنام شہید اور نامور قائدین

محمد صغیر قمر….چنار کہانی
مورخ جب بھی کشمیر کے جہاد آزادی کا تذکرہ لکھے گا تو ان گم نام شہیدوں کو نہ بھول پائے گا جو بظاہر صر ف شہید ہیں ‘لیکن بہ باطن تحریک آزادی کی بنیاد کے پتھر ہیں۔یہ لوگ نہ تو کوئی بڑے جغادری لیڈر تھے‘نہ سیم وزر کے مالک اور نہ بڑے القاب و آداب سے پکارے جاتے تھے، کبھی ان کا نام شاید ہی کسی نے سنا ہو گا۔حقیقت میں یہی تحریک حریت کے ماتھے کا جھومر ہیں۔یہ شہید‘یہ غازی‘یہ وفا شعار لوگ ہی خلاصہ ارض ہیں۔یہ یاد رکھے جانے کے لائق لوگ ‘دلوں میں بس جانے والے ‘دلوں میں بسا لینے کے قابل عام انسانوں جیسے مگر عام انسانوں سے کہیں بلند،سادہ مگر پر کار، دنیا میں دوسروں کی عزت و تکریم کرتے ہوئے زندگی گزار دینے والے ، دریاں جھاڑتے اور مورچے کھودتے ہوئے خاک آلودہ چہروں والے بے نام لوگ جنہوں نے ہمارے کل کی خاطر اپنا آج قربان کر دیا ۔کیسے کیسے ناموروں سے زیادہ نامور ہیں۔اس کا اندازہ اس روز ہو گا جب خدا تعالیٰ اپنی کتابِ اجر کھولے گا۔اس روز یقیناوہی خدا کی کتاب میں مقبول ہستیوں میں سے ہو ں گے۔کئی نامور بہت پیچھے رہ جائیں گے۔
میں بہت سے ایسے ہی لوگوں کو جانتا ہوں جن پاک بازوں کی کوئی تاریخ نہیں‘جن کا کوئی ماضی نہیں ۔جب میں نے ان کو دیکھا تو ان غریبوں کا حال بھی کچھ نہ تھا ‘ماضی و حال سے محروم لوگ۔دنیا کی نظروں میں اتنے بے قیمت تھے کہ ان کا کوئی دنیاوی مستقبل بھی نظر نہ آتا تھالیکن کشمیر کو شہ رگ کہنے والوں کو یاد رکھنا چاہیے کہ ماضی، حال اور مستقبل سے محروم ان لوگوں کے صدقے ہی وہ سب قائم ہیں ،ان کا بھر م قائم ہے ،ان کا وقار اور دبدبہ قائم ہے ۔ وہ لوگ جو خود تو مٹی اوڑھ کر سو گئے لیکن اس مٹی کے اوپر چلنے والوں کے جینے کا سامان کر گئے،انہیں سر بلند کر گئے۔
صحیح بخاری میں حضرت ابو ہریرہؓسے روایت ہے ”رسول اللہ نے فرمایا:”تباہ ہوا دینا ر و درہم اور زرق برق لبا س کا پجاری کہ اگر اسے دیا جائے تو راضی ہو جاتا ہے اور اگر نہ دیا جائے تو ناراض ہو جاتا ہے اور سر کو بزدلوں کی مانند نیچے کر لیتا ہے اور اگر اسے کانٹا چبھ جائے تو نہ نکالا جائے اور کتنا اچھا ہے کہ وہ بندہ کہ جو اٹے ہوئے قدموں اور الجھے ہوئے سر (سر کے بالوں )کے ساتھ اللہ کے راستے میں اپنے گھوڑے کی لگام تھامے رہتا ہے ۔اگر اسے پہرے پر مقرر کر دیا گیا تو وہ پہرہ دیتا رہتا ہے ۔اور اگر اسے پچھلی صفوں میں رکھا جائے تو وہ چپ چاپ پچھلی صفوں میں ہی رکا رہتا ہے اور بظاہر اس کی حیثیت یہ ہے کہ اگر وہ اجازت مانگے تو اسے اجازت نہیں ملتی اور اگر وہ کسی کی سفارش کرے تو اس کی سفارش سنی نہیں جاتی ۔“
شان کریمی دیکھئے کہ جو دنیا کی نظر میں بے قیمت ہو تے ہیں ‘اس دربار میں ان کی کتنی قیمت لگتی ہے۔ان کی بات سنی جاتی ہے ‘سفارش قبول کی جاتی ہے ۔جو پچھلی صفوں والے ہوتے ہیں ‘اللہ کی کتاب میں ان کا شمار مال و دولت والوں اور درہم و دینار والوں کے مقابلے میں اگلی صف والوں میں کیا جاتا ہے۔
ان ہی فدا کاروں میں کچھ ایسے بھی ہیں جو ہر وقت قلب و ذہن پر چھائے رہتے ہیں۔ان کا کوئی تذکرہ کہیں نہیں آتا ۔شاید ان لیڈروں کے نزدیک وہ تذکرے کے لائق نہ رہے ہوں گے مگر میرا دل ان کو کبھی نہیں بھلا پاتا ۔یہ لوگ مقبوضہ کشمیر میں اپنے گھروں سے آزادی کی تلاش میں نکلے تھے ۔اپنے پیاروں کو بہت سی امیدیں دلا کر ان سے وفا کے وعدے کر کے لیکن یہ عہد کا پاس نہ کر سکے ‘پیمان وفا نبھا نہ سکے ۔اللہ سے کیے ہوئے وعدے کو نبھاتے ہوئے بندے سے کیے گئے وعدوں کا پاس نہ کر سکے۔
تحریک آزادی کشمیر کے کچھ ”علمبردار“ایسے تھے جو محض نعرے لگانے اور تقریریں کرنے کے لیے بچ گئے۔وہ جو خلاصہ کائنات تھے ،چلے گئے اور تل چھٹ آزادی کی تحریک کے لیے گناہوں کا عذاب بن گئی ۔بظاہر ریاست جموں کشمیر میں ان شہیدوں کے لہو کی قسمیں کھانے اور اس مشن کا علم اٹھانے والے بہت موجود ہیں ‘لیکن اڑھائی د ہائیوں تک بہتے لہوکے سیلاب سے گزر کر بھی ان قائدین کی روش نہیں بدلی ۔ریاست کی غلامی کا ایک بڑا سبب ان کی یہی روش ہے۔مٹتے مٹ گئے لیکن ایک دوسرے کی ٹانگیں کھنچنے ،سازشیں کرنے اور باہم دست و گریباں ہونے کی عادت نہ گئی۔الاماشااللہ ایسے بھی ہیں جن کی زندگی آج بھی اس راہ میں کھپ رہی ہے۔
1989ءسے تادم، ایک لاکھ سے زائد قبریں جموںکشمیر کے سینے پر ابھر آئیں ۔ لاکھوں انسان لٹ پٹ کر بے گھر ہو گئے ۔ ان قربانیوں کو بیساکھی بنا کر بہت سارے گمنام ”نامور“ہو گئے۔ان سب نے اپنی اپنی دنیا بنا لی،اس دنیا میں ایسے گم ہوئے کہ پھر گھر یا د رہا نہ کشمیر۔بڑی بڑی گاڑیاں ‘کوٹھیاں ‘کروفر ،جاہ و جلال ‘بظاہر یہ”قائدین “تحریک آزادی کے لیے ” سب کچھ “قربان کرنے کی بات کرتے ہیں لیکن جو اس تحریک کی راہ میں قربان ہو گئے،ان کے نقش قدم پر چلنے کے لیے ہم میں سے کوئی بھی تیار نہیں ہیں۔تحریک آزادی کشمیر کی قیادت کا دعویٰ کرنے والے لاتعداد ایک ایسی دنیا میں کھو گئے جہاں سے ان کی واپسی کے امکانات معدوم ہو چکے ہیں۔دنیا کی محبت ہم سب کولے بیٹھی ہے ،اب تو شاید صور اسرافیل ہی ہم سب کو جگا سکے،ہم اسی قابل رہ گئے اس راہ میں سب کچھ لٹانے والوں کے جنازے پڑھتے رہیں،ریفرنسز کرتے رہیں۔ایک طرف یہ گمنام شہید ہیں اور دوسری طرف اپنی منزل گم کرنے والے ۔ہم کہ جن کے قدم ڈگمگائے ہوئے ہیں۔سر کے بال الجھے ہوئے ہیںاور نہ اللہ کی راہ میں ہر دم لگام تھامے رہتے ہیں۔ انہیں پہرے پر کھڑا کیا گیا تھالیکن اپنی جگہ چھوڑ چکے ہیں،ان کو پچھلی صفوں میں بھیجا جائے تو آنکھیں دکھاتے ‘اگلی صفوں میں رکھاجائے تو اپنی پشت دکھاتے ہیں۔یہ کسی سے کچھ کرنے کی اجازت مانگتے ہیں،نہ کسی کو آگے بڑھ کر کچھ کرنے دیتے ہیں۔یہ ”قائدین“ جن کو کچھ دیا جائے تو تو راضی رہتے ہیں کچھ نہ دیا جائے تو ناراض ہو جاتے ہیںاور بزدلوں کی طرح اپنا سر نیچا کر لیتے ہیں۔
ہمارے کل پر اپنا آج قربان کرنے والے خلاصہ ارض اہل جموںکشمیر اگر جانتے کہ ان کے بعد اس طرح کی فصل اگنے والی ہے جو کانٹو ں سے بھری ہو گی ،یا یہ کہ فصل ہی باڑھ کھانے لگے گی ،تو شاید وہ گمنامی کی موت نہ مرتے ۔13جولائی،7 اور12کتوبر،6 نومبر ،5 فروری آتاہے تو ہمارے گلے تقریروں کے لیے کھل جاتے ہیں۔ دعوے ، نعرے اور وعدے نیا رنگ اختیار کر لیتے ہیں۔پھر ایک اور برس بیت جاتا ہے ۔ملت کشمیر کو دلدل میں چھوڑ کر ہم سکون کی نیند سو جاتے ہیں۔ہمارے دن بدل جاتے ہیںلیکن مظلوم کشمیریوں کے دن بدلنے تھے نہ بدلے،جو گمنامی کی موت مر گئے وہ گمنام رہے ، جودنیاکی تلاش میں نکلے تھے وہ ”نامور “ہوتے چلے گئے۔
( متعدد کتابوں کے مصنف ‘شعبہ تعلیم
سے وابستہ اورسماجی کارکن ہیں)
٭….٭….٭


سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved