تازہ تر ین

سندھ طاس معاہدہ اوربھارت کی آبی جارحیت

یوسف سرورفریدی….خاص مضمون
بھارت نے پاکستان کے خلاف سنگین آبی جارحیت کا محاذ شروع کردیا ہے۔بھارتی آبی جارحیت کوامریکہ،چائنا اوراقوام متحدہ سمیت پوری دنیا نے سامنے تسلیم کیا ہے۔چونکہ پانی کشمیر سے بھی بڑا مسئلہ ہے۔ سندھ طاس معاہدہ بھارت یکطرفہ ختم نہیں کرسکتا۔معاہدہ ختم کرنے سے پاکستان کوستلج بیاس اور راوی کے پانی پر بھی حق حاصل ہوجائے گا۔مگر یہ باہمی رضامندی کے بغیر ممکن ہی نہیں ہے۔ وطن عزیز آج آبی قلت ، توانائی کے شدید بحران اور زبردست معاشی بدحالی کی لپیٹ میں ہے ۔ یہ بحران اچانک پیدا نہیں ہوئے یہ ایک طویل ترین کولڈ وار کا نتیجہ ہے ۔قومی پاسبان بھارت کی یہ صلاحیت ختم کر سکتے ہیں۔ موجودہ دور میں نفسیاتی اور تکنیکی جنگ ، کلاشن کوف اور ایٹمی جنگ سے کہیں زیادہ اہمیت کی حامل ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ 1948ءسے ہمسایہ ملک بھارت ، پاکستان کو کھنڈرات میں تبدیل کرنے کی سازش کر رہا ہے ۔ یہ اس سازش کا نتیجہ ہے کہ 1952ءکو یہاں فی کس پانی کی مقدار 5600 کیوبک میٹر تھی اب صرف 908ءکیوبک میٹر ہے ۔ اس مقدارپر پانی اس قدر کم ہوجاتا ہے کہ انسانی صحت متاثر ہوتی ہے ۔ اور یہ مقدار 500 کیوبک میٹر تک پہنچ جائے تو انسان زندہ نہیں رہ سکتا ۔ آئے دن جس رفتار سے آبادی بڑھ رہی ہے اور پانی کی قلت میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے اور فی کس مقدار میں کمی ہو رہی ہے اگرچہ 2020 ءتک کوئی بڑا ذخیرہ تعمیر نہ کیا گیا اور آج ہی سے باقی ماندہ دریاو¿ں کی گذر گاہوں (واٹر کیچ ایریاز) کے دفاع نہ کر سکے تو پاکستان میں ہر طرف زبردست قحط و خشک سالی پھیل جائے گی ۔ جس کے آثار نمودار ہونے شروع ہوگئے ہیں جس کے باعث نہ معیشت رہے گی اور نہ فیڈریشن۔ ہمسایہ ملک نے جو مقاصد تین جنگیں لڑ کر حاصل نہ کر پایا اب وہ سرد آبی جنگ سے وہ مقاصد حاصل کرنے میں کامیاب نظر آرہا ہے ۔
اس خوفناک بحران کی سب سے بڑی وجہ بھارتی آبی جارحیت ہے جس کا آغاز تقسیم ہند سے شروع ہوا اور ابھی تک جاری ہے ۔ پاکستان کی حکومتوں نے اقتدار بچانے اورجنگ سے بچنے کی خاطر یہ انتہائی اہم اور قومی بقاءکا مسئلہ آئندہ حکومتوں پر چھوڑنے کا سلسلہ جاری رکھا ۔ جس سے بھارت نے ایک طویل المدتی پروگرام کے تحت پاکستان کے آبی وسائل اپنی حدود میں کنٹرول کرنے کیلئے یکے بعد دیگرے 300ڈیمز اور ھائیڈل پاور پروجیکٹس تعمیر کر رہا ہے ۔جن میں 76ڈیمز مکمل ہو چکے ہیں اور 3درجن سے زائد پروجیکٹس کیلئے ابتدائی کام بھی شروع ہے ۔ خفیہ ہاتھوں نے پاکستان کو دنیا کے نقشہ سے ختم کرنے کیلئے قیام پاکستان کے فوراً بعد اپنی سرگرمیاں شروع کر دی تھیں ۔ اور پاکستان کے دریاو¿ں پر قبضہ کرکے جنگی ہتھیاروں کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے ۔ 1948ءمیں دریائے ستلج پر بھاکھرا ڈیم تعمیر کیا، اس میں سے بارہ نہریں نکال کر راجستان کا علاقہ آباد کیا ۔ دریائے راوی پر چھ ڈیم تعمیرکرنے کے لیے ایک بڑا بند باندھ کر اس کا رخ مدھو پور ہیڈ ورکس کی طرف موڑ دیا اور وسیع بھارتی بنجر علاقہ سیراب کیا ۔ بالآخر تینوں دریاو¿ں کو اپنی حدود میں کنٹرول کر لیا گیا ۔ تقسیم ہند کے موقع پر باو¿نڈری کمیشن نے پاک بھارت کے مابین جو حد بندی مقرر کی تھی۔ اس سے دریاو¿ں کے پانی کا نظام دریاو¿ں کے قدرتی بہاو¿ کی بنیاد پر رکھا گیا تھا ۔ خواہ ہیڈ ورکس کسی بھی ملک کی حدود میں واقع ہونگے ۔ بھارت نے باو¿نڈری کمیشن کی قانونی حیثیت اور عمل داری ختم ہوتے ہی اپنی جغرافیائی اہمیت کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ۔ یکم اپریل 1948ءکو ان تمام نہروں کا پانی بند کر دیا جس سے پاکستان کی اراضی سیراب ہوتی تھی ۔ یکایک پانی کی بندش سے پاکستان میں کربلا برپا ہوگئی ۔ پانی کی عدم دستیابی سے لاکھوں انسانوں کے لئے زندگی اور موت کا مسئلہ بن گیا ۔ ہزاروںمویشی یا تو ذبح کر دیے گئے یا پھر انہیں دور دراز علاقوں میں بھیج دیا گیا ۔ ان کربناک حالات کے پیش نظر پاکستان اور بھارت کے مابین ایک تحریری بیان پر اتفاق ہواکہ جب تک پانی کی تقسیم کا کوئی حل نہیں ہو جاتا پاکستان کو پانی کی ایک خاص مقدار دینے پر سمجھوتہ ہوا ۔ لیکن یہ بھی کوئی مستقل لائحہ عمل نہ تھا ۔ چنانچہ اقوام متحدہ اورورلڈ بنک کی کوششوں سے ایک کربناک سیاسی موڑ 19ستمبر 1960ءکو سندھ طاس معاہدہ سائن ہوا تھا ۔ جس کے تحت ستلج ، بیاس اور دریائے راوی پر بھارت کا تسلط مان لیا گیا اور پاکستان 2کروڑ چالیس لاکھ ایکڑ فٹ پانی سے محروم ہوگیا تھا ۔ دنیا بھر میں کسی جگہ بھی ایسا معاہدہ نہیں ہوا کہ دریاو¿ں کے پانی کو صرف ایک ملک کی حدود تک ہی محدود کر دیاجائے ۔ بلکہ عالمی قوانین کے مطابق اس ملک کا حق زیادہ تسلیم کیا گیا ہے ۔ جو آخر پر آتا ہے ۔ یہ ظلم اور دہشت گردی کو انتہا ہے کہ اب بھارت دریائے ستلج ، بیاس اور راوی کے بعد پاکستان کے باقی ماندہ دریاو¿ں چناب ،جہلم اور سندھ کا پانی بھی اپنی حدود میں کنٹرول کرنے کیلئے درجنوں منصوبوں پر کام تیزی سے جاری ہے ۔ دریائے سندھ پر کارگل کے مقام پر دنیا کا سب سے بڑا ڈیم تعمیر کر رہا ہے جو کہ دنیا کا آٹھواں بڑا عجوبہ ہوگا ۔ علاوہ ازیں طویل ترین سرنگ کے زریعے دریائے سندھ کا 35 فیصد پانی چوری کیا جا رہا ہے ۔ سندھ طاس دریاو¿ں کے پانی کی راہزنی سے پاکستانی دریاو¿ں میں 80 فیصد کمی واقع ہوئی ہے ۔
سندھ طاس معاہدہ کے مطابق بھارت کا دریائے ستلج ، بیاس اور راوی پر بھارت تسلط مان لیا گیا ۔ جبکہ انڈس واٹر ٹریٹی کے مطابق بھارت دریا ئے چناب ، جہلم اور سندھ پر ایک ڈیم بھی تعمیر نہیں کر سکتا ۔ بھارت نے پن بجلی گھر بنانے کی آڑ میں پاکستان کے دریاو¿ں پر ڈیموں کا جال بچھا دیا گیا ۔
دریائے ستلج اور راوی میں پانی نہ آنے کے باعث پانی کے گراو¿نڈ لیول کی ری چارجنگ پراسس ختم ہوگیا ۔ جب دریابہتے تھے تو گرد ونواح میں پانی دس بارہ فٹ نیچے مل جاتا تھا ۔ اب اکثر علاقوں میں زیر زمین پانی کی سطح خطر ناک حد تک نیچے چلی گئی ہے ۔ جس کے باعث ٹیوب ویلوں کے ذریعے نظام آبپاشی اور واٹر پمپوں کے ذریعے پینے کے پانی کا نظام بھی خطرے کی لپیٹ میں ہے ۔ بھارت کے خلاف مورچہ بندی وقت کی اہم ضرورت ہے ورنہ بہت دیر ہوجائے گی۔ اس مسئلہ کے لئے پارلیمانی کمیٹی بنائی جائے ۔ سندھ طاس ڈیفنس فورس قائم کی جائے۔ اور اس مسئلہ کو فی الفور انٹر نیشنل کورٹ اور اقوام متحدہ میں اٹھایا جائے ۔ تباہی سے بچنے کیلئے اب صرف ایک ہی راستہ ہے ۔ ایک دن کی تاخیر بھی قومی خود کشی کے مترادف ہے۔
(مضمون نگاروائس چیئرمین سندھ طاس واٹر کونسل ہیں)
٭….٭….٭


سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved