تازہ تر ین

سچا اور کھر ا لیڈر

عبدالستار عاصم….جہان قائد
ایک مفکر کا قول ہے کہ ”آپ مجھے بہترین مائیں دیں، میں آپ کو بہترین قوم دوں گا“ ایک دوسرے دانشورکا قول ہے کہ قوم کو بہترین کتابیں دیں، پر امن اور ترقی یافتہ معاشرے کی تشکیل پائیں۔ 21ویں صدی میں بے شمار کتب شائع ہوئیں مگر عہد حاضر کے بے باک صحافی اور ادیب جناب ضیا شاہد درجن کے قریب اعلیٰ پائے کی کتب لکھ کر ادبی تاریخ میں زندہ و جاوید ہو گئے ہیں۔انھوں نے ایک کتاب” امی جان“لکھ کر پوری دنیا کی ماﺅں کی تصویر کشی کی اور ایک ارب ماﺅں کی ترجمانی کی ہے۔
بانیِ پاکستان حضرت قائد اعظم محمد علی جناحؒ کی شخصیت پر بقول ڈاکٹر ندیم شفیق ملک ایک ہزار سے زائد کتب چھپ چکی ہیں لیکن سب سے دلچسپ کتاب جدید صحافت کے بانی جناب ضیا شاہد نے ”سچا اورکھرا لیڈر “لکھ کر اہلِ وطن پر خصوصاً نوجوان نسل اور سیاستدانوں پر بہت بڑا احسان کیا ہے۔ یہ کتاب ایک قومی ہیرو کو خراج تحسین بھی ہے اور خراج عقیدت بھی ۔قائد اعظمؒ نے زندگی بھر محنت کی اور اپنی زندگی کا ایک مقصد اور مشن بنایا اور اُس میں کامیاب بھی رہے اور مسلمانوں کوپاکستان کی صورت میں ایک ایسا تحفہ دیا جو تا قیامت شاد و آباد رہے گا۔قائد اعظم کی زندگی کے کئی واقعات ایسے ہیں جو ہر نوجوان کے دل پر نقش ہونا چاہئیں۔ اس کتاب میں ایک دلچسپ واقعہ لکھتے ہیں ۔
جسٹس شمیم حسین قادری لکھتے ہیں ۔مجھے زندگی میں کئی بار قائد اعظمؒ کی خدمت میں حاضر ہونے کا موقع ملا ۔پنجاب میں مسلم لیگ کی تحریک چل رہی تھی اور یہاں کے حالات بڑے مخدوش تھے ۔اکثر لیڈر جیل میں تھے ،آئے دن کی گرفتاریاں جاری تھیں، خضر حیات کا دورِ وزارت تھا، ان دنوں راجہ سید اکبرعنقریب جیل جانے والے تھے اور میں بھی ان کے بعد اپنی باری کا انتظار کر رہا تھا۔ہمارے پاس فنڈز بھی ختم ہو چکے تھے ۔کراچی میں مسلم لیگ کانفرنس ہو رہی تھی اور قائد اعظم ؒبھی اس کانفرنس میں تھے ۔راجہ غلام حسین ہدایت اللہ سندھ کے چیف منسٹر تھے ۔حسین شہید سہروردی بنگال سے آئے تھے جو وہا ں چیف منسٹر تھے ۔یہ فیصلہ ہوا کہ ان سے پیسے مانگے جائیں ۔میرے پاس ایک خط تھا ،جس کے متعلق مجھے یاد نہیں کہ یہ خط نواب ممدوٹ مرحوم یاحسین شہید سہر وردی کے نام تھا ۔قائد اعظم محمد علی جناحؒ سند ھ گورنمنٹ ہاﺅس یعنی موجودہ گیسٹ ہاﺅس میں ٹھہرے ہوئے تھے اور ناشتے کی میز پر بیٹھ چکے تھے ۔جب میں ان کے پاس پہنچا توانہوں نے کہا ”پیسے ہمارے پاس نہیں ہیں، پنجاب کو اپنی لڑائی خود لڑنی چاہیے تم لوگ کوشش کرو اور ہمت سے کام لو “۔میں نے سب حالات عرض کیے ہیں ،انہوں نے غور سے میری باتیں سنیں ہیں ، پھری بڑی شفقت سے کہنے لگے۔اچھا تمہارے مشن کیلئے کوشش کرتے ہیں، کچھ نہ کچھ تو ہو ہی جائے گا ۔پھر میری ملاقات حسین شہید سہروردی مرحوم اور راجہ غلام حسین ہدایت اللہ سے کرائی ۔ان لوگوں نے مدد کا وعدہ فرمایا ۔قیام پاکستان کے بعد لاہور کے فلیٹیزہوٹل میں قائد اعظمؒ سے میری دوسری ملاقات ہوئی ۔قائد ؒ کے اعزاز میں ایک استقبالیہ تھا ۔راجہ غضفر علی خان مرحوم نے قائدؒ سے میری ملاقات کروائی اور کہا کہ یہ مسلم لیگ کا بڑا سر گرم کارکن ہے ۔قائد اعظمؒ نے محبت بھری نگاہوں سے میری طرف دیکھا اور فرمایا۔
WELL DONE YOUNG BOY, BUCK UP YOUNG BOY
(بہت خوب جوان ،شاباش جوان)۔وہ جوانوں سے مل کر بہت خوش ہوتے تھے کہ بیان سے باہر ہے ۔
معروف قلمکار صادق الخیری لکھتے ہیں ۔قائد اعظمؒ کے آٹو گراف کیلئے میرا دل مچلتاتھا مگر جب بھی خیال آتا عجب حالت ہوتی ۔ایک تو وہ بڑے آدمی تھے اور ان کی نازک مزاجی دنیا بھر میںمشہور تھی، قاعدہ قانون کے خلاف کوئی بات پسند نہ کرتے تھے ۔دوسرا ان کا ہر لمحہ اس قدر قیمتی تھا کہ محض آٹو گراف کی خاطر ان کے پاس جانے کی ہمت نہ ہوتی تھی۔1940ءمیں بڑا مبارک سال آیا کہ عربک کالج دہلی میں مسلم لیگ کا جلسہ ہو ا اور قائد اعظم وہاں تشریف لائے ۔میں تقریباًپانچ سال پہلے یہاں سے فارغ التحصیل ہو کر رخصت ہوا تھا ۔اس لیے طالب علموں کی طرح گھس گھسا کر ان کے پاس پہنچ جانا میرے بس میں نہ تھا ۔یہ بھی اچھا نہ سمجھا کہ وہ اکابر کے ساتھ مصروفِ گفتگو ہوں تو دخل در معقولات کروں ۔اتنے میں مجھے اپنے بھتیجے سعدی خیری جو بعد میں ارجنٹائن میں پاکستان کے سفیر مقرر ہوئے ،ان کاخیال آیا جو سٹوڈنٹ مسلم لیگ کے سرگرم کارکن تھے اور اس وجہ سے قائد اعظمؒ تک ان کی رسائی تھی۔یہ میرے منشا کے خلاف تھا کہ کسی کے ذریعہ آٹوگراف حاصل کروں مگر بے حد مجبور ہو کر میں نے ان سے اپنی خواہش کا اظہار کیا اور اپنی البم انہیں تھما دی ۔سعدی دھن کے پکے ہیں ،مجھے یقین تھا کہ وہ کسی طرح میرے مطلب کا آٹو گراف حاصل کر لیں گے ۔میری بد قسمتی دیکھیے کہ جب قائد اعظمؒ نے دستخط کرنا شروع کیا تو پین نے لکھنا بند کردیا اور اس کی سیاہی خشک ہو گئی ۔آج بھی میں اس لمحہ کا تصور کر سکتا ہوں ۔ جو قلم کے یوں اٹکنے سے قائد اعظمؒ کے مزاج پر گراں گزرا ہو گا لیکن سعدی نے نہایت پھرتی سے قلم جھٹک کر سیاہی رواں کردی اور قائداعظمؒ نے دستخط فرمادئیے۔میں سمجھتا ہوں کہ پین کی رکاوٹ نے ان کی طبیعت میں ناگواری پیدا کردی جس کی بنا پر قائد اعظمؒ نے انگریزی میں دستخط کئے اور تاریخ نہ لکھی ۔قائد اعظمؒ کا آٹوگراف حاصل کر کے میں بہت خوش ہوا مگر افسوس بھی ہوا کہ انہوں نے کوئی تحریرنہ دی ۔یہ آٹو گراف انہوں نے جنوری 1940ءمیں دیا تھا اور میرے لیے یہ بہت قیمتی ہے ۔بانی پاکستان طلبا و طالبات کو قوموںکی ریڑھ کی ہڈی کا درجہ دیتے تھے اور طلبا کو بے حد پسند کرتے تھے ۔وہ طلبا کی فکری و ذہنی رہنمائی بھی کرتے تھے۔ انہوں نے طلبا کو ایک اصول دیا ۔
دولت گئی ۔۔۔کچھ بھی نہ گیا
حوصلہ گیا ۔۔۔بہت کچھ گیا
عزت گئی ۔۔۔بیش قیمت چیز گئی
روح گئی ۔۔۔ایمان گیا
یہ کتاب پوری قوم کیلئے ایک آئینہ ہے، ایک اصول اور ایک پیمانہ ہے۔قائد اعظمؒ کا ایک ارشاد ہے کہ پاکستان کا مستقبل روشن اور شان دار ہے، یہ ہمارا کام ہے کہ قدرت نے ہمیں جن فیاضیوں سے نوازا ہے ان سے پورا پورا فائدہ اٹھائیں اور ایک مضبوط اور شاندار پاکستان کی تعمیر کریں۔ جناب ضیاشاہد نے ”سچا اور کھرا لیڈر “کتاب لکھ کر اپنے حصہ کا کام کر دیا ہے، اب یہ ہمارا فرض بنتا ہے کہ اس کتاب کو ہر تعلیمی ادارے ، ہر دفتر اور ہر گھر پہنچا کر اپنا فرض اور قرض ادا کریں جو بانی پاکستان نے قوم کے سپرد کیا تھا ۔زندہ قومیں اور بیدار معاشرے ہمیشہ اپنے قومی ہیرو کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں ،یہ بھی جناب ضیاشاہد کی طرف سے ایک خراج تحسین ہے ،قائد اعظمؒ زندہ باد پاکستان پائندہ باد۔
(کالم نگار ادبی اور سماجی مسائل پر لکھتے ہیں)
٭….٭….٭


سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved