تازہ تر ین

کچھ لفظوں کی املاءکے حوالے سے….(3)

ازھر منیر….فرینکلی سپیکنگ
اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ کہنی والی ہ کی جگہ بھی دو آنکھوں والی ھ استعمال کرنا شروع کر دی جائے جیسا کہ ایک صاحب نے اپنے نام پہ ایک ایسی املاءایجاد کی ہے جس میں ہر جگہ کہنی والی ہ کی جگہ دو آنکھوں والی ھ ہے۔ ظاہر ہے یا یہ مذاق ہے یا املاءکے اصولوں سے نا واقفیت۔ اس لیے کہ جس طرح دو آنکھوں والی ھ کی جگہ کہنی والی ہ لکھنا غلط ہے اسی طرح کہنی والی ہ کی جگہ دو آنکھوں والی ھ بھی۔ مثلا دہی، دہرا، بہن، بہنوئی، بہو، پہلا اور ان جیسے دیگر الفاظ میں کہنی والی ھ سے نہ صرف یہ کہ ان کی املاءغلط ہو جائے گی بلکہ کئی لفظوں کا تو مفہوم ہی بدل جائے گا یاوہ غلط اور بے معنی ہو جائے گا۔ مثلا دہی، دہرا، پہلا، اور بہن کو دو آنکھوں والی ھ سے لکھنے کے نتیجے میں یہ دھی، (بمعنی بیٹی) دھرا، پھلا اور بھن (بمعنی توڑ) بن جائیں گے۔ لہٰذا کہنی والی ہ کی جگہ دو آنکھوں والی ھ لکھنا اسی طرح غلط ہے جیسے دو آنکھوں والی ھ کی جگہ کہنی والی ہ لکھنا۔
کچھ انگریزی کے لفظوں کو عربی فارسی رسم الخط میں لکھتے ہوئے ان میں سے ”ے“ کو حذف کرنے کا غلط رواج ہے۔ مثلاً french, bench,central, centre,lecture,bank وغیرہ۔ انھیں بنک، لکچر، سنٹر، سنٹرل، بنچ اور فرنچ لکھ دیا جاتا ہے۔ حالانکہ ان کی درست املاءبینک، لیکچر، سینٹر، سینٹرل، بینچ اور فرینچ بنتی ہے اور bank کو اگر ہم بنک لکھیں گے تو banker کو ظاہر ہے بنکر۔ لیکن اس صورت میں پھر یہ banker نہیں، bunker بن جائے گا۔ اسی طرح بینچ کو بنچ لکھنے کے نتیجے میں یہ bunch (گچھا) بن جاتا ہے۔اسیمبلی انگریزی لفظوں کے علاوہ بھی کئی لفظوں کی ”ے“ کھالی جاتی ہے۔ مثلاً 6 کی ۔ اسے چھ لکھ دیا جاتا ہے۔ حالانکہ یہ ”ے“ کے ساتھ چھے ہے۔ جیسے تھے، ”ے“ کے ساتھ ہے اور اگر اس میں سے ”ے“ حذف کر دی جائے تو یہ تھ رہ جاتا ہے، جسے تھے نہیں پڑھا جا سکتا ہے۔ اسی طرح چھے کو 6 نہیں، چھ پڑھا جائے گا۔ 6 پڑھنے کے لیے اس کے آگے ”ے“ کا اضافہ کرنا ہو گا اور پھر اس کی املاءچھے ہو گی، نہ کہ چھ۔
لیکن جہاں ان لفظوں میں سے ”ے“ حذف کی جاتی ہے وہاں کچھ لفظوں میں خواہ مخواہ الف کا اضافہ کردیا جاتا ہے جیسے Lecturer اور Information کو لیکچرار اور انفارمیشن لکھ دیا جاتا ہے۔ حالانکہ یہ لیکچرر اورانفرمیشن ہیں۔ Informانفارم ہے لیکن Information انفرمیشن ہے، نہ کہ انفارمیشن۔
اس سلسلے میں ایک اور بات جس کا تعلق املاءسے تو نہیں تاہم ضمناً اس کا ذکر بھی ہو جائے۔ کالج میں پڑھانے والا (مدرس) لیکچرر ہے لیکن لیکچرر کی پوسٹ یا مدرسی لیکچرر شپ نہیں، لیکچر شپ ہے۔ یہاں بولنے اور لکھنے دونوں میں ایک ”ر“ کا اضافہ کر دیا جاتا ہے جو درست نہیں۔
کچھ لوگ کئی تراکیب میں واﺅ کا اضافہ کر دیتے ہیں جیسے قوس و قزح، محل و قوع، خط و کتابت، یہ قوسِ قزح (دھنک۔ گُڈی گُڈے دی پینگھ) محلِ وقوع اور خط کتابت ہیں۔ خط کا مطلب ہے نامہ اور کتابت لکھائی (یا لکھنا) تو خط کتابت کا مطلب ہے خط لکھنا۔ خط اور لکھائی یا لکھنا، جو ظاہر ہے بے معنی سی بات ہے۔ اصل ہے خط کتابت۔
وہ بھی دن تھے کہ روز ملتے تھے
اور رہتی تھی خط کتابت بھی
٭….٭
یہ بھی دن ہیں، نہیں میسر اب
تیری قربت کی ایک ساعت بھی
٭….٭
کچھ تھا قسمت کا دوش بھی لیکن
کچھ تھی لیکن تری عنایت بھی
(ازھرمنیر)
کچھ لوگ کئی لفظوں کی وہ املاءلکھتے ہیں جو آج سے سو، ڈیڑھ سو برس پہلے لکھی جاتی تھی یعنی اردو کے ابتدائی زمانے میں۔ اس وقت جب اردو زبان اور اس کی املاءدونوں ابھی تشکیل کے مراحل طے کر رہی تھیں۔ مثلاً گانو، پانو وغیرہ۔ حالانکہ جیسا کہ بیان کیا گیا، عربی فارسی لفظوں کے علاوہ باقی کی املاء(عربی فارسی رسم الخط میں) ان کے تلفظ کے مطابق لکھی جانی چاہیے۔ ہندی الفاظ بھی اس میں شامل ہیں۔ گاﺅں میں پہلے گا ہے، پھر ”و¿“ یوں بنا گاﺅ، اور آخر پر نون غنہ اگرواﺅ سے پہلے ہوتا تو گانو لکھنا درست تھا لیکن جیسا کہ آپ یہ لفظ ادا کرکے دیکھ سکتے ہیں، نون غنہ واﺅ کے بعد ہے۔ سو اسے گاﺅں لکھنا چاہیے۔ اگر گاﺅں کو گانو لکھنا درست مان لیا جائے تو پھر اس اصول پہ لاﺅں کو لانو، کھاﺅں کو کھانو، جگاﺅں کو جگانو، آﺅں کو آنو، جاﺅں کو جانو، چھاﺅں کو چھانو، میاﺅں کو میانو، ماﺅں کو مانو، لکھنا پڑے گا۔(ختم شد)
(کالم نگار سینئر صحافی‘ شاعر اور ادیب ہیں)
٭….٭….٭


سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں




دلچسپ و عجیب
کالم
آپ کی رائے
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved