تازہ تر ین

روزے کب شروع ہوئے

توصیف احمد خان

راقم کی یہ روایت رہی ہے کہ رمضان المبارک میں سیاسی موضوعات پر بحث نہیںکی جاتی‘ بلکہ اللہ اور اس کے رسول کی باتیں کرتے ہیں۔ دین کی باتیں کرتے ہیں‘ مکہ اور مدینہ کی باتیں کرتے ہیں۔ ”خبریں“ میں چونکہ رمضان کے حوالے سے یہ پہلا موقعہ ہے لہٰذا قارئین کی آگاہی کےلئے یہ تحریر کرنا ضروری ہے۔ اللہ تعالیٰ کے کرم اور رحمتوں سے رمضان کی ابتداءہوچکی ہے۔ یہ نیکیاں سمیٹنے اور گناہ مٹانے کا مہینہ ہے لیکن ہم یہ تو دیکھ لیں کہ جس مبارک مہینہ کی آج ابتداءہے اس کی اصل ابتداءکب ہوئی۔ سب سے پہلے کلام اللہ کو دیکھتے ہیں۔
قرآن پاک میں فرمان باری تعالیٰ ہے:۔
اے لوگو! جو ایمان لائے تم پر روزہ اسی طرح فرض کیا گیا ہے جس طرح ان لوگوں پر فرض کیا گیا تھا جو تم سے پہلے تھے تاکہ تم متقی بن جاﺅ (روزے) گنتی کے چند دن ہیں پھر تم میں سے کوئی بیمار ہو یا سفر پر ہو تو دوسرے دنوں سے گنتی پوری کرلے اور جو لوگ روزہ رکھنے کی طاقت رکھتے ہوں (پھر نہ رکھیں) تو اس کا فدیہ ایک مسکین کو کھانا کھلانا ہے پھر اگر کوئی اپنی خوشی سے (زیادہ) نیکی کرے تو یہ اس کے لئے بہتر ہے اگر تم علم رکھتے ہو۔ رمضان کا مہینہ وہ ہے جس میں قرآن نازل کیا گیا جو انسانوں کے لئے ہدایت ہے اور اس میں ہدایت کی واضح اور حق کو باطل سے جدا کرنے والی دلیلیں ہیں۔ پھر تم میں سے جو شخص اس مہینے کو پائے تو اسے چاہئے کہ اس کے روزے رکھے اور جو شخص بیمار ہو یا سفر پر ہو تو دوسرے دنوں میں گنتی پوری کرو اور اس پر اللہ تعالیٰ کی بڑائی بیان کرو کہ اس نے تمہیں ہدایت دی اور تاکہ تم شکر کرو (البقرہ:183 تا 185)
سورةالبقرہ میں ان آیات مبارکہ میں باری تعالیٰ کے فرمان کے مطابق روزے تمام اُمتوں پر فرض کئے گئے۔حضرت آدمؑ سے لے کر نبی کریم تک سب انبیاءؑاور ان کی اُمتوں نے روزے رکھے ہیں البتہ مختلف اُمتوں کے لئے ان کی شکل اور تعداد مختلف تھی۔ عمومی طور پر انبیاءؑاور رسولوںؑ نے ایام بیض کے روزے رکھے ہیں۔ حضرت آدمؑ انہی ایام کے روزے رکھا کرتے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بھی رمضان کے روزوں کا حکم آنے تک انہی ایام میں روزے رکھے۔ ایام بیض ہر قمری مہینے کے ان تین دنوں کو کہتے ہیں جو 13 ‘ 14 اور 15 تاریخ کو آتے ہیں۔ ان ایام کے روزوں کا ویسے بھی بڑا اجر ہے۔ مولا کریم یہ روزے رکھنے والوں کی دعائیں قبول فرماتا ہے۔ ویسے تو باری تعالیٰ ساری دعائیں قبول فرماتا ہے تاہم ان ایام کے روزہ دار کی دعائیں فوراً قبول کی جاتی ہیں…. ان ایام میں ذوالحجہ کے مہینے کی 13 تاریخ ایسی ہے جس میں روزہ رکھنا جائز نہیں یعنی یہ ایام تشریق میں شامل ہے اور ایام تشریق میں روزہ رکھنا حرام ہے۔
اب معاملہ یہ ہے کہ رمضان کے روزے کب فرض کئے گئے۔ رمضان کے مہینے کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے اپنے احکامات میں خود فرما دیا ہے تاہم مسلمانوں پر اس حکم کے نزول تک روزے فرض نہیں تھے۔ نبی کریم کی مکہ معظمہ سے مدینہ منورہ ہجرت سے قبل بھی روزے فرض نہیں تھے۔ یہ حکم مدینہ میں آیا۔ 2 ہجری میں نافذ ہونے والے اس حکم میں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں پر روزے فرض کردیئے۔ 2 ہجری مسلمانوں کی زندگی میں بہت زیادہ اہمیت رکھتا ہے کیونکہ یہی وہ سال ہے جس میں نہ صرف روزے فرض کئے گئے بلکہ اذان کا تعین ہوا۔ عیدالفطر ادا کرنے کی خوشخبری اور زکوٰة ادا کرنے کا حکم دیا گیا۔ یہی وہ سال ہے جس میں کفر اور اسلام کی سب سے پہلی لڑائی ہوئی جسے غزوہ بدر کا نام دیا گیا ہے۔ اس غزوہ میں باری تعالیٰ نے مسلمانوں کو کفر پر ایسی عظیم فتح عطا کی کہ کفار کی کمر ٹوٹ کر رہ گئی۔ یہ غزوہ بھی اس پہلے رمضان میں ہی بپا ہوا جس میں روزے رکھے گئے۔
بعثت کے بعد نبی کریم نے مکہ میں تیرہ برس قیام کیا۔ اس وقت تک مذکورہ امور میں سے کوئی بھی نافذ نہیں ہوا تھا۔ مسلمانوں کو یہ سعادت ہجرت کے بعد مدینہ طیبہ میں ملی۔ روزے رکھنے کا حکم 2 ہجری کے شعبان میں آیا۔ اس مہینہ کے بعد رمضان آنے والا تھا جس کے لئے مسلمانوں کو قبل از وقت آگاہ کردیا گیا اور اوپر دی گئی سورة البقرہ کی آیات مبارکہ اس موقع کی مناسبت سے نازل ہوئیں۔
روزے اس لئے فرض کئے گئے تاکہ مسلمان متقی اور پرہیز گار بن جائیں یعنی یہ مسلمانوں کے لئے ایک قسم کا ریفریشر کورس ہے۔ روزے کا مقصد محض صبح سے شام تک بھوکا رہنا نہیں اللہ تعالیٰ کو ہمیں بھوکا اور پیاسا رکھنے سے کوئی غرض نہیں بلکہ یہ بھوک اور پیاس تو انسان کے اندر تقویٰ پیدا کرتی ہے۔ تقوی اصل میں اللہ تعالیٰ سے لو لگانا ہے۔ اس کی عبادت کرنا ہے۔ اس کی بتائی ہوئی راہ پر چلنا ہے اور ان امور سے کلی طور پر دور رہنا ہے جن سے مولا کریم نے ہمیں منع فرمایا ہے۔ انسان جب ایک ماہ ریفریشر کورس کرلیتا ہے تو باقی گیارہ ماہ میں بھی وہ اس کے لئے ایک سبق بن جاتا ہے۔ اس کے دل میں اُمنگ پیدا کرتا ہے کہ جس طرح یہ مہینہ گزارا ہے باقی گیارہ مہینے بھی اس طرح گزارے جائیں تاکہ اللہ تعالیٰ کی خوشنودی حاصل ہوسکے اور اللہ تعالیٰ کی خوشنودی ہی ہمارا حاصل زندگی ہے۔ اسی میں ہمارے لئے دین و دنیاکی فلاح ہے۔
اس سال یعنی 2 ہجری میں رمضان ختم ہوا اور شوال آیا تو مسلمانوں نے اس کی یکم تاریخ کو سب سے پہلی عیدالفطر منائی اور عید کی نماز ادا کی۔ ماہ رمضان میں ہی نبی کریم نے فطرانہ یا صدقہ عیدالفطر کا حکم جاری کیا کیونکہ مسلمانوں میں ہر کوئی کھاتا پیتا نہیں تھا…. اس وقت نہیں تھا بعد میں اور آج بھی نہیں ہے جبکہ آیندہ بھی ایسی ہی صورتحال ہوگی۔ کچھ لوگوں کو مولا نے اپنے فضل و کرم سے خوشحالی عطا کی ہے تو کچھ اس حالت میں بھی ہونگے کہ اس روز سعید کے لئے پہننے کی غرض سے کپڑا تو ایک طرف کھانے کیلئے روٹی تک نہیں ہوگی۔ان لوگوں کو بھی خوشیوں میں شریک کرنا ضروری ہے تاکہ ان میں اور ان کے بچوں میں محرومی کا احساس نہ ہو اور وہ فطرانہ کے ذریعے اپنی ضرورتیں پوری کرسکیں۔
زکوٰة کی فرضیت کا حکم بھی اسی سال آیا تھا۔ ہر مسلمان جانتا ہے کہ زکوٰة اللہ تعالیٰ کی طرف سے صاحب حیثیت لوگوں پر ایک قسم کا ٹیکس ہے جو وہ مسلم معاشرے کے محروم‘ مجبور‘ بے کس اور بے سہارا افراد کو دیتے ہیں تاکہ وہ بھی اللہ تعالیٰ کی نعمتوں میں سے اپنا حق حاصل کرسکیں۔
٭٭٭


سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved