تازہ تر ین

چیئر مین نیب کی کمیٹی میں پیش ہونے سے معذرت

اسلام آباد (آئی این پی) قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے قانون و انصاف اجلاس میں سابق وزیراعظم نواز شریف کے خلاف مبینہ منی لانڈرنگ کے الزامات پر وضاحت کےلئے چیئرمین نیب جسٹس (ر) جاوید اقبال مصروفیات کے باعث پیش نہ ہوسکے جبکہ قبائلی علاقوں کو صوبہ خیبرپختونخوا میں ضم کرنے سے متعلق فاٹا اصلاحات بل بھی کمیٹی میں زیر بحث نہ آسکا،تحریک انصاف کے ارکان نے فاٹا اصلاحات بل پر مزید ترمیم لانے کا اعلان کر دیا، کمیٹی نے چیئرمین نیب کو22مئی کو دوبارہ طلب کرلیا۔ چیئرمین نیب کو طلب کرنے کے معاملے پر مسلم لیگ (ن) اور تحریک انصاف کے ارکان میں جھڑپ ہو گئی،تحریک انصاف اور ایم کیو ایم کے ارکان نے چیئرمین نیب کو کمیٹی میں طلب کرنے کی مخالفت کی جبکہ مسلم لیگ (ن) کے ارکان نے کہا کہ چیئرمین نیب نے ملک کے تین دفعہ وزیراعظم رہنے والے شخص کی نہ صرف تذلیل کی بلکہ ان پر گمراہ کن الزامات عائد کئے ان سے وضاحت لینا ضروری ہے،کمیٹی کارروائی کی فوٹیج بنانے پر (ن) لیگی رکن میاں عبدالمنان نے صحافیوں کو گالم گلوچ کرتے ہوئے حملہ آور ہونے اور ہاتھا پائی کی کوشش کی کمیٹی کے دیگر ارکان نے بیچ بچاﺅ کرادیا۔بدھ کو قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے قانون و انصاف کا اجلاس چیئرمین کمیٹی چوہدری اشرف کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہاﺅس میں ہوا۔اجلاس کے آغاز پر وزیرمملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے چیئرمین کمیٹی کی توجہ مبذول کراتے ہوئے کہا کہ ایک میڈیا چینل کا رپورٹر فوٹیج بنا رہا ہے اگر فوٹیج بنانے کی اجازت دینی ہے تو سب چینلز کو دی جائے ، جس پر (ن)لیگی رکن قومی اسمبلی طیش میں آ گئے اور اپنی نشست پر اٹھ کھڑے ہوئے انہوں نے کمیٹی میں موجود صحافیوں کو گالم گلوچ شروع کر دیا اور کہا کہ آپ کون ہوتے ہیں جو یہاں بدمعاشی کریں،میاں عبدالمنان اپنی نشست چھوڑ کر صحافیوں سے ہاتھا پائی کےلئے دوسری نشستوں تک پہنچے۔ تاہم ارکان نے بیچ بچاﺅ کرادیا اور صحافیوں نے میاں عبدالمنان کے خلاف شدید احتجاج کیا، چیئرمین کمیٹی اور دیگر ارکان کی طرف سے معذرت پر معاملہ رفع دفع ہو گیا۔ کمیٹی میں نیب کی طرف سے ڈی جی راولپنڈی عرفان نعیم منگی پیش ہوئے اورکمیٹی کو بتایا کہ چیئرمین نیب سرکاری مصروفیات کے باعث کمیٹی اجلاس میں شرکت نہ کرسکے اور انہوں نے مجھے اس لئے بھیجا ہے کہ آئندہ اجلاس کےلئے وقت مانگ سکوں، عرفان نعیم منگی نے کمیٹی سے درخواست کی کہ آئندہ اجلاس کےلئے کوئی تاریخ دے دیں۔ چیئرمین نیب حاضر ہو جائیں گے، جس پر کمیٹی ارکان نے اجلاس جمعہ کو طلب کرنے کا مشورہ دیا، عرفان نعیم منگی نے کہا کہ اگر جمعہ کی بجائے آئندہ ہفتے کا کوئی دن مقرر کیا جائے تو یہ زیادہ بہتر ہو گا، کمیٹی نے اجلاس 22مئی کو طلب کرلیا اور چیئرمین نیب جسٹس(ر) جاوید اقبال کو آئندہ اجلاس میں حاضری یقینی بنانے کی ہدایت کی۔ کمیٹی چیئرمین چوہدری اشرف نے ارکان کو بتایا کہ چیئرمین نیب نے مجھے خط لکھا تھاجس میں مو¿قف اختیار کیا گیا تھا کہ پہلے سے طے شدہ مصروفیات کے باعث کمیٹی اجلاس میں شرکت نہیں کر سکوں گا لہٰذا اجلاس کی تاریخ آگے کر دی جائے، کمیٹی نے چیئرمین نیب کی طرف سے اجلاس میں شرکت نہ کرنے کی درخواست منظور کرلی۔ اس موقع پر رکن کمیٹی رانا افضل نے کہا کہ نواز شریف ملک کے تین دفعہ وزیراعظم رہ چکے ہیں اور وہ ملک کے باعزت شہری ہیں، نیب نے بغیر تحقیق کے ایک میڈیا رپورٹ پر ایک باعزت شہری پر کس طرح الزام لگایا؟۔تحریک انصاف کے رکن قومی اسمبلی علی محمد نے کہا کہ چیئرمین نیب نے سابق وزیراعظم نواز شریف کے خلاف ایک میڈیا رپورٹ کی تصدیق کا حکم دے کر کوئی غیر قانونی کام نہیں کیا۔ جسٹس(ر) جاوید اقبال اچھی شہرت کے حامل ہیں۔ اگر چیئرمین نیب نے کوئی غیر قانونی کام کیا ہوتا یا پھر قانون سازی کےلئے کمیٹی سے تعاون نہ کیا ہوتا تو انہیں طلب کیا جاتا۔ چیئرمین نیب نے نواز شریف کے خلاف منی لانڈرنگ پر تحقیقات کا حکم نہیں دیا۔ انہوں نے کہا کہ اگر چیئرمین نیب کی طرف سے نواز شریف کے خلاف مبینہ منی لانڈرنگ کی شکایت پر جاری کی گئی پریس ریلیز پر (ن) لیگ کے ارکان کی دل آزاری ہوئی ہے تو دوسری طرف نواز شریف کی طرف سے ایک انگریزی اخبار کو حال ہی میں دیئے گئے انٹرویو پر کروڑوں پاکستانیوں کی دل آزاری ہوئی ہے، مسئلہ کشمیر اور تحریک آزادی کشمیر کو سابق وزیراعظم کے انٹرویو سے نقصان ہو سکتا ہے، اگر معاملہ دل آزاری کا ہے اور چیئرمین نیب کو طلب کرنا ہے تو نواز شریف کی طرف سے جو دل آزاری کی گئی ہے انہیں بھی کمیٹی میں طلب کیا جائے، اس دوران تحریک انصاف اور مسلم لیگ (ن) کے ارکان میں تلخ جملوں کا تبادلہ ہوا۔ ایم کیو ایم کے رکن قومی اسمبلی ایس اے اقبال قادری نے چیئرمین نیب کو کمیٹی میں طلب کرنے کو غیر قانونی قرار دیا اور کہا کہ پہلے یہ بتایا جائے کہ کمیٹی میں چیئرمین نیب کو طلب کرنے کا معاملہ کس نے بھجوایا ہے،کیونکہ قومی اسمبلی یا سپیکر قومی اسمبلی کی طرف سے چیئرمین نیب کو طلب کرنے سے متعلق کوئی ہدایت جاری نہیں کی گئی، جس روز نواز شریف کے خلاف منی لانڈرنگ کا الزام ایوان میں زیر بحث آیا تو میں اجلاس میں موجود تھا تو سپیکر نے یہ معاملہ کمیٹی کے سپرد نہیں کیا۔ انہوں نے کہا کہ جب تک کسی پر کوئی الزام ثابت نہ ہو جائے اس وقت تک اخبارات میں خبر جاری نہیں کرنی چاہیے، نیب کی طرف سے جاری کردہ پریس ریلیز کا میں بھی مخالف ہوں لیکن اس کا مطلب یہ بھی نہیں کہ ہم چیئرمین نیب کو کمیٹی میں طلب کرلیا۔ اس موقع پر وزیرمملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے کہا کہ ہم نیب اور تمام اداروں کا احترام کرتے ہیں۔ چیئرمین نیب کو کمیٹی میں طلب کرنے کا مقصد کسی کی تذلیل کرنا نہیں لیکن یہ جاننا چاہتے ہیں کہ پریس ریلیز اور ٹوئیٹ کرنے کا طریقہ کار کیا ہے؟ آج نواز شریف کو غدار کہا جا رہا ہے، نواز شریف کو کمیٹی میں طلب کرلیں وہ آ جائیں گے، کیونکہ نواز شریف کو آج کہاں نہیں بلایا جا رہا وہ روزانہ ماتحت عدالتوں کے چکر کاٹ رہے ہیں، مسلم لیگ (ن) پارلیمنٹ کی تکریم اور عزت کےلئے جدوجہد کررہی ہے،اگر بلانا ہے تو پھر وردی والوں کو بھی بلایا جائے اور بغیر وردی والوں کو بھی بلایا جائے۔ کمیٹی میں فاٹا اصلاحات بل پر تحریک انصاف کے رکن عارف علوی کی طرف سے مزید ترامیم لانے کے مطالبے پر مذکورہ بل زیر بحث نہ آ سکا جبکہ کمیٹی نے لیگل پریکٹیشنرز ترمیمی بل 2018کو اتفاق رائے سے منظور کرلیا، فاٹا اصلاحات بل اور سابق وزیراعظم نواز شریف کے خلاف مبینہ منی لانڈرنگ کے الزامات پر کمیٹی کا اجلاس 22مئی کو دوبارہ طلب کرلیا گیا ہے اور آئندہ اجلاس میں چیئرمین نیب کو پیش ہونے کی تاکید کی گئی ہے۔

 


سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں




دلچسپ و عجیب
کالم
آپ کی رائے
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved