تازہ تر ین

بد نامی پاکستان کے لیے کیوں؟

علی سخن ور….فل سٹاپ کے بعد
29مارچ 2018،بھارتی ریاست کیرالہ سے ایک ایسی خبر آئی کہ جس نے سارے بھارت معاشرے کو دنیا بھر میں رسوا اور بدنام کردیا۔ ایک 23سالہ لڑکی نے تیز دھار بلیڈ سے حملہ کرکے سوامی گنگیش آنند کو اس وقت مردانہ صلاحیتوں سے محروم کردیا جب وہ اس کے ساتھ جنسی زیادتی کا مرتکب ہورہا تھا۔زیادتی کا شکار لڑکی نے میڈیا کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا ’ سوامی جی گذشتہ کئی برس سے مجھے اس ظلم کا نشانہ بنا رہے تھے۔میں کب تک یہ ظلم برداشت کرتی۔مجھے بدلہ لینا تھا، سو میں نے بدلہ لے لیا‘۔ دلچسپ بات یہ کہ لڑکی کے غیض وغضب کا شکار ہونے والے سوامی گنگیش آنند نے لڑکی کے سارے الزامات کو سرے سے رد کرتے ہوئے کہا، ’ میرے خلاف سازش ہوئی ہے۔ میں ساری زندگی لوگوں کے کام آتا رہا ہوں۔ میرے قریبی ساتھی میری مقبولیت سے خائف تھے اور انہوں نے میرے ساتھ وہی سلوک کیا جو جیسس کرائیسٹ(حضرت عیسیؑ) کے ساتھ ان کے قرابت داروں نے کیا۔ مجھے دھوکے سے اس معاملے میں پھنسایا گیا ہے۔‘ تاہم بھارتی معاشرے کے لیے اس طرح کی رسوائی اور بدنامی کوئی نئی بات نہیں۔
ضعیف الاعتقادی کا شکار بھارت کا ہندو اکثریتی معاشرہ مختلف قسم کے یوگیوں ،جوگیوں اور نجومیوں کے چنگل میں ایسا پھنسا ہے کہ بظاہر دور دور تک اس کے آزاد ہونے کا کوئی امکان نہیں۔اس معاشرے میں جس کو دیکھو مختلف قسم کی تواہمات کا شکار ہے۔کل کیا ہونے والا ہے، موت کب آئے گی،کون کس کے تعاقب میں ہے اور یہ کہ لاٹری کا ٹکٹ کب کارآمد ہوگا، کس نے جادو کیا اور اس جادو کا توڑ کیسے ہوگا،کون جیتے گا، کس کی ہار ہوگی،یہی نہیں اسی نوعیت کے بے شمار سوالات کے جواب ڈھونڈنے کے لیے،ہندو مت کے پجاری جوگیوں، جوتشیوں اور نجومیوں کے گرد منڈلاتے دکھائی دیتے ہیں۔ غیر الہامی مذاہب میں تواہم پرستی کی بات کی جائے تو بھارتی کا ہندو اکثریتی معاشرہ سب سے نمایاں دکھائی دیتا ہے۔ یہ اسی تواہم پرستی کا نتیجہ ہے کہ آج ہندوستانی معاشر ہ ہزارہا سائنسی اور اقتصادی ترقی کے باوجود بھی ذات پات کی خوفناک تقسیم کا شکار دکھائی دیتا ہے۔کوئی کم ذات کا شودرہندو کسی برہمن کے برتن کو چھولے تو سزا میں بے چارے شودر کی جان لے لی جاتی ہے۔دیوی دیوتاﺅں کے کہنے پر دوسروں کی اولاد کا گلادبا دینا، اپنے کاروبار کو نظر بد سے بچانے کے لیے دوسرے کی دکان میں تعویذ گاڑ دینا اور پھر کنواری لڑکیوں کو پانی کی بے رحم موجوں کے حوالے کردینا تاکہ پانی راضی رہے اور فصلیں سوکھنے کا امکان نہ رہے، یہ سب کچھ اسی تواہم پرستی کا نتیجہ ہے جس کی بنیاد پر ہندو معاشروں کی عمارت تعمیر کی جاتی ہے۔ہندو مزاج کے اسی ضعف سے فائدہ اٹھاتے ہوئے، بہت سے جرائم پیشہ عناصر سیدھے سادے لوگوں کو دھرم کی چادر اوڑھ کر کچھ اس طرح بھٹکاتے اور ورغلاتے ہیں کہ ان بے چاروں کے پاس کچھ بھی باقی نہیں بچتاحتی کہ ان کی عورتیں اپنی عزت سے بھی ہاتھ دھو بیٹھتی ہیں۔ اکثر دیکھنے میں آیا ہے کہ مختلف قسم کے نام نہاد یوگی، شہر سے دور کہیں ویرانے میں قائم کسی آشرم میں اپنا ٹھیا ٹھکانہ بنانے کے بعد قرب و جوار کی آبادیوں میں اپنی نام نہاد روحانیت کا جال پھیلانا شروع کرتے ہیں، وہاں کی عورتوں کی عزت سے کھلواڑ کرتے ہیں اور پھر مال اسباب سمیٹ کر کسی اگلی منزل کی جانب خاموشی سے چل پڑتے ہیں۔ایسے یوگی ابتدا میں لوگوں کو متاثر کرنے کے لیے خود کو تارک الدنیا قسم کے کردار کے طور پر متعارف کراتے ہیں، یوگا کی مشقوں کا مظاہرہ کرتے ہیں اور لوگوں کو اپنی طرف مائل کرتے ہیں۔ان کا شکار عام طور پر ادنی ذاتوں کے وہ ہندو ہوتے ہیں جن کے ساتھ عام زندگی میں اچھوتوں کا سلوک کیا جاتا ہے۔یوگی کی طرف سے اہمیت اور توجہ ملنے کے باعث ہر طرف سے نظر انداز کیے جانے والے یہ بے چارے لوگ جھانسے میں آجاتے ہیں اور بہت جلد اپنا سب کچھ کھو بیٹھتے ہیں۔
ایک تکلیف دہ حقیقت یہ کہ ایسے لوگوں کے پاس اپنے ساتھ ہونے والے ظلم کے خلاف آواز اٹھانے کے لیے کوئی فورم بھی نہیں ہوتا۔اگر معاملہ عدالت میں لے جانے کی کوشش کریں تو اونچی ذات کے ہندو اکھٹے ہوجاتے ہیں اورمعاملے کو آگے ہی نہیں بڑھنے دیتے۔ بھارت میں ایسی ان گنت انتہا پسند تنظیمیں کام کر رہی ہیں جن کا کام اونچی ذات کے ہندوﺅں کے مفادات کا تحفظ کرنا ہے۔ہندوتوا(Hindutva)فلسفے کی نگہبان یہ تنظیمیں نچلی ذات کے ہندوﺅں کا استحصال کرنے کے ساتھ ساتھ مسلمانوں اور عیسائیوں کو بھی اپنا مذہب چھوڑ کر ہندومت اختیار کرنے پر مجبور کرتی ہیں اور ان تنظیموں کا یہ بھی مطالبہ ہوتا ہے کہ ہندوستان میں کسی بھی مسلمان یا عیسائی کو رہنے کی اجازت نہیں ہونی چاہیے۔صرف یہی نہیں بلکہ ان انتہا پسند تنظیموں کے قہر کا نشانہ سکھ برادری سے وابستہ لوگ بھی تواتر سے بنتے رہتے ہیں۔اس کے برعکس پاکستان میں معاملات کی صورت بالکل ہی مختلف ہے۔ہمارے ملک میں اکا دکا واقعات کو چھوڑ کر،لوگوں کا عمومی رویہ انسان دوستی اور ہمدردی کا ہے۔اگر ہم غیر مسلموں کے ہمدرد نہ ہوتے تو ہر سال ہزاروں کی تعداد میں سکھ ، اپنے گوردواروں کی یاترا کے لیے پاکستان نہ آتے۔مختلف شہروں میں انتہائی مرکزی قسم کی سڑکوں پر گرجا گھر قائم نہ رہتے ، یہاں بسنے والے ہندو، آزادی کے ساتھ ،ہولی اور دیوالی کا تہوار مناتے ہوئے نظر نہ آتے۔لیکن قابل غور نکتہ یہ ہے کہ اس سب کے باوجود، جب بھی کہیں شدت پسندی، انتہا پسندی اور عدم برداشت کا شکار معاشروں کی بات ہوتی ہے، وہاں کبھی بھی ہندوستان کا نام نہیں لیا جاتا، بدنامی صرف اور صرف پاکستان کی ہوتی ہے ۔ سوال یہ ہے کہ پاکستان کو عسکریت پسندی، انتہا پسندی اور عدم برداشت کے حوالے سے بدنام کرنے کا ذمے دار کون ہے؟
(کالم نگاراردو اورانگریزی اخبارات میں
قومی اور بین الاقوامی امورپرلکھتے ہیں)
٭….٭….٭


سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں




دلچسپ و عجیب
کالم
آپ کی رائے
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved