تازہ تر ین

وسیب کےلئے خبریں اورضیاشاہد کی خدمات

رازش لیاقت پوری /وسدیاں جھوکاں
ابھی کل کی بات ہے جب جناب ضیاشاہد کی کتاب” سچا اور کھرا لیڈر“ اسلم خان گرمانی،میاں نورالحق جھنڈیر اور عابدہ بخاری سمیت کئی دوست اپنی مدد آپ کے تحت لیکر قلعہ کہنہ قاسم باغ کی لائبریری میں رکھنے گئے تو بندہ ناچیز بھی ان کے ساتھ تھا۔ جیسے ہی ہم لائبریری میں پہنچے اور جناب ضیاشاہد کی کتب لے کر آنے کا کہا تو میونسپل کمیٹی کی لائبریری میں موجود تمام اہلکار احترام میں کھڑے ہوگئے اور نہ صرف کتابیں لیکر نوٹس بورڈ پر ایک اعلان لکھ کر لگایا بلکہ تمام دوستوں کو بھی عزت دی۔ میں یہ مناظر نوٹ کرتا رہا اور سوچتا رہا کہ کس طرح وسیب کے لوگ جناب ضیاشاہد کا احترام کرتے ہیں ،اس وقت مجھے جناب ضیاشاہد کا وہ جملہ یاد آگیا جو انہوں نے کہا کہ ہم نے کئی سال وسیب کی بے لوث خدمت کی ہے۔ اورآج لوگوں کا ان کے نام پر ہی احترام کے ساتھ کھڑا ہونا ان کے کام کا ہی احترام تھا جو انہوں نے اس خطے کے لیے کیا،مجھے زیادہ تو یاد نہیں مگر اتنا یاد ضرور ہے کہ وسیب میں جتنے بھی اہم کام ہوئے ہیں ان کاموں کو اجاگر کرنے میں جتنا کردار خبریں اور جناب ضیاشاہد نے اداکیا ہے اتنا کسی نے نہیں کیا ۔ایک وقت تھا جب دریائے سندھ میں چاچڑاں کے مقام پر پل نہیں ہوتا تھا، کشتیوں کے ڈوبنے سے کئی لوگ مرجاتے تھے، آج اس مقام پر دو پل قائم ہوچکے ہیں ،ان پلوں کی تعمیر میں جتنا کام خبریں نے کیا اتنا کسی نے بھی نہیں کیا۔مجھے یاد ہے خبریں کی ٹیم ملتان سے بار بار مٹھن کوٹ جاتی، وہاں سیاسی رہنماﺅں سے ملتی ،شاعروں سے نظمیں لکھواتی،سجادہ نشینوں سے بات کرتی اور واپس آکر اس کے کلر ایڈیشن بناتی اور شائع کرتی ۔یہ سلسلہ اس وقت تک جاری رہا جب تک پل کے لیے فنڈز جاری نہ ہوئے بلکہ اس کے بعد جب تک پل کا افتتاح نہیں ہوجاتاخبریں نے اپنا جہاد جاری رکھا ہوا ہے۔
وسیب کا یہ بھی المیہ رہا ہے کہ یہاں غریبوں پر کتے چھوڑنا ،عورتوں کی عزتیں لوٹنا ،انہیں مقدمات کے لیے استعمال کرنا ،انہیں کالاکالی کی بھینٹ چڑھانا،انہیں ونی کرنا ایک رویت بن چکا تھامگر جناب ضیا شاہد نے نہ صرف اس قبیح روایت کو توڑا بلکہ مختاراں مائی کا مقدمہ پوری دنیا میں اٹھا کر وسیب کی نمانی عورت کے حق میں آواز اٹھائی ،جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ پنجاب حکومت نے ملتان میں خواتین کے لیے ایک داد رسی سنٹر بنایامگر جناب ضیاشاہد نے اپنا کام نہیں روکا بلکہ عورتوں کے لیے آواز اٹھانے کے سلسلے جاری رکھا ہوا ہے ۔ڈیرہ غازی خان میں پیٹ کے اندر بچی کے ونی ہونے کا واقعہ ہویابی زیڈ یو یونیورسٹی کی مرجان کی روداد ،انہوں خود ملتان آکر نہ صرف مرجان سے ملاقات کی بلکہ داد رسی سنٹر بھی گئے اور انہیں انصاف دلانے کی پوری پوری کوشش کی۔جنوبی پنجاب میں سرائیکی مشاعروں کی روایت دم توڑ رہی تھی بلکہ یہاں تو لفظ سرائیکی لکھنے پر بھی پابندی تھی، اس پابندی کو بھی جناب ضیاشاہد نے آکر خبریں کے ذریعے توڑا اور یہاں سالانہ سرائیکی مشاعرہ کی روایت قائم کی جوآج بھی موجودہے۔ امسال مشاعرے میں دوسوسے زائد شاعروں نے شرکت قائم کرکے ایک ریکارڈ قائم کیا۔ان مشاعروں سے ایک فائدہ یہ ہوا کہ جہاں ادبی اور ثقافتی خدمت ہوئی وہاں سیاسی کام بھی ہوا کہ خطے کا دیرینہ مطالبہ الگ صوبے کی شکل میں اب ملک کا سب سے بڑا نعرہ بن چکا ہے۔ امید ہے یہ مطالبہ بھی جلد عملی شکل اختیار کر لے گا۔
خبریں نے ایک اہم کام یہ بھی کیا کہ اپنے صفحات بھی سرائیکی زبان اور کلچر کے لیے وقف کردیئے ،سرائیکی صفحہ اور وسیب سنگ کے نام سے خطے کے لکھاریوں کو مواقع فراہم کیے جس کی وجہ سے یہاں سینکڑوں کی تعداد میں ایسے لکھاری سامنے آئے جن کے اندر ٹیلنٹ تو موجود تھا مگرمگر انکے اظہار کے مواقع موجود نہیں تھے۔ پھر یوں ہوا کہ خبریں ہی کے توسط سے وسیب کے پچاس سے زائد کالجوں میں بی اے اور ایف اے تک سرائیکی پڑھانے کے لیے لیکچرز تعینات کیے گئے جس کی وجہ سے آج کالجوں میں ہزاروں نوجوان اپنی مادری زبان میں تعلیم حاصل کر کے جناب ضیاشاہد کو دعائیں دے رہے ہیں ۔گزشتہ دنوں لاہور بھی چند سرائیکی لیکچرار آئے تھے اور چیف ایڈیٹر خبریں کو پھول پیش کیے تھے،خبریں کا کام یہیں پر ختم نہیں ہوا بلکہ ان بچوں کے لیے نصابی کتب کی اشاعت کے لیے بھی پنجاب ٹیکسٹ بک بورڈ سے مسلسل رابطہ رکھا ہوا ہے۔ امید ہے یہ خوشخبری بھی جلد جناب ضیاشاہد ہی سنائیں گے،اسی طرح انہوں نے ہر مشاورت میں خطے کے تمام لوگوں کو رابطے میں رکھا ہوا ہے جس کی وجہ سے پورے وسیب میں ایک ہم آہنگی کی کیفیت موجود ہے اور تمام وسیبی پیار ومحبت کی فضاءمیں رہ رہے ہیں اور ایک دوسرے کا ساتھ دے رہے ہیں ،یہاں یہ بات بھی بتاتا چلوں کہ وسیب میں بہت زیادہ غربت کی وجہ سے یہاں سود کا کاروبار بھی عروج پر رہا ہے سود خور ظلم کی انتہا کردیتے تھے مگر اس ظلم کے آگے بھی جناب ضیاشاہدکی ہدایت پر ریذیڈنٹ ایڈیٹرخبریں ملتان اور ان کی ٹیم نے بند باندھے ہیں۔ تازہ ترین اطلاعات کے مطابق اب وسیب میں سود خور منہ چھپائے پھرتے ہیں اور اس پر مزید کام کی بھی ضرورت ہے ۔
وسیب ایک وقت میں سات دریاﺅں کی سرزمین کہلاتا تھا مگر آج یہ پانی کی بوند بوند کوترس رہا ہے،ستلج سوکھنے سے پوراچولستان پیاسا پڑا ہے حتیٰ کی جلالپور پیروالہ بھی پیاس سے مر رہا ہے۔سکھ بیاس بھی یہاں پر آکرپنجند میں داخل ہوتا تھا وہ بھی سوکھ گیا ،راوی کنڈسرگانہ کے مقام پر چناب میں شامل ہوکر دریا ئے سندھ سے مل جاتا تھا ،قلعہ کہنہ قاسم باغ کے نزدیک اس کی پرانی گزر گاہ آج بھی موجود ہے مگر یہ سب دریا سندھ طاس معاہدے کی وجہ سے بھارت کی مکمل قید میں چلے گئے ہیں جس کی وجہ سے نہ صرف زیرزمین پانی بہت نیچے چلاگیا ہے بلکہ نیچے کاپانی کھارا اور کڑوابھی ہوچکا ہے جس میں سنکھیاکی مقدار شامل ہو جانے سے بیماریاں بھی بڑھ چکی ہیں ،اس تمام صورت حال کی وجہ سے درددل رکھنے والے انسان جناب ضیاشاہد کہاں چپ بیٹھ سکتے تھے،وہ اٹھے اور بیماری کی حالت میں حاصل پور ،بہاولپور،چشتیاں ،گنڈا سنگھ والا ،ناروول ہر جگہ گئے اور العتش ،العتش کی صدا بلند کی اور لوگوں ،حکومتوں اور پالیسی سازوں کو جگایا جس کی وجہ سے آج یہ مسئلہ ورلڈ بینک کے آگے بھی رکھا جاچکا ہے ۔جناب ضیاشاہد کی اس بے لوث خدمت کو بھی وسیب کے لوگ قدر اور احترام کی نگاہ سے دیکھتے ہیں تبھی تو ایک چینی نژاد پاکستانی جن کا تعلق وسیب سے ہے جنوبی پنجاب کی ہر لائبریری میں گوشہ ضیاشاہد بنوانے کا عہد کرچکا ہے جس کا آغاز انہوں نے کل سے ملتان کی لائبریوں سے کر دیا ہے ۔جناب ضیاشاہدصاحب وسیب کے لوگ آپ سے سچاپیار کرتے ہیں، آپ جب بھی ملتان آئیں گے، یہ لوگ پھولوں کے گل دستے لیکر آپ کے استقبال کے لیے ہرجگہ موجود ہوں گے اور بار بار کہیں گے،سجن آون اکھیں ٹھرن،ست بسم اللہ جی آیاں نوں۔اگر میں وسیب اور جنوبی پنجاب کے لیے خبریں اور جناب ضیاشاہد کی خدمات گنوانے بیٹھ جاﺅں تو کئی صفحات درکار ہوں گے مگر اتنا کہوں گا۔
بہت لوگ آئیں گے اب ہمارا نام لینے
جس طرح تونے سرفراز کیا،اس کی مثال نہیں
(کالم نگار صحافی اور معروف شاعر ہیں)
٭….٭….٭


سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں




دلچسپ و عجیب
کالم
آپ کی رائے
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved