تازہ تر ین

بس دانیال کو پڑا تھپڑ یاد ہے

عبدالودودقریشی

گذشتہ روز پی ٹی آئی کے رہنماءنعیم الحق نے مسلم لیگ ن کے وفاقی وزیر دانیال عزیز کے منہ پر بائیں ہاتھ سے تھپڑ جڑ دیا گفتگو کے دوران دانیال عزیز نے انھیں چور اور جھوٹا کہا اور پروگرام کے دوران اس پر اصرار کرتے رہے دانیال عزیز کو پڑنے والے اس تھپڑ پر مسلم لیگ ن کی اعلیٰ قیادت میاں نواز شریف اور ایک خاص میڈیا نے اس کی فوراً مذمت شروع کر دی ادھر سے نہ جانے کن کن لوگوں سے ملانا شروع کر دیا مگر یہ لوگ چند ماہ قبل کا واقع بھول گئے جب دانیال عزیز کو میاں نواز شریف نے گن اینڈ کنٹری کلب کا سربراہ بنایا تو دانیال عزیز نے وہاں پر سٹاف کے منہ پر تھپڑ رسید کئے، انھیں بے عزت کیا اور ان کے احتجاج پر انھیں نکال دینے کی دھمکی دی، پھر کچھ لوگ فارغ بھی کر دیئے نتیجتاً سٹاف کے عدم تعاون اور زیادتی کے خلاف زیادہ دیر گن اینڈ کنٹری کلب میں نہ چل سکے میاں نواز شریف صاحب کو دانیال عزیز کی گال پر بائیں ہاتھ سے پڑنے والا تھپڑ تو یاد رہا مگر ان غریبوں اور مسکینوں کے چہرے کیوں یاد نہیں رہے جنھیں غلام اور نوکر سمجھ کر مارا گیا تھا حیرت ہے میاں نوازشریف اور مسلم لیگ ن کی قیادت سانحہ ماڈل ٹاﺅن بھول گئے جہاں حاملہ عورتوں کے منہ اور پیٹ میں گولیاں ماری گئیں اور مسلم لیگی قیادت یہ بھی بات بھول گئی کہ سپریم کورٹ پر حملے کے وقت وہاں پر موجود کتنے اہلکاروں کو تھپڑ اور گھونسے رسید کیئے گئے تھے مسلم لیگ ن کی قیادت گوجرانوالہ میں عمران خان کے جلوس پر فائرنگ ،پتھراﺅ اور لوگوں کو برہنہ کرکے مارنا بھول گئے، انسان کا چہرہ ایک خوبصورت چیز ہے اس پر تھپڑ رسید کرنا معیوب ہے، اسلام میں تو جانور پر بھی تشدد سے منع کیا گیا ہے مگر جو لوگ دوسروں پر تشدد کرتے ہیں اذیت دیتے ہیں اور منہ پر ڈھٹائی سے جھوٹ بولتے ہیں ، جب کوئی غصے میں آکر منہ پر تھپڑ رسید کردے تو دہائی دیتے ہیں۔چہرے کو مسخ کرنے کی اسلام میں سختی سے ممانعت ہے خواہ کوئی کتنا بڑا مجرم ہی کیوں نہ ہو مگر اسلام تو جھوٹ بولنے،بہتان لگانے،تہمت لگانے کی بھی ممانعت کرتا ہے۔دانیال عزیز کے والد محترم چوہدری انور عزیز محمد خان جونیجو کی حکومت میں وزیر تھے اور پھر وہ اس کابینہ میں نہیں رہے ان کو علیحدہ کرنے کے حوالے سے محمد خان جونیجو جیسے شریف النفس شخص نے اپنے لب خاموش رکھے دانیال عزیز ایک مدت تک عمران خان کو یہودی لابی کہہ کر پکارتا رہا مگر جب ان کی والدہ محترمہ کا شجرہ پی ٹی آئی والے نکال کر لے آئے تو بازی الٹ گئی پھر دانیال عزیز نے یہودی لابی کا نام نہیں لیا۔سیاست میں بعض سیاستدانوں کو دوسروں کو گالیاں نکلوانے کے لئے نہ جانے کچھ لوگوں کی ضرورت کیوں پڑتی ہے میاں نوازشریف نے شیخ رشید احمد کو محترمہ بے نظیر بھٹو اور پیپلز پارٹی کو گالیاں دینے پرمامور رکھا اور شیخ رشید نے مجھے خود بتایا کہ جب انھوں نے محترمہ بے نظیر بھٹو کے خلاف غلیظ زبان استعمال کی تو اسے رولیکس گھڑی میاں نواز شریف نے اتار کر پیش کی اب یہی کام عمران خان کررہے ہیں یعنی وہ میاں نواز شریف،پیپلز پارٹی اور مولانا فضل الرحمٰن کو گالیاں دینے پر شیخ رشید کونواز رہے ہیں۔جبکہ انھیں خود بھی اس بات کا تجربہ ہے کہ ان کی پارٹی کو شیخ رشید نے تانگہ پارٹی کہہ کر مخاطب کیا اور وہ جملہ تو آج بھی سوشل میڈیا پر لوگ پوسٹ کر دیتے ہیں کہ میں تو آپ کو چپڑاسی بھی نہ رکھوں ، عمران خان کو یہ باتیں یاد ہیں مگر حیرت ہے کہ پھر ایسے لوگوں کو جن مقاصد کے لئے ساتھ رکھا گیا ہے انھیں کوئی اور بھی ان مقاصد کے لئے استعمال کرسکتا ہے، شیخ رشید کو میاں نواز شریف نے پالا پوسا اور ایک نام دیا مگر وہ جو زبان میاں نواز شریف کے خلاف استعمال کر رہا ہے کسی اور کے خلاف بھی استعمال ہوسکتی ہے، میاں نواز شریف نے شیخ رشید کے بعد دانیال عزیز،نہال ہاشمی اور خواجہ آصف کو آزمایا مگر یہ سب باتیں ان کے خلاف گئیں اسی طرح عمران خان نے بھی پیپلز پارٹی،مسلم لیگ ق اور پرویز مشر ف کی ترجمانی کرنے والوں کو فوراً لے لیا جبکہ چند دن پہلے وہ ان کی زوجہ محترمہ کے بارے میں ایک ٹی وی پر جو گفتگو کر رہے تھے کوئی باعزت آدمی ایسی گفتگو کرنے والوں کو زندگی بھر منہ نہ لگاتا۔سیاست میں خود خاموش رہنا اور بعض لوگوں سے بعض لوگوں کو گالیاں دلوانا اسی طرح ہے جیسے دیہات میں ایک چوہدری اپنے پاس چند غنڈے رکھ کر سرعام بازار میں لوگوں کو برہنہ کرواتا ہے اور پھر وہ شام کو اکیلے ان کے گھر جاکر ان کے پاﺅں پر اپنے سر سے اتار کر ٹوپی رکھ دیتے ہیں معافی مانگتے ہیں اسے عرف عام میں ٹوپی ڈرامہ کہا جاتاہے جس شخص کو ان لوگوں کے پروردہ لوگوں نے سرعام بے عزت کیا ہوتا ہے اس سے ساری دنیا آگاہ ہوتی ہے انھوں نے دیکھا ہوتا ہے مگر مظلوم شخص کے پاﺅں پر سردار چوہدری اور وڈیرے کی ٹوپی کسی نے نہیں دیکھی ہوتی کیونکہ یہ کام رات کے اندھیرے میں گھر کے ایک کمرے میں تنہا ظالم شخص کرتا ہے اور باہر آکر اسی طرح اکڑ کر چلتا ہے جیسے مظلوم نے اس سے معافی مانگی ہو۔ بعض لوگ نوکری حاصل کرنے کے لئے سیاستدانوں کے خلاف غلیظ زبان استعمال کرتے ہیں پھر لوگ بیچ میں ڈال کر ان کے پاﺅں پڑتے ہیں معافیاں مانگتے ہیں وفاداری کا یقین دلاتے ہیں اور پھر انہی کے ترجمان بن جاتے ہیں۔شورش کاشمیری ایسے لوگوں کو طوائفوں سے منسوب کرتے تھے جو اپنی زبان درازی کی بنیاد پر دوسروں کو بے عزت کرتے ہیں مگر نہ تو ان کی اپنی عزت اور نہ کوئی کاروبار ہوتا ہے ،انکا کوئی معروف ذریعہ معاش بھی نہیں ہوتا ، وہ انہی سیاستدانوں کے نام پر چندے وصول کرتے ہیں اور معتبر بھی کہلاتے ہیں سیاستدانوں کو چاہیئے کہ وہ بدزبانی کرنے والوں،جھوٹے الزام لگانے والوں اور بہتان باندھنے والوں کو اپنی پارٹیوں سے خارج کردیں تو ہی ملک میں شرافت کی سیاست پنپ سکتی ہے ورنہ سیاستدان سیاستدانوں کے ذریعے ہی بے عزت اور بدنام ہوتے رہیں گے۔٭٭٭


سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں




دلچسپ و عجیب
کالم
آپ کی رائے
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved