تازہ تر ین

یثرب کا پہلا مسلمان

توصیف احمد خان
یثرب یعنی مدینہ کا پہلا مسلمان کون تھا…؟
یہ اعزاز کس کے حصے میں آیاکہ سب سے پہلے اس نے اسلام کی حلاوت کا مزہ چکھا…؟
اس بارے میں یقین کیساتھ کوئی بات کرنا انتہائی مشکل ہے کیونکہ بیت عقبہ سے قبل بھی یثرت کے اکادکا لوگوں کے قبول اسلام کی شہادتیں اور روایات ملتی ہیں ، سیرت اور تاریخ کی کتب میں کئی ایک واقعات موجود ہیں لیکن کسی کے بارے میں قطیعت کے ساتھ بات نہیں کی جاسکتی کہ وہ اسلام کی دعوت پر لبیک کہنے والا یثرب کا سب سے پہلا باشندہ تھا، بیت عقبہ کا جائزہ لیں تو اس میں سب سے پہلے مسلمان کا تعین ممکن ہے تاہم اس سے بھی پہلے ایک نوجوان ایاس بن معاذ نے اسلام قبول کرلیا تھا اور وہ یثرب کا پہلا مسلمان ہوسکتا ہے ۔
یہ قصہ اس طرح سے ہے کہ قبیلہ اوس کا ایک وفد اپنے مخالف قبیلہ خزرج کے خلاف اہل مکہ کی مدد حاصل کرنے کیلئے آیا، رسول اللہ کو بھی وفد کی آمد کی اطلاع مل گئی، آپ ان لوگوں کے پاس تشریف لے گئے ، وفد کا سردار ابوالحسیر نام کا ایک رئیس تھا، بنی کریم نے جب وفد کو اسلام کا پیغام پہنچایا اور قرآن پاک کی کچھ آیات پڑھ کر سنائیں تو ایاس بن معاذ آپ کی تعلیمات سے بڑا متاثر ہوا ، اس نے وفد کے دوسرے لوگوں سے کہا ہم جس مقصد کیلئے آئے ہیں اسکو ایک طرف رکھا جائے یعنی مکہ والوں سے مدد کے حصول کے معاہدہ کی بجائے آپ کی دعوت اسلام قبول کرلی جائے ، اسطرح ہمیں یہود پر سبقت حاصل ہوجائیگی ، ایاس کی بات سن کر وفد کا قائد برہم ہوگیا اور اس نے اسے ایک تھپڑ بھی مار دیا، اس صورتحال میں ایاس قبول اسلام کا اعلان نہ کرسکا لیکن اس کے دل میں نور اسلام کی روشنی پھیل چکی تھی ، ایسی روایات موجود ہیں کہ اس نے بعد میں کلمہ پڑھ لیاتھا، لوگوں کا کہنا ہے کہ ایاس کا انتقال ہوا تو وہ مسلمان تھا اور مرض الموت کے وقت اس کی زبان سے باری تعالیٰ کی حمد و ثناءکی تسبیح جاری تھی۔
ایک اور واقعہ ملتا ہے جسے رازی او رحاکم نے حسن اور صحیح سند کے ساتھ اپنی کتب میں درج کیا ہے ، رازی کی کتاب دلائل النبوة میں اس کا ذکر ہے جبکہ حاکم نے معاذ بن رفاعہ بن رافع کی روایت سے لکھا ہے ، اس کا کہنا ہے کہ وہ اپنے خالہ زاد معاذ بن عفراءکیساتھ سفر کرتے ہوئے مکہ پہنچے ، عفراءمعاذ کی والدہ کا نام ہے ،یہ سارے بھائی بلکہ سارا خاندان رسول اللہ پر جان قربان کرنے کیلئے ہمہ وقت تیار رہتے ،اور یہ سب اپنی والدہ کے نام سے پہنچانے جاتے تھے ، عزوہ بدر میں ابوجہل کے قتل کا اعزاز بھی انہی بھائیوں کے حصے میں آیا۔
روایت کے مطابق یہ بیت عقبہ سے پہلے کا واقعہ ہے جبکہ معاذ بن عفراءبیت عقبہ میں قبول اسلام کرنے والے چھ افراد میں بھی شامل تھے ، دونوں خالہ زاد بیت اللہ شریف کی حاضری کی غرض سے آئے تھے، انہوں نے ایک شخص کو درخت کے نیچے بیٹھے دیکھا تو سوچا کہ اونٹ اس کے حوالے کردیتے ہیں، یہ گئے اور زمانہ جاہلیت کے رواج کے مطابق سلام کیا لیکن جواب رائج طریقے کے مطابق نہیں ملا، جواب کا طریقہ اسلامی تھا، انہوں نے مکہ میں ایک شخص کے دعویٰ نبوت کے بارے میں سن رکھاتھا، اونٹوں سے اتر کر انہوں نے اس شخص کے بارے میں دریافت کیا تو انہوں نے جواب دیا کہ وہ میں ہی ہوں، ہم نے ان سے پوچھا کہ اپنے دین کے بارے میں بتائیں، آپ نے اللہ تعالیٰ کے بارے میں اس کی عبادت کے بارے میں، اسکے رسو ل کے بارے میں حسن سلوک کے بارے میں اور بہت سے دوسرے امور پر بات کی ، انکے ساتھ سوال جواب بھی ہوئے، ان کی باتیں سن کر ہم نے کہا فی الحال تو آپ ہمارے اونٹ سنبھالیں ہم بیت اللہ کا طواف کرکے واپس آتے ہیں ، میں وہاں سے روانہ ہوگیا جبکہ معاذ بن عفراءوہیں بیٹھا رہا، میں نے طواف کے بعد فال کے سات تیر لئے اور ان میں سے ایک آپ کے نام کردیا، میں نے رخ کعبہ کی طرف کیا اور کہا کہ باری تعالیٰ محمد (ﷺ) جس دین کی دعوت دیتے ہیں اگر وہ سچا ہے تو ساتوں بار ان کے نام کا تیر نکال دے ۔
اللہ کا فیصلہ بھی حق کے مطابق تھا، ساتوں بار آپ کے نام کا تیر نکلا تو میں نے بے اختیار بلند آواز کے ساتھ کلمہ شہادت پڑھ لیا جس پر وہاں موجود کفار مکہ میرے گرد جمع ہوگئے اور کہنے لگے کہ یہ پاگل ہے جو اپنے مذہب سے منحرف ہوگیاہے ، میں نے جو اب دیا کہ نہیں میں تو اب وہ شخص ہوں جس کا دل نور ایمان سے منور ہوگیا ہے ، یہاں سے میں واپس آپ کے پاس گیا تو میرا خالہ زاد پکار اٹھا کہ تم جس چہرے کےساتھ گئے تھے اس کے ساتھ واپس نہیں آئے ، رسول اللہ نے اسی وقت ہم دونوں کو حلقہ بگوش اسلام کیا، آپ نے ہمیں سورة یوسف اور سورة اقراءپڑھائی ، ہم مکہ سے ایمان کی دولت لیکر واپس آگئے ۔
اگرچہ ایاس کے اسلام کے بارے میں بظاہر کوئی شک نہیں لیکن کسی وجہ سے سمجھ لیا جائے کہ وہ نوجوان پہلا مسلمان نہیں تھا تو مذکورہ دونوں نوجوانوں کے بارے میں کہا جاسکتا ہے کہ یہ یثرب کے پہلے مسلمان تھے، کتب میں اس طرح کے اور بھی واقعات ملتے ہیں، لیکن جس واقعہ کے بعد اسلام تیزی کےساتھ یثرب کا مذہب بنتا گیا وہ بیت عقبہ ہے ۔
عقبہ منیٰ میں جمرات (شیطانوں) کے قریب ایک پہاڑی ہے ، اسے یہ نام غالبا! جمرہ عقبہ کی وجہ سے ملاہے کیونکہ اس جمرہ یعنی شیطان کو کنکریاں مارنے کا یہی مقام تھا، یہاں مسلمانوں نے ایک مسجد بھی تعمیر کردی تھی ، جمرات کو کنکریاں مارنے کو جدید تر کرنے کیلئے کھدائی کی گئی تو وہاں سے ایک مسجد برآمد ہوئی جو امتداد زمانہ سے مٹی اور پتھروں میں دب گئی تھی، مسجد کی دیواروں کے ساتھ خلیفہ مستنصر باللہ کے دور کی تختیاں لگی ہوئی ہیں جن پر درج ہے کہ اس مسجد میں بنی کریم اور صحابہ کرام ؓ نے نمازیں اداکی ہیں، غالباً یہ وہی مسجد ہے جس ک ااوپر ذکر کیاگیا ہے ، بغیر چھت کی اس مسجد کے ستون اور دیواریں قریباً اڑھائی تین فٹ چوڑی ہیں ۔اس دور میں عموماً کھجور کی ٹہنیوں کی چھتیں ہوتی تھیں جو اتنا طویل عرصہ برقرار نہیں رہ سکتی تھیں، راقم کو اس مسجد بلکہ اسکی محراب کے اندر نوافل ادا کرنے اور یہاں جاروب کشی کا اعزاز حاصل ہوچکا ہے ، بنی کریم اور صحابہ کرام ؓکے مبارک قدم اس مسجد خصوصاً محراب میں بھی پڑتے ہونگے ، لہٰذا تقدس کے اعتبار سے یہ انتہائی اہم جگہ ہے ۔
٭٭٭


سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved