تازہ تر ین

فاٹا آئینی ترمیم کی منظوری

عبدالودود قریشی

قومی اسمبلی سے فاٹا اصلاحات کاآئینی بل ایک کے مقابلے میں 229ووٹ سے منظور کر لیا گیاجو دو تہائی سے زیادہ اکثریت ہے اس بل کی پہلی شق پر گیارہ ارکان نے مخالفت میں ووٹ دیا جن میں جمعیت علماءاسلام،پختوانخواہ ملی پارٹی اور تحریک انصاف کے باغی رکن داﺅڈ کنڈی شامل ہیں۔دوسری ترمیم کے بعد یہ مٹھی بھر لوگ واک آﺅٹ کر گئے۔
قیام پاکستان کی مخالفت جمعیت علماءہند کے بعد میں سربراہ مولانا فضل الرحمٰن کے والد مفتی محمود رہے اور محمود خان اچکزئی کے والد عبدالصمد اچکزئی نے بھی پاکستان کی بھرپور مخالفت کی تھی۔ آج فاٹا کو آئینی اور قانونی حقوق دے کر باضابطہ طور پر پاکستان میں شامل کرنے پر انہی لوگوں نے مخالفت کر دی جن کے بڑے قیام پاکستان کے مخالف تھے گویا ستر سال بعد بھی مخالفین پاکستان نے اپنی روش نہیں بدلی یقیناً ان لوگوں کو بھی کسی سرٹیفکیٹ کی ضرورت نہیں ہے۔راقم گزشتہ 35سال سے پاک افغان سرحد پر باڑ لگانے اور فاٹا کو قومی دہارے میں شامل کرنے کا لکھتا رہا۔ جب جنرل پرویز مشرف سے اس حوالے سے سوال کیا تو انھوں نے پاک افغان سرحد کے درمیان باڑ کو ناممکن قرار دیا جبکہ اللہ کے فضل و کرم سے آج سرحد پراسی فیصد باڑ لگ چکی ہے بھارت اور افغانستان کی پاکستان میں دہشتگرد کاروائیاں اب اتنی آسان نہیں رہیںافغانستان پر روسی قبضے کے بعد پاکستان کو روس،بھارت اور افغانستان نے تین حصوں میں تقسیم کردیا تھا سندھ کی طرف سے بھارت نے پنجاب اور سرحد میں روس اور افغانستان نے دہشتگردانہ کاروائیاں شروع کیں سینکڑوں بم دھماکے کروائے گئے ہزاروں لوگ شہید ہوئے یہ لوگ افغانستان سے کس طرح پاکستان داخل ہوتے تھے۔ اس کے بارے میں حساس ادارے بریفنگ دیا کرتے تھے مگر وہ بھی اس وقت اس سرحد کو محفوظ بنانے کے لئے باڑ لگانے کے سوال پر یہ کہہ کر خاموش ہوجاتے تھے کہ یہ سیاسی معاملہ ہے سیاستدانوں کو حل کرنا ہے۔ میپ اور جمعیت علماءاسلام کا جو چہرہ ہمارے سامنے آیا ہے اس پر افسوس ہی کیا جاسکتا ہے وہ نہ صرف ان لوگوں کی پاکستان میں شمولیت کے لئے مخالف نکلے بلکہ قبائلیوں کو انسانی حقوق دینے کے بھی مخالف نظر آئے وہ اس علاقے کو ایک الگ صوبہ بنانے کا مطالبہ کررہے تھے جو ناممکن تھا بکھرے ہوئے ایک علاقے کو صوبہ بنانا ایک مذاق تھا جسے اس کی مخالفت کے لئے بہانے کے طورپر پیش کیا گیا فاٹا اور پاٹا قبائلی علاقے کی دو اصلاحات تھیں جن میں مرکز کے زیر انتظام اور صوبوں کے زیر انتظام علاقے تھے دونوں علاقوں میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں اور لوگوں سے جانوروں جیسا سلوک کیا جاتا تھا۔ آئینی ترمیم کے بعداس کا خاتمہ ہوگیا یہ مبارک دن اور مبارک موقع قوم کے لئے ایک خوشخبری لے کر آیا ہے جہاں مایوسی کے سائے ہر طرف بکھرے ہوئے ہیں امید کی کرن اور خوشخبری ہمارے مستقبل کے لئے نیک شگون ہوگی۔
فاٹا کو بنیادی طور پر سمگلنگ،منشیات اور جرائم پیشہ لوگوں کے لئے قائم کیا گیا تھا اور برطانیہ اس علاقے کو اپنے دور حکومت میں جاسوسی کے لئے استعمال کرتا تھا پورے پاکستان سے جب کوئی شخص قتل یا ڈکیتی کرکے اس علاقے میں چلا جائے تو قانون کے مطابق اسے واپس نہیں لایا جاسکتا تھا کیونکہ قانون کے مطابق جس ملک کے پاس وہ پناہ لیتا تھا اسے خط جاری کرنا ہوتا تھا کہ یہ پرامن طور پر یہاں رہے گا اور سیاست میں حصہ نہیں لے گا اس کام کے لئے اس علاقے میں پورے پاکستان سے ہزاروں کریمنل رہائش پذیر تھے اور انہیں پناہ دینے والے ایک چھوٹے کمرے کا ان سے پچاس ہزار سے ایک لاکھ روپیہ ماہانہ تک وصول کرتے تھے جبکہ ان کے باقی اخراجات کے ساتھ ساتھ ان کی حفاظت کے لئے بھی ان سے ماہانہ رقوم لی جاتی تھیں پورے پاکستان سے گاڑیوں کو چوری کرکے اس علاقے میں لے جایا جاتا تھا اور وہاں سے انہیں واپس لانا قانونی طور پر ممکن نہیں تھا اس صورتحال سے اس علاقے کے لوگ بھی تنگ تھے چند سرمایہ دار اور بڑے لوگ اس علاقے میں اپنے نیٹ ورک کے ذریعے یہ کام چلاتے تھے اب رفتہ رفتہ یہ دھندا بھی بند ہوجائے گا قیام پاکستان کے بعد اور اس سے قبل اس علاقے کو اغواءبرائے تاوان کے لئے ہمیشہ استعمال کیا جاتا رہا اور اگر اغواءکنندہ کا تاوان دینے میں لواحقین دیر کر دیں تو جتنا عرصہ وہ شخص یہاں کے بدمعاشوں کے پاس رہتا تھا وہ اس سے کرایہ کھانے پینے کے علاوہ اس پر مامور محافظوں کی تنخواہ بھی وصول کرتے تھے بعض اعلیٰ حکام،سیاستدان اور بیورو کریٹس اس علاقے میں سمگلنگ کا ایک بہت بڑا نیٹ ورک چلاتے تھے افغانستان کے لئے ٹرانزٹ ٹریڈ کے نام پر بیرونی ممالک سے ایسا سامان منگوایا جاتا جو صرف پاکستانی عوام کے ہی ضروریات کے لئے ہوتا تھا اور اسے علاقہ غیر سے سمگل کرکے پاکستان واپس لایا جاتا تھا جس سے کسٹم ڈیوٹی اور سیلز ٹیکس کی مد میں پاکستان کو اربوں روپے کا نقصان پہنچایا جاتا تھا۔طالبان اگر اس علاقے میں اپنا نیٹ ورک قائم کرکے لوگوں پر ظلم نہ کرتے اور پاکستان میں دہشتگردانہ کاروئیاں نہ کرتے تو شاید ان لوگوں کے لئے حقوق آج بھی ممکن نا ہوتے مگر طالبان کے ہاتھوں تنگ آکر یہ لوگ اب مظاہرے کر رہے تھے جلوس نکال رہے تھے کہ ہمیں بھی دیگر پاکستانیوں کی طرح برابری کے حقوق دیئے جائیں پاکستانی قوم کو آج کا دن شکرانے کے طور پر اور ہمیشہ ایک قومی دن کے طور پر منانا چاہئے جب ہم نے اپنے ان پاکستانی بھائیوں کو ان کے حقوق آئینی طور پر دیئے اور انھیں حقوق کے لئے کوئی زیادہ تگ و دو نہیں کرنی پڑی امید ہے کہ مستقبل میں اس علاقے میں دہشتگردوں کو پاﺅں جمانے کا موقع نہیں مل سکے گا۔ پاکستانی عوام بھی اس علاقے میں آزادانہ طور پر آجاسکیں گی اور سیاسی جماعتیں علاقے میں اپنے دفاتر قائم کرکے ہم آہنگی اور اخوت کی فضا کو قائم کر سکیں گی۔
٭٭٭


سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں




دلچسپ و عجیب
کالم
آپ کی رائے
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved