تازہ تر ین

تحریک انصاف کا ملتان مضبوط ہے؟

رانامحبوب ا ختر …. دستِ نمو
انتخابات سے پہلے تمام سیاسی جماعتیں اپنا ملتان مضبوط کرنے میں لگی ہیں۔ ملتان کی مضبوطی ایک محاورہ ہے اور اس کا ایک سیاسی اور تاریخی پس منظر ہے۔ کہاوت یہ تھی کہ جس کا ملتان مضبوط‘ اس کا دلی مضبوط۔ جب دہلی پایہ تخت تھا تو ملتان سرحدی شہر تھا اور ہندوستان کا پہلا دفاعی مورچہ تھا۔ اب ملتان جغرافیائی طور پر پاکستان کا مرکز ہے۔ ایک وقت تھا جب سیاست نوابزادہ نصراللہ خان کا طواف کرتی تھی۔ وضع دار اور طرح دار پٹھان اتحاد سے سیاست کو تمیز اور تہدیب سکھاتے‘ وقت کے آمروں کو بے بس کردیتے اور اسد ملتانی کاشعر پڑھتے:
رہیں نہ رند یہ زاہد کے بس کی بات نہیں
تمام شہر ہے دو چار دس کی بات نہیں
بھٹو شہید کا ملتان مضبوط تھا تو ان کا طوطی بولتا تھا۔ پھر انہوں نے وہ مہلک غلطی کی جو ملتان سے راولپنڈی وارد ہو کر‘ ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی گھاٹ تک لے گئی۔ اک بار پھر سیاست بے آبرو ہوئی تو ملتان کے سید فخرامام نے سیاست کی آبرو رکھ لی۔ بے نظیر بھٹو نے وسیب کو صدارت اور سپیکر کی کرسی سے نوازا۔ لغاری سردار نے بے وفائی کی مگر ملتانی مرشد ثابت قدم رہا۔ محترمہ کی شہادت کے بعد پیپلزپارٹی کا پہلا وزیراعظم ملتان سے تھا۔ سید یوسف رضا گیلانی کی وزارت عظمیٰ اب تاریخ ہے۔ ان میں بہت سی ذاتی خوبیاں ہیں۔ عرصہ گزرا انہوں نے ایک ملاقات میں کہا تھا کہ ان کے خاندان کو حکمرانی کا کوئی ہزار سال کا تجربہ ہے۔ مگر ان کی وزارت عظمیٰ کا عہد کسی طور پر قابل رشک نہ تھا۔ ہزار سالہ تجربہ کافور ہوگیا تھا۔ پچھلے دنوں ان کے بہنوئی کی تعزیت کے سلسلے میں ملاقات ہوئی۔ وہ قدرے مضمحل تھے۔ سیاست کے حوالے سے کچھ گفتگو رہی۔ ان کا خیال تھا سب سے وصولیاں کی جائیں گی۔ گفتگو کا خلاصہ یہ ہے:
میں آج زد پہ اگر ہوں تو خوش گمان نہ ہو
چراغ سب کے بجھیں گے ہوا کسی کی نہیں
سید پروپزمشرف کی جرنیلی حکومت کے خلاف پہلی توانا آواز ملتان سے اٹھی تھی۔ عمران خان کے اسلام آباد دھرنے کا انجام بھی اسی ملتانی مخدوم کی سیماب صفتی سے برآمد ہوا۔ ن لیگی حکومت پہلے میٹرو اور اب جاوید ہاشمی کو پھر سے گلے لگا کر ملتان کو مضبوط بنانے کا جتن کررہی ہے۔ ن لیگ کے 11مئی کے جلسہ سے چند روز پہلے مخدوم تنویر گیلانی اور مخدوم جاوید ہاشمی کے ساتھ طویل نشست رہی۔ ہاشمی کے چہرے پر ملال کے آثار تھے۔ گفتگو کے دوران ہمارے دوست حیدر جاوید سید تشریف لے آئے۔ وہ ہمیشہ جاوید ہاشمی کے خلاف لکھتے ہیں۔ ان کے بیٹھتے ہی جاوید ہاشمی نے کہا اگرچہ آپ میرے خلاف لکھتے ہیں لیکن میں آپ کی تحریرکا معترف ہوں۔ ہاشمی کو دیکھ کر بار بار میر صاحب یاد آتے رہے۔
افسردگی سوختہ جاناں ہے قہر میر
دامن کو ٹک ہوا دے کر دلوں کی بجھی ہے آگ
تحریک انصاف کے ملتان کی مضبوطی بظاہر مخدوم شاہ محمود کے دم سے ہے۔ وہ ایک خوش گفتار اور دیانتدار سیاستدان ہیں۔ ان کے جد امجد بہاﺅ الحق زکریا ملتانیؒ نے ملتان کو منگولوں کے عذاب سے بچایا اور نصراللہ خان ناصر کی تحقیق کے مطابق سرائیکی زبان کا پہلا دوھڑہ لکھا۔ دہلی کے بادشاہوں سے لیکر اسلام آباد کے حکمرانوں تک قریشی خاندان کا اقتدار سے رابطہ استوار رہا ہے تو مدرسے اور مندر کی مشترکہ دیوار ان کی وسیع المشربی کی گواہ ہے۔ لیکن شاہ محمود حد سے بڑی احتیاط کے ساتھ جہاں منجھے ہوئے سفارت کار ہیں وہاں 100 دن کے اندر سرائیکی صوبے جیسا بڑا چیلنج ان کے سامنے ہے۔ لیکن اس سے پہلے ملتان کے قلعے کو عمران خان کیلئے مضبوط بنانا زیادہ ضروری ہے۔
عشق کے کئی امتحاں ابھی باقی ہیں!
ہرجماعت کی طرح سیاست میں تحریک انصاف کو اندرونی دھڑے بندی کا سامنا ہے۔ ن لیگ کو نوازشریف اور مریم نواز کے مقابلے میں شہباز شریف اور نثار علی خان کی تصادم گریز سیاست کے تضاد سے نمٹنا ہے۔پیپلز پارٹی کو ایک نیا ویژن دینا ہے جو افتادگان خاک کی آرزﺅں کے قریب تر ہو۔ ایسے میں تحریک انصاف کو اندرونی دھڑے بندی ، نئے آنے والے قابل انتخاب امیدواروں اور پرانے کارکنوں کی کشمکش اور فتح سے پہلے فتح کے جشن کا خطرہ درپیش ہے۔ جنوبی پنجاب صوبہ محاذ کے انضمام سے گرنے والے سکائی لیب سے پرانے کارکن بددل ہوئے ہیں۔ ٹکٹوں کے حتمی فیصلے تک تمام بڑی جماعتیں اور علاقائی گروپس انتظار کا کشٹ کاٹیں گے۔ اور جیسے ہی تحریک انصاف اپنے امیدواروں کا اعلان کرے گی‘ اسے نئی سیاسی جدلیات کا سامنا ہو گا۔
تحریک انصاف میں جہانگیر خان ترین کا کردار کلیدی ہے اور شاہ محمود قریشی اگر پرانی سیاست کی نمائندگی کرتے ہیں جس پر گیلانی‘ قریشی رقابت کی مہر لگی ہے تو جہانگیر خان نئی سیاست کے نمائندہ ہیں۔ وہ کارپوریٹ پس منظر اور سوچ کے لحاظ سے مستقبل کے سیاست کار ہیں۔ اپنے حلقہ انتخاب میں انہوں نے رفاہ عامہ کے عوام دوست منصوبوں سے اپنی شناخت کرائی۔ اور ان کی ”مساواتینااہلی“ سے جو ناانصافی ہوئی‘ اس سے غریبوں کا نقصان ہوا ہے لیکن اس نااہلی کا ایک خوش آئند پہلو یہ ہے کہ وہ حلقے کی سیاست سے ماورا پاکستان کی قومی پالیسیاں بنانے میں اپنا کردار ادا کر سکتے ہیں اور نااہلی کا دھچکا انہیں سیاستدان سے ریاست دان یا statesman بنا سکتا ہے۔ اس وقت ان کا سب سے بڑا چیلنج اندرونی دھڑے بندی کا آزار ہے۔ اس Chink in the armour سے وہ کیسے نمٹتے ہیں‘ یہ بات کم از کم سرائیکی وسیب میں تحریک انصاف کے مستقبل کا فیصلہ کر دے گی۔ اس بڑے اور کٹھن کام میں اسحق خاں خاکوانی جیسا نیک نام پٹھان کس طرح معاونت کرے گا۔ اس کیلئے زیادہ انتظار نہیں کرنا پڑے گا۔
پاکستان کی سیاست پر نوسربازوں اور موقع پرستوں کا قبضہ ہے۔ اسٹیبلشمنٹ نے ہمیشہ نااہل اور بدعنوان مال سیاست کی منڈی کو بھیجا ہے۔ چرچل بے شک سامراجیت کا نمونہ تھے‘ لیکن اس نے آزادی کے بعد کے ہندوستانی سیاستدانوں کے بارے میں کہا تھا کہ ”اقتدار بدمعاشوں، قذاقوں اور آوارہ مزاجوں کے ہاتھ آ جائے گا…. چھوٹے لوگ اور بھوسے بھرے آدمی جن کی زبانیں میٹھی اور دل نادان ہیں۔“ نوازشریف اور نریندر مودی ڈھائی ارب لوگوں میں دستیاب بڑے سیاستدان ہیں۔ دکھ ہوتا ہے، قحط الرجال ہے۔ کوئی راستہ نظر نہیں آتا۔ احمد مشتاق نے کہا:
کسی جانب نہیں کھلتے دریچے
کہیں جاتا نہیں راستہ ہمارا
سیاست ایک عرصے سے دو جماعتی نظام اور پھر بھٹو اور بھٹو مخالف سیاسی جدلیات کی قید رہی اور اب نواز اور نواز مخالف کیمپوں کی اسیر ہو گئی ہے لیکن لگتا یوں ہے کہ گھوڑے نے بالآخر بم کو لات مار دی ہے۔ اور اسٹیبلشمنٹ کا 38 سالہ پرانا گھوڑا خودکشی کے راستے پر ہے۔عمران خان پرانی سیاست گری کا مرد میدان نہیں ہے۔ وہ امید اور تبدیلی کی علامت کے طور پر پاکستان کی نوجوان نسل کا رہنما بن کر سامنے آیا ہے۔بطور ادارہ ساز اور کپتان اس کی کامیابیاں امید دلاتی ہیں۔ نوازشریف کو یہاں تک لانے میں اس کا کردار کلیدی ہے اور بظاہر یہ لگتا ہے کہ وہ انتخابات کے بعد پاکستان کا وزیراعظم ہو گا۔ اسٹیبلشمنٹ کی طرف سے کبھی جلی اور کبھی خفی اشارے ہی اس کی حیثیت کی بشارت دیتے ہیں۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا ہے کہ جنوبی پنجاب کی پرانی قابل انتخاب اشرافیہ جوق در جوق تحریک انصاف میں شامل ہو رہی ہے۔ ایسے میں تبدیلی کا خواب ہوا میں تحلیل ہو رہا ہے۔ ایک دوست نے تحریر کیا کہ وہ ضیاءالحق کے مارشل لاءکے وقت سکول میں تھے۔ پتہ چلا کہ ضیاءالحق مرد مجاہد ہیں۔ پھر یہ راز کھل گیا اور ہم نے جانا کہ ضیاءالحق تو آمر تھے اور ملک کے سچے لیڈر ذوالفقار علی بھٹو شہید تھے۔ ووٹ دینے کی باری آئی تو ہم نے بھٹو کے تیر پر مہر لگائی۔ مقامی طور پر ہمارے امیدوار جعفر لغاری تھے۔ پھر بے نظیر سکیورٹی رسک ٹھہریں اور آئی جے آئی بن گئی۔ ہم پی پی سے بدظن ہو گئے لیکن آئی جے آئی کے امیدوار ایک دفعہ پھر جعفر لغاری تھے۔ پھر شیر کے نشان کی باری لگ گئی تو بھی ہمارے امیدوار جعفر لغاری تھے۔ دن پھرے تو جنرل پرویزمشرف کو اقتدار ملا مگر ق لیگ کے امیدوار جعفر لغاری ہی تھے۔ چشم فلک نے یہ بھی دیکھا کہ ایک بار پھر شیر کے ٹکٹ پر جعفر لغاری میدان میں تھے۔ آج کل ملک میں تبدیلی کی ہوا چل رہی ہے اور امکان یہ ہے کہ جعفرلغاری بلے کے نشان پر انتخابات میں حصہ لیں گے۔ جتنی بار حکومت بدلی عوام کو اپنا نمائندہ تبدیل کرنے کا موقع نہیں ملا۔ یہ ڈیرہ غازی خان اور راجن پور ہے۔ اب مظفرگڑھ آ جایئے۔ 1962ءمیں مصطفی کھر پہلی بار قومی اسمبلی پہنچے تو ایوب خان کی کنونشن مسلم لیگ کا غلغلہ تھا۔ 1970ءمیں وہ پیپلزپارٹی کے نشان پر منتخب ہوئے۔ بھٹو شہید سے اختلاف ہوا تو وہ پیرپگاڑا کی مسلم لیگ میں چلے گئے۔ پھر نیشنل پیپلز پارٹی کا حصہ بنے۔اور چشم فلک نے یہ بھی دیکھا کہ وہ پیپلز پارٹی کا حصہ بن کر وزیر بن گئے۔ وقت بدلا وہ میاں نواز شریف کے ساتھ جہاز میں بیٹھ کر پاکستان آئے اور ہوائی اڈے سے ہوا ہو گئے۔ میاں شہبازشریف کے ساتھ گیم وارڈن بن کر خدمات انجام دیں۔ لیکن ان کی سیمابی طبیعت انہیں جلدہی علامہ طاہرالقادری کے چرنوں میں لے گئی اور ایک دنیا نے ان کا مینار پاکستان کا خطاب سنا جس میں آپ نے طاہرالقادری کو بھٹو شہید کے بعد پاکستان کا سب سے بڑا لیڈر بنا دیا۔ زیادہ عرصہ نہیں گزرا تھا کہ آپ کوٹ ادو میں عمران خان کے پہلو میں کھڑے تھے‘ جبکہ ایک نجی ٹی وی کے ایک پروگرام میں آپ کا یہ بیان ریکارڈ پر ہے کہ 2014ء کے دھرنے میں عمران خان استعمال ہوئے تھے۔ بھارتی ٹینکوں پر بیٹھ کر پاکستان آنے کا بیان خیر پرانا بہت ہے‘ اس لئے اس کا ذکر مناسب نہیں۔ مظفرگڑھ کے ضمنی انتخاب میں جمشیددستی کے مقابلے میں چھ ہزار ووٹ لے کر آپ ضمانت ضبط کرا چکے ہیں۔ ایک دفعہ پھر کوٹ ادو میں انہیں جمشید دستی کا سامنا ہو گا۔ قابل انتخاب لوگوں نے ہمارے سیاسی نظام کا دیوالیہ نکال دیا ہے۔ اقتدار میں آنے والی ہر پارٹی میں یہی لوگ فیصلہ سازی کرتے ہیں اور عوام دشمن پالیسیاں جاری رہتی ہیں۔ لوگ کئی دہائیوں سے نئی پارٹیوں کو ووٹ دیتے ہیں لیکن پرانے چہرے نئی قیادت کو ناکام بنانے کیلئے ا ٓدھمکتے ہیں۔ اور یوں یہ ساری انتخابی بساط اس ملک کے جعفروں اور کھروں کی بقا کیلئے بچھائی جاتی ہے۔ حکومتیں بدل جاتی ہیں مگر نمائندوں کا طبقہ تو کیا چہرے تک نہیں بدلتے اور عوام جمہوریت اور جمہوری اداروں سے بددل ہو کر مارشل لاﺅں کے نفاد پر مٹھائیاں بانٹتے ہیں۔
تحریک انصاف کی مقامی اور قومی قیادت کو عمران خان کیلئے ملتان مضبوط بنانا ہے تو سب سے پہلے اسے نئے اور پرانے کے متوازن امتزاج سے دانشمندانہ فیصلے کرنے ہوں گے۔ دوسرے سرائیکی صوبے کے قیام پر سرائیکی قومی جماعتوں سے رابطہ ضروری ہے۔ جس میں سرائیکی شعراءبھی شامل ہیں۔ ان جماعتوں کے پاس قابل انتخاب لوگ نہیں ہیں مگر ان کی حمایت کا مطلب وسیب کا اعتماد ہے۔ تیسرا اہم نقطہ مظفرگڑھ میں جمشید دستی کا مشورہ اور اعتماد ہے۔ تحریک انصاف کی قیادت کو Salami Techniqueکو استعمال کرنا چاہئے۔ شاہ محمود سیاسی طور پر اور جہانگیر خان انتظامی معاملات میں یہ تکنیک کام میں لاتے ہیں اور اس طرح حکمت عملی سے تحریک انصاف مظفرگڑھ کی چھ قومی اسمبلی کی سیٹیں جیت سکتی ہے اور سرائیکی وسیب میں اس کا مثبت اثر ہو سکتا ہے۔ آخری گزارش یہ ہے کہ فتح سے پہلے فتح کا جشن منانے سے بچنے کی ضرورت ہے کہ بالعموم لب تک جام آنے میں ہزار لغزشیں حائل ہوتی ہیں!! کالم تمام ہوا۔ اپنے دوستحبیب قریشی کا سنایا شعر یاد آیا۔
ہمار مسئلہ تعبیر کب ہے
ہمارے خواب مرتے جا رہے ہیں
(کالم نگارقومی وبین الاقوامی امور پر لکھتے ہیں)
٭….٭….٭


سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved