تازہ تر ین

خطرناک صف بندیاں

اکرام سہگل ….توجہ طلب
1979ءمیں سوویت یونین کی جارحیت کے بعد بڑے پیمانے پر افغانستان سے پاکستان نقل مکانی ہوئی ، ان میں جو متمول تھے وہ اپنے ساتھ اتنا سرمایہ بھی لائے جس سے انھوں نے رہایشی مکانات خریدے اور چھوٹی سطح کے کاروبار بھی شروع کیا، زیادہ تر نے ٹرانسپورٹ کا کام کیا۔ ان میں ایک بڑا حصہ کابل سے آنے والی اشرافیہ کے لوگوں کا تھا۔ افغانستان میں یہ جنگ جب مضافات تک پھیلی تو جو لوگ مالی طور پر زیادہ مستحکم نہیں تھے، انہوں نے بھی نقل مکانی کا آغاز کیا اور ان میں سے کئی دوطرفہ فائرنگ کی نذر بھی ہوئے۔ کوئٹہ، پشاور اور اسلام آباد میں (زیادہ تر پشتون) افغانوں کی ملکیت جائیدادیں اس وقت کے مختلف باغی افغان گروہوں سے تعلق رکھنے والوں کے لیے سمجھئے چھٹیاں گزارنے کی قیام گاہیں تھیں۔ پشاور میں حیات آباد اور نیو یونیورسٹی ٹاو¿ن کے علاقے مال دار افغانوں سے بھرے ہوئے ہیں۔ کرزئی کے خاندان کے کچھ لوگ آج بھی کوئٹہ میں رہتے ہیں ،اسی طرح کہا جاتا ہے کہ رشید دوستم کی ایک بیوی اسلام آباد میں مقیم ہے۔ جب طالبان نے نوّے کی دہائی کے اوائل میں احمد شاہ مسعود کے شمالی اتحاد کو کابل سے پسپا کردیا تھا تو اس وقت کے کچھ بیوروکریٹ اور کابل کی اشرافیہ سے تعلق رکھنے والوں نے سوویت یونین میں پناہ حاصل کی۔
پناہ گزین کیمپوں میں تمام ہی افغان گروہوں کے لوگوں کو ٹھکانہ ملا۔ یہ کیمپ افغانستان میں ہر دور کے ”باغیوں“ کے لیے جنگی رسد فراہم کرتے رہے۔ تیس لاکھ افغان پناہ گزین چار دہائیوں کے دوران میں پاکستان میں متبادل سکونت اختیار کرچکے، برائے کرم ہمارے معزز اور قدر ناشناس ”مہمان“ اب ہمیں معاف رکھیں کیوں کہ گزشتہ دو برسوں میں جب سے ہم نے ان کی واپسی کا مطالبہ شروع کیا ہے، وہ اب خفا رہنے لگے ہیں۔
اس وقت اپنے پڑوسی سے ہمارے تعلقات جس سطح پر آچکے ہیں، اس کے باجود اگر ہم دوستوں اور دشمنوں کی موجودگی کو نظر انداز کرتے رہے تو یہ اپنے پاو¿ں پر کلہاڑی مارنے کے مترادف ہوگا۔ اس غفلت کے باعث ہمارے خلاف اس پراپیگنڈے نے زور پکڑا کہ ہم افغانستان میں طالبان کے پشت پناہ ہیں۔ برسر پیکار لیڈر جب اپنے اہل خانہ سے ملنے کے لیے آتے ہیں تو ایسی اطلاعات سے ”کوئٹہ شوری“ اور کسی ”کمانڈ اینڈ کنٹرول“ سینٹر کے بارے میں امریکی تاثر کو مزید پختگی ملتی ہے۔ اسلام آباد، پشاور، کوئٹہ ، لاہور، کراچی، ڈیرہ اسماعیل خان اور دیگر شہروں میں ایک ایسا ڈیٹا بیس موجود ہے جس میں یہاں قیام پذیر افغانوں کے بارے میں معلومات فراہم کی گئی ہے کہ ان کا افغانستان کے کس علاقے سے تعلق ہے اور وہاں یا بیرون ملک رہنے والے ان کے رشتے دار کون ہیں۔ امریکی سیٹلائٹ کسی بھی گاڑی کی نمبر پلیٹ پڑھنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، کسی بھی سرحد پار سرگرمی کی صورت میں ”محفوظ پناہ گاہوں“ سے متعلق معلومات عام کرنے میں کیا بات رکاوٹ ہے؟ جہاں تک قومی سرحدوں کے تقدس کی بات ہے، پاکستان میں مسلح گروہوں پر ہونے والے ڈرون حملوں کا کوئی جواز پیش نہیں کیا جاسکتا، لیکن دس برسوں سے زائد عرصے میں سرحد پار سے آنے والوں کے ہاتھوں قتل ہونے ہوالے اپنے سپاہیوں اور شہریوں کے لیے ہم نے کبھی دو آنسو بہائے؟
امریکا اور پاکستان کے مابین باہمی اعتماد کی بحالی کے لیے دونوں ممالک کی افواج کے رابطوں میں اضافہ ضروری ہے۔ یہ بد اعتمادی دہرا المیہ ہے، اس لیے کہ پاک فوج فاٹا اور سوات سے عسکریت پسندوں کے خاتمے کا مشترکہ مقصد حاصل کرنے کے لیے جی جان کی بازی لگا رہی ہے۔1950ءکی دہائی میں سر جیرالڈ ٹیمپلر کی ملاین مہم کے بعد ، یہ ہماری فوج ہی کا اعزاز ہے کہ اس نے شورش کے خاتمے اور انسداد دہشت گردی کے خلاف کام یابی سے ایسی شاندارکارروائی کی۔ سیاسی اعتبار سے یہ ایک انتہائی غیر مقبول فیصلہ ہوگا لیکن حالات کے پیش نظر ہمیں وقفے وقفے سے ( اور صرف مختصر مدت کے لیے) فاٹا اور سوات آپریشن میں امریکی فوجی مبصرین کو ساتھ رکھنا چاہیے۔ سیاسی تقسیم کے باعث بعض حلقوں کی جانب سے اس فیصلے کو ملکی سالمیت اور وقار پر حملہ قرار دیا جائے گا، لیکن جب حالات غیر معمولی ہوں تو ملک کی بھلائی کے لیے ایسے غیر مقبول فیصلے کرنے پڑتے ہیں۔
بھارتی پراپیگنڈے کے زیر اثر امریکا کی عسکری اور سویلین قیادت کشمیر کے مجاہدین آزادی کو بھی دہشت گرد سمجھتی ہے اور بڑی چالاکی کے ساتھ افغان طالبان کے ساتھ ان کا ربط ثابت کرنے کی کوشش بھی کی جاتی ہے، اسی بنیاد پر امریکا پاکستان کو بے وفائی کا طعنہ بھی دیتا ہے ۔ افغان فوج میں پاکستان سے عناد رکھنے والے تاجک اکثریت میں ہیں اور وہ اس تاثرکو مزید بڑھاوا دیتے ہیں۔ اس تاثر کو زائل کرنے کے لیے امریکی میڈیا ، سیاست دان، سرکاری ملازمین کے ساتھ ہمارے فیصلہ ساز حلقوں، سیاست دانوں، اکادیمیا اور میڈیا سے تعلق رکھنے والے افراد کے مابین بھی تبادلہ خیال اور ملاقاتوں کا سلسلہ شروع ہونا چاہیے، اسی سے رائے عامہ کو سمجھنے اور غلط فہمیاں دور کرنے کے مواقع پیدا ہوں گے۔ اسی طرح اہل علم پاکستانیوں کو امریکی تھنک ٹینکس، ارکان کانگریس ، عام لوگوں اور امریکا میں مقیم پاکستانیوں سے میل ملاپ رکھنا چاہیے۔ ہمارے سفیر اعزاز پاکستان مخالف پراپیگنڈے کا مقابلہ کرنے کی بھرپور کوششوں میں مصروف ہیں، لیکن کیا پاکستانی سفارت خانے میں سے کسی اور نے زحمت گوراہ کی کہ واشنگٹن میں راقم کے منعقدہ کسی پروگرام پر توجہ فرماتے؟ انھیں اپنے ذاتی مفادات سے فرصت ملے تو وہ سرکاری ذمے داریوں کا رُخ کریں۔
بھارت امریکا تعلقات پر پاکستان کو فکر مند ہونے کی کوئی ضرورت نہیں تھی ، لیکن اس تعلق کی قیمت اگر ہمیں ادا کرنی ہے تو ہمارے خدشات بلاجواز نہیں۔ ہم بھارت کو کس طرح اپنے خلاف افغانستان میں ”دوسرا محاذ“ کھولنے دے سکتے ہیں؟ افغانستان میں بھارتی قونصلیٹ کی تعداد پر پاکستان نے امریکا کو متوجہ کرنا چاہا لیکن وہ اس تعداد کو افسانوی قرار دے کر اس کا تمسخر اڑاتے ہیں۔ تو ہم یہ پوچھیں کہ ان مقامات پر کیا بھارتی را کے لوگ تعینات ہیں؟ اور کیوں اکثر ایسے مقامات کی حفاظت کے لیے افغان این ڈی ایس کی بھاری نفری تعینات ہے؟ یہ صرف بلوچستان اور خیبر پختون خوا میں انتشار اور بے سکونی پھیلانے کے لیے کام کررہے ہیں۔ بھارتی وزیر اعظم مودی، سابق وزیر دفاع پاریکر، قومی سلامتی کے مشیر اجیت دوال وغیرہ علی الاعلان پاکستان کو عدم استحکام کا شکار کرنے اور بلوچستان کو پاکستان سے الگ کرنے کے عزائم کا اظہار کرچکے ہیں۔اسی طرح بھارتی تربیتی اداروں میں زیر تربیت افغان فوجیوں کے دل و دماغ میں پاکستان کے خلاف جو زہر گھولا جارہا ہے، یہ بھی کوئی راز نہیں۔ بھارت افغان معیشت کو سہارا دینے کے لیے مزید اقدامات کرے گا، تو کیا امریکا افغانستان میں بھارت کو فوجی کردار دینا چاہتا ہے؟
بھارت نے اپنی بری، بحری اور فضائی فوج کا 80فی صد پاکستان کے خلاف اور مشرقی سرحد پر تعینات کررکھا ہے۔ ان کی اور ہماری نفری میں چار ایک اور کہیں پانچ ایک کی نسبت بنتی ہے۔ جب کہ چین کے ساتھ سرحد پر بھی یہ صورت حال نہیں۔ اس حوالے سے ہماری تشویش بجا ہے۔
سرد جنگ میں بھارت کو کمیونسٹ کیمپ سے دور رکھنا امریکا مفاد میں تھا جس کے لیے وہ پچھلے پچاس برس کوششوں میں مصروف رہا۔ 1962ءکی چین بھارت جنگ اس کے لیے سنہری موقع ثابت ہوئی۔ سفیر چیسٹر باو¿لز نے مئی 1965ءمیں وزارت خارجہ کو ایک پیغام بھیجا تھا جس میں چین کی قوت کو محدود کرنے کی تجویز دی گئی تھی۔ آج چین ایک سپرپاو¿ر اور امریکی مفادات کے لیے خطرہ تصور کیا جاتا ہے، اس کی قوت کو محدود کرنے کی بات آج زیادہ متعلق محسوس ہوتی ہے۔ تاہم اس میمو میں پاکستان کو مزید دیوار سے لگانے کی بات بھی کی گئی تھی ۔ امریکی قومی سلامتی نے اگر چین کو محدود کرنے کے لیے بھارت کا انتخاب کیا تھا تو افغانستان میں بھارت کے قدم جمانے کی امریکی کاوشیں تو اس سے بھی آگے کی منزل معلوم ہوتی ہے۔
کسی بھی ایسے شخص کے ساتھ نتیجہ خیز مکالمہ ممکن ہی نہیں جو اپنے تصورات کی سچائی پر ایمان رکھتا ہو۔ تاہم صرف ضبط کرکے ہی حالات میں بہتری لائی جاسکتی ہے۔ دوسری جانب افغانستان میں بھارتی کردار پاکستان کی قومی سلامتی کے لیے خطرے کا نشان ہے، امریکیوں کو یہ بات سمجھنی چاہیے۔
کیا افغانستان میں بھارتی کردار امریکا کو اس قدر عزیز ہے کہ وہ اس خطے سے وابستہ اپنا قومی مفاد ہی خطرے میں ڈال دے گا؟
(فاضل کالم نگار سیکیورٹی امور کے تجزیہ کار ہیں، یہ کالم پاک امریکا تعلقات پران کے سلسلہ¿ مضامین کا پانچواں حصہ ہے)
٭….٭….٭


سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں




دلچسپ و عجیب
کالم
آپ کی رائے
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved