تازہ تر ین

لاہور کارپوریشن میں پبلک ریلیشن افسر کی حکومت

شبیر عثمانی….قلم و قرطاس
25 مئی کو شائع ہونے والے اکثر اخبارات میں بہت دلچسپ اشتہارات شائع ہوئے ہیں جنہیں شعبہ تعلقات عامہ میٹرو پولیٹن کارپوریشن نے شائع کروایا ہے۔ لاہور کارپوریشن کے منتخب میئر کرنل (ر) مبشرجاوید ہیں،جب ان کا انتخاب عمل میں لایا گیا تو عوامی حلقوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی تھی کہ موصوف سابق فوجی ہیں تو شاید محنتی اور صحیح معنوں میںعوام کے خادم ہوں گے۔ شروع میں بعض ٹی وی چینلز اور اخبارات میں ان کی خبریں بھی چھپیں۔ ظاہر ہے کہ ن لیگ کے سیاسی حلقوں نے انہیں منتخب کروایا تھا۔ جن اشتہارات کا ہم ذکر کررہے ہیں وہ عوامی اور قومی سرمایہ ضائع کرنے کے مترادف ہے۔ لاہور میٹروپولیٹن نے عوام کی کیا خدمت کی ہے، یہ الگ بحث ہے لیکن منتخب میئر صاحب کی اپنے تحت کام کرنے والے سرکاری دفتروں میں حاضری کی صورتحال یہ ہے کہ کوئی پوچھنے والا نہیں کہ آپ کب آئے اور کب گئے۔ لوگ وظیفے کے طور پر تنخواہ لیتے ہیں اور 90 فیصد اہلکار دوسری نوکری کرتے ہیں یا اکثر نے کاروبار کھول رکھے ہیں۔
کرنل (ر) مبشرجاویدصاحب کو یہ بھی معلوم نہیں کہ عوامی اشتہارات کس مسئلے پر شائع کئے جاتے ہیں ۔مثلاً زیرنظر اشتہار میں لکھا ہے کہ بلدیہ عظمیٰ کے معزز ایوان کی منظور شدہ قرارداد نمبر فلاں کے تحت بانساں والا بازار کو یا گوالمنڈی چوک کا نام تبدیل کرکے سابق نائب صدر لاہور چیمبرآف کامرس ناصر سعید مرحوم کے نام پر رکھنا چاہتی ہے‘ کسی شخص یا تنظیم کو اعتراض ہو تو اس اشتہار کی اشاعت کے بعد سات یوم کے اندر ڈاکٹر ندیم الحسن گیلانی چیف پبلک ریلیشنر آفیسر میٹروپولیٹن کارپوریشن کے ایڈریس پر آگاہ کریں۔
اول تو یہ مضحکہ خیز اشتہار ہے‘ دوسرا یہ نہیں بتایا چیمبر آف کامرس کے سابق نائب صدر جو مرحوم ہوچکے ہیں‘ کے نام پر بازار کا نام کیوں رکھا جائے؟ لاہورچیمبر آف کامرس قیام سے آج تک بے شمار عہدیدار بنا چکا ہے، ہر سال الیکشن ہوتے ہیں۔ لاہور میٹروپولیٹن کا معزز ایوان یہ رسم کیوں ڈالنا چاہتا ہے۔چیمبر آف کامرس میں تو شہباز شریف سے لے کر میاں مصباح الرحمن تک بے شمار عہدیداران گذرے ہیں‘ کیا ان سب کے ناموں کولاہور کی سڑکوں اور گلیوں پر منطبق کر دیا جائے۔
ایک اور اشتہار یہ ہے کہ ایمپرس روڈ اور ایبٹ روڈ کی کراسنگ نزد شملہ پہاڑی کو” سید امتیاز علی تاج چوک“ بنا دیا جائے‘ اس نام پر بھی اعتراض کے لئے سات یوم دئےے گئے ہیں۔ سید امتیاز علی تاج البتہ معروف ادیب اور ڈرامہ نگار تھے جن کی شاہکار تصنیف ”انار کلی“ پر پاکستان اور ہندوستان میں لاتعداد فلمیں بنائی گئیں۔ سٹیج ڈرامے تیار ہوئے‘ ٹی وی سیریل بنے‘ کس بدبخت کو ان کے نام پر کراسنگ کا نام رکھنے پر اعتراض ہوسکتا ہے لیکن بہتر ہوتا اگر فیض احمد فیض‘ احمد ندیم قاسمی‘ حفیظ جالندھری‘ انتظار حسین‘ حبیب جالب اور دیگر نامور ادیبوں اور شاعروں کے علاوہ شہیدوں، غازیوں ،ماہرین تعلیم‘ کھلاڑیوں‘ فنکاروں اور تحریک پاکستان سے تعلق رکھنے والے نامور اصحاب کا نام لیا جاتا۔ پہلوانوں اور شہری تنظیموں کے سربراہوں کو یاد رکھا جاتا۔میاں عبدالخالق نے مینار پاکستان کی تعمیر کروائی‘نواب افتخار ممدوٹ کے گھر قائداعظمؒ قیام پذیر رہے۔ لاہور بلدیہ کے معروف عوامی خدمت کرنے والے میئرز اور کارپوریشن کے چیئرمینوں کو یاد رکھا جاتا ۔ خیراتی ہسپتال بنانے والوںکے نام تجویز کئے جاتے‘ انجمن حمایت اسلام کے برسوں تک سماجی خدمات سرانجام دینے والوں کو اعزاز دیا جاتا۔ لیکن افسوس ہے منتخب ارکان کی نگاہ انتخاب پر جو نام کسی نے لے دیا، انہوں نے ہاتھ اٹھا دیا۔
ان اشتہاروں کی سب سے بڑی خاصیت یہ ہے کہ یہ عبارت لایعنی ہے‘ کسی کو فرصت ہے کہ اس طرح کے فضول سوالوں کے جواب تحریر کرتا پھرے۔ یوں بھی لاہور کارپوریشن کا معزز ایوان جو فیصلہ کریگا ٹھیک ہی ہوگا لیکن اگر اشتہار نکالنا ہی مقصود ہے تو مئیر صاحب کس مرض کی دوا ہیں۔ یہ اشتہار میئر لاہور کارپوریشن کی طرف سے چھپنا چاہئے تھا ،وہ بھی اگر ضروری ہوتا۔ یہ ڈاکٹر ندیم الحسن گیلانی کس کھیت کی مولی ہیں۔ کیا واپڈا‘ واسا‘ گیس کمپنی‘ ٹیپا‘ ریلوے‘ ایل ڈی اے وغیرہ کے اشتہارات میںپبلک ریلیشن افسروں کے نام اور عہدوں کی تشہیر کی جائیگی۔ اللہ پاک کرنل مبشرجاوید پر رحم کرے۔ ان کے محکموں میں سرکاری ملازم ایک دو گھنٹے کے لئے آتے ہیں، پھر اپنی دوسری نوکری یا ذاتی کاروبار کرتے ہیں۔ ان کے افسر تعلقات عامہ کی پبلسٹی سرکاری خرچے پر، نام عہدے اور ڈگری کے ساتھ 7 اخباروں میں نمایاں سرخیوں کے ساتھ یوں چھاپی جاتی ہے جیسے موصوف نے اگلے مئیر کا الیکشن لڑنا ہو۔
نگران حکومت آنے والی ہے اور جو لوگ تین ماہ کے لئے حکمران ہوں گے سب جانتے ہیں کہ وہ الیکشن نہیں سلیکشن ہوگا۔ چلیں جو حکمرانوں نے کہابے چارے ارکان کارپوریشن نے سینے پرہاتھ رکھ کے حامی بھر لی۔کیا لاہور کارپوریشن کے پاس فالتو پیسے ہیں جو اس فضول اشتہار پر ضائع کردئےے اور سب سے بڑی بات یہ کہ سپریم کورٹ آف پاکستان کے چیف جسٹس جناب ثاقب نثار نے سختی سے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے محکمہ اطلاعات کی طرف سے سرکاری اشتہارات پر وفاقی یا صوبائی سربراہ ، وفاقی یا صوبائی وزیر کی بڑی بڑی تصاویر چھاپنے پر نوٹس لیا۔ اب لاہور کارپوریشن ان کے واضح احکامات کی خلاف ورزی تو نہیں کررہی۔
جناب مئیرلاہور کرنل مبشرجاوید صاحب پبلک ریلیشنز آفیسر ڈاکٹر ندیم الحسن کی تصویر نہیں مگر اشتہار کے ڈیزائن میں ان کا نام اتنا جلی حروف میں لکھا گیا ہے کہ وزیراعلیٰ شہباز شریف کے بعد اب قومی اور سرکاری بجٹ ایک پبلک ریلیشنز افسر کے نام ، شخصیت اور عہدے کی تشہیر پر ضائع کیا جا رہا ہے۔ انکے دور میں بیوروکریسی اور پھلے پھولے گی اور اپنا نام بنائیگی۔ ان اشتہارات کی اشاعت پر کرنل مبشر جاویدصاحب کو مبارکباد، انہوں نے اپنے پی آر او کا نام زندہ جاوید کردیا۔ سرکاری خرچے پر ڈاکٹر ندیم الحسن گیلانی نے مفت شہرت حاصل کی۔ مال مفت دلِ بے رحم۔
(کالم نگارسیاسی ایشوزپرلکھتے ہیں)
٭….٭….٭


سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں




دلچسپ و عجیب
کالم
آپ کی رائے
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved