تازہ تر ین

سوال و جواب

توصیف احمد خان

بیعت عقبہ ثانیہ کا ذکر چل رہا ہے۔ گزشتہ کالم میں انصار مدینہ کی نبی کریم کو اپنے شہر میں تشریف لے آنے کی دعوت اور آپ کی شرائط کا ذکر ہورہا تھا۔ جب عقبہ کے مقام پر اوس و خزرج کے بہتر افراد نے اسلام کا نور اپنے دلوں میں سمو لیا تو انہوں نے کچھ باتیں بھی کیں۔
حضرت عبداللہ بن رواحہؓ نے کہا کہ حضور کی شرائط پوری کرنے پر ہمیں کیا ملے گا۔ حضور نے جواب دیا کہ جنت تو جناب عبداللہ بولے کہ یہ تو نفع بخش سودا ہے۔ ہم اسے توڑیں گے اور نہ توڑنے دیں گے۔ حضرت براءبن معرورؓ نے کہا کہ ہم ہتھیاروں کی اولاد ہیں۔ ہمیں اپنے بزرگوں سے یہ خوبی ملی ہے ہم حضور کا دفاع کریں گے۔ ابوالہشیم نے کہا ہماری یہودیوں کے ساتھ دوستی ہے جس کو ہم آج ختم کررہے ہیں۔ ایسا نہ ہو کہ اللہ تعالیٰ دشمنوں پر آپ کا غلبہ فرما دے تو آپ ہمیں چھوڑ کر اپنی قوم کے پاس چلے آئیں۔
رسول اللہ نے تبسم فرمایا اور کہا کہ میری پناہ تمہاری پناہ‘ میری حرمت تمہاری حرمت‘ میں تم میں سے ہوں اور تم مجھ سے ہو۔ میں تمہارے ساتھ مل کر جنگ کروں گا اور تمہارے ساتھ ہی صلح کروں گا۔ جب یہ سارا معاملہ طے پا گیا تو نبی کریم نے جناب جبرائیل امینؑ سے مشورے کے بعد ان میں سے بارہ نقیب مقرر کردیئے۔ نو نقیب خزرج اور تین اوس میں سے تھے۔ بنو خزرج کے نقیب یہ تھے۔
1۔ اسعدؓ بن زرارہ بنو بخار کے نقیب
2 ۔ رافع بن مالکؓ بنی زریق کے نقیب۔
3۔ سعد بن ربیعؓ بنی حارث بن خزرج کے نقیب۔
4۔ عبداللہ بن رواحہؓ ……..
5۔ سعد بن عبادہ ؓ …. بنی ساعدہ کے نقیب
6۔ عبدالمندر بن عمروؓ ….
7۔براءبن معرورؓ….
8۔ عبداللہ بن عمروؓ….
9۔ عبادہ بن صامتؓ….
بنی اوس کے نقیب درج ذیل تھے۔
1۔ اسیدبن حضیرؓ ….بنی عبدالا شہل کے نقیب
2۔ رفاعہ بن عبدالمندرؓ…. بنی عمرو بن عوف کے نقیب
3۔ سعد بن خیشمہ ؓ ……..
نقیب مقرر فرمانے کا مقصد یہ تھا کہ وہ ان قبائل کے نگران رہیں تاکہ ان کے دنیا و آخرت کے تمام امور درست ہوجائیں۔ یہ نقیب انصار کے رﺅسا میں سے تھے اور کتب میں ان کے اوصاف موجود ہیں۔ روایات کے مطابق حضرت اسعد بن زرارہؓ نقیب النقباء بھی تھے۔
اس وقت انصار نے بڑے جذباتی انداز میں کلام کیا۔ ایک انصاری نے تجویز دی کہ اگر جناب رسول اللہ اجازت دیں تو ہم اس وقت منیٰ میں موجود تمام مشرکوں کو قتل کردیں مگر آپ نے فرمایا کہ مجھے پروردگار کی جانب سے حکم نہیں ہوا کہ تلوار اٹھاﺅں اور مشرکین سے جہاد کروں گروہ انصار نے اس موقع پر جن جذبات کا اظہار کیا وہ اسلامی تاریخ کا ناقابل فراموش باب ہے۔ عبداللہ بن رواحہؓ نے کہا جس بات پر بارہ حواریوں نے جناب عیسیٰؑ کی بیعت کی میں اس پر آپ کی بیعت کرتا ہوں ابوالہشیمؓ نے کہا بنی اسرائیل کے بارہ نقیبوں نے جس بات پر حضرت موسیٰ ؑ کی بیعت کی میں بھی اس پر آپ کی بیعت کرتا ہوں۔ حضرت عبادہ بن صامتؓ نے کہا میں نبی کریم کی بیعت کرتا ہوں کہ اللہ کے معاملے میں کسی ملامت کرنے والے کی پروا نہیں کروں گا۔ اسعد بن زرارہؓ نے کہا یارسول اللہ! میں پہلے اللہ تعالیٰ اور پھر آپ کی بیعت کرتا ہوں کہ میں وفا نبھاﺅں گا۔ حضرت نعمان بن حارثہؓ نے کہا میں باری تعالیٰ کے حکم کی تعمیل میں اپنے دور اور نزدیک کے رشتہ داروں کی بھی پروا نہیں کروں گا۔ جناب سعد بن الربیعؓ نے کہا میں اللہ اور رسول کی نافرمانی نہیں کروں گا۔ اور اللہ اور اس کے رسول سے جھوٹ نہیں بولوں گا۔
بیعت کے بعد یہ سارے لوگ سو گئے اسی دوران کسی نے کفار مکہ کے کان میں یہ بات ڈال دی۔ کفار صبح کے وقت ان کے خیموں کی طرف روانہ ہوئے وہ غصے میں بپھرے ہوئے تھے۔ ابھی وہ راستے میں ہی تھے کہ انہیں یثرب سے آنے والے کچھ مشرک مل گئے جن میں عبداللہ بن ابی بھی تھا۔ کفار نے ان سے جواب طلب کیا تو وہ قسمیں کھانے لگے کہ ایسا کوئی واقعہ نہیں ہوا۔ وہ اپنی جگہ سچے تھے کیونکہ انہیں کچھ معلوم ہی نہیں تھا۔ جب یہ سارا کچھ ہورہا تھا تووہ اپنے خیموں میں خواب خرگوش کے مزے لے رہے تھے۔ کفار اس وقت تو چلے گئے مگر بعد میں انہوں نے تصدیق کرلی کہ یثرب کے کچھ لوگوں نے آپ کے ہاتھ پر بیعت کی ہے۔ وہ بیعت کرنے والوں کو پکڑنے کیلئے بھاگے لیکن تمام لوگ ان کی پہنچ سے دور جاچکے تھے۔ صرف سعد بن عبادہؓ رہ گئے تھے جو ان کے قابو آگئے۔ کفار نے ان پر تشدد کیا لیکن جبیربن معطم اور ابو سفیان کے نائبین نے انہیں پناہ دیکر بچا لیا۔
یثرب پہنچ کر ان مسلمانوں نے کھلے عام اسلام کی تبلیغ کی جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ اسلام خوب پھیلنے لگا۔ خصوصاً نوجوان اسلام کی آواز پر لبیک کہنے میں سب سے آگے تھے۔ کچھ بزرگ شرک پر اڑے رہے تاہم ان کی مزاحمت زیادہ عرصہ برقرار نہ رہ سکی اور یثرب حقیقتاً اسلام کا قلعہ بن گیا۔ ان میں سے ایک بزرگ عمرو بن الجموع کے قبول اسلام کا دلچسپ قصہ آیندہ بیان کریں گے۔
٭٭٭


سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved