تازہ تر ین

رمضان اورڈویژنل بنچ کامتنازعہ فیصلہ

عبدالودود قریشی

اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس شوکت صدیقی نے ایک فیصلے میں نجی ٹی وی چینلوں پر رمضان المبارک کے موقع پر بے ہودہ اچھل کود ناچنے اور گانے والیوں کی جانب سے احترام رمضان کا درس دلوانے پرپابندی کا ایک تفصیلی فیصلہ دیا جو حقیقی طور پر پاکستانیت اور دوقومی نظریے سے مطابقت رکھتا تھا۔اس فیصلے میں مادرپدر آزاد پروگراموں کو روکنے اور بھارتی طرز پر شومنعقد کرنے سے روک دیا گیا تھا۔اس حوالے سے چیف جسٹس آف پاکستان میاں ثاقب نثار نے پیمرا کے نمائندے سے سوال کیا تھا کہ مجھے بتائیں کہ ایوارڈ شو میں اداکاراﺅں والے ڈریسنگ سے ہم آہنگ لباس کیا اپنی بہنوں اور بیٹیوں کے لئے پسند کرتے ہیں۔جسٹس شوکت عزیز صدیقی کی جانب سے تمام ٹی وی چینلز کو رمضان المبارک کے مہینے میںبے ہنگم نیلام گھر دکھانے پر پابندی عائد کر دی گئی تھی اور رمضان المبارک کے تقدس کو نظر انداز کرتے ہوئے لالچی اور ملٹی نیشنل کمپنیوں کے تعاون سے غیر اسلامی اور غیر شرعی پروگراموں کو روک دیا تھا۔جسٹس شوکت صدیقی کے اس فیصلے کے خلاف چند روز بعد ٹی فنکاروں کی طرف سے ایک درخواست سپریم کورٹ میں دائر کی گئی کہ نجی چینلوں پر بھارتی ڈرامے دکھانے کی وجہ سے ان کا روزگار متاثر ہوا ہے دوسرا ان ڈراموں میں کام کرنے والی لڑکیاں جس قسم کے لباس زیب تن کرتی ہیں اس سے بے حیائی کا مظاہرہ ہوتا ہے اس سے ہماری نسل بڑی تیزی سے اخلاقی گراوٹ کا شکار ہورہی ہے اگر یہ سلسلہ جاری رہا تو ملک میں بے حیائی کا ایک سیلاب آجائے گا جس کے آگے بندھ باندھنا ممکن ہی نہیں ہوگا اس کیس کی سماعت چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے کی اور پیمرا اور نجی چینلوں کو ہدایت کی وہ اس طرح کے بھارتی ڈرامے اور ایوارڈ شو دکھانے سے باز رہیں۔اسلام آباد ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ آف پاکستان نے رمضان المبارک کے مہینے کے پیش نظر جو فیصلے دیئے وہ ملک کے طول و عرض میں سراہے گئے لوگوں نے اس پر عدلیہ کی تحسین کی کیونکہ یہ معاملہ جس قدر معمولی اور غیر اہم نظر آتا ہے وہ اتنا معمولی نہیں بلکہ انتہائی سنگین تھا جس کے باعث نوجوان نسل اخلاقی پستیوں کی دلدل میں اترتی جاری ہے۔اعلیٰ عدلیہ کے ذمہ دار ججوں نے قانونی اقدامات کرتے ہوئے بے ہودہ ڈراموں اور ایوارڈ شو کے نام پر غلاظتوں پر پابندی کا حکم دیا تھاوہ قابل ستائش اور جرات مندانہ اقدام ہے جس پر باقاعدہ قانون سازی کی ضرورت تھی جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے احترام رمضان کے بارے میں سات معاملات پر حکم صادر کیا ٭۔پانچ وقت کی اذان نشر کی جائے٭۔مغرب کی اذان سے پانچ منٹ قبل اشتہارات نہ چلائے جائیں اور درودشریف اور ملکی سلامتی کے لئے دعائیں کی جائیں٭۔قرآن کا فہم اور پیغام پھیلایا جانے کا حکم٭۔رمضان کے تقدس پر سمجھوتہ نہیں کیا جائےگا ٭۔نشریات کا جائزہ لینے والی کمیٹی سیکرٹری داخلہ،اطلاعات اور چیئرمین پیمرا کو تشکیل کر دینے کا حکم٭۔اور مذکورہ کمیٹی کے پہلے عشرے کے دوران ٹی وی چینلوں کی رمضان ٹرانسمیشن پر پیمرا کی ہدایت اور عدالتی احکامات پر عملدرآمد کی رپورٹ٭۔بھارتی پروگراموں،اشتہاروں اور گانے نہ چلانے کا حکم۔اس فیصلے کے خلاف اے آئی وائی اور پاکستان براڈکاسٹر ایسوسی ایشن کی جانب سے عدالت عالیہ میں اپیل دائر کی گئی جس کی سماعت جسٹس عامر فاروق اور جسٹس محسن اختر کیانی نے کی جنھوں نے جسٹس شوکت صدیقی کے اس فیصلے کو منسوخ کر دیا۔ براڈ کاسٹر ایسوسی ایشن کی جانب سے جسٹس شوکت صدیقی کے فیصلے کے خلاف دورکنی ڈویژنل بینچ کے فیصلے کے بعد بھی ٹی وی چینلوں نے یہ اعلان کیا ہے کہ وہ پانچ وقت کی اذان چلائیں گے بھارتی پروگرام نشر نہیں کریں گے اور نہ ہی ٹی وی چینل پر اچھل کود اور بے ہودہ پروگرام نشر کریں گے۔
پاکستان دوقومی نظریے کی بنیاد پر وجود میں آیا جس میں مسلمانوں کے علیحدہ تشخص اور اسلامی تعلیمات کو فوقیت حاصل ہے قائد اعظم نے پاکستان میں میرٹ کو سب سے پہلا اصول قرار دیا تھا مگر میرٹ کے خلاف لوگوں کی بھرتیاں اور تقرریاں ہی ملک میں خرابی کی سب سے بڑی جڑ ہیں ہمیں عدلیہ سمیت مختلف اداروں میں اس حوالے سے بھرتیوں پر خصوصی نظر رکھنی چاہیے اور ایسے لوگوں کو مقرر کرنا چاہیے جو پاکستان کی بنیادی اساس کے واقیت رکھتے ہوں جو آئین کا ابتدائیہ ہے اور پاکستان کے پہلے آئین سے پہلے مرتب کیا گیا تھا۔ اب وہ آئین کا حصہ ہے۔ پاکستان میں آزادی صحافت اسلامی اقدار کے مطابق ہی دی جاسکتی ہے مادر پدر آزادی کسی کو بھی کہیں کا نہیں چھوڑے گی ٹی وی چینلوں پر پانچ وقت کی اذان،قرآن فہمی کا پیغام،بھارتی پروگراموں،اشتہارات اور گانے نہ چلانے کا حکم ایسے اقدام ہیں جن کے بارے میں دورائے نہیں مگر اس کے برعکس فیصلہ یقیناً متنازعہ ہے۔
٭٭٭


سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں




دلچسپ و عجیب
کالم
آپ کی رائے
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved