تازہ تر ین

درانی کی کشمیری قیادت ، اسامہ بارے باتیں متنازعہ اور خوفناک آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کیجانب سے اسد درانی کی جی ایچ کیو طلبی سے بہت مثبت و بروقت قدم اٹھایا گیا ایڈیٹر خبریں و سی ای او چینل ۵ امتنان شاہد کی گفتگو

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) ایڈیٹر خبریں گروپ و سی ای او چینل ۵ امتنان شاہد نے کہا ہے کہ جنرل (ر) اسد درانی کی کتاب میں بہت سارا متنازعہ مواد موجود ہے۔ یہ سابق ڈی جی آئی ایس آئی رہے ہیں۔ فوج کا کوڈ آف کنڈکٹ ہوتا ہے جس کے مطابق حلف لیا ہوتا ہے کہ آپ کسی بھی ملک کے راز کتاب یا کسی بھی شکل میں شائع یا بات نہیں کر سکتے۔ کتاب کا ابھی آن لائن ایڈیشن آیا ہے جتنا میں اس کو پڑھ سکا ہوں اس میں کشمیر کے حریت رہنماﺅں اور پاکستان کی طرف سے ان کی دی جانے والی امداد کے بارے میں بات کی گئی ہے۔ خاص طور پر کہ انڈیا کے آرمی چیف و ”را“ کے سربراہ کو کسی طریقے سے سنبھالا جا سکتا تھا اور پاکستان نے کسی طریقے سے کشمیر میں آزادی کی جنگ کو داتی و عالمی سطح پر سپورٹ کیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ کتاب میں کشمیر کی حریت لیڈر شپ اور پاکستان کو ان کی دی جانے والی امداد کے بارے میں بات کی گئی ہے جو بڑی متنازعہ اور بہت خوفناک قسم کی صورتحال ہے۔ اگر کوئی سابق ڈی جی آئی ایس آئی ایسی بات کرے۔ دوسری اہم بات اسامہ بن لادن کی پاکستان میں موجودگی اور اس آپریشن کے بارے میں ہے جو امریکہ کی طرف سے کیا گیا تھا۔ پاکستانی حکومت نے اسے کس طرح لیا، اس وقت کے صدر زرداری نے کیا کہا یہ دونوں چیزیں ملک کی سالمیت و افواج کی کارکردگی پر سوالیہ نشان اٹھانے کے مترادف ہیں۔ یہ دونوں چیزیں اس قسم سے تحریر کی گئی ہیں جس سے براہ راست یہ سوال اٹھتا ہے کہ پاک افواج بھارت کے زیر قبصہ کشمیر میں نہ صرف مداخلت کرت ہے بلکہ دہشتگردی پھیلاتا ہے اور اپنے ملک میں اسامہ کی صورت میں دہشتگرد کو پالتا ہے۔ یہ دونوں اشارے پاک افواج کی طرف ہیں۔ انہوں نے کہا کہ رضا ربانی نے کتاب کے حوالے سے سینٹ میں کہا ہے کہ اگر کوئی سیاستدان ایسی بات کرے تو اس پرغداری کا مقدمہ چلتا ہے لیکن اگر کتاب کے لانچ کئے جانے کی ٹائمنگ دیکھیں تو مسئلہ ایک ایسے وقت کھڑا کیا جا رہا ہے جب پاکستان کے بھارت کے ساتھ سرحدی علاقے شدید دباﺅ کا شکار ہیں۔ آئے روز کسی نہ کسی علاقے میں بھارت کی جانب سے گولہ باری و شیلنگ کی جاتی ہے۔ دوسری طرف امریکہ جس کی فوج افغانستان کے سرحدی علاقوں پر موجود ہے وہ افغان فوج و قیادت کے ذریعے پاکستان اور اس کی سرحدوں کے علاوہ پاک فوج پر انگلیاں اٹھا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت پاک فوج کے پاس اس کے سوا کوئی چارہ نہیں کہ سابق وزیراعظم و دیگر کی عدالتوں میں پیش ہونے کی طرح جنرل (ر) کو بھی کٹہرے میں کھڑا کرے۔ فوج کی جانب سے اسد درانی کو جی ایچ کیو طلب کرنا ثابت کرتا ہے کہ فوجی قیادت سوچ رہی ہے کہ قانون کی نظر میں سب ایک ہیں چاہے وہ سابق فوجی افسر ہی کیوں نہ ہو۔ آرمی چیف کی جانب سے بہت مثبت و بروقت قدم اٹھایا گیا ہے کہ اس کو اسی وقت روکا جائے۔ ریٹائرمنٹ کے بعد ضروری نہیں کہ کوڈ آف کنڈکٹ بھی ریٹائر ہو جائے وہ لاگو رہتا ہے کیونکہ ان کے دل و دماغ میں ملک کے بارے میں بہت سارے راز دفن ہیں۔


سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved