تازہ تر ین

آئینہ ان کو دکھاےا تو۔۔۔۔

سجادوریا….اظہار خیال
کچھ عرصہ قبل دو شخصےات پی ٹی آئی کے نعیم الحق اور پاکستان عوامی تحریک کے خرم نواز گنڈاپور کو میڈےا کے سامنے ڈائس پر خطاب کرنے کے معاملے پر الجھتے دےکھا ، اےک دوسرے کو دھکے دئیے اور گنڈاپور نے تو باقاعدہ گالےاں دیں۔نعیم الحق بھی انجان بن کر پوچھتے ہےں کہ ےہ کون ہے؟شےخ رشید نے منت ترلہ کر کے معاملے کو سنبھال لےا۔بظاہر اس معاملے مےں دونوں حضرات نے غےر ذمہ داری کا مظاہرہ کیا ،اتنی سی بات کا تماشا بنا دےا۔لےکن کےا ےہ صرف اےک حادثہ تھا ؟اور ےہ غےر حادثاتی طور پر ہوگےا ؟ےا پھر ان شخصےات کی بنےادی فطرت اور جبلت کا بھی کردار تھا؟ان سوالات کے جوابات کے لئے وقت کی گھڑی کو کئی مہینے ٹک ٹک کی سریلی دھن کو مسلسل بجانا پڑا۔
مےں ےہ بھی واضح کر دوں کہ ان دونوں جماعتوں اور ان کے قائدین ،جناب علامہ طاہرالقادی اورجناب عمران خان کو بہت احترام کی نگاہ سے دےکھتا ہوں ۔ان کی خدمات قابل ستائش اور تاریخ کے اوراق مےں بطور سند ےاد رکھی جائےں گی۔ڈاکٹر طاہرالقادری صاحب کی مذہبی،علمی،فکری جدوجہد حالیہ صدی کے مفکرین کے لئے رہنما اصول متعےن کرے گی۔ان کی ہزراوں کتابےں مسلسل دین کے مثبت پےغام کا سبب بنتی رہےں گی۔ان کے سےاسی مےدان مےں کارکردگی ،ان کے دعوﺅں اور حکمت عملی سے مجھے جو اختلاف ہوتا ہے وہ ہمےشہ کھلے اور دبنگ انداز مےں بےان کرتا رہتا ہوں۔ان کی فکر سےاست سے متفق ہوں، انکے انداز سےاست سے اختلاف رکھتا ہوں ۔انہوں نے دہشت گردی کے خلاف اس وقت اےک عظیم فتوٰی دےا جب پوری قوم اےک طرح کے فکری بحران سے دو چار تھی،عصرحاضر کے علماءکرام بھی کنفےوزتھے اور بعض تو طالبان کو بھی شہید قرار دےنے پر بضد تھے۔جناب طاہرالقادری نے اس وقت دہشت گردی کے خلاف اےک مدلل اور مضبوط فتوٰی دے کر قوم کو گومگو کی صورتحال سے نکالا۔اسی طرح چےئرمےن پی ٹی آئی جناب عمران خان کی سےاسی جدوجہد کو بھی قابل ستائش اور قابل فخر گردانتا ہوں۔انہوں نے بے مثال ہمت اور ثابت قدمی سے وقت کے حکمرانوں کے خلاف طویل جنگ لڑی اور بلآخر کرپشن کے سومنات مسلسل اورکاری ضربوں سے پاش پاش کردئیے ہےں ۔مجھے ان دونوں رہنماو¾ں کی راست فکری اور دےانت پر پورا اعتماد ہے۔اگر ےہ دونوں جماعتےں مذہبی اور سےاسی مےدانوں مےں کوئی معاہدہ کر لےں تو شاندار پارٹنرشپ قائم ہو سکتی ہے۔
ان تما م مثبت پہلوو¾ں کے باوجود جو چےزےں اس قےادت کے خلاف جا رہی ہےں وہ ان کے گرد چند طاقتور اور خود سر شخصےات کا گھےرا ہے ،جن کی وجہ سے پارٹےوں اور قےادت کو مےڈےا اور عوامی حلقوں مےں تنقید کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔اپنی جماعتوں کے کارکنان کو بھی ان شخصےات کے نامناسب روےوں سے شکاےت رہتی ہے۔نعیم الحق مےں کونسی خوبی ہے کہ عمران خان کے چہیتوں مےں شمار ہوتا ہے،میڈےا پر بات کرنا نہیں آتی اور کسی پروگرام مےں بےٹھےں تو ہتھ چھٹ اےسے کہ مخالف کو تھپڑ مار دےتے ہےں ۔ضبط ،صبر اور دانش تو دےکھنے سے بھی نہیں ملتی،ماتھے پر تےوری اور طبیعت مےں رعونت اےسے جھلکتی ہے کہ فرعون کو بھی مات دے جائے ۔بھئی سمجھ کےا رکھا ہے خود کو ،وہ دن گئے جب اپوزیشن مےں ہوتے ہوئے مظلومےت کا سہارہ لےتے رہتے اور مخالفین کی حماقتوں نے آپ کا بھرم رکھا ہوا تھا ورنہ اخلاقی سطح پر آپ کے رویے کی عملی تصویر کئی بار دےکھی جا چکی ہے۔ابھی آپ کو امید لگی ہے کہ شاےد اگلی حکومت بن جائے اگر بن گئی تو کےا ہوگا؟اس پر حےرت انگیز عمل ےہ دےکھنے کو ملتا ہے کہ پارٹی قےادت ان کے سامنے بے بس ہے۔کوئی پوچھنے والا نہیں ان کو ،بلکہ ان کا دفاع کررہے ہوتے ہےں جبکہ کارکنان ہےں کہ ان تضادات کی وجہ سے شاکی نظرآتے ہےں۔دانےال عزیز بھی کوئی خاص اخلاقےات کا مظاہرہ نہیں کرتے لےکن آپ نے کس اخلاق کا مظاہرہ کیا؟آپ کے اس رویے سے آپ کی شخصےت اےکسپوز ہوئی ہے اور آپ کی پارٹی کی جمہوریت بے نقاب ہوئی ہے۔تحریک انصاف مےں ہوش مند ترجمان بس چند ہی ہےں جو دلیل اور ہلکے پھلکے مزاح کے انداز مےں جواب دے سکتے ہےں جن مےں فواد چوہدری ،اسد عمر ،سرفرازچیمہ ،شفقت محمود اور فےاض الحسن چوہان سرفہرست ہےں ،باقی تو جذباتےت کی اےسی چٹان پر بےٹھے ہےں کہ مخالف کی ذرا سی غلطی ،ان کے لاوے کے بہاﺅ کا سبب بن سکتی ہے ۔ان مےں مراد سعید ،علی محمد خان اور شہرےار آفریدی اےسی باتےں کرےں گے جن مےں زور اور لفاظی زےادہ جبکہ عقلی دلیل کم ہوتی ہے۔الامان الحفیظ پتہ نہیںکوئی ان کو گائیڈ بھی کرتا ہے۔
اسی طرح کا روےہ جناب خرم نواز گنڈاپور صاحب کا نظر آےا،انہوں نے بھی بدزبانی اور بد اخلاقی کی انتہا کر دی،انہوں نے منہاج ےونیورسٹی کے ہاسٹل مےں جو انٹری دی، ان کی بھڑکےں اور چلنے کا انداز اےسا کہ مرحوم سلطان راہی ےاد آ گئے۔ان کی دھاڑ ےں تو پورے ہاسٹل مےں گونجتی رہیں اور طالبات کا موقف سننے کو بالکل تےار نہیںتھے۔ گنڈا پور کے لہجے کی سختی اور فرعونےت ان کی اصلی شکل کو مےڈےا اور عوام کے سامنے آشکار کر گئی۔طاقت کا نشہ اور فطری مطلق العنانی اپنے ہونے کا پتہ دے رہے تھے۔گنڈاپور کا موقف بھی میڈےا مےں آےا ہے کہ لڑکےوں نے سٹاف کو اغوا کرلےا تھا۔گنڈا پور کبھی والدےن کی اجازت نہ ہونے کا سہارا لےتے رہے۔ چند سوالات ہےں جو اٹھ رہے ہےں ۔کےا منہاج ےونیورسٹی نے افطار پروگرام اجازت کے بغےر کرلیا؟جب بچوں نے 200روپے فی کس جمع کراےا تو انتظامیہ سو رہی تھی؟کےا ےہی طالبات دھرنوں اور جلسوں مےں نہیں جاتی رہیں؟چلیے مان لیا طالبات کی غلطی تھی تو کسی بھی طرح جگاگیری جائز تھی؟ کےا طالبات سے مہذب انداز مےں بات نہیں ہو سکتی تھی؟کےا بات ہے کہ خرم نواز گنڈا پور جےسے لوگ مضبوط اورنظرےاتی کارکن کمزور ہوتے جا رہے ہےں؟منہاج القرآن کے ذمہ داران کی طرف سے گنڈا پور سے وضاحت طلب کی گئی؟خدا کا خوف کرو ،مذہب اور اخلاقےات سیکھنے ےہ بچےاں آئی ہےں اور آپ کے دوغلے پن کی وجہ سے ان کے جذبات مجروح نہ ہو جائیں اور نفرت پلنے لگے۔
بڑے رہنماو¾ں کا نفسےاتی تجزےہ کےا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ ابتدائی دنوں مےں ےہ مشاورت اور تنظیم کو اہمےت دےتے ہےں لےکن جب طاقتور ہو جاتے ہےں تو خوشامدی ان کو گھےر لےتے ہےں اور وہ صرف طاقت اور مفاد کے نقطہ نظر سے سوچتے ہےں،اگر قےادت کی کمزوری کو بھانپ لےں اور تو بھی حاوی ہو جاتے ہےں اور خود کو جوابدہ نہیں سمجھتے۔مےرا خےا ل ہے دھرنوں مےں ناکامےوں کے باعث ڈاکٹر طاہرالقادری کی اخلاقی پوزیشن کمزور ہونے کے سبب ان کی پارٹی معاملات مےں گرفت کمزور ہو چکی ہے ۔اس لئے پارٹی مےں جواب دہی کا عمل کمزور پڑ چکا ہے۔مےں نے اس تجزیے سے ان دونوں شخصےات ،نعیم الحق اور گنڈاپورکی فطرت و جبلت کو واضح کےا ہے ۔انہوں نے اپنے لیڈروں کو قابو کر رکھا ہے، اس طر ح کسی اور کی ان کو پرواہ نہیں۔جناب عمران خان اور طاہرالقادری کو اس طرح کے رجحانات اور روےوں کے خلاف سخت اےکشن لےنا چاہیے ورنہ اس طرح کی تنقید اور جگ ہنسائی کا سامنا ہوتا رہے گا۔
(کالم نگارقومی ایشوز پرلکھتے ہیں)
٭….٭….٭


سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں




دلچسپ و عجیب
کالم
آپ کی رائے
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved