تازہ تر ین

کوئی رفیق نہیں ہے کتاب سے بہتر

میم سین بٹ….ہائیڈپارک
لاہور صدیوں سے علم وادب کاگہوارہ چلا آرہا ہے اور شہربے مثال میں علم اودب کو فروغ دینے میں یہاں سے شائع ہونے والے کتب ورسائل اوراخبارات نے اہم کردار ادا کیا ہے، زمانہ قدیم میں لوہاری دروازے کے اندر چھاپے خانے شروع ہوئے تھے پھر کتابوں کی اشاعت کا کاروبار باہر سرکلر روڈپر منتقل ہو گیا، اس کے بعد اردو بازارنے کتاب گھر کی صورت اختیار کرلی ،پھر مال روڈ ، لوئرمال اوراب مزنگ روڈ بک سٹریٹ میں تبدیل ہوچکا ہے۔اتوار کو پاک ٹی ہاﺅس اور اوریئنٹل کالج کے سامنے فٹ پاتھی سٹالز سے ہر موضوع پرسیکنڈ ہینڈ کتابیں بھی مل جاتی ہیں،ریگل چوک اور بھاٹی چوک میں بھی پرانی کتابیں فٹ پاتھ پر فروخت ہوتی رہی ہیں،ریگل چوک میںکلاسیک کے باہر شاعر مقبول نادرو نایاب کتب فروخت کیا کرتے تھے جو اب دنیا سے رخصت ہو چکے ہیں ،بھاٹی چوک میں داتا دربار اور نگار سینماکے باہر بھی پرانی کتابوں کی فٹ پاتھی دکانیں پائی جاتی تھیں۔ نگار سینما کی جگہ اب مارکیٹ وجود میں آچکی ہے اور بھاٹی چوک کے فٹ پاتھی بکسٹالز بھی منظر سے غائب ہو چکے ہیں۔ لوگ بھی اب کتاب پڑھنے کے بجائے سوشل میڈیا استعمال کرنا پسند کرتے ہیں۔
کتاب سے ہمارا بچپن میں ہی تعلق پیدا ہو گیا تھا۔ آغاز میں میں بچوں کی کہانیاں پڑھتے رہے، پھر بچوں کے ناول خریدنا شروع کردیئے ۔اس زمانے میں فیروز سنز اور شیخ غلام علی اینڈ سنزسے بذریعہ ڈاک فہرست کتب منگوا کر نئی کتابوں کا انتخاب کرتے اور پھر لاہور سے کتابوں کا پارسل سیالکوٹ منگوایا کرتے تھے۔ بعدازاں اشتیاق احمد کی انسپکٹر جمشید اورانسپکٹر کامران مرزا سیریز کیلئے بھی سالانہ چندہ بھیجا کرتے تھے ۔اس کے ساتھ ساتھ ابن صفی کی عمران سیریز اور جاسوسی دنیا کے ناول بھی بذریعہ ڈاک منگواتے رہے ۔ گزشتہ دنوں ان پبلشرز کے شورومز ڈھونڈنے نکلے تو وہ ہمارے بچپن کی طرح کہیں کھو چکے تھے ۔لوگوں نے بتایا کہ فیروز سنز کا شوروم مال روڈ سے گلبرگ اور اسرار پبلی کیشنز کا بیڈن روڈ سے اردو بازار کے علاقے میں کہیں منتقل ہو چکا ہے۔
بچپن اورلڑکپن کی طرح جوانی میں بھی کتاب نے ہمارا ساتھ نہ چھوڑا اوریقیناََبڑھاپے میں بھی ہمارا ساتھ برقرار رہے گا۔ بیک وقت دو تین کتابیں ہمارے زیر مطالعہ رہتی ہیں، ایک کتاب بستر پر سرہانے تلے رکھتے ہیں جسے علی الصبح سونے سے پہلے اور دوپہر کو جاگنے کے بعد قسطوں میں پڑھتے ہیں جبکہ دوسری کتاب سفری بیگ میں رکھتے ہیں جس کا دفتر سے نائٹ ڈیوٹی کے بعد پریس کلب لائبریری میں پہنچ کر مطالعہ کرتے ہیں ،بہت دنوں سے فلیٹ پر سرہانے تلے مستنصر حسین تارڑ کی نئی ضخیم کتاب”لاہور آوارگی“ رکھی ہوئی تھی جسے قسطوں میں پڑھتے رہے، ابھی وہ مکمل ہی نہ ہوئی تھی اورہم ”صدائیں شہر لاہورکی “ کے باب تک ہی پہنچے تھے کہ مستنصر حسین تارڑ نے اپنے اخبار میں متنازعہ سیاسی کالم لکھ ڈالاجس پر لوگوں نے سوشل میڈیا پر ان کی خوب کلاس لینا شروع کردی ۔ہم نے بھی دلبرداشتہ ہو کرلاہور کے آخری صداکار کا احوال پڑھ کر ”لاہور آوارگی“ کو الماری میں بند کر دیا ۔
اب ہم بک ہوم سے منیر احمد منیر کی نئی کتاب ”مٹتا ہوا لاہور “ خرید لائے ہیں اور ان دنوں یہ کتاب ہمارے زیر مطالعہ ہے۔ اس میں لاہور کی بزرگ شخصیات کرنل (ر) سلیم ملک،حافظ معراج دین اور مستری محمد شریف کے انٹرویوز قدیم لاہور سے تعارف کیلئے پڑھنا ضروری بتائے گئے ہیں ۔منیر احمد منیر اس سے پہلے بزرگ پریس فوٹو گرافر ایف ای چوہدری کے طویل انٹرویو پر مشتمل کتاب ”اب وہ لاہور کہاں ؟“ بھی شائع کرچکے ہیں ۔اس کتاب پر ہم نے ایک عشرہ قبل روزنامہ خبریں میں ہی کالم لکھا تھا، ایف ای چوہدری طویل عمر پا کر چند برس پہلے آنجہانی ہو چکے ہیں لیکن منیر احمد منیر کو طویل انٹرویو دے کر کتاب کی صورت میں لاہور کی صحافتی وثقافتی تاریخ محفوظ کر گئے ہیں۔بہرحال ان دنوں ہم سونے سے پہلے اور نیند سے بیدار ہونے کے بعد منیر احمد منیر کی کی کتاب ”مٹتا ہوا لاہور“ کا طویل باتصویر” پیش لفظ“ قسطوں میں پڑھ رہے ہیں جو ختم ہونے میں ہی نہیں آرہا ۔یہ 115صفحات پر مشتمل پیش لفظ ہے جس کاگینز بک آف ورلڈ ریکارڈ میں اندراج ہونا چاہیے ۔
سفری بیگ میں ان دنوں ہم تسنیم کوثر کے افسانوں کا مجموعہ ”چبھن“ رکھتے ہیں۔ یہ کتاب طارق کامران نے مطالعہ کیلئے دی تھی اس کا انتساب تسنیم کوثر نے ”اپنی جنت“ کے نام کیا ہے اور ”توانا آواز ،تازہ لہجہ“ کے عنوان سے بشریٰ رحمان نے دیباچہ تحریر کیا ہے جس میں وہ تسنیم کوثر کو تلقین کرتی ہیں کہ مشق سخن کے ساتھ چکی کی مشقت جاری رکھیں جبکہ ڈاکٹر یونس جاوید نے کتاب پر اپنی رائے دیتے ہوئے تسنیم کوثر کو ”باریک بین“ لکھاری قرار دیا ہے۔ وہ لکھتے ہیں کہ تسنیم کوثر کے افسانوں کی ایک اعلیٰ خوبی اختصار ہے، یہ بڑے اور قدآور لکھاریوں کی پہچان ہے !“ کتاب میں 12افسانے شامل ہیں۔ ان کا افسانہ ”یادستارے “ پڑھ کر ہماری آنکھیں نم ہو گئی تھیں،جمیل یوسف نے تسنیم کوثر کے حوالے سے درست لکھا ہے کہ ان کا کوئی افسانہ ایسا نہیں جس کے پہلے دو تین فقرے پڑھنے کے بعد قاری اسے چھوڑ سکے، اسے پتا بھی نہیں چلتا کہ وہ کب اور کس طرح افسانے کی گرفت میں آگیا۔ پورا افسانہ پڑھے بغیر اسے رہائی نہیں ملتی بلکہ افسانہ ختم کرنے پر بھی کہاں رہائی ملتی ہے۔ قاری سوچتا ہی رہ جاتا ہے کہ یہ کیا ہوا؟ یہ کیوں ہوا؟“
تسنیم کوثر کے افسانوی مجموعے ”چبھن“ سے پہلے آفتاب جاوید کی کتاب ”گیان“ ہمارے سفری بیگ میںرکھی رہی تھی جس کا انتساب انہوں نے ان مبارک روحوں کے نام کیا ہے جو نعمتوں والی قطار میں سب سے پیچھے لیکن جان دینے والوں کی قطار میں سب سے آگے کھڑے ہوتے ہیں۔آفتاب جاویدحلقہ ارباب ذوق کے رکن ہیں اور حلقے میں عموماََ اپنے ”گیان“ ہی پیش کیا کرتے ہیں۔ یہ ان کی ذات سے مخصوص ہو کر رہ گئے ہیں جیسے غضنفر علی ندیم حلقے میں صرف”ترائیلے“ ہی سنایا کرتے تھے، آفتاب جاوید عام درویشوں کے برعکس خاکسار کے بجائے بڑے انا پرست انسان ہیں، ان کا ایک گیا ن ہے ۔۔۔۔۔
اس سے کہو
پہلی دستک پر دروازہ کھولے
دوسری دستک دینے میں
مجھے صدیاں بھی لگ سکتی ہیں
آفتاب جاوید کے گیان پڑھ کر روح سرشار ہو جاتی ہے ۔ان کے چند گیان دیکھئے”عشق اندھے کی لاٹھی جیسا ہے جو ہمیشہ عاشق سے ایک قدم آگے ہوتا ہے ،تیرا پتا کس سے پوچھوں جسے خبر ملتی ہے وہ دیوانہ ہو جاتا ہے ، گوتم کے بجائے اگر تم اپنی تلاش میں نکلے ہوتے تو آج تم بھی گوتم ہوتے ،یہ کم بخت دولت نہ ملے تو مجبور کردیتی ہے اور مل جائے تو مغرور کردیتی ہے ،لوگ کپڑے اترنے سے نہیں بولنے سے بے لباس ہوتے ہیں ،اس شہر کے لوگوں نے چہرے کے آگے بھیڑیں اور چہرے کے پیچھے بھیڑیئے باندھ رکھے ہیں،دروازہ کھول اس سے پہلے کہ میں اسے دیوار سمجھ کر لوٹ جاﺅں!“ آفتاب جاوید کے گیان بہت کچھ سوچنے اور سمجھنے پر مجبور کردیتے ہیں۔ وہ خود انہیں محبت،امن اور سچ کی طرف بڑھتے ہوئے قدم قرار دیتے ہیں ”گیان“ واقعی ایک ایسی کتاب ہے جو دیواریں نہیں دروازے بناتی ہے۔
(کالم نگارسیاسی اورادبی ایشوزپرلکھتے ہیں)
٭….٭….٭


سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں




دلچسپ و عجیب
کالم
آپ کی رائے
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved