تازہ تر ین

ہمارے بدلتے ہوئے سیاسی حالات

اعظم خاکوانی….اظہار خیال
پاکستان میں سیاسی آندھی عجب رُخ اختیار کرتی جارہی ہے۔ مرکز میں مسلم لیگ کی حکومت اپنی زندگی کے آخری دن پورے کررہی ہے جبکہ یہ قیاس آرائیاں بھی موجود ہیں کہ پاکستان میں ایک سیاسی خلاءمتوقع ہے کیونکہ صادق وامین کے طوفان نے ملک کی تمام سیاسی جماعتوں کے وجود پر ایک سوالیہ نشان آویزاں کردیا ہے۔ قوم حیران ہے کہ آئندہ کونسا ایسا سیاستدان ہوگا جو خود کو صادق وامین ثابت کرکے ملک کی حکمرانی کے لئے خود کو حق دار بنائے گا۔ پاکستان میں سیاسی جماعتوں کا وجود غیرسیاسی طاقتوں کا مرہونِ منت ہوتا ہے۔ یہ بات طے ہوگئی ہے ہمارے ملک میں سیاسی جماعتوں کا ڈھانچہ اس طرح تعمیر کیا گیا ہے کہ سیاست میں کوئی بھی قابل اور وطن پرست شخصیت اس سیاسی نظام کی وجہ سے نہ تو آگے آسکتی ہے اور نہ ہی ملک کو سنوارنے میں اپنا کردارادا کرسکتی ہے۔ شاید دُنیا میں پاکستان ہی وہ واحد ملک ہے جس میں سیاسی جماعتیں مخصوص خاندان یا شخصیت کے نام سے پہچانی جاتی ہیں اور جب وہ شخصیت یا خاندان نگاہوں سے اوجھل ہوتا ہے تو سیاسی جماعتوں پر بھی زوال آجاتا ہے۔ ہمیں اس بات پر غور کرنا ہوگا کہ ایسا کیوں ہوتا ہے؟ اگر آپ تاریخ برصغیر پر نگاہ ڈالیں تو ہمیں اشوکا اور چندرگپتا موریہ کے زمانے سے ہندوستان میں بادشاہت دکھائی دیتی ہے۔ اس خطے میں تلوار بدست حملہ آور بھی آئے وہ بھی یہاں بادشاہت کرتے رہے یہاں تک کہ انگریز حکمران بھی یہاں بادشاہ کی حیثیت سے موجود رہے۔ برصغیر میں مختلف چہروں کے ساتھ ہر دور میں بادشاہت ہی قائم رہی اور اس طرزِحکومت کا تسلسل یا عرصہ تقریباً 2ہزار سال ہے۔ پاکستان بننے کے بعد جو جمہوری دور آیا وہ عوام کے لئے نامانوس اور کسی قدر حیران کُن تھا۔ ہمارے ملک میں عوام نے جمہوریت کے بجائے نوکرشاہی کی طاقت کا سہارا لیا کیونکہ عوام کو نوکرشاہی کی طرزِحکومت میں بادشاہت جیسا رعب ودبدبہ دکھائی دیا لہٰذا پاکستانی ریاست کے سارے عرصہ حیات میں حقیقی حکمرانی نوکرشاہی کی رہی اور شاید یہی صورتحال کافی عرصہ مزید بھی چلے کیونکہ عوام بادشاہت پرست ہیں اور وہ ہر دور میں اپنا حکمران ایک بادشاہ ہی دیکھنا چاہتے ہیں۔ ہمارا سیاسی نظام اس قابل نہیں ہے کہ وہ کوئی بڑی سیاسی شخصیت پیدا کرسکے اس لئے یہاں ہمیشہ ایک سیاسی خلاءموجود رہا ہے اور پاکستان کی جمہوریت بیساکھیوں کے سہارے چلتی رہتی ہے جبکہ یہاں چند خاندان اور کچھ چہرے وقت اور حالات کے تقاضا کے ساتھ سیاسی جماعتیں تبدیل کرکے مسلسل عوام پر حکومت کرتے رہتے ہیں اور سیاست ایک قدامت پسند سوچ کے ساتھ ملک میں کوئی تبدیلی لائے بغیر خود زندہ رہتی ہے۔ آج ملک کی سیاسی جماعتیں ایک نئے محاذ کو سامنے رکھ کر اس کا سہارا لینا چاہتی ہیں۔ کچھ سیاسی جماعتیں اپنی ناکامی اور نااہلی چھپاتے ہوئے عوام کے سامنے یہ واویلا کررہی ہیں کہ ان کی حکومتوں کو ملک کے مخصوص ادارے ناکام بناتے ہیں اور حکومتوں کو یہ ادارے روایتی انداز میں کام نہیں کرنے دیتے اس لئے ضروری ہے کہ اداروں کو اس حد تک کمزور کردیا جائے کہ وہ جمہوری حکومتوں سے پنجہ آزمائی نہ کرسکیں جبکہ وہ نئی سیاسی جماعتیں جو نیا پاکستان بنانے کا دعویٰ کرتی ہیں یہ کہتی ہیں کہ سچ یہ ہے کہ روایتی سیاستدان جو ایک طویل عرصہ تک ملک کے حکمران چلے آئے ہیں انہوں نے بددیانتی کے سوا عوام کو کچھ نہیں دیا۔ حکمرانی کرنے والے سیاستدانوں اور سیاسی جماعتوں نے ریاست کے خزانوں سے کھربوں روپیہ چرایا ہے جس کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ غربت اور بے روزگاری میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے اور ملک مزید مقروض ہوا ہے۔ ملک کی اعلیٰ عدالتوں میں سیاستدانوں کی لوٹ کھسوٹ کے مقدمات موجود ہیں اور ٹھوس ثبوت بھی عدلیہ کے سامنے ہیں لیکن عدالتوں کی سست روی اور انصاف کرنے میں تاخیر کی روایت عوام کو بددِل کررہی ہے اور کرپٹ ملزم سیاستدانوں میں حوصلہ پیدا کررہی ہے۔ ہمارے ملک میں کرپشن اور سیاست باہم ملے ہوئے ہیں۔ اس وقت کوئی ایسی جماعت موجود نہیں ہے جس کا دامن کرپشن کے داغ دھبوں سے صاف ہو لیکن طرفہ تماشہ یہ ہے کہ وہی پرانے سیاستدان پھر 2018ءمیں عوام کے سامنے آئیں گے جو کرپٹ ہیں لیکن ان کا دعویٰ ہے کہ وہ کرپشن سے پاک معاشرے کی تعمیر کرنا چاہتے ہیں لیکن یہ کیسے ممکن ہے؟ گھوڑا گھاس چھوڑے گا تو کھائے گا کیا؟ ہم نے اپنی حکمت ِعملی سے اپنے تمام پڑوسیوں کو ناراض کررکھا ہے۔ اس غلط کارکردگی سے اس وقت دنیا بھر میں پاکستان کے دوستوں کی تعداد کم سے کم تر ہوتی جارہی ہے اور ہم تنہا ہورہے ہیں۔ اس وقت ہمارا معاشرہ ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے۔ نوجوان نسل کے سامنے کوئی درخشاں مستقبل موجود نہیں ہے جبکہ سماج میں شدت سے قدامت پسند اور جدت پسند قوتوں کا ٹکراو¿ موجود ہے۔ ہم ایک عرصہ سے پاکستان کو اسلامی ریاست بنانے کا پرچار کرتے چلے آرہے ہیں لیکن قومی رہنماﺅں کے پاس ایسا کوئی حل موجود نہیں ہے کہ ہم اسلام کو کس طرح ریاست میں عملی طور پر نافذ کرسکتے ہیں؟ اگر پاکستان ایک مذہبی ریاست ہی بنانا تھا تو ایسا آج تک کیوں نہ ہوسکا؟ اور آج ریاست میں مذہب کے نام پر مسائل کیوں بڑھتے جارہے ہیں؟ اب پاکستان کو تعلیم کی طرف توجہ دینے کی ضرورت ہے اور نوجوان نسل کو روزگار فراہم کرنا ہمارا سب سے بڑا مسئلہ ہے۔ پاکستان کو یہ تاثر مٹانا ہوگا کہ وہ کرایے کا جنگجو ہے اور دوسروں کی جنگیں لڑتا ہے۔ ہمیں خود کو بچانے کے لئے اپنے شمشیرزن کردار کو چھوڑ دینا چاہےے۔ آپ کے پاس وقت بہت کم ہے اور آپ کو یہ سوچنا ہے کہ اگر ہم مذہب کو سیاست سے الگ کردیں تو کیا ہم بہتر پاکستان بنالیں گے؟
(کالم نگارسیاسی ایشوزپرلکھتے ہیں)
٭….٭….٭


سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں




دلچسپ و عجیب
کالم
آپ کی رائے
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved