تازہ تر ین

جنرل درانی اوردی اسپائے کرانیکلز

عبدالودود قریشی

آئی ایس آئی کے سابق سربراہ جنرل اسد درانی اور بھارتی خفیہ ایجنسی را کے سابق سربراہ اے ایس دلت کی جانب سے ایک کتاب دی اسپائے کرانیکلز”را“”آئی ایس آئی اینڈ دی الوژن آف پیس“کے گذشتہ دنوں بھارت میں تقریب رونمائی کی گئی اس کتاب میں جنرل اسد درانی کے حوالے سے کارگل آپریشن،نیوی سیلز کے ہاتھوں اسامہ بن لادن کی ایبٹ آباد میں ہلاکت،بھارتی کرنل گلبوشن یادیو کی گرفتاری،جماعت الدعوة کے سربراہ پروفیسر حافظ محمد سعید ،برہان وانی اور کشمیری حریت رہنماﺅں کے معاملات پر بعض باتیں سامنے آئی ہیں جن کا آپس میں نہ کوئی ربط ہے اور نہ ہی حقیقت سے کوئی تعلق نظر آتا ہے جس پر جی ایچ کیو نے جنرل اسد درانی کو جی ایچ کیو میں 28مئی کو پیش ہوکر وضاحت مانگی گئی ہے۔ جنرل درانی کو آرمی جیک برانچ کے سامنے اپنا موقف پیش کرنا ہوگا فوجی ذرائع نے بتایا ہے کہ سابق جنرل درانی کے حوالے سے کتاب میں درج باتیں حقائق پر مبنی نہیں ہے بلکہ وہ حقائق کے برعکس ہیں چونکہ جنرل اسد درانی فوج کے ایک اعلیٰ آفیسر ہیں لہٰذا ان کی باتوں کو اسی طرح اہمیت دی جاتی ہے جیسے سپریم کورٹ کی جانب سے میاں نواز شریف کو سپریم کورٹ کی جانب سے جھوٹا اور خائن قرار دیئے جانے کے باوجود ان کی باتوں کو اہمیت دی جاتی ہے جنرل اسد درانی آئی ایس آئی کے چیف رہے ہیں وہ پیپلز پارٹی سے رابطے میں تھے انھیں جرمنی میں پاکستان کا سفیر لگا دیا گیا جبکہ آئی ایس آئی کا سربراہ ہونے کے بعد سفارت چھوٹی چیز ہے اور انھیں یہ عہدہ بھی قبول نہیں کرنا چاہیئے تھا مگر انھوں نے سفارت کا عہدہ قبول کیا اس دوران انھوں نے بھارت،اسرائیل،امریکہ اور دوسرے کئی ممالک کے سفارتکاروں سے بھی رابطے استوار کیئے مگر وہ پیپلز پارٹی کی حکومت کو بھی خوش کرنے پر ہمہ وقت مصروف رہے انھوں نے جرمنی سے ایک بیان حلفی اس وقت پیپلز پارٹی کے وزیر داخلہ نصیر اللہ بابر کو بھجوایا جس میں میاں نواز شریف،جاوید ہاشمی اور دیگر لوگوں کو سیاسی مقاصد کے لئے پیسوں کی ادائیگی شامل تھی بعد میں اسی بیان حلفی کو بنیاد بنا کر ایئر مارشل اصغر خان سپریم کورٹ چلے گئے سپریم کورٹ نے اس معاملے کی تحقیقات کا حکم جاری کیا اور اسد درانی نے ہائی کورٹ سے رجوع کیا کہ ایف آئی اے اس حوالے سے ان سے نہیں پوچھ سکتی اس معاملے میں جنرل اسلم بیگ نے بھی کہا تھا کہ ہاں ہم نے آئی جی آئی بنوائی ہمیں جب کوئی عدالت طلب کرے گی تو ہم اس میں جواب دیں گے مگر جب جواب دینے کا وقت آیا تو یہ حضرات بھاگ گئے جنرل اسد درانی کو مہم جوئی کا شوق ہے مگر وہ کسی جرات اور دلیری کا مظاہرہ کرنے سے قاصر ہیں وہ بعض کہانیاں بین الاقوامی فورم پر ابھرنے کے لئے گڑھتے ہیں مگر دشمن ممالک ان باتوں کو افشاکرنے کے لئے موقع اور وقت کا تعین خود کرتے ہیں۔جیسے مشاہد حسین سید کلدیپ نیئر کو ڈاکٹر قدیر کے گھر شادی کارڈ کے بہانے لے گئے اور پھر کلدیپ نیئر نے ڈاکٹر قدیر کا انٹرویو اس وقت شائع کیا جب امریکی کانگرس میں پاکستان کو امداد دی جانے والی تھی اب جبکہ جون میں پاکستان کو گرے لسٹ میں دھکیلنے کے لئے ہر چیز تیار ہے تو بھارتی ”را “کے سابق سربراہ دلت کی اس کتاب کو سامنے لایا گیا ہے جس کی باقاعدہ تقریب رونمائی کر دی گئی ہے جنرل اسد درانی نے ابھی تک اس کتاب کے مدرجات سے نہ انکار کیا ہے نہ اقرار کیا ہے مجھے یقین ہے کہ وہ ان مندرجات سے لاتعلقی کا اظہار بھی کر دینگے۔مگر اس معاملے میں سب سے اہم کردار افواج پاکستان کا ہے جس نے بروقت جنرل اسد درانی کو طلب کرکے وضاحت مانگی ہے اور اگر ان کے جواب سے فوج کی جیک برانچ مطمئن نہ ہوئی تو ان کا کورٹ مارشل کیا جاسکتا ہے۔فوج کے کئی افراد بعض اوقات نادانی میں یا اہمیت حاصل کرنے کے لئے ایسی چیزیں لکھ دیتے ہیں جس کا نقصان پاکستان یا پاکستان کے حامیوں کو ہوتا ہے بنگلہ دیش کے حوالے سے کرنل صدیق سالک اور دیگر لوگوں نے جو کتابیں لکھیں انہی کتابوں کے اقتباس اٹھا کر پاکستان کی حمایت کرنے والے بنگلہ دیشیوں کو جیلوں میں ڈالا گیا انھیں پھانسیاں دی گئیں اور اب بھی پاکستان کے حامی بنگلہ دیشی ایک عذاب میں مبتلا ہیں۔دنیا میں پندرہ،بیس اور پچیس سال بعد بعض راز افشا کیئے جاتے ہیں مگر اس کے تمام مضمرات کا جائزہ لیا جاتا ہے اور انھیں افشا کرنے کا مطلب اصلاح یا کسی پر اثر انداز ہونا ہوتا ہے یہ سارا کام ایک منصوبہ بندی اور طے شدہ ضابطے کے مطابق ہوتا ہے مگر ہمارے ہاں سیاستدان ہوں یا صحافی،علماءہوں یا جج،فوجی ہوں یا حساس ادارے کے ملازم خود بخود یہ طے کر لیتے ہیں کہ وہ اپنے علم میں لائی گئی بات کو کس انداز میں اور کب پیش کر دینگے۔حسین حقانی کا میمو ہو یا میاں نواز شریف کا انٹرویو،جنرل درانی کی کسی کتاب میں شمولیت ہویاامریکہ میں پناہ لینے والے حساس اداروں کے کچھ سابقہ ارکان ہوںخودنمائی اور اہمیت حاصل کرنے کی وہ مثالیں ہیں جس سے اداروں اور قوم میں تشویش پیدا ہوتی ہے جبکہ ان باتوں کا حقائق سے دور کا بھی واسطہ نہیں ہوتا مادر پدر آزادی کسی معاشرے میں بھی نہیں دی جاتی مگر ہمارے ہاں غیر ملکی طاقتوں کی ریشہ دوانیاں اس حد تک پھیل چکی ہیں کہ بعض افراد حلف اٹھا کر اپنے حلف کی پاسداری نہیں کرتے وہ اپنی ناک سے آگے دیکھنے کی صلاحیت بھی نہیں رکھتے۔ضرورت اس امر کی ہے کہ اس حوالے سے کوئی مستقل ادارہ بنا دیا جائے جہاں فوج،دفتر خارجہ،وزارت داخلہ یا کوئی سول یا فوجی شخص کوئی کتاب لکھے یا کسی کے ساتھ کتاب میں شریک ہو تو وہ فوج کے ادارے آئی ایس پی آر سے کلیئرنس کروا کر اس کی اشاعت کرے بصورت دیگر ایسے افراد کے خلاف سخت سے سخت کاروائی عمل میں لائی جانی چاہیئے۔
٭٭٭


سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں




دلچسپ و عجیب
کالم
آپ کی رائے
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved