تازہ تر ین

میرا دوست نوازشریف (9

ضیا شاہد
پرویزبشیرنوازشریف کے من پسند رپورٹر تھے اس لئے چوہدری پرویز الٰہی نے ڈپٹی ایڈیٹر (مجھے) اور انچارج رپورٹنگ سیکشن خوشنود علی خان کو بلایا تھا۔ خوشنود صاحب میرے ساتھ روزنامہ” پاکستان“ میں گئے پھر مجھ سے مل کر روزنامہ” خبریں“ نکالا اور برسوں تک ساتھ رہنے کے بعد الگ ہوئے اور آج کل وہ ماشاءاللہ اپنا اخبار ”صحافت“ نکالتے ہیں۔ وہ بہت تیز لکھنے والے رپورٹر شمار ہوتے تھے۔ چوہدری پرویز الٰہی جو گفتگو کر رہے تھے اسے خوشنود صاحب نے قلمبند کیا۔ آخری الفاظ یہ تھے کہ ”اس لوہار کے لئے تو ایک ایکسائز انسپکٹر ہی کافی ہے۔“ میں نے چوہدری پرویز الٰہی سے کہا یہ جملہ چھاپنا مشکل ہے جناب! نوازشریف صوبے کا وزیراعلیٰ ہے اورپھر میر شکیل الرحمن سے اس کی بڑی دوستی بھی چل رہی ہے۔ پچھلے دنوںاس کے ساتھ چھوٹے جہاز میں چولستان اور نہ جانے کہاں کہاں جا چکے ہیں۔ پرویز الٰہی جذباتی ہو گئے اور بولے میرا یہ جملہ صبح چھپنا چاہئے۔ مجھے لندن کا نمبر دو میں خود میر شکیل الرحمن سے بات کروں گا۔ بہرحال ہم واپس دفتر آ گئے۔ خبر بن گئی تو شہباز شریف صاحب کے متعدد فون آئے۔ ہماری جان مشکل میں تھی۔ میں نے لندن شکیل الرحمن صاحب سے بھی بات کی۔ خوشنود علی صاحب نے بھی اپنا فرض ادا کیا۔ مجھے کہا گیا کہ فائنل احکامات کا انتظار کرو۔ پھر اسلام آباد سے چوہدری شجاعت کا فون آیا۔ انہوں نے کہا میری ذمہ داری ہے شکیل صاحب سے میں خود بات کروں گا۔ پرویز الٰہی نے جو جملہ کہا ہے اسے ضرور چھاپو۔ رات دس گیارہ بجے تک نوازشریف کی طرف سے شہباز صاحب کے فون آتے رہے۔ ہم اپنی مجبوریوں کے پیش نظر مسلسل کہتے رہے کہ جناب شکیل صاحب سے بات کر لیں وہ جس طرح کہیں گے ہم ان کا حکم ماننے کے پابند ہیں۔ رات گئے فائنل فیصلہ شجاعت صاحب کے حق میں ہوا اور اگلے روز کی خبر میں یہ جملہ شائع ہو گیا اور ساتھ ہی یہ دھمکی بھی کہ میں روزانہ ایک پریس کانفرنس کروں گا اور سات دن میں نواز شریف حکومت ختم ہو جائے گی۔
دوسرے روز پنجاب میں سیاسی طوفان آ گیا اور پنجاب اسمبلی میں صف آرائی کا آغاز ہوا ظہور الٰہی روڈ پر چوہدریوں کے وسیع و عریض ڈرائنگ روم باغیوں کی پناہ گاہ بنے۔ ایم این اے صاحبان بھی اس پولرائزیشن میں شامل ہوگئے۔ چوہدریوں کے بعد دوسرا ڈیرا چند گز دور اصغر علی گھرکی کی کوٹھی بنا۔ خواجہ سعد رفیق کے والد خواجہ رفیق بہت مخلص اور دیانتدار سیاسی کارکن تھے جنہوں نے عمر بھر بھٹو اور پیپلزپارٹی کے خلاف جدوجہد کی اور مصطفی کھر کے دور میں انہیں اسمبلی ہال کے عقب میں اس وقت گولی مار دی گئی جب وہ اپنی چھوٹی سی پارٹی کے ہمراہ اصغر خان کی تحریک استقلال کے ساتھ مشترکہ جلسوں کی قیادت کے آخر میں ہم لوگوں سے رخصت ہو کر گھر کی طرف روانہ ہوئے تھے۔ سعد رفیق اور سلمان رفیق کی والدہ ایک شریف گھریلو خاتون تھیں جنہیں بعد میں سیاست میں آنا پڑا۔ نوازشریف کے خلاف پہلی سیاسی بغاوت میں فرحت خواجہ رفیق یعنی سعد رفیق اور سلمان رفیق کی والدہ بھی نوازشریف کے باغیوں میں سرفہرست تھیں جس کی وجہ غالباً شوہر کی وفات کے بعد چوہدری ظہورالٰہی کی طرف سے بڑے بھائی کی طرح ان کی شفقت اور بچوں کی دیکھ بھال اور راہنمائی بھی شامل تھی۔ سعد رفیق بڑے تھے انہیں بچپن ہی سے پتا چل گیا ہو گا کہ انسان دولتمند نہ ہو تو کتنی مشکلات پیش آتی ہیں چنانچہ جب انہیں اقتدار ملا دیکھتے ہی دیکھتے میرے دوست خواجہ رفیق شہید کے بیٹے نے ساری کسر یں نکال دیں اب وہ ماشاءاللہ ارب پتی ہے۔
اگلے دن چوہدری پرویز الٰہی نے پھر پریس کانفرنس کی تاہم معلوم ہوتا ہے کہ پہلے دن لوہار اور ایکسائز انسپکٹر کے سخت الفاظ استعمال نہیں کئے شاید نواز شریف اور اس کے ساتھیوں کی طرف سے جنرل ضیاءالحق تک شکایات پہنچ گئی تھیں۔ پیرپگاڑا یعنی سید مردان علی شاہ مرحوم نے بیان دیا کہ نوازشریف کی بوری میں سوراخ ہو چکا ہے اب دانے ایک ایک کرکے گرتے جائیں گے۔ یہ ”مارکٹائی“ کئی روز جاری رہی اور لندن اسلام آباد اور لاہور کے درمیان ٹیلی فون کا سلسلہ چلتا رہا۔ اس داستان کی تفصیل مجھے معلوم ہے لیکن میرا خیال ہے کہ یہ کوئی ایسا اہم واقعہ نہیں اس لئے خلاصہ بیان کرتا ہوں۔ جسٹس سیدنسیم حسن شاہ معروف جج تھے۔ ان کی بیٹی کی شادی تھی۔ لاہور میں ان کی کوٹھی کے صحن میں تمبو قناتیں لگی تھیں۔ جنرل ضیاءالحق نے کسی سے کہا ان رپورٹروں کو بلاﺅ جنہوں نے ”جنگ“ میں خبر دی تھی۔ ہم جس میز کے گرد بیٹھے تھے دو تین سرکاری افسر بھاگتے ہوئے آئے اور مجھے ساتھ لے گئے۔ جہاں تک مجھے یاد پڑتا ہے جنرل ضیاءالحق کے پاس نواز شریف بھی موجود تھا اور پرویز الٰہی بھی۔ تاہم مجھے غلط فہمی بھی ہے کیونکہ بہت عرصہ گزر چکا ہے۔
جنرل ضیاءالحق نے براہ راست مجھ سے پوچھا (اتفاق سے وہ مجھے بخوبی پہچانتے تھے) ضیا صاحب! سچ بتائیں یہ ایکسائز انسپکٹر والی بات، پرویز الٰہی کاکہنا ہے کہ اخبار نے اپنی طرف سے یہ جملہ ڈال دیا ہے۔ میں نے فوراً جواب دیا کہ پرویز صاحب نے نہ صرف یہ جملہ کہا تھا بلکہ اصرار کیا تھا کہ صبح یہ جملہ چھپنا چاہئے اس سلسلے میں چوہدری شجاعت صاحب کا اسلام آباد سے مجھے فون بھی آیا تھا۔ میں نے کہا تھا جناب میر شکیل الرحمن صاحب سے لندن بات کر لیں۔ جنرل ضیا بولے دوسرے اخبار والوں کو بھی بلائیں، آٹھ دس لوگ اور آ گئے تو جنرل ضیا صاحب نے کہا صبح سارے اخبارات میں میرا یہ جملہ چھپنا چاہئے کہ ”نوازشریف کا کِلّہ مضبوط ہے:ضیاءالحق“ بہرحال پرویزالٰہی سے بعد ازاں میں نے احتجاج بھی کیا تھا کہ آپ نے مجھے مشکل میں ڈال دیا اور آپ اپنی بات سے اصرار کرنے کے باوجود بعد میں جنرل صاحب کے سامنے کیوں بدل گئے۔ بہرحال جنرل ضیا کی مداخلت سے بازی ایک بار پھر نواز شریف نے جیت لی۔ جنوبی پنجاب سے مخدوم الطاف جو بعد میں وزیرخزانہ بنے بھی اس بغاوت میں نواز شریف کے خلاف پیش پیش تھے۔ جنرل ضیا جب تک زندہ رہے ان کی پوری حمائت نوازشریف کے ساتھ رہی۔ انہوں نے یہاں تک کہا کہ نواز شریف میرا سیاسی وارث ہے ایک بار پھر یہاں تک کہا کہ ”میری دُعا ہے کہ میری عمر اسے لگ جائے“۔
نوازشریف کی وزارت اعلیٰ کے زمانے میں یہ رواج بھی شروع ہوا کہ اسمبلیوں میں گنتی سے پہلے اپنے بندے مخالفوں کے پریشر سے بچانے کے لئے لاہور سے باہر کسی جگہ بھیج دیئے جائیں۔ مختلف وقتوں میں یہ پریکٹس جاری رہی نوازشریف نے چھانگا مانگا اور بعد ازاں مری میں خاص طور پر مشکوک ارکان اسمبلی کو جمع کیا۔ بی بی بینظیر نے سوات کا انتخاب کیا۔ طرفین کا مقصد یہ تھا کہ جو رکن کمزور ہو اسے مخالف سفارش رشوت یا برادری کی بنیاد پر واپس نہ لے جائیں بعد ازاں بینظیر کے خلاف تحریک عدم اعتماد کے دوران پہلے حامی ارکان اسمبلی کو میریٹ ہوٹل اسلام آباد میں رکھا گیا اور انہیںخوب مزے کروائے گئے آخری دو روزمیں تو مزید احتیاط کے لئے انہیں مری پہنچا دیا گیا ان دنوں چوہدری پرویز الٰہی نے مجھے بتایا تھا کہ صرف میریٹ کے اخراجات پونے چار کروڑ روپے تھے۔ یہ ہماری تاریخ کا بدترین دور تھا۔ پھر اس کے بعد تو بلدیہ کے الیکشن تک میں بھی یہی رسم دہرائی گئی۔ اس ”اعزازی قید“ میں طرفین ارکان اسمبلی کی خوب خدمت کرتے۔بعض اوقات انہیں رجھانے کے لئے ناچ گانے بھی ہوتے۔ یوں بینظیر نوازشریف محاذ آرائی سے ارکان اسمبلی نے خوب مال کمایااورموجیں اڑائیں۔
بہت سے مزید دلدوز واقعات بھی پیش آئے۔ ایک دن سیون کلب روڈ یعنی وزیراعلیٰ پنجاب نوازشریف کے دفتر میں برآمدے سے نکل کر میں عقبی صحن کی طرف جا رہا تھا کہ دائیں ہاتھ ایک دروازہ جسے باہر سے کنڈی لگی تھی اندر سے کوئی زور زور سے کھٹکھٹا رہا تھا۔ میں سمجھا کوئی اتفاقاً اندر رہ گیا ہے۔ میں نے کنڈی کھول دی تو اندر سے اقلیت کی سیٹ پر منتخب ہونے والا بزعم خود ایک قادیانی نکلا شاید اس کا نام بشیر تھا۔ شور سن کر وزیراعلیٰ کے پی اے کے پاس دو چار لوگ جمع ہو گئے اور کسی نے مجھے منع کیا کہ آپ اس پھڈے میں نہ پڑیں۔ میں نے کہا میں کسی پھڈے میں نہیں پڑتا بلکہ یہ شخص اندر سے دروازہ کھٹکھٹا رہا تھا۔ کسی اہلکار نے مجھے سمجھانے کے لئے کہا کہ یہ بڑا بے ایمان ہے۔ نواز شریف سے پلاٹ بھی لے چکا ہے اور نوکریاں بھی لیکن بھاگ کر بینظیر کے کیمپ میں چلا گیا ہے۔ اور وہاں سے بھی نوکریاں اور نقد پیسہ لے چکا ہے۔ شہباز صاحب نے کہا تھا اسے تلاش کرو اور ہم بڑی مشکل سے رات گئے اسے اٹھا کر لائے ہیں۔ پھر انہوں نے اس رکن اسمبلی کو کمرے میں دھکیل دیا اور باہر سے کنڈی لگا دی اور مجھے کہا ضیا صاحب! چل کر ڈرائینگ روم میں بیٹھیں اوراس معاملے میں دخل نہ دیں۔
(جاری ہے)


سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں




دلچسپ و عجیب
کالم
آپ کی رائے
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved