تازہ تر ین

نواز شریف کو جیل ہو گی یا جلا وطنی ، خبر آ گئی

اسلام آباد (خصوصی رپورٹ) احتساب عدالت میں نواز شریف کا مقدمہ آخری مرحلے میں داخل ہوگیا ہے، سبکدوش وزیراعظم اور پاکستان مسلم لیگ نواز کے حیات قائد نوازشریف نے اپنے خلاف زیرسماعت متنازع مقدمہ میں مخالفانہ اقدامات کی وجہ سے جس بے بسی کا اظہار کیا ہے اس سے یہ نتیجہ اخذ کیا جاسکتا ہے کہ وہ عدالتی کارروائی کا بائیکاٹ کرنے کے لئے مجبور کئے جارہے ہیں تاکہ فاضل عدالت اپنی مرضی کا کوئی حکم صادر کر سکے۔ نوازشریف نے اپنے حریفوں کی جائز و ناجائز تنقید اور بے بنیاد سنگین الزامات کو بوچھاڑ کے باوجود تیسری مرتبہ حکومت سنبھالنے کے بعد صبروضبط کا دامن نہیں چھوڑا انہوں نے وزارت عظمی سنبھالنے کے بعد کسی ایرے غیرے کی گفتگو کو خاطر میں لائے بغیر اپنی تمام تر توجہ پاکستان کی ترقی اور اس کے عوام کی بھلائی پر مرتکز رکھی اورکسی بھی مرحلے پر ہلکے پن کا مظاہرہ نہیں کیا۔ ان کے خلاف الزامات دھرنے والوں میں ایسے لوگ بکثرت موجود تھے جو نجی کردار کے لئے کامل شرمندگی ہیں تاہم نواز شریف نے کوئی اوچھا پن ظاہر نہیں کیا۔ انہوں نے دھرنے سے لیکر آج احتساب عدالت میں معاندانہ طرز عمل کا سامنا کرنے کے باوجود کوئی غیر معیاری اور بازاری جملہ اپنی نوک زبان پرنہیں آنے دیا،اب احتساب عدالت میں ان کا مقدمہ آخری مرحلے میں داخل ہوگیا ہے تو ان کے لئے مشکلات میں مزید اضافہ کردیاگیا ہے وہ سینہ تان کر اس اور مقابل عدالت کا سامناکرتے آئے ہیں۔ انہوں نے احتساب عدالت میں آٹھ ماہ سے بھی کم مدت میں ایک سو کے لگ بھگ پیشیاں بھگتی ہیں اور کسی مرحلے پر مقدمے کی سماعت میں تاخیر کی درخواست نہیں کی اور کبھی بلاوجہ غیرحاضری نہیں کی اب ان کے وکیل معروف قانون دان خواجہ حارث نے پیر کو عدالت میں مقدمے کی پیروی سے دستبرداری کےلئے استدعا کردی ہے وہ اور ان کے رفقا نے بھی اسکی تائید کی ہے مقدمے میں ان کی صاحبزادی مریم نواز کےوکیل نے بھی پیروی سے الگ ہونے کا عندیہ دے دیا ہے یہ اس احتجاج کا شاخسانہ ہے جس میں انہوں نے مقدمہ انصاف روی سے نہ چلنے کی شکایت کی تھی۔ عدالت عظمی نے اچانک حکم جاری کردیا ہے کہ اس مقدمے کو خواہ رات دن سنا جائے اتوار اور ہفتے کی راتوں کےلئے مقدمے کی سماعت جاری رکھے، دن بھر اور رات گئے تک سماعت کرنے کے بارے میں نواز شریف کا کہنا ہے کہ کوئی بھی وکیل موجودہ حالات میں مقابلے کےلئے تیار نہیں، وہ کہہ رہے تھے کہ بنیادی حقوق سلب کئے جانا انصاف کا مذاق اڑانے کے مترادف ہے۔ عدالتوں کو تعطیلات کے دوران سماعت جاری رکھنا قواعد کی سراسر خلاف ورزی ہے اور اس سے انصاف شکنی کا پہلو بھی عیاں ہوتا ہے۔ نوازشریف نے بڑی دلسوزی سے کہاکہ کڑی شرائط میں کوئی بھی وکیل مقدمہ لڑنے کےلئے آمادہ نہیں اور ایسا ماحول بنا دیاگیا ہے کہ میں وکیل سے بھی محروم ہوگیا ہوں۔ ریفرنس میں تاخیر کی تمام تر ذمہ داری استغاثہ پر عائد ہوتی ہے۔ انتخابات سے عین پہلے فیصلہ کرنے کے لئے کہہ دیاگیا ہے حق دفاع سے محروم کرکے کٹہرے میں کھڑا کردیاگیا ہے انہوں نے یاد دلایا ہے کہ دو مرتبہ ملک کا آئین توڑنے والے کی بلائیں لی جارہی ہبں۔ نوازشریف نے قدرے جذباتی پیرائے میں کہا کہ اگر میرے بارے میں فیصلہ کرنا ضروری ہے یا مجبوری تو جو بھی ہے صادر کر دیجئے۔ دوسری جانب آئین توڑ کر غداری کے مرتکب ہونے والے سابق فوجی حکمران پر عنایت خسروانہ کا سلسلہ دراز ہوتا چلا جارہا ہے اب انہیں شناختی کارڈ اورپاسپورٹ فوری طورپر جاری کرنے کا حکم دے دیا گیا ہے۔ دو دن میں آئین کی دفعہ چھ سنگین غداری کے مقدمے کی سماعت کےلئے ٹربیونل بنانے کا حکم جاری ہوگیا ہے اور وطن واپس آنے پر انہیں گرفتار نہ کرنے کا حکم بھی جاری کر دیا گیا ہے تا آنکہ وہ عدالت میں پیش ہوجائیں۔ عدالت عظمی انفرادی نوعیت کے فیصلے دھڑا دھڑ کررہی ہے اس سلسلے میں وہ قواعد و ضوابط کی سختی سے بھی صرف نظر کررہی ہے۔ قانون دان حلقوں کو توقع ہے کہ اب اعلی ترین عدالت نچلی سطح کی عدالتوں میں انصاف کو یقینی بنانے اور ان کے کام میں تیزی لانے کےلئے تدابیر اختیار کرنے کو اپنی ترجیح مقرر کردے گی۔اب جبکہ ملک بھر میں کاغذات نامزدگی دائر کرنے کا عمل مکمل ہوگیا ہے اورمقابلہ آرائی کےلئے ماحول گرم ہوتا جارہا ہے اور بڑے بڑے سیاسی پہلوان ایک دوسرے کے ساتھ پنجہ آزمائی کریں گے بعض سیاسی لال بجھکڑ ہر انتخاب میں حکومت سازی کا دعوی کرتے آئے ہیں وہ اپنے تخمینوں میں خود کو ایک سو سے کم نشستیں دینے کےلئے تیار نہیں ہوتے لیکن ایک کے سوا ہرموقع پر انہیں ملنے والی نشستوں کی تعداد مایوس کن رہی اور وہ روتے گاتے سڑکوں پر آجاتے ہیں۔ ان کی خوش فہمیاں زمین سے اٹھ کر قدرے فضا میں معلق رہنےکا نتیجہ ہیں۔ یہ تو عیاں ہے کہ آئندہ عام انتخابات میں بڑے بڑے برج الٹ جائیں گے وہ جنہیں لازما کامیاب تصور کیا جاتا ہے اس مرتبہ بدترین شکست ان کی منتظر ہے کیونکہ عوام نے ان کے بے حیائی سے وفاداریاں تبدیل کرنے کے عمل کو حقارت کے ساتھ دیکھاہے وہ اپنے ہی لوگوں کی نظروں میں ہیچ ہوگئے ہیں۔پاکستان مسلم لیگ نون کے سابق وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان کا اونٹ بھی اب جلد ہی کسی کروٹ بیٹھنے والا ہے وہ اپنی پارٹی سے رفاقت برقرار رکھیں گے یہ اس تعلق کو تیاگ دیں گے اس کا سراغ ہفتہ رواں میں ہی مل جائے گا لیکن ابتلا میں رفقا کو خیرباد کہہ دینے والے اپنے لئے کلمہ خیر کی تلاش میں ہی رہتے ہیں ممکن ہے کہ چوہدری نثار کو کوئی بڑا منصب ہی مل جائے لیکن اس کے لئے جو قیمت ادا کی جارہی ہے وہ قابل فخر نہیں۔

 


سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں




دلچسپ و عجیب
کالم
آپ کی رائے
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved