تازہ تر ین

اے خدا میرے ابو سلامت رہیں….

غلام اکبر …. خاص مضمون
ہم کافی دیر سے اپنی بیانک بیٹریوں پر مطلوبہ فریکوئنسی سیٹ کررہے تھے مگر کامیابی نہیں حاصل ہورہی تھی۔ پھر ایکدم ہمارے کانوں سے سٹیٹ لائف کا گانا ٹکرایا۔
”اے خدا میرے ابو سلامت رہیں۔۔۔“
پہلے ہم سمجھے کہ آواز ٹی وی سیٹ سے آئی تھی مگر پھر ہم نے مریم بی بی کی آواز پہچان لی۔
”اے خدا میرے ابو سلامت رہیں۔۔۔“
وہ مسلسل گنگنارہی تھیں۔
اچانک میاں صاحب کی بھاری بھر کم آواز سنائی دی۔
”یہ کون ساگیت تمہارے منہ پر چڑھ گیا ہے آج۔۔۔؟ ہم خیر سے سلامت ہیں۔ اور سلامت رہنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔۔۔“
”ابا حضور یہی تو میں کہہ رہی ہوں کہ آپ سلامت رہیں۔۔۔ آپ ہیں تو میں بھی ہوں۔ ورنہ وہ جو فلموں میںاکثر ظالم سماج کا ذکر ہوتا رہتا ہے وہ سچ مچ موجود ہے۔“ مریم نے کہا۔ جواب میں میاں صاحب بولے۔
”مگر آج یہ منحوس گیت تمہارے منہ پر چڑھا کیسے ہے۔۔۔؟ اس سے تو لگتا ہے کہ ہماری سلامتی خطرے میں ہے۔“
”ابا حضور سچ بتاﺅں۔ آپ برُا نہ منایئے گا۔ کچھ روز پہلے تک میں اپنے آپ کو حسینہ واجد اور بے نظیر بھٹو کے روپ میں دیکھ رہی تھی۔ حسینہ واجد تک تو بات ٹھیک ہے۔ ظالموں نے شیخ مجیب کو مار ڈالا تو وہ ایک عظیم الشان جدوجہد کے نتیجے میں بنگلہ دیش کی وزیراعظم اور نجات دہندہ بن گئیں۔ مگر بے نظیر بھٹو والا معاملہ ٹھیک نہیں۔۔۔“
”تم منحوس باتیں مت کرو۔ ہم بالکل تیار نہیںمارے جانے کے لئے۔ تمہیںوزیراعظم بننے کی جلدی کیا ہے۔؟ ویسے بھی جس عظیم الشان جدوجہد کے نتیجے میں حسینہ واجد یہاں تک پہنچی ہے اس میں بھارتی حکومت کا بڑا عمل دخل تھا۔“
”ابا حضور آپ کے سامنے تو مودی انکل نے مجھے بیٹی کہہ کر پکارا تھا۔ مجھے اُن کا آنا بڑا اچھا لگا تھا۔۔۔“ مریم بولیں۔۔
”تم حسینہ واجد بننے کا خیال دل سے نکال دو۔ میں جیل میں دوچار سال گزارلوں گا مگر شیخ مجیب الرحمان کی طرح مارا جانا مجھے بالکل منظور نہیں۔“ میاں صاحب نے کہا۔۔۔
”ہمارے فوجیوں میں اتنا دم خم نہیں کہ خدانخواستہ آپ کی جان کو کوئی خطرہ ہو۔۔۔ مجھے تو ویسے ہی حسینہ واجد بننا اچھا لگتا ہے۔ بے نظیربھٹو میں بالکل نہیں بننا چاہتی۔۔۔“ مریم بولیں۔۔۔
”وہ کیوں بیٹی۔۔۔؟ بے نظیر بھٹو میں کیا خرابی تھی۔۔۔؟“ میاں صاحب نے کہا۔۔۔ جواب میں مریم بولیں۔۔۔
”ذرا سوچیں نہ۔۔۔ خدانخواستہ ماڈل ٹاﺅن میں جو مار دھاڑ ہوئی تھی اگر آپ اس کیس میں دھر لئے جائیں۔۔۔ جیسے بھٹو، احمد رضا قصوری کے ابا کے قتل کے کیس میں دھرلئے گئے تھے۔۔۔ اور نوبت۔۔۔ میرے منہ میں خاک۔۔۔ پھانسی تک جاپہنچے تو جانتے ہیںکیا ہوگا؟ میں بے نظیر بھٹو بن جاﺅں گی۔۔۔ یہاں تک تو ٹھیک ہے۔ مگر میں اکیلی بے نظیر نہیں بنوں گی، یہ جو میرا میاں ہے یہ زرداری بن جائے گا۔۔۔ اور یہ تو آپ جانتے ہیں کہ بے نظیر بچاری گڑھی خدابخش میں ابدی نیند سو ئیں ہیں اور زرداری بھٹو کا جانشین بنا بیٹھا ہے۔۔۔آپ سوچیں اگر آپ کی جانشینی صفدر کے پاس چلی جائے تو آپ کی روح کو کتنی تکلیف ہوگی۔۔۔!“
”لاحول والا۔۔۔ میری رو ح کو فی الحال بیچ میں مت لاﺅ۔۔۔ میں نوازشریف ہوں بھٹو نہیں۔۔۔ بھٹو کو تو پاﺅں پڑنا آتاہی نہیں تھا ورنہ زرداری کے بارے میں ہم کبھی سنتے بھی نہ۔۔۔ تم نے تو میرے جیتے جاگتے وجود کے سامنے اس گدھے کو لاکھڑا کیاکہ آج سے یہ آپ کا داماد ہے۔۔۔“ میاں صاحب بولے۔۔۔جواب میں مریم نے کہا۔۔۔”پرانی باتیں یاد کرکے اپنا اور میرا دل نہ دکھائیں۔ بھول چوک آدمی سے ہوتی رہتی ہے۔ آپ نے بھی تو۔۔۔ خیر۔۔۔ میں کہہ رہی تھی کہ مجھے صفدر پر ذرا بھی بھروسہ نہیں۔ اگر اس نے زرداری بننے کی ٹھان لی تو میرا کیا ہوگا۔۔۔“
”خدا نہ کرے بیٹی۔۔۔ تم نے تو مجھے ڈرا ہی دیاہے۔۔۔“میاں صاحب بولے۔
”اسی لئے تو آج یہ بول میرے منہ پر چڑھ گئے ہیں۔ اے خدا میرے ابو سلامت رہیں۔۔۔“ مریم بولیں۔۔۔ ”میرا سارا دبدبہ آپ کے دم سے ہے۔ تھینک یُو ابا حضور۔۔۔“
”تھینک یُو تو ٹھیک ہے مریم۔۔۔ مگر ایک مہنیہ ایک مہینے میں گزر جائے گا۔ اور دن بھی تیس ہی ہوں گئے۔۔۔ اکتیس نہیں۔۔۔ خواجہ حارث نے تو کہا تھا کہ وہ کیس انتخابات کے بعد تک کھینچ لے جائے گا۔“ میاں صاحب بولے۔
”ابا حضور۔۔۔ یہ جو ہمدردی کے ووٹوں والی بات ہے اس میں کوئی صداقت ہے؟“ مریم نے پوچھا۔
”یہ صرف دل کو خوش کرنے اور مورال کو اونچا رکھنے کی باتیں ہیں بیٹی۔۔۔ سزا ہوگئی تو جاتی عمرہ کی دیواریں دھڑام سے نیچے آگریں گی۔۔۔“ میاں بولے۔
”میں تو سوچ رہی تھی کہ آپ اندر گئے تو میں جوشیلی تقریریں کرکے لوگوں کا خون گرماﺅں گی۔۔۔ انہیں غیرت دلاﺅں گی۔۔۔ مریم نے کہا۔
”یہی کام میں بھی تو کرسکتا ہوں۔ تم اندر چلی جاﺅ اور میںباہر لوگوں کا خون گرماﺅں۔۔۔ اور ان کی غیرت جگاﺅں۔۔۔“
میاں صاحب نے بات مکمل ہی کی تھی کہ ہمارے بیانک رابطہ پر شائیں شائیں کا ایسا حملہ ہوا کہ ہمارے کان کھڑے ہوگئے۔ اگرچہ شائیں شائیں کا ہلکا سا شور اب بھی حائل تھا لیکن آواز سنائی دے رہی تھی اور الفاظ بھی سمجھ میں آرہے تھے۔
پہلی آواز مریم بی بی کی تھی جو ہمیں سنائی دی۔ ”ابا حضور کہیں فوج والے ہمارا نیٹ ورک توڑنے کا ارادہ تو نہیں کررہے؟ میری سوشل میڈیا ٹیم نے بڑی محنت کی ہے۔“
”اگر تمہارا اشارہ آصف غفور کی گفتگو کی طرف ہے تو انہیں زیادہ فکر اب منظور پشتین کی ہے۔ تمہاری ٹیم کی طرف دھیان کسی کا بھی نہیں جائے گا۔“ یہ میاںنوازشریف کی آواز تھی۔
”اباحضور۔۔۔ آپ تو زیادہ پڑھتے نہیں۔ دنیا بہت آگے جاچکی ہے۔ مجھے یقین ہے کہ آئی ایس آئی کے پاس بھی آئی ٹی کے حوالے سے جدید ترین سازو سامان ہوگا اور ہماری سوشل میڈیا پر جو سرگرمیاں ہیں ان سے منسلک لوگ پوری طرح آئی ایس آئی کے راڈار پر ہوں گے۔ پہلے میں فکر مند نہیں تھی کیوں کہ ہم حکومت میں بیٹھے تھے اور آئی بی تو بہرحال ہمارے کنٹرول میں تھی۔ اب مجھے پریشانی لاحق ہونے لگی ہے۔“
”اس کا حل یہ ہے بیٹی کہ تمہیں کچھ روز کے لئے اپنی ٹوٹینگ کی عادت کو قابو میں رکھنا ہوگا۔ یہ بھی ایک نشہ ہے، صدر ٹرمپ کو بھی چڑھا ہوا ہے اور تمہیں بھی۔“
”ابا حضور۔۔۔ کہیں سچ مچ 25جولائی کو انتخابات نہ ہوجائیں۔ ہم شور تو یہ مچا رہے ہیں کہ انتخابات ملتوی نہیں ہونے دیں گے۔لیکن انتخابات کا انعقاد ہمارے سارے دعوﺅں کا پول کھول دے گا۔“ مریم بی بی نے کہا۔
”گھبراﺅ نہیں ہمارے بیرونی دوست ہمیں بے یارو مدد گار نہیں چھوڑیں گے۔ تمہیں ابھی حسین حقانی کی صلاحیتوں کا اندازہ نہیں۔“ یہ نوازشریف کی آواز تھی۔
”ابا حضور۔۔۔ مجھے گزشتہ رات بڑا ڈراﺅنا خواب آیا۔۔۔آ۔۔۔ آپ خدانخواستہ جیل میں ہیں۔ میں باہر کیا کروں گی؟“
”مجھے اپنی فکر نہیں بیٹی۔ مجھے جیل میں ڈالنا ان کے لئے آسان نہیں ہوگا۔ مجھے تمہاری فکر ہے۔ تم نے جعلسازی کرتے وقت عقل سے کام کیوں نہ لیا۔؟“ میاں صاحب نے کہا۔
”ابا حضور۔۔۔ میں نے آپ کی ہدایات پر عمل کیا تھا۔ ہمارے تو خواب و خیال میں بھی نہیں تھا کہ نوبت یہاں تک آپہنچے گی۔“ مریم بی بی نے کہا۔
”ایسی منحوس باتیں نہ کریں تو اچھا ہے۔ میرا دل کہہ رہا ہے کہ میں پھروزیراعظم بنوں گا۔“ میاں صاحب بولے۔
”آپ تو اب بھی خود کو وزیراعظم ہی سمجھ رہے ہیں ابا حضور۔۔۔ آپ کی بات بات سے وزارت عظمیٰ ٹپکتی ہے۔ ویسے کبھی کبھی مجھے بھی لگتا ہے کہ میں ایک عظیم الشان جلسے سے خطاب کررہی ہوں اور فضا وزیراعظم مریم نواز زندہ باد کے نعروں سے گونج رہی ہے۔“
”اگر میری باری آگئی تو اس کے بعد تمہاری بھی آئے گی۔“میاں صاحب نے کہااور مریم بی بی بولیں۔
”آپ بھول رہے ہیں ابا حضورکہ آپ تاحیات نااہل قرار پاچکے ہیں۔ آپ کی باری اب خوابوں میں تو آسکتی ہے لیکن۔۔۔“ مریم بات مکمل نہ کرسکیں کیوں کہ میاں صاحب بول پڑے۔ ”میں دوتہائی اکثریت حاصل کرکے قانون بدل ڈالوں گا۔“
”کوئی فائدہ نہیں ابا حضور۔۔۔ ہم قانون بدلتے ہیں اور یہ جج صاحبان ہمارے لائے ہوئے قانون کو ایسی حقارت سے ٹھوکر مارتے ہیں کہ میری ساری امیدیں ملیا میٹ ہوجاتی ہیں۔“ مریم بولیں۔
”خدا کرے کہ ریحام خان کا کارتوس چل جائے۔“ میاں صاحب بولے۔
”وہ تو چل گیا ہے ابا حضور۔۔۔ ہمیں ہی وضاحتیں دینی پڑ رہی ہیں کہ خدا کی قسم ہمارا کوئی تعلق نہیں۔“
”مولانا فضل الرحمان سے معلوم کرنا چاہئے کہ رمضان میں خدا کی جھوٹی قسم کھائی جاسکتی ہے یا نہیں۔“ میاں صاحب نے کہا۔
”کوئی ضرورت نہیںابا حضور۔۔۔ یہ مولانا مجھے بڑا زہر لگتا ہے۔ ہمارے حق میں فتویٰ دے کرفوراً کوئی مطالبہ کردے گا۔ اس کا پیٹ بھرنا آسان نہیں۔“ مریم بولیں۔
”پھرکیا کیا جائے بیٹی۔؟ تمہارے مشوروں پر چل چل کر یہاں تک آپہنچے ہیں۔“ نوازشریف نے کہا۔
”آپ بھی مجھے ہی مورد الزام ٹھہرا رہے ہیں؟“ مریم کی آواز میں شکوہ تھا۔
”میرے ذہن میں ایک ترکیب آئی ہے۔ ثاقب نثار کے باورچی سے رابطہ قائم کیا جائے۔“ میاں صاحب نے کہا۔
”یہ کیا کہہ رہے ہیں۔؟ ہمیں 302سے ہر قیمت پر بچنا چاہئے۔“
”اوہو۔۔۔ تم غلط سمجھی ہو۔ ایسی بھی کوئی چیز ضرور ہوگی جس سے آدمی کا حافظہ غائب ہوجائے۔ کتنا مزہ آئے کہ میں سپریم کورٹ جاﺅں اور ثاقب نثار گیٹ پر آکر میرا استقبال کرے اورکہے کہ وزیراعظم صاحب آپ نے کیوں زحمت کی، میں خود حاضر ہوجاتا۔۔۔۔
ابھی اتنی ہی بات ہوئی تھی کہ شائیں شائیں کے شور نے ہمارا بیانک رابطہ توڑ دیا۔۔۔
(بشکریہ:روزنامہ الاخبار)
٭….٭….٭


سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں




دلچسپ و عجیب
کالم
آپ کی رائے
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved