تازہ تر ین

خدیجہ بیٹی سے ناانصافی کیوں؟

مریم ارشد….میری آواز
لاکھ دل چاہے کہ کچھ اور لکھا جائے کہیں Feminismکا ٹھپہ ہی نہ لگ جائے مگر کوئی نہ کوئی واقعہ ایسا آہی جاتا ہے کہ سب چھوڑ چھاڑ کر اس موضوع پر قلم چلانا پڑ ہی جاتا ہے ۔ویسے تو مجھے فخر ہے اپنے Feministہونے پر کیوں کہ میرے مذہب نے مرد اور عورت دونوں کو اپنے اپنے دائرہ عمل میں فوقیت اور برتری عطا کی ہے۔ ددنوں کو برابرحقوق دئیے ہیں۔ Feminismکا لفظ اس لیے استعمال کیا کہ پھر ایک لڑکی کے انصاف کے معاملے کو زہر آلود کیا گیا ۔ قرآن مجید میں سورئہ مائدہ کی آیت نمبر۸میں اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ”کسی قوم کی دشمنی کے باعث انصاف کو ہر گز نہ چھوڑو، عدل کر و، ےہی بات تقویٰ سے زیادہ نزدیک ہے اور اللہ سے ڈرتے رہو بیشک اللہ کو تمہارے تمام اعمال کی خبر ہے۔“
بات ہے خدیجہ صدیقی کے انصاف کی جسے پھر سے قتل کردیا گیا ۔ جج صاحب نے خدیجہ بیٹی کو اپنے چیمبر میں بلا کر کہا کہ بڑے بڑے کیسز میں صلح ہوجاتی ہے، آپ بھی صلح کر لیں۔خدیجہ صدیقی وہ پیاری بیٹی ہے جو آزاد ملک میں ایک آزاد گھر میں ایک آزاد روح کی طرح پیدا ہوئی ۔ خدیجہ بیٹی کو میں اس وقت سے جانتی ہوں جب وہ ننھے ننھے ہاتھوں سے اپنا لال رنگ کا بستہ اُٹھائے سکول جایا کرتی تھی۔ نازک سی، پیاری سی ،دھیمے دھیمے لہجے میں بات کرنے والی لڑکی کہ اس کی تربیت ہی ایک ایسی ماں کی گود میںہوئی جو نرم مزاج اور ہر دم مسکراتی رہتی ہے۔ خدیجہ بیٹی کی آنکھوں میں ننھے ننھے دیے ہر وقت چمکتے رہتے تھے۔ مسکرانے سے اس کے گالوں پر پڑتے ڈمپل کتنے بھلے معلوم ہوتے تھے۔ اس کی لکھائی کتنی اچھی تھی ۔ وہ بچپن ہی سے ایک ذہین بچی تھی۔ تہذیب و تمیز اس کے اندر کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی تھی ۔ خدیجہ اب بھی ایسی ہی ہے، ایک سلجھی ہوئی ، شائستہ اور زندگی سے محبت کرنے والی لڑکی ۔ بھلا خدیجہ ! ہمیں کب پتہ تھا کہ ایک شہزادی کی طرح زندگی گزارنے والی لڑکی جب نوجوانی کی حدود میں داخل ہوگی تو دن دیہاڑے اس کے ساتھ ےہ ظلم ہوجائے گا۔ آج پتہ چلا کہ ہم کوئی عظیم قوم نہیں بلکہ ایک چھوٹی قوم ہیں جو اپنی بیٹیوں کو انصاف تک نہیں دلا سکتے ۔ خدیجہ صدیقی اس ملک کی بیٹی اور وہ عام شہری ہے جسے ہمارا آئین ہر قسم کا تحفظ مہیا کرتا ہے۔ مگر ہوا کچھ یوں تھا کہ دوسال پہلے وہ اپنی چھوٹی6سالہ بہن کو Convent of Jesus & Maryسکول سے لینے گئی تو اس کے کلاس فیلو شاہ حسین نے جو شہر کے مشہور وکیل تنویر حسین ہاشمی کا بیٹا ہے، خدیجہ پر اس وقت جب وہ اپنی گاڑی میں بیٹھنے والی تھی قاتلانہ حملہ کیا اور اس کی نازک گردن پر چھری سے پے در پے 23وار کئے ۔ پولیس نے شاہ حسین کے خلاف اقدامِ قتل کا مقدمہ تھانہ سول لائنز میں درج کیا تھا اور دورانِ تفتیش ملزم سے چھری بھی برآمد کی تھی۔ مسلسل دو سال تک ےہ مقدمہ چلتا رہا ۔ خدیجہ بیٹی کے جسم پر لگے گھاﺅ کے نشانات ، تمام تر گواہیوں اور بیانات کے مدنظر خدیجہ نے ےہ کیس جیت لیا ۔ پورا لاہور خوشی سے سچائی کی جیت کو مناتا رہا۔ اس مقدمے کی پوری کاروائی کے دوران خدیجہ کو ڈرایا دھمکایا گیا مگر وہ بہادر لڑکی اپنے مو¿قف پر ڈٹی رہی۔ پہلے شاہ حسین کی سزا سات سال اور پھر کم کرتے ہوئے پانچ سال کر دی گئی۔ 4جون 2018ءکو ےہ خبر سامنے آئی کہ خدیجہ بیٹی پہ قاتلانہ حملہ کرنے والے مبینہ ملزم شاہ حسین نے سیشن کو رٹ میں سزایابی پہ اعتراض کرتے ہوئے پہلے سول کورٹ سے دو سال کی سزا کم کروائی اور پھر لاہور ہائی کورٹ سے بیٹے کو بے گناہ قرار دلواکر باعزت بری کروالیا۔ خبر سنتے ہی دل ٹکڑے ٹکڑے ہوگیا۔ ذہن میں سوالات اُٹھنے لگے کہ کیاےہ ضروری ہے کہ ہر دکھ کو آنسوﺅں سے ہی دھویا جائے؟کیا ےہ اہم ہے کہ ہم ہاتھوں میں بجھے ہوئے چراغ لے کر اپنی تحریروں کو پڑھیں ؟ کیا ایسا ہی ہوتا رہے گا کہ عورت کو ناخداﺅں سے ڈرایا جائے؟انصا ف کے لغوی معنی ہیں حقوق کا آئینی تحفظ، غلط کاریوں پر سزا اور غیر قانونی نظاموں کو کسی ملک کے نظم و نسق میں ناجائز قرار دینا ۔ کیا شاہ حسین کی رہائی قانونی تقاضوں کی تکمیل میں قانونی نظام کی ناکامی کا المیہ نہیں ۔ ہم نے دیکھا کہ شاہ حسین کے والدِ گرامی بیٹے کو بحفاظت بڑے کروفر کے ساتھ کورٹ سے باہر لیے جارہے تھے۔ افسوس! انصاف کے چیتھڑے اڑا دئیے گئے۔ ایک مرتبہ پھر ایک بیٹی جو انصاف کے لیے کھڑی ہوئی اسے روندنے کی کوشش کی گئی۔ نادان بیٹی خدیجہ! کیا تم نے فیض صاحب کا ےہ شعر نہیں پڑھ رکھا تھا :
ےونہی ہمیشہ الجھتی رہی ہے ظلم سے خلق
نہ ان کی رسم نئی ہے ، نہ اپنی ریت نئی
مگر تم گھبرانا نہیں !ہم تمہارے ساتھ ہیں ۔ کیا ہوا!اگر ناانصافی دھیرے دھیرے ہمارے ملک کی دیواروں کو چاٹ رہی ہے ۔ کیا ہوا!اگر ایوانِ ہوس میں عدل کے لیٹرے موجود ہیں۔ کیا ہوا! اگر سچائی کا منہ کالا ہورہا ہے۔ کیا ہوا! اگر انصاف اور ناانصافی کی حدیں آپس میں مل جاتی ہیں۔ ہم سب اس ناانصافی کو قبول کرنے سے انکار کرتے ہیں۔ خدیجہ بیٹی !ہمت نہ ہارناتم ان سب بیٹیوں کی امید ہو جو ظلم و ستم کا شکار ہوکر انصاف کے لیے لڑ نہیں سکتیں۔
مجھے معاشر ے کے اس تضاد پہ بھی سخت اعتراض ہے کہ ہم بیٹیوں کی تو بہت اعلیٰ تربیت کرتے ہیں مگر بیٹوں کو یکسر فراموش کر دیتے ہیں۔ ہاں !وہ بیٹے جنہوں نے کل گھروں کے حاکم بننا ہے ۔ انہیں ےہ بتانا بالکل ہی بھول جاتے ہیں کہ ان کی عزت بھی اتنی ہی قیمتی اور نازک ہے جتنی لڑکیوں کی ۔اب بھلا شاہ حسین باقی ماندہ زندگی میں اپنی عزت کی گواہی کیسے دے گا۔ ہم انہیں ےہ نہیں بتاتے کہ اگر بیٹیاں اپنے جائز حق کے لیے آواز اُٹھائیں توانہیں اپنی اقدار سے بغاوت کرنا کہتے ہیں۔ہمارے ملک میں پولیس اور عدالت کا نظام قطعی طور پر درستی مانگتا ہے۔ کیا ےوں نہیں لگتا کہ ہم ایک کم بخت سرکس کے اُجڈ مسخرے ہیں جو گاﺅں گاﺅں بس تماشے لگاتے ہیں اور لوگ وقتی ناٹک پر تالیاں بجاتے ہیں۔ خدیجہ بیٹی کے ساتھ بھی ےہی ناٹک ہوا۔ انصا ف پالینے کے بعد اس کی دھجیاں اُڑا دیں، ےہ ثابت ہوگیا کہ اثرو رسوخ اور اخلاقی بگاڑ ہی حتمی سچ ہے ۔ ناانصافی اور جھوٹ اس پانی کی مانند ہے جو ایک جگہ پر کھڑا رہے تو کھارا ہوجاتا ہے۔ اس میں سڑن اور بدبو پیدا ہوجاتی ہے۔ کچھ ایسی ہی بدبو آرہی ہے خدیجہ صدیقی کے اس کیس میں بھی جو روح تک میں سرایت کر گئی ہے ۔ لیکن اب اچھے دن آنے ہی والے ہیں ، اب انصاف سراب نہیں رہے گا۔ ےہ قوم اب چاہتی ہے کہ انصا ف کا بول بالا ہو ، خلقِ خدا سر اُٹھا کے جی سکے۔ شیر اور بکری ایک ہی گھاٹ سے پانی پی سکیں۔ خدیجہ کے ساتھ ساتھ اس وطنِ عزیز کی سب بیٹیوں کے ہاتھوں میں انصا ف کی شمیں روشن ہوں جو ان کی زندگیوں سے ظلمتیں مٹا دیں۔ ہمیں ےہ بھولنا نہیں چاہیے کہ خدیجہ بیٹی کے جسم پہ لگے نشان اس وقت تک سکون نہیں لینے دیں گے جب تک اسے انصاف نہ مل جائے۔ کسی بے گناہ اور معصوم سے انصاف کا پیدائشی حق چھیننا ایک ایسی غلاظت ہے جو کسی بھی طرح صاف نہیں ہوگی۔ عدالت اگر خدیجہ بیٹی کو انصاف نہ دلا پائی تو اس کی درد بھری نگاہیں ہر موسمِ بہار میں منصفوں کی روح پر کچوکے لگاتی رہیں گی۔
(کالم نگارقومی وسماجی ایشوزپرلکھتی ہیں)
٭….٭….٭


سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں




دلچسپ و عجیب
کالم
آپ کی رائے
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved