تازہ تر ین

فلاحی ادارے غریب کی امید

محمد فیصل سلہریا….زبان زد عام
وثوق سے تو نہیں کہا جا سکتا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کے تین اساسی نعروں میں سے ایک ”طاقت کا سرچشمہ عوام“ اسلام سے اخذ کیا گیا تھا کیوں بانی جماعت اور اسلامی جمہوریہ پاکستان کے پہلے منتخب وزیراعظم بظاہر سوشلزم سے متاثر تھے۔ لیکن شبہ ضرور کیا جا سکتا ہے جس طرح ہندوستان کے پہلے منتخب وزیر اعظم پنڈت جواہر لعل نہرو نے اپنی سوانح عمری میں گاندھی جی کی سیاست پر اسلام کے گہرے مطالعے کے اثرات کی طرف بڑا غیر محسوس سا شبہ ظاہر کیا تھا اور ان کی سیاست میں روحانی عنصر کی شمولیت کو اسی مطالعے کا نتیجہ قرار دیا تھا۔ تاہم یہ وثوق سے کہا جا سکتا ہے کہ پیپلز پارٹی کا مذکورہ نعرہ آفاقی اصولوں کے تحت ایک اٹل حقیقت ہے اور اسلام نے اس کی صداقت پر مہر ثبت کر دی۔ گویا یہ اصول نور علی نور ہو گیا۔ اس لیے گاندھی اور بھٹو دونوں اطراف کی سیاسی دنیاﺅں کے رائج الوقت سکے ہوں تو یہ اتفاق نہیں۔۔۔دونوں جانب کی روحانی دنیا میں لہرانے والا جھنڈا خواجہ غریب نوازؒ کا ہو تو یہ حسن اتفاق بھی نہیں۔ یہ شاید اتفاق ہے کہ دنیا بھر میں ملکی خزانوں پر ڈالے جانے والے حکومتی ڈاکے بھی غریب عوام کے نام پر ہوتے ہیں۔ لہذا یہ طے ہے کہ دنیا پر غالب آنے والی مطلوبہ طاقت اللہ نے غریبوں میں ہی پوشیدہ رکھی ہوئی ہے۔عوام ہی طاقت کا اصل ڈپو ہیں کیوں کہ اخلاص کا وٹامن یہیں پایا جاتا ہے۔
تاریخ بتاتی ہے کہ نبوت محمدی سے تقریباً بیس برس قبل نبی کریم کے چچا زبیر بن عبدالمطلب کی تحریک پر ایک انجمن کی بنیاد رکھی گئی جس کا مقصد غریب اور مظلوم کی مدد کرنا تھا۔ قریش کے معززین نے حلف اٹھا کر اقرار کیا کہ وہ حدود مکہ میں کسی پر ظلم نہ ہونے دیں گے اور مظلوم کو متحدہ امداد دے کر ظالم سے اس کا حق دلائیں گے۔ ابن ہشام کی روایت کے مطابق آنحضرت بھی حلف لینے والوں میں شریک تھے اور یہ فرمان بھی نقل کیا ہے کہ ” اگر اب زمانہ اسلام میں بھی مجھے کوئی اس (معاہدے) کی دہائی دے کر پکارے تو میں اس کی مدد کو دوڑوں گا“۔ ہجرت سے قبل آپ اس انجمن جسے جدید الفاظ میں ویلفیئر سوسائٹی کہا جاتا ہے ، کی سرگرمیوں میں موثر عملی حصہ لیتے نظر آتے ہیں۔حلف الفضول کے نام سے جانے جانے والے اس حلف نامہ کے الفاظ یہ تھے:
”خدا کی قسم ہم سب مل کر ایک ہاتھ بن جائیں گے اور وہ مظلوم کے ساتھ رہ کر اس وقت تک ظالم کے خلاف اٹھا ہوا رہے گا تا وقتیکہ وہ (ظالم) اس (مظلوم) کو حق ادا نہ کر دے اور یہ اس وقت تک جب تک سمندر گھونگوں کو بھگوتا رہے اور حرا اور ثبیر پہاڑ اپنی جگہ قائم رہیں اور ہماری معیشت میں مساوات رہے گی“۔ایک یمنی تاجر کو مکے میں بیچے ہوئے اپنے ادھار مال کی قیمت وصول نہ ہوئی تو اس نے اپنے جلے ہوئے دل کے ساتھ ہجویہ شعر کہے۔ جلے ہوئے دل کی آواز نے زبیر بن عبدالمطلب کے دل کو اپنی حدت سے موم کر دیا تو مظلوم کی مدد کے لیے بننے والی رضاکاروں کی اس جماعت کا دائرہ عمل غریب و نادار کی مالی مدد تک پھیل گیا۔
دور حاضر کی فلاحی انجمنوں کا دائرہ کار غریب کی مدد تک محدود ہے کیوں کہ مظلوم تقدیر کے ہیر پھیر کے ساتھ ساتھ چونکہ قانونی موشگافیوں
میں بھی الجھ جاتا ہے ،اس لیے اس کی مدد حکومتی صوابدید پر منحصر ہے۔ اب یہ علیحدہ بات ہے کہ مظلوم کی آہ حکومتی زلف کو سر کرنے کی عمر نہ رکھتی ہو۔ مگر اس کے آنسو پونچھنے کے لیے پاکستان میں نجی سطح پر فلاحی انجمنیں موجود ہیں جن کا وجود ہمارے لیے برکت کا موجب ہے۔ عبدالستار ایدھی آنسو پونچھنے والوں کا نہ صرف سرخیل بنا بلکہ سماجی خدمت کا عالمی حوالہ ہے، جس پر ہم پاکستانیوں کو بجا طور پر فخر ہے۔ اس مرد درویش نے سفر آخرت پر روانہ ہوتے وقت ملکی انتظام میں حقیقی بالادستی کا عقدہ بھی کر دیا۔انہوں نے عملی طور پر ثابت کیا کہ اپنے کردار سے ساکھ قائم کی جائے تو پھر سپہ سالار کا سلیوٹ پانے کے لیے کسی عوامی عہدے کی بھی ضرورت نہیں رہتی۔ گزشتہ سال بسلسلہ ملازمت کراچی قیام کے دوران اندازہ ہوا کہ ایدھی ، چھیپا ، الخدمت اور دیگر فلاحی ادارے محض آخرت کمانے کے لیے سرگرم عمل نہیں بلکہ اپنی مدد آپ کے تحت جینے والے شہریوں کا انحصار انہی پر ہے کیوں کہ حکومت سماجی ذمہ داریوں کو سرکاری ذمہ داریوں کی فہرست میں شامل نہیں سمجھتی۔ طب کے شعبہ میں تو یہ صورتحال قومی ہے۔ ملک بھر میں عالمی معیار کا کوئی ہسپتال سرکاری نہیں۔ جس سے ثابت ہوتا ہے کہ پاکستان میں ہر حکومت ھوالشافی پر پختہ یقین رکھتی ہے۔ ایسے میں شوکت خانم ہسپتال، آغا خان، فاطمید ،سہارا، فوجی فاﺅنڈیشن، دارالاحسان آئی کیمپ ،الشفا آئی ٹرسٹ کا دم غنیمت ہے۔2005ءکے ہولناک زلزلے نے ثابت کر دیا تھا کہ پاکستان میں زندگی کی رمق اگر باقی ہے تو انہی فلاحی اداروں کی مساعی سے، حکومتی ادارے تو تب بھی بیرونی امداد ٹھکانے لگانے میں جتے ہوئے تھے۔ ٹرانسپیرنٹ ہینڈز، انصار برنی ٹرسٹ، شاہد آفریدی فاﺅنڈیشن، دارالسکون، منہاج ویلفیئر، احساس، خوشحال پاکستان اور فلاح انسانیت فاﺅنڈیشن سمیت دیگر کئی ایسے ادارے جو اخلاص کے وٹامن سے لبریز ہیں، زندگی کا بھرم قائم رکھے ہوئے ہیں۔ اس ضمن میں جس ادارے کا بطور خاص ذکر مقصود ہے وہ المصطفے ویلفیئر فاﺅنڈیشن ہے۔ اس ادارے نے بنگلہ دیش میں پناہ گزین روہنگیا مسلمانوں اور ترکی کے سرحدی شہر میں مقیم شامی مہاجرین کی خاطر خواہ امداد کر کے پاکستان کا بھرم بھی رکھ لیا۔ المصطفٰے کا بیس کیمپ سابق وفاقی وزیر حاجی حنیف طیب کی زیرسرپرستی پاکستان میں ہے مگر عبدالرزاق ساجد کی سرپرستی میں یہ ادارہ برطانیہ سے کام کرتے ہوئے 22 ممالک تک اپنا نیٹ ورک پھیلا چکا ہے۔ اسی نیٹ ورک نے شامی اور روہنگیا مہاجرین کی مدد کی اور یہ سلسلہ تاحال جاری ہے۔2005 کے زلزلے میں یتیم ہونے والے بچوں کی کفالت اس ادارے کا مستحسن اقدام تھا۔ بے سہارا اور بیوہ خواتین کے لیے ”گوشہ سیدہ فاطمہؓ“ کے نام سے سنٹر بنایا گیا ہے۔ اسی طرح اولاد کی طرف سے نظرانداز کیے جانے والے ضعیف افراد کی دلجوئی اور عزت نفس بحال رکھنے کے لیے ”گوشہ امیر حمزہؓ“ کے نام سے ایک سنٹر اللہ کے غضب کو ٹھنڈا کرنے کی کوشش میں مصروف ہے کیوں کہ والدین کو دھتکارنا قیامت کی نشانیوں میں سے ایک نشانی بتائی گئی ہے۔
غریب پروری میں پاکستان سرفہرست ہے اور یہی غریب پروری ایک دن پاکستان کو سیاسی لحاظ سے بھی دنیا میں سرفہرست بنا دے گی۔اس مملکت خداداد کے سیاسی عروج کے متعلق اہل اخلاص کی پیش گوئی میں شاید یہی راز پنہاں ہے۔ مگر دل کہتا ہے کہ یہ دن دیکھنا تب نصیب ہو گا جب غریب پروری میں کارفرما جذبہ رعیت پروری سے بھی جھلکے گا۔
(کالم نگارسماجی موضوعات پرلکھتے ہیں)
٭….٭….٭


سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں




دلچسپ و عجیب
کالم
آپ کی رائے
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved