تازہ تر ین

سازشیں ہماراعزم متزلزل نہیں کرسکتیں

نصیر ڈاھا …. گستاخی معاف
انتخابی ٹرین نہ صرف چل پڑی ہے بلکہ تیزرفتاری بھی پکڑ چکی ہے۔ ٹھنڈی ہواﺅں کے جھونکوں نے چہروں پر چھائی تپش، مایوسی اور حزن کے اثرات کو مٹادیا ہے اور اب دلوں میں فرحت اور تازگی محسوس کی جارہی ہے۔ گو کہ اس احساس کی شدت اس قدر نہیں کہ جودل کی کیفیت کو پورے جسم میں پھیلا دے اور انگ انگ میں نشاط کے گھوڑے دوڑا دے لیکن یہ بھی غنیمت ہے کہ عین تپتی دوپہر میں ، جبکہ سورج بھی سوا نیزے پر ہو، ٹھنڈی ہوا کا ایک جھونکا بھی جسم کی طراوت وحلاوت کے لئے کافی ہوتا ہے۔ چنانچہ آمدہ انتخابات کے سلسلے میں جماعتوں کی طرف سے امیدواروں کو ٹکٹوں کی فراہمی اور ٹکٹ ہولڈرز کے الیکشن کمیشن میں کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال نے ماحول میں بہت گرمی پیدا کردی ہے لیکن یہ گرمی ، جون جولائی والی گرمی نہیں بلکہ مردہ تنوں میں جان ڈالنے والی اور مایوسیوں کے اندھیروں کو روشنیو ں میں بدلنے والی ہے۔ کہاں یہ امکانات کہ انتخابات کاانعقاد معدوم ہے اور کہاں اب یہ سلسلے کہ سیاسی جماعتوں کی گہماگہمی بس انتخابات کے دائرے کے گرد گھوم رہی ہے۔ اگرچہ اب بھی ایک طبقہ یہ خدشہ ظاہر کررہاہے کہ شاید عید کے بعد ایسے حالات پیدا کردیے جائیں جن کی بناءپر انتخابات ملتوی کروانے کا سبب نمایاں ہوجائے ۔ ایک سیاسی جماعت کے ہم نوا کالم نگار لکھتے ہیں کہ منظورپشین اور اچکزئی نظریے کے حاملین کوشش میں ہیں کہ کسی طرح عید کے بعد ایسے حالات کا جنم عمل میں لایاجائے جس سے امن وامان کا مسئلہ پیدا کرتے ہوئے انتخابات کے انعقاد کو ہی مشکوک بنادیا جائے۔ اس سلسلے میں رائے دی گئی ہے کہ یہ لوگ ایک منظم حکمت عملی کے تحت فوج کو بدنام کرنے کی کوششوں میں مصروف عمل ہیں۔ عید کے بعد پرامن شہروں جیسے لاہور وغیرہ میں چھوٹے جلسے کرکے ایسی صورتحال بنادی جائے گی کہ خود فوج یہ کہنے پر مجبور ہوجائے کہ فی الحال انتخابات کو ملتوی کردیا جائے ۔
خاکم بدہن کہ ایسی صورتحال پیش آئے ۔ دراصل ہم مسلسل مختلف سازشوں کے دہانے پر رہتے چلے آرہے ہیں۔ ابھی پچھلے دنوں پہلے جنرل (ر) اسد درانی کی ”سپائی کرانیکلز“ کا چرچا تھا اور اس ضمن میں کہاجارہا تھا کہ قومی سلامتی سے متعلق بہت سے راز افشا کردیے گئے ہیں اور یہ کہ بھارت کے ساتھ مل کر اندرون ملک امن وسلامتی کو تہہ وبالا کرنے کے ایک نئے کھیل کی بنیاد رکھی جارہی ہے تاکہ جمہوری عمل کو سبوتاژ کیاجاسکے۔ ابھی اس پر بحث جاری تھی اور کوئی حتمی رائے اخذ کرنے کا معاملہ ابھی زیرغور ہی تھا کہ ساتھ ہی ریحام خان کی زیرطبع کتاب کاشوشہ سامنے آیا۔ ایک ایسی کتاب ، جو ابھی شائع ہی نہیں ہوئی لیکن اُس کے محض چند اوراق آن لائن لیک ہونے کے باعث جو طوفان بدتمیزی برپاہوا ہے ، اس سے بخوبی اندازہ لگایاجاسکتا ہے کہ اگر انتخابات سے قبل یہ کتاب شائع ہوگئی تو کیسے کیسے طوفان دیکھنے کو ملیں گئے اور کیسی کیسی آندھیاں ناجانے کتنے طاقتور درختوں کو جڑوں سمیت اکھاڑلے جائے گی اور اب کہاجارہاہے کہ وہ لوگ جو سمجھتے ہیں کہ دہشت گردی کے عناصر ملک کے اندر ہی موجود ہیں، ان کی ایماءپر ایک نئے سیاسی عمل کی بنیاد رکھنے میں رکاوٹ پیش آئے گی اور یہ معلوم نہیں کہ یہ رکاوٹ کتنی تادیر رہے گی۔
ایسے خدشات تب بھی ظاہر کیے جارہے تھے جب نگران حکومت کے قیام کا مسئلہ درپیش تھا۔ ایک سینئرسیاست دان نے برملا اعلان کرڈالا تھا کہ اگر سیاست دان نگران وزیراعظم کی تعیناتی کامسئلہ حل نہ کرسکے تو ممکن ہے کوئی اور قوت اس عمل میں شریک ہوجائے اور اگر ایسا ہوا تو یہ بہت بڑی ناکامی پر منتج ہوگا اور یہ کہ امکان ہے کہ سیاست دان اس سلسلے میں ایک بار پھر کسی بڑی ناکامی سے دوچار ہوجائیں ۔ بعد میں نہ صرف نگران وزیراعظم کے انتخاب کامسئلہ حل ہوا بلکہ عام انتخابات کی حتمی تاریخ بھی طے کردی ہے اور اب انتخابی عمل کا سلسلہ پورے زور وشور سے جاری ہے۔
دراصل ایک مائنڈ سیٹ اپ ہمیشہ سے ہر جگہ موجود ہوتا ہے۔ یہ مائنڈ سیٹ اپ مرکزی دھارے یا مین سٹریم سے ہٹ کر بات کرتا ہے۔ اس مائنڈ سیٹ اپ کی بات فی الوقت اکثریتی رائے یا سوچ کے بالکل برعکس ہوتی ہے اور یوں معلوم پڑ رہاہوتا ہے جیسے یہ پاگلوں کا ایک ٹولہ ہے جو حالات کے بالکل ناموافق تجزیہ پیش کرتے ہوئے اپنا قد کاٹھ بڑھانے اور خود کو ارسطو و سقراط بنانے کی کوشش کررہے ہیں۔ کبھی کبھا رایسا بھی ہوجاتا ہے کہ اس مائنڈ سیٹ اپ کی کہی ہوئی بات درست ثابت ہوجاتی ہے اور تب یہ لوگ خوب اچھل کود کرنے لگتے ہیں اور اپنے لکھے اور کہے ہوئے کو سچ ثابت ہونے پر ناقدین کو کوسنے لگتے ہیں۔ ایسا بہت کم اور شازو نادر ہی ہوتا ہے ۔ انہیں معلوم ہوتا ہے کہ دس پیش گوئیوں میں ایک بھی درست ثابت ہوگئی تو اپنا مقصد پورا ہوگیا۔ اس مائنڈ سیٹ اپ کا پہلے بھی کہنا تھا کہ انتخابی عمل مشکوک ہے اور اب بھی یہ اس پر اصرار کیے ہوئے ہے لیکن ہمیں خاطر جمع رکھنی چاہیے کہ حالات عشرہ پہلے والے نہیں رہے۔
مایوسیوں کے اندھیروں سے نکلنے کیلئے ایک طریقہ یہ بھی ہے کہ آپ پچھلے عرصے کی کامیابیوں پر نظرڈالیں ۔ چنانچہ پچھلے کئی برسوں کی کامیابیوں کے بعد حتمی طور پر کہاجاسکتا ہے کہ ہمیں کھلے دلوں کے ساتھ انتخابات کے لئے تیار رہناچاہیے اور یہ سمجھ لینا چاہیے کہ موسم گرما کے اختتام کے ساتھ ہی ایک نئی جمہوری حکومت اپنے نئے سفر کا آغاز کرے گی۔ وہ لو گ جو منظور پشین اور اچکزئی نظریے کے حاملین ہیں، اور ایک نئے فتنے اور شورش کو ہوا دینے کے درپے ہیں، انہیں معلوم پڑنا چاہیے کہ ایسی کئی کوششیں ماضی میں ناکام ہوچکی ہیں۔ اگرچہ ہم ہر لمحہ ایک نئی سازش کے دھانے پر ہوتے ہیں لیکن مقام شکر ہے کہ یہ نئی سازش آپ اپنی موت مرجاتی ہے اور ہم باسلامت رہتے ہیں۔ ہماری یہ سلامتی مستقبل قریب اور بعید میں بھی قائم و دائم رہے گی اور اس کے دائمی عناصر اپنی پوری قوت اور جوش کے ساتھ اپنے فرائض بھی بخوبی انجام دیتے رہیں گے جیسا کہ فوج اور قومی سلامتی سے متعلق دیگر ادارے۔!!!
(دبئی میں مقیم‘ سیاسی وسماجی موضوعات پرلکھتے ہیں)
٭….٭….٭


سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں




دلچسپ و عجیب
کالم
آپ کی رائے
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved