تازہ تر ین

نواز شریف کا عدالتی بائیکاٹ

عبدالودودقریشی

میاں نواز شریف کے وکیل خواجہ حارث نے عدالت سے اپنے وکالت نامے واپس لینے کی استدعا کی اور یوں انھوں نے میاں نواز شریف کی وکالت کرنے سے انکار کر دیا مبینہ طور پر انھوں نے اس کا جواز یوں پیش کیا کہ گذشتہ روز سپریم کورٹ میں پیشی کے دوران عدالت نے متعلقہ عدالت کو ایک ماہ میں فیصلہ کرنے کا حکم دیا اور چیف جسٹس نے یہ بھی کہا کہ اس مقدمے کی وجہ سے ملزمان اور قوم اذیت کا شکار ہیں چیف جسٹس نے خواجہ حارث سے یہ بھی کہا تھا کہ آپ تشہیر کے لئے کہتے ہیں کہ ہمیں کلثوم نواز کی عیادت کے لئے اجازت نہیں دی گئی آپ زبانی درخواست دیں ہم اجازت دیں گے مگر آپ کو یہ بھی بتانا ہوگا کہ واپس کب آئیں گے مریم نواز اور نواز شریف جب چاہیں لندن جاسکتے ہیں مگر واپسی کا بتانا ہوگا۔عدالت نے احتساب عدالت کو حکم دیا کہ وہ ریفرنس کی ہفتہ اور اتوار کے روز بھی سماعت کریں اس موقع پر خواجہ حارث نے عدالت کو کہا تھا کہ وہ چھٹی کے روز پیش نہیں ہوسکتے جس پر خواجہ حارث نے چیف جسٹس کو کہا کہ آپ ابھی جوان ہیں میں بوڑھا ہو کر بھی اتوار کو سماعتیں کرتا ہوں۔ جب میاں نواز شریف کی العزیزیہ سٹیل مل ریفرنس کی سماعت شروع ہوئی تو میاں نواز شریف کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ وہ میاں نواز شریف کی مزید وکالت کرنے سے قاصر ہے۔جس پر عدالت نے میاں نواز شریف سے دریافت کیا کہ آپ نیا وکیل کریں گے یا خواجہ حارث کو منا لیں گے مگر میاں نواز شریف دو دن بعد بھی اس حوالے سے کوئی عدالت کو جواب نہ دے سکے۔اور مزید وقت مانگ لیاہے۔
میاں نواز شریف کا کیس بڑا اہم اور تاریخی ہے اپنے اقتدار اور اختیار کے بل بوتے پر میاں نواز شریف کے بچے من مانی کرتے رہے جائیدادیں بناتے رہے اور کم عمری کے دوران ان کے ہی اثاثے میاں نواز شریف کے لئے جائز ثابت کرنا مشکل ہی نہیں بلکہ ناممکن ہے کیونکہ دال میں کچھ کالا ضرور ہے کچھ لوگ تو اسے کہتے ہیں کہ پوری دال ہی کالی ہے۔سپریم کورٹ نے میاں نواز شریف کے مقدمات ایک ماہ میں نمٹانے کی ہدایت کی ہے جبکہ قومی احتساب بیورو نے ایک بار پھر وزارت داخلہ کو میاں نواز شریف،مریم نواز اور کیپٹن صفدرکے نام ای سی ایل میں ڈالنے کے لئے لکھ دیا ہے۔یقیناً وفاقی حکومت کابینہ کمیٹی کی منظوری سے ان کے نام ای سی ایل میں ڈال دے گی اس سے قبل جب وزارت داخلہ کو ان کے نام ای سی ایل میں ڈالنے کے لئے کہا گیا تھا تو وفاقی وزیر داخلہ احسن اقبال نے قومی احتساب بیورو کے خط کو اس کی روح کے مطابق نہیں لیا اور اپنے پارٹی قائد کی حمایت میں کھڑے ہوکر ان کا نام ای سی ایل میں ڈالنے سے انکار کرتے ہوئے معاملات کو وزارتی فائلوں میں الجھا دیا اب چونکہ ملک میں ایک غیر جانبدارانہ عبوری نگران حکومت قائم ہے لہٰذا نیب کے اس خط کے ساتھ احسن اقبال جیسا رویہ نہیں اپنایا جائے گا۔
میاں نواز شریف کے خلاف کیس ثابت شدہ ہے اور انھوں نے اس مقدمے سے نکلنے کے لئے ذوالفقار علی بھٹو کی طرح کوشش بھی نہیں کی کیونکہ ذوالفقار علی بھٹو اپنا مقدمہ عدالت میں لڑنے کی بجائے سیاسی میدان میں لڑنا چاہتے تھے لہٰذا میاں نواز شریف نے بھی اپنے خلاف منی لانڈرنگ کے مقدمے کو لڑنے کے لئے کریمنل مقدمات لڑنے والے وکلاءکو منتخب کیا جو عدالت میں یہ بحث کرتے رہے کہ میاں نواز شریف نے اقامے میں تنخواہ لی یا نہیں لی اقامے میں تنخواہ نہ لینا کیا کیس بنتا ہے یا نہیں بنتا اور پھر ان دلائل کو کئی دن تک اخبارات میں چھپوایا جاتا رہا جبکہ میاں نواز شریف کے اقامے پر انھیں سزا ہوچکی اور سپریم کورٹ میں اپیل بھی مسترد ہوگئی اگر اس عدالت میں سارے گواہ یہ بھی کہہ دیں کہ میاں نواز شریف کے پاس اقامہ بھی نہیں ہے وہ زندگی میں کبھی بیرون ملک گئے بھی نہیں ہیں تو بھی ان کے خلاف فیصلہ واپس نہیں ہوسکتا اور نہ ہی سزا کو کالعدم قرار دیا جاسکتا ہے اس سے ثابت ہے کہ میاں نواز شریف نے مقدمے کو سیاسی طریقے سے کھیلنے کی کوشش کی ہے اگر وہ اس حوالے سے سنجیدہ معاشیات اور منی لانڈرنگ کے ماہر وکلاءکی خدمات حاصل کرتے تو آج یہ سارے معاملات مختلف بھی ہوسکتے تھے۔میاں نواز شریف کے گرد بھٹو کے چاہنے والوں کی کثیر تعداد ہے جو فوج کے بارے میں معاندانہ رویہ رکھتے ہیں وہ میاں نواز شریف کے بچوں کی بیرون ملک جائیدادوں سے آنکھیں بند کرکے سارا ملبہ عدلیہ اور فوج پر ڈال کر سیاسی میدان میں ہیرو بن جانے کے مشوروں سے نوازتے رہے جس کا اثر الٹا ہوا لوگوں میں نفرت بڑھی جھوٹ پر جھوٹ ثابت ہوئے اور کم عمری میں بچوں کی جائیدادوں کے علاوہ یہ بات بھی سامنے آئی کہ یہ بچے نہیں کئی بیویوں کے خاوند ہونے کے علاوہ پاکستان کے شہری بھی نہیں ہیں جبکہ وہ اس انکشاف سے پہلے پاکستان میں حکمران کے طور پر آتے ایئر پورٹ سے گھر تک سرکاری گاڑیوں میں جاتے اور وزیر اعظم ہاﺅس میں قیام کے علاوہ کھانا بھی وزیر اعظم سے ہاﺅس سے سرکاری خرچ پر کھاتے تھے۔مگر آج بھی انھیں کوئی پوچھنے والا نہیں میاں نواز شریف اور شاہد خاقان عباسی نے حسن اور حسین جو اشتہاری ملزم ہیں سے برطانیہ میں ملاقاتیں کیں اور میاں نواز شریف انہی کے گھر میں رہتے ہیں پاکستان کے قانون کے مطابق جرم ہے۔آپ کسی اشتہاری کے پاس نہیں رہ سکتے اسے پناہ نہیں دے سکتے اسے کسی قسم کا تعاون اور معاونت نہیں کرسکتے ایسا کرنا بذات خود ایک جرم ہے جس کی قانون میں سزا درج ہے۔
میاں نواز شریف کو ان کے وکلاءنے کوئی مشورہ دیا ہوگا اور پھر اس مشورے کی روشنی میں ہی میاں نواز شریف نے وکلاءکو اپنے وکالت نامے واپس لینے کا کہا کیونکہ اپنے کلائنٹ کی مرضی کے بغیر وکیل وکالت نامہ واپس نہیں لیتے اور اگر کوئی اصولی بات ہو تو وکالت نامہ واپس لینے کے ساتھ فیس بھی واپس دی جاتی ہے۔خواجہ حارث کو یہ معلوم ہے کہ میاں نواز شریف اپنی برطانوی جائیدادوں کو ثابت کرنے میں ناکام رہے ان کے پاس کوئی ثبوت موجود نہیں ہے ماسوائے ان باتوں کے جو پارلیمنٹ کے فلور پر تو کی جاسکتی ہیں کہ حضور یہ ہیں ہمارے ثبوت مگر جب باتیں ثبوتوں کی آئیں تو پھر قطری خط کے سوا کچھ نہیں اور جب قطری کی طلبی ہو تو قطری بھی غائب خواجہ حارث جیسے بڑے وکیل کو اپنا نام بھی بچانا ہے لہٰذا انھوں نے میاں نواز شریف کو یہی مشورہ دیا ہوگا کہ وہ مقدمے سے بائیکاٹ کی صورت پیدا کرکے الگ ہوجائیں لہٰذا انھیں ملنے والی سزا کے بارے میں یہ تاثر عوام کو دیا جاسکے گا کہ یہ فیصلے یکطرفہ تھے جبکہ نو مہینے سے زائد میاں نواز شریف اور خواجہ حارث اس مقدمے میں پیش ہونے کے علاوہ آنے والے گواہوں پر جرح بھی کرتے رہے اور دو سے زائد مرتبہ ہائی کورٹ میں مقدمے کو رکوانے کے لئے بھی گئے جب بڑے مقدمے میں ملزم کو سزا ہوتی ہے تو وکیل کی شہرت پر بھی برا اثر پڑتا ہے اور لوگ اس کے پاس مقدمات نہیں لاتے اور نہ ہی فیسیں ادا کرتے ہیں لہٰذا خواجہ حارث نے اس بات کے پیش نظر جہاں میاں نواز شریف کو مزید الجھا دیا ہے وہاں اپنے لئے بھی کوئی نیک نامی نہیں چھوڑی۔فیصلہ بہر حال ہونا ہے اب اس مرحلے پر وکیل کا ہونا نہ ہونا کوئی اہمیت نہیں رکھتا۔
٭٭٭


سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں




دلچسپ و عجیب
کالم
آپ کی رائے
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved