تازہ تر ین

میرا دوست نوازشریف (10

 

ضیا شاہد

میں ہرگز پارسائی کا دعویٰ نہیں کرتا اور نہ مجھے ایسا کوئی شوق ہے لیکن میں مزاجاً اور طبعاً کافی خود دار اور انا پرست واقع ہوا ہوں۔ اس دور میں اسمبلی کے ایک الیکشن کے موقع پر میں پی ٹی وی اسلام آباد میں کمنٹری باکس میں بطور تجزیہ نگار موجود تھا۔ جنگ کے ارشاد احمد حقانی بھی میرے ہمراہ تھے۔ گورنمنٹ کالج لاہور کے استاد اور فیض احمد فیض کے داماد شعیب ہاشمی میزبان یعنی کمپیئرنگ کر رہے تھے اور ہم سے ہر اہم انتخابی حلقے کے نتائج آنے پر رائے پوچھ رہے تھے۔ حقانی صاحب مرحوم بہت سچے اور کھرے صحافی تھے لیکن ان کی ہمدردیاں بینظیر بھٹو صاحبہ اور پاکستان پیپلزپارٹی کے لئے تھیں۔ گفتگو کے ایک مرحلے میں جب وہ غلام مصطفی جتوئی کے الیکشن پر انہیں برا بھلا کہہ رہے تھے میں نے بات کاٹ کر وجہ دریافت کی اور کہا کہ آپ کو پیپلزپارٹی کا ہر شخص فرشتہ لگتا ہے اور جو اس کے خلاف ہو اس کے آپ لتے لیتے ہیں۔ گفتگو میں وقفے تک میری اور حقانی صاحب کی بحث زور پکڑ گئی۔ میں نوازشریف اور غلام مصطفی جتوئی کی حمائت کر رہا تھا اورارشاد احمد حقانی صاحب انہیں بے اصولے اور سیاست میں انہیں جمہوریت دشمن قرار دے رہے تھے۔ پی ٹی وی سرکاری ادارہ تھا اور حکومت مخالف گفتگو برداشت نہ کر سکتا تھا لہٰذا اگلے الیکشن رزلٹ آنے سے پہلے ہی شعیب ہاشمی جن کے کان میں لگی ہوئی ٹونٹی سے پروڈیوسر کی طرف سے میری گفتگو رکوانے کے لئے کہا جا رہا تھا۔ شعیب ہاشمی نے وقفے کا اعلان کر دیا اور سکرین پر اشتہار آنے لگے۔ میرا آخری جملہ بھی درمیان میں سے کاٹ دیا گیا تھا لہٰذا پی ٹی وی کے سیٹ پر بحث شروع ہو گئی۔ ان دنوں پرائیویٹ چینلز نہیں ہوا کرتے تھے۔ نوازشریف پنجاب میں وزیراعلیٰ تھے اور مرکز میں حکومت پیپلزپارٹی کی تھی۔ حقانی صاحب میرے لئے بڑے بھائیوں کی طرح تھے اور پروگرام کے خاتمے پر مجھے سمجھایا کہ میر شکیل الرحمن کو اوپر سے شکائت آئی تو وہ آپ کو ملازمت سے فارغ کر دیں گے۔ آپ کو وفاقی حکومت کے خلاف اتنا سٹینڈ نہیں لینا چاہئے تھا، میں نے جل کر کہا میں روزنامہ ”جنگ“ میں پیدانہیں ہوا تھااور یہاں آنے سے پہلے بھی میں مختلف اداروں میں صحافی رہ چکا ہوں قسمت کو منظور ہوا تو کہیں اور جاب مل جائے گی۔ حقانی صاحب کہنے لگے میں آپ کی سفارش کروں گا آپ کو اپنے ضمیر کے مطابق بات کرنے کا حق ملنا چاہئے لیکن ضیا صاحب! یہاں کون سنتا ہے۔ اگلے روز لاہور واپسی تھی ابھی میں ڈیوس روڈ پر ”جنگ“ کے دفتر پہنچا ہی تھا کہ برانڈرتھ روڈ سے نواز شریف کے شیدائی آن پہنچے، وہ کہنے لگے آپ نے الیکشن نشریات میں کمال کر دیا۔ اور حق گوئی کا حق ادا کر دیا لہٰذا شام کی چائے آپ ہمارے ساتھ برانڈرتھ روڈ پر پئیں، میں نے ہنستے ہوئے کہا بھائی آپ مجھے ملازمت سے نکلوا کر رہیں گے، یار! مجھ پر پہلے ہی بینظیر حکومت کا دباﺅ ہے۔ برانڈرتھ روڈ والے بولے ہم چندہ کر کے آپ کو ہر ماہ تنخواہ دے دیا کریں گے بلکہ جتنے پیسے ملتے ہیں اس سے ڈبل کا بندوبست ہو جائے گا۔ میں نے کہا بھائی میں اخبار نویس ہوں چندے پر گزارا نہیں کر سکتا۔ ان کے جانے کے بعد سہ پہر تک مجھے بے پناہ ٹیلی فون آئے۔ بعض دوسرے صاحبان بھی مجھے کہتے رہے کہ آپ کو برانڈرتھ روڈ ضرورجانا چاہئے۔ چار بجے 15/20 لوگ نیچے استقبالیہ پر آئے اور کہنے لگے ہم آٹھ دس گاڑیوں کا جلوس لے کر آئے ہیں اور آپ کو ساتھ لے کر جانا ہے۔ عبداللہ ادیب مرحوم اس زمانے میں ”جنگ“ کے جنرل منیجر ہوتے تھے۔ (ان کی صاحبزادی صوفیہ بیدار گزشتہ دنوں تک ہماری کالم نویس رہی ہیں) اور ان کے داماد بیدار بخت بٹ آج کل بھی جنگ کے سینئر نیوز ایڈیٹر ہیں۔ عبداللہ ادیب صاحب کے دوسرے داماد ارشاد احمد عارف صاحب اخبار 92 کے ایڈیٹر ہیں۔ عبداللہ ادیب سیاسی طور پر بینظیر بھٹو کے حامی تھے لیکن انہوں نے زبردستی میرا ہاتھ پکڑا اور بولے گھبرائیں نہیں جائیں اور برانڈرتھ روڈ والوں کی چائے پی کر آئیں۔ میں آپ کے نظریات سے متفق نہیں لیکن آزادی¿ صحافت کے حوالے سے آپ نے جو کہا یہ آپ کا حق تھا۔ تھوڑی دیر بعد میں برانڈرتھ روڈ پہنچ گیا جہاں ایک طرف مڑنے والی ایک چھوٹی گلی نما سڑک پر کرسیاں رکھ کر سٹیج بنایا گیا تھا اور بہت سے پرونوازشریف دکاندار اور تاجر ہاتھوں میں پھولوں کے ہار لئے میرے منتظر تھے۔ میں نے ذہن میں آئندہ چند ہفتوں کے بارے میں سوچا کہ ایک بار پھر بیروزگاری سر پر ہے۔ بہرحال نوازشریف کے حق میں نعرے بلند ہوئے اورکچھ نعرے میرے لئے بھی ۔ پیسٹری اور سموسے کھانے اور چائے پینے کی تقریب کے اختتام پر میں دفتر پہنچا تو وزیراعلیٰ ہاﺅس سے دو تین بار پیغام آ چکا تھا کہ کل 11 بجے نوازشریف نے بلایا ہے۔ لگتا تھا میں نے تو اپنے ضمیر کے مطابق جو درست سمجھا کہا لیکن اب یہ کھینچا تانی میرے لئے شاید ہی کوئی راہِ نجات چھوڑے۔بہرحال اگلے روز 11 بجے کے بجائے میں پونے 12 بجے کے قریب سیون کلب پہنچا۔ پورچ کے سامنے بڑے پلاٹ میں کرسیاں بچھی تھیں اور چھوٹا سا سٹیج بنا تھا جس پر میز کے سامنے نوازشریف بیٹھا تھا۔ حاضرین کی بڑی تعداد ایم پی ایز اور ایم این ایز پر مشتمل تھی۔ قدرت نے جو ڈرامہ مجھے دکھانا تھا نہ میں اسے روک سکتا تھا نہ کوئی دوسرا۔ نوازشریف میری صورت دیکھتے ہی کرسی سے اٹھا اور مجھے ہاتھ کے اشارے سے قریب آنے کو کہا۔ میں پاس پہنچا تو نواز شریف نے بڑے زبردست انداز میں مجھے مبارکباد دی اور کہا کہ پرسوں رات آپ نے جو کچھ کر دکھایا میں اس کا بدلہ نہیں دے سکتا۔ پھر اس نے میرا ہاتھ پکڑ کر اپنی کرسی پربااصرار بٹھا دیا اور کہا آج آپ میری جگہ اس تقریب کی صدارت کریں گے۔ 60/70 لوگ آج بھی اس واقعے کے گواہ ہیں جن میں پرانے ایم پی اے، ایم این اے حضرات شاید آج بھی زندہ ہوں۔بعد ازاں بھی ہمیشہ نوازشریف کی مجھ پر ”مہربانیوں“ کے ذیل میں یہ قصہ دہراتے تھے۔ میں نے اصرار کیا کہ یہ تمہاری کرسی ہے تم ہی اس پر جچتے ہو۔ میں اخبار نویس ہوں یہ سیاستدانوں کا جلسہ ہے ایک اور کرسی منگوا دو میں تمہارے ساتھ بیٹھ جاتا ہوں مگر نوازشریف نے مجھے زبردستی کرسی پر بٹھایا اور خود سامنے مجمعے میں پہلی صف میں کسی کو اٹھا کر اس کی جگہ خود بیٹھ گیا۔ میں سیاسی ڈرامے کے بعد نوازشریف سے اس کے دفتر میں ملا اور ارشاد احمد حقانی صاحب کی بات دہراتے ہوئے کہا کہ لگتا ہے کہ میری نوکری کے دن ”جنگ“ میں ختم ہو گئے ہیں کیونکہ مالکان پر اسلام آباد کا بہت دباﺅ ہے، نوازشریف بولا میرا بھی شکیل الرحمن سے بڑا دوستانہ ہے تم فکر نہ کرو، ایسی کوئی بات ہو تو مجھے بتانا۔یہ قصہ میں نے اپنی سیاسی دھاک بٹھانے کے لئے نہیں سنایا کہ میں اول و آخر صحافی ہوں اور مجھے اپنے ادارے کی مجبوریوں کا بھی علم تھا، ردعمل سب سے پہلے جنرل نصیر اللہ بابر سپیشل اسسٹنٹ برائے وزیراعظم پاکستان کی طرف سے آیا، صرف تین دن بعد (یاسمین) میری بیگم جو ایک وفاقی محکمہ بلدیات میں ڈائریکٹر کے عہدے پر کام کر رہی تھیں کو دفتر میں داخل ہوتے ہی ایک ٹیلکس ملا جو وفاقی وزارت بلدیات اسلام آباد سے آیا تھا اور جس میں یاسمین شاہد کا سالانہ کنٹریکٹ فوری طور پر ختم کرنے کی ”نوید“ سنائی گئی تھی۔ میں نے اپنی زندگی میں کبھی خیرات نہیں مانگی کسی کے سامنے ہاتھ نہیں پھیلایا لیکن سچی بات یہ ہے کہ میری اس بہادری،ہمت اور حوصلے کی بنیاد میری ماں کی تربیت کے بعد میری بیوی کا حوصلہ ہے۔ میں متعدد بار جیلوں میں رہا۔ مجھ پر کبھی کوئی اخلاقی مقدمہ نہیں بنا لیکن ایڈیٹر پرنٹر یا پبلشر کی حیثیت سے مجھے کبھی لمبی مدت کے لئے جیل جانا پڑا تویاسمین شاہد نے کبھی مجھ سے گلہ نہیں کیا حالانکہ اسے ہرگز سیاست سے کوئی دلچسپی نہیں رہی۔ ایک دفعہ جب میں کئی ہفتوں سے جیل میں تھا تو یاسمین مجھے ملنے آئی اور پوچھا کیا میں گھر کے اخراجات چلانے کے لئے ملازمت کر لوں۔ میں نے کہا کچھ پیسے آپ کو ہر ماہ بڑے بھائی ڈاکٹرمزمل صاحب مدینے سے بھیجیں گے۔ آپ کو کوئی مناسب ملازمت ملے تو ضرور کریں سرکاری ملازمت سے فراغت کے بعد وہ گرل گائیڈ ایسوسی ایشن میں برسوں ماہنامہ ”گرل گائیڈ“ کی ایڈیٹر اور پبلی کیشن سیکرٹری رہیں ۔ بینظیر دور میں ان کے میڈیا سیل نے یہاں تک میرا پیچھا کیا کہ انٹیلی جنس بیورو کے کچھ افسران گرل گائیڈ ہاﺅس کے دفتر پہنچے جہاں سلمان تاثیر کی والدہ مسز تاثیر بھی کام کرتی تھیں اور پنجاب گرل گائیڈ کی انچارج مس عصمت نیاز سے کہا کہ وہ ضیا شاہد کی بیوی کو ملازمت سے فارغ کر دیں مگر گائیڈ ہاﺅس والوں نے کہا کہ وہ اچھا کام کرتی ہیں اور ہمیں ان کے شوہر کے نظریات اورجھکاﺅ سے کوئی غرض نہیں۔(جاری ہے)

میں تذکرہ کر رہا تھا سیاستدانوں کے وعدوں کا اور میرا دوست نوازشریف بھی سیاستدان تھا اور ہے۔ کچھ عرصے کے بعد میں ”جنگ“ کے دفتر پہنچا اور وہاں موجود دونوجوان کارکن جو میں نے ہی مقرر کئے تھے اور جنہیں ملازمت بھی میری وجہ سے ملی تھی میرے پاس آئے اور کہا رات دفتر کو آگ لگانے کی کوشش کی گئی تھی اور دفتر کے کچھ سینئر لوگوں کا صبح اجتماع ہوا تھا جس میںا لزام لگایا گیا ہے کہ آپ کے ایماءپر پرانے اخبار جو بیرونی صحن میں باہر پڑے تھے انہیں آگ لگا کر بلڈنگ جلانے کی کوشش کی گئی جو ناکام بنا دی گئی ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ آپ دفتر چھوڑ دیں۔ یہ دونوں نوجوان اب ادھیڑ عمر کے لوگ ہیںدونوں ٹی وی چینلوں پر چہک رہے ہیں۔ وہ بڑے ذہین نوجوان تھے معلوم نہیں ان پر کتنا دباﺅ تھا کہ مجھ جیسے شخص پر جس نے زندگی بھر کوئی غیرقانونی کام نہیں کیا پر الزام لگایا جا رہا تھا کہ دفتر جنگ کو جلانے کی کوشش کی۔ میں نے انہیں جواب میں کہا میں اوپر کمرے میں جا رہا ہوں آگ لگانا یا لگوانا بے بنیاد اور بیہودہ بات ہے لیکن مالکان سے بات کیے بغیر میں یہاں سے نہیں جاﺅں گا۔ ”مالکان“ نے تھوڑی دیر بعد مجھے کمرے میں بلایا اور اپنی معذوری کا اظہار کیا کہ لوگ آپ کے بہت خلاف ہو چکے ہیں لہٰذا آپ کچھ دن دفتر نہ آئیں میں نے کہا کوئی میرے خلاف نہیں ہے لیکن مجھے آپ مجبور نظر آتے ہیں اگر آپ کا یہ مشورہ ہے تو میں کچھ دیر کے لئے نہیں ہمیشہ کے لیے گھر جانے کو تیار ہوں۔ مجھے معلوم ہے آپ اس مشکل میں ہیں اور میں ہرگزاپنے ادارے کو مشکل میں نہیں دیکھنا چاہتا۔ جب کبھی آپ کی مشکل حل ہو جائے آپ مجھے بتا دیجئے گا۔ میری ملازمت ہی نہیں بلکہ یاسمین کی ملازمت بھی جاتی رہی تھی بہت عرصہ بعد جنرل نصیراللہ بابر جن کے بھائی فرحت اللہ بابر ہیں بعد ازاں سینیٹر اور بینظیر بھٹو کے میڈیا ایڈوائزر بھی رہے جنرل نصیر اللہ بابر سے ایک بار ملاقات ہوئی تو انہوں نے وضاحت کی کہ یہ کیا دھرا آپ کے ایک صحافی کا ہے جو بینظیر صاحبہ کے میڈیا سیل کے انچارج تھے۔ ایک نوجوان بلڈر بھی جو مارگلہ کی پہاڑیوں میں لاکھوں کنال زمین ڈویلپ کر کے بیچنا چاہتا تھا نے ایک نوٹ بنوا کر یہ کارروائی کی تھی۔ اخبار نویس کا نام اظہر سہیل اور بلڈر کا نام طاہر نیازی ہے۔ میں نے اس وقت بھی نصیراللہ بابر سے کہا روزی رساں اللہ کی ذات ہے کوئی کسی کا رزق بند نہیں کر سکتا۔ اس سے پہلے بھی ہفت روزہ ”صحافت“ کے زمانے میں میرے دفتر پر پولیس نے قبضہ کر لیاتھا اور ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ نے میرے پرچے کا ڈیکلریشن منسوخ کر دیا تھا۔ اسی زمانے میں میرے بھائی اور دوست مجیب الرحمن شامی کا ہفت روزہ ”اسلامی جمہوریہ“ بند کیا گیا بعد ازں میں گرفتار بھی ہوا اور ڈیڑھ دو برس تک بیروزگاری برداشت کرتا رہا کہ عدالتوں میں اپنے خلاف مقدمے بھگتنے کے سوا میرا کوئی اور کام نہیں تھا۔ میں نے یہ سارا واقعہ صرف نواز شریف کی طرف سے ”شاہانہ استقبال“ کے بعد یہ بتانے کےلئے لکھا ہے کہ سیاستدان کبھی اخبار نویس کا دوست نہیں ہوتا۔ جب ہماری برادری میں سے کوئی سینے پر ہاتھ مار کر کسی سیاسی شخصیت کا نام لیتا ہے کہ وہ میرا یار ہے تو میں ہمیشہ اسے پیار سے سمجھاتا ہوں کہ جس ادارے سے تم منسلک ہو وہاں استعفیٰ دیکر تین ماہ گھر بیٹھو اور چوتھے مہینے ا پنے دوستوں دشمنوں کی نئی فہرست بنانا۔ نواز شریف کے حوالے سے صرف اتنا لکھوں گا کہ کئی روز بعد میں وزیراعلیٰ پنجاب نواز شریف کے پاس گیا ا ور ماجرا سنایا اس نے مجھے کہا چند روز دو میں اس اخبار کا بندوبست کر تا ہوں۔ میں نے کہا معلوم ہوتا ہے اخبار مالکان پر زیادہ دباﺅ ہے اس نے مجھے کہا تین روز دو اور چوتھے روز میرے پاس آنا میں چوتھے روز گیا پتہ چلا سیون کلب روڈ سے باہر واقع مسجد میں جمعہ کی نماز پڑھنے گیا ہے۔ نواز شریف شروع سے نماز کی ادائیگی کا اہتمام کرتا ہے اس خاندان میں ظاہری دینداری بھی ہے اور ظاہری عبادات پر بھی کافی زور ہے۔ برسوں سے وہ رمضان کا آخری عشرہ بھی خانہ کعبہ میں گزارتا ہے۔ لیکن جناب! عبادات پر عبادات کا اہتمام کرنا ایک بات ہے اور ان کی روح پر چلنا دوسری بات۔ آپ بہت سے کپڑے اور کریانے کے دکانداروں کو دیکھیں گے کہ جمعہ کے دن کلف لگے کپڑے پہن کر خوشبو لگا کر نماز جمعہ ادا کرتے ہیں۔ روزہ ہو یا نماز، حج ہو یا زکوٰة مجھ ایسے گناہگار کی نسبت وہ ہمیشہ ان احکامات کی بجا آوری کرتے ہیں لیکن میں جانتا ہو ںکہ وہ جھوٹ بولتے ہیں اور اپنا سودا بیچنے کے لئے قسموں پر قسمیں کھاتے ہیں بلیک مارکیٹ کے ماہر ہوتے ہیں اور ان کی ذاتی مذہبی زندگی الگ ہوتی ہے اور کاروباری لوٹ مار کی زندگی جداگانہ۔ اللہ معاف کرے شاید ایسے ہی نمازیوں پر اللہ پاک نے قرآن مجید کی سورہ¿ ماعون میں افسوس کا اظہار کیاہے کہ وہ غریب کو ر وٹی نہیں دیتے یتیم کو دھکے دیتے ہیں اور کوئی گھر پر مانگنے کو آ جائے تو ا سے کچھ نہیں دیتے۔ملاحظہ ہو قرآن پاک کے تیسویں پارے میں موجود سورہ ”ماعون“ کا ترجمہ: ”کیا تم نے اس شخص کو دیکھا جو روز جزا کو جھٹلاتا ہے یہ تو وہی کمبخت ہے جو یتیم کو دھکے دیتا ہے اور محتاجوں کو کھانا کھلانے کے لئے لوگوں کو آمادہ نہیں کرتا۔ تو ان نمازیوں کے لئے تباہی ہے جو اپنی نماز سے غافل رہتے ہیں ۔ جو دکھاوے کے واسطے کرتے ہیں اور روز مرہ کی چیزوں میں رعائت نہیں دیتے۔“ بہرحال آج کل یعنی 2018میں جو مقدمات نواز شریف کے خلاف سامنے ا ٓئے ہیں اللہ کرے میرا دوست ان سے بچ نکلے میں تو آج بھی اس کا مخالف نہیں۔ ظاہری دینداری میں وہ مجھ سے کوسوں آگے ہے مگر بیروزگاری کے دنوں میں جب میری بیوی کو سرکاری ملازمت سے وفاقی ادارے نے نکالا تو میرا اور اس کا جرم صرف یہ تھا کہ میں نے سرکاری ٹی وی پر بیٹھ کر نواز شریف اور اپوزیشن کے جائز حقوق کی بات کی تھی تو میرے دوست نواز شریف کی ملاقات اس کہانی کا آخری انجام تھا۔ اس نے بعد میں دو تین دفعہ مجھ سے ملنے سے بھی گریز کیا۔ میں پہلے کہہ چکا ہوں کہ میں انا پرست آدمی ہوں میں نے ٹی وی پر جو کچھ کہا اسے خوش کرنے کے لیے نہیں تھا اور نہ مجھے اس کی کرسی پر چند منٹوں کے لیے بیٹھنے کا کوئی شوق تھا کم و بیش پون برس تک میں اور میرا خاندان اس ایک ٹی وی مباحثے کا انجام بھگتتا رہا اور نواز شریف نے ”جنگ“ کے دفتر سے آنے والے نمائندہ جلوس کے ارکان سے ملاقات کی اور انہیں یقین دلایا کہ ضیاشاہد کی طرف سے آتشزدگی کی کوشش والے واقعے کا کھوج لگایا جائے گا۔ میں پوچھتا ہوں کون سا واقعہ۔ اس کا پس منظر معلوم ہونے کے باوجود نواز شریف خاموش رہا۔میں جس صبح دس گیارہ بجے دفتر جنگ پہنچا اور مجھے کمرے میں جانے سے بھی پہلے بتایا گیا کہ میں نے رات کے پچھلے پہر شاید تن تنہا آگ لگانے کی کوشش کی تھی۔ اس وقت گیٹ پر سکیورٹی بھی تھی اور ابھی نیوز کی شفٹ میں بیسیوں لوگ کام کر رہے تھے مگر کسی نے مجھے یہ کام کرتے ہوئے نہیں دیکھا اور اطہر مسعود صاحب کو کچھ ”غیبی قوتوں“ نے اس واقعے کی اطلاع کردی اور وہ دو نوجوان کارکنوں کے ساتھ مجھے بتانے کے لئے میرے پاس آگئے۔ پرانی ردی اور بنڈل صحن میں پھینک کر اور تیل چھڑک کر انہیں آگ لگائی گئی تھی اس معمولی آگ سے ”جنگ“ کی تین چار منزلہ عمارت کی کوئی دیوار بھی سیاہ نہیں ہوئی تھی۔ جن دو بچہ” کارکنوں“ نے اس واقعے کی مجھے اطلاع دی تھی ان کی کچھ سینئر افراد کے ساتھ نواز شریف کے دفتر میں ملاقات کی تصویر بھی اس اخبار میں چھپی۔ یہ بھی معلوم ہوا کہ یہ آٹھ دس مظلوم کارکن کا جلوس نوازشریف کے دفتر سیون کلب روڈ گئے وزیراعلیٰ نے انہیں چائے پلائی اور میرے خلاف شکایت پر ”تحقیقات“ کروانے کا وعدہ کیا۔ میں آگے کچھ واقعات لکھنے کی بجائے ایک غلط فہمی کا ازالہ کرنا چاہتا ہوں جس کا مجھے حق حاصل ہے۔ اکثر لوگوں کا خیال تھا کہ میں نواز شریف کی حمایت اس لیے کرتا ہوں کہ شاید مجھے کچھ مالی فائدہ ملنے کی امید ہے۔ میں اپنے پرانے دوست کا دشمن نہیں ہوں لیکن وہ بھی زندہ ہے اس کا ”کمپیوٹر“ خیام قیصر بھی۔ اس کا پرانا پی اے جمشید بھی موجود ہے اور ہر دور میں مدارالمہام قمر صاحب بھی جو ایک زمانے میں ایل ڈی اے کے سربراہ بھی بنا دئیے گئے تھے میں کلمہ پڑھ کر یہ کہنا چاہتا ہوں کہ اپنی زندگی میں میں نے بالواسطہ یا بلاواسطہ نواز شریف یا اس کے بھائی، بیٹوں اور حکومتی کارندوں سے نہ ایک پیسہ کبھی لیا اور نہ مراعات حاصل کیں نہ کوئی پلاٹ لیا نہ فلیٹ اور نہ کوئی بندہ رکھوایا نہ کسی کی تبدیلی کروائی اور نہ ہی کوئی زرعی زمین الاٹ کروائی اور نہ کوئی دوسرا مالی فائدہ حاصل کیا۔اس زمانے میں نواز شریف ان لوگوں میں شامل ہوتا ہے جو یہ سمجھتے ہیں کہ دنیا کی ہر چیز خریدی جا سکتی ہے۔ میرے بیٹے عدنان شاہد کا سروسز ہسپتال کے سامنے موٹر سائیکل پر ایکسیڈنٹ ہو گیا۔ ان دنوں میں جنگ اخبار میں ہوتا تھا۔ مشہور تھا کہ اطہر مسعود میرے مخالف گروپ میں ہیں مگر اطہر مسعود ایک مہذب انسان ہیں اور انسانیت ان میں کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی ہے، مجھ سے پہلے اطہر مسعود کو اطلاع ملی کہ عدنان شاہد کا ایکسیڈنٹ ہو گیا ہے وہ دفتر سے اٹھے اور اسے لے کر جنرل ہسپتال گئے یہی وجہ ہے کہ زندگی میں ا یک مرحلے پر جب وہ ”جنگ“ سے علیحدہ ہو چکے تھے اور دوگماشتوں کے ذریعے مجھ پر آتشزدگی کا الزام اعلیٰ حضرت نے لگایا تھا کہ اپنے ایک دیرینہ مخالف کو دفتر سے نکلوانے کا یہ سنہری موقع اطہر مسعود کے ہاتھ لگ گیا تھا لیکن انسانی سطح پر ان کی میرے بیٹے کے لیے بھاگ دوڑ ہمیشہ میرے ذہن میں رہی اور میں نے سال ڈیڑھ سال تک انہیں مجبور کیا کہ وہ گھر سے بیٹھ کر ہمارے لئے کالم لکھیں اور جو کچھ ہم پیش کر سکتے ہیں گاڑی ماہوار معاوضہ ہم حاضر ہیں۔عدنان شاہد بےہوش بلکہ قومے میں تھا ا ور 21دن تک وہ جنرل ہسپتال میں موت و حیات کی کشمکش میں مبتلا رہا۔ میں نے اس کی ماں یاسمین کے لئے ہسپتال کا پرائیویٹ کمرہ لے رکھا تھا جہاں وہ 24گھنٹے عبادت بالخصوص قرآن خوانی میں مصروف رہتیں۔ میں اور میرے گھر والے مسلسل دعا مانگتے کہ یااللہ ہمارا بڑا بیٹا بچ جائے۔ بظاہر ڈاکٹر یہی کہتے تھے کہ ان کے دماغ پر گہری چوٹ آئی ہے اور ایسی صورت میںبالعموم ریکوری مشکل ہوتی ہے۔ مجھے دفتری مصروفیات کے بعد رات بھر وہیں رہنا پڑتا تھا۔ اس موقع پر نواز شریف کو معلوم ہوا تو اس نے بڑی مہربانی کی۔ یہ مہربانی کیا تھی اس کی تفصیل بیان کرنا ضروری ہے۔ اس سے آپ کو میرے دوست کا ذہن سمجھنے میں مدد ملے گی۔اس کا عمر بھر کا ایک دیرینہ کار خاص جسے بعد میں اس نے لاہور کے ایک ادارے کا سربراہ بھی بنا دیا میرے پاس آیا۔ اس نے نواز شریف کی طرف سے تسلی دلائی۔ میں نے کہا شکریہ میری طرف سے گلہ پہنچا دیجئے گا کہ آج مجھے 20دن سے زیادہ یہاں ہسپتال میں گزر چکے ہیں۔تمہارے ”صاحب“ نے میرا حال بھی نہیں پوچھا۔ کارخاص نے ایک لفافہ میرے سپرد کیا اور کہا کہ آپ علاج کےلئے اسے باہر لے جانا چاہیں تو اس میں آپ کے نام تین لاکھ روپے کا چیک موجود ہے جو وزیراعلیٰ کے فنڈ سے جاری ہوا ہے۔ میں نے کہا بھائی ڈاکٹروں نے منع کیا ہے کہ انہیں ہلائیں بھی نہیں بس آپ دعا کریں کہ اللہ کی رحمت سے یہ ہوش میں آ جائیں اور آنکھیں کھول دیں۔ میں انہیں باہر کیسے لے جا سکتا ہوں اور اس کی ضرورت بھی نہیں۔ کارخاص جس کا خیال تھا کہ پیسے سے ہر چیز خریدی جا سکتی ہے اس نے کہا جانا ہو تو ایک درخواست لکھ دو کہ مزیدپیسے چاہئیں میں سپیشل فنڈز سے کچھ اور رقم کا چیک آپ کو دے جاﺅں گا آپ یہ چیک رکھیں اور اپنے اکاﺅنٹ میں جمع کروا دیں میں نے کہا اپنے صاحب سے کہنا وہ اور ان کے اہل خانہ پانچ وقت نماز پڑھتے ہیں میرے بیٹے کے لئے دعا کریں اللہ اسے زندگی واپس کر دے۔ یاسمین کی آنکھوں میں آنسو آ گئے اور وہ ہاتھ اٹھا کر دعا مانگنے لگیں۔ کارخاص نے کہا انکار نہ کریں یہ پیسے رکھ لو کبھی زندگی میں کام آئیں گے۔ بڑی مشکل سے میں نے غصے پر قابو پایا اور کہا یار! صحت اور زندگی خریدی جا سکتی تو کوئی مالدار دنیا سے رخصت نہ ہوتا۔ جائیں یہ چیک اسے واپس کر دیں اور کہیں میرے بیٹے کے لئے دعا کرے۔ اس نے پھر اصرار کیا تو میں نے کہا تم رکھ لو۔ کار خاص سیانا آدمی تھا۔ اس نے کہا یہ کراس چیک ہوتا ہے صرف آپ ہی کے اکاﺅنٹ میں جمع ہوگا۔ میں نے کہا مجھے پیسے نہیں چاہئیں بیٹے کی زندگی چاہیے پلیز! اب آپ جائیں۔حبیب جالب نے کہا تھا اخبار میں لکھ مدح ایسیصاحب کا سکتّر جھوم اٹھےکارخاص بھی صاحب کا سکتّر تھا میں نے کہا آپ جرا¿ت تو نہیں کریں گے مگر کر سکو تو اپنے صاحب سے کہنا یار! خدا کا خوف کرو، مجھے بیٹے کے نام پر غیر ملک کے تین ٹکٹ نہیں چاہئیں۔ ہمیں بیٹے کی زندگی چاہیے بھائی! اب آپ یہاں سے چلے جاﺅ۔چوتھے ہفتے میرا بیٹا عدنان خدا کی رحمت سے اچانک ہوش میں آ گیا۔ میرا دوست (کاش وہ میرا دوست ہوتا تو کم از کم ایک بار میرے بیٹے کا حال پوچھنے ضرور آتا) لیکن وہ تو ایک بزنس مین تھا۔ چلیں پیسے کےلئے نہ سہی اپنے احمقانہ نظریات کی وجہ سے میں نے ہمیشہ اس کی حمایت کی۔ برسوں اپنے گھر سے چل کر صبح اپنے دفتر جانے سے پہلے ماڈل ٹاﺅن اس کے گھر H-180 جاتا رہا جہاں اس کی عدم موجودگی میں سیکرٹری اطلاعات کرامت علی خان ڈی جی پی آر میرا کلاس فیلو اور دوست محمد حسین ملک اور کئی میری طرح کے بینظیر دشمنی میں نواز شریف کو پروموٹ کرنے والے جمع ہوتے تھے۔ خبریں ڈسکس کرتے اور نواز شریف کی طرف سے جواب تیار کر کے کمپوز کرواتے تھے باقی لوگ تو شاید اس کام کا معاوضہ پاتے تھے لیکن میں یہ کیا کر رہا تھا۔ہر دور میں میری طرح کے ”پاگل“ موجود رہے ہیں۔ انہی دنوں لفافہ جرنلزم کی اصطلاح سامنے آئی۔ اسلام آباد ہو یا لاہور نقدی پر مشتمل لفافے چل رہے تھے پلاٹ بھی نوکریاں بھی، من پسندوں کو ٹھیکے بھی۔ نواز شریف کے گھر کے ایک نوجوان نے مجھے ایک فہرست دکھائی۔ عید کی آمد آمد تھی۔ اس نے کہا 72 اخبار نویسوں کی فہرست ہے جنہیں عید گفٹ بھیجنے ہیں۔ آپ پڑھ لیں کوئی نام رہ نہ گیا ہو۔ میں نے پڑھنے سے پہلے پوچھا میرا نام تو نہیں ڈالا کہنے والا بولا معاف کرنا ہمیں پتا ہے آپ ”میٹر“ ہیں اور برا مان جائیں گے۔ پھر اس نے ازراہ مذاق کہا ضیاصاحب! آپ اتنے ہی پرہیزگار ہیں یا ڈرامہ کر رہے ہیں؟ میں نے کہا ”صاحب“ سے پوچھ لو۔ میرا اور آپ کا پیسوں کا کوئی لین دین ہے یا نہیں۔ کمپیوٹر(خیام قیصر) سے معلوم کرو میرے کھاتے میں کیا لکھا ہے۔ بھائی میں واقعی ”میٹر“ ہوں اور میرا خیال ہے کہ ہم ا پنے آئیڈیل حکمرانوں کے لیے کام کر رہے ہیں۔ اللہ کرے میرادوست نواز شریف نیٹ کلین اور واقعی پارسا نکلے۔ میں ساری عمر اپنے گھر سے روٹی کھا کر اس کی فری خدمت کرتا رہوں گا۔ وہ اچھا آدمی ہے اللہ اسے کامیاب کرے۔آگے بڑھنے سے پہلے میں یہ بھی بتلادوں کہ ماڈل ٹاﺅن لاہور میں جس گھر میں رہتا ہوں وہ جی او آر کے سامنے ججز لین کا پہلا پلاٹ تھا جو لاہور ہائیکورٹ کے ایک جج کو الاٹ ہوا۔ اس نے متبادل پلاٹ کچھ مزید پیسے خرچ کر کے دوسری جگہ حاصل کر لیا حافظ قاسم جو ایل ڈی اے کے ڈائریکٹر اسٹیٹ مینجمنٹ تھے اور بعد میں آئی جی جیل خانہ جات بھی رہے کے پاس میں مدینے سے ایک ماہ کی چھٹی پر آنے والے اپنے بڑے بھائی ڈاکٹر مزمل کولے کر گیا۔ حافظ قاسم نے کہا آج ہی یہ پلاٹ سرنڈر ہوا ہے۔ ڈاکٹر صاحب آپ اس پلاٹ کی مارکیٹ ویلیو پتا کریں اور تحریری آفر دیں ڈاکٹر صاحب نے اگلے روز درخواست میں آفر دے دی اور ان کی واپسی سے پہلے حافظ صاحب نے پلاٹ الاٹ کر کے کہا آپ پوری قیمت ادا کر دیں۔ اس سڑک پر میری بڑی بہن ڈاکٹر مسز مظفر رحمن نے بھی اڑھائی کنال کا پلاٹ نقد قیمت پر خریدا اور اس پر گھر تعمیر کیا۔ ڈاکٹر مزمل نے مدینہ واپس جانے سے پہلے مجھے کہا یار! اخبار کی ملازمت میں تمہیں شاید کوئی گھر بنانے کاموقع نہ مل سکے اس کا ڈپلیکس نقشہ بنواﺅ اور مجھے مدینہ بھیج دو۔ میرے مشورے کے بعد ایک کنال ا یک مرلے میں تم گھر بنواﺅ اور ایک کنال ایک مرلے میں میرا گھر بنوانا شروع کر دو۔ دونوں گھروں کے بیرونی پھاٹک الگ ا لگ ہوں مگر اندر سے چھوٹا راستہ ضرور دینا تاکہ والدہ صاحبہ آ جا سکیں۔ مزمل صاحب کے پاس وسائل تھے انہوں نے اپنا گھر جلدی شروع کرلیا میں نے شروع ضرور کیا لیکن تین سال صرف ہو گئے کیونکہ ہارون آباد میں ایک گھر بیچا پھر یاسمین نے گجرات میں ا پنے والد کی وراثت سے ملنے والی شہری زمین بیچی پھر بھی گھر مکمل نہ ہوسکا تو میں نے حبیب بنک ڈیوس روڈ سے چھ لاکھ روپے لون لیا۔ اوپر کا پورشن بنا کر یاسمین نے تین ہزار روپے ماہوار کرائے پر دے دیا اور سات سال تک کرایہ لے کر ہی ہم لون واپس کرتے رہے۔ اس ایک گھر کے سوا میرا پورے ملک میں کوئی پلاٹ ہے نہ مکان۔ نواز شریف کی وزارت اعلیٰ کے زمانے میں مجھے بہت سے لوگوں نے کہا وزیراعلیٰ سے شادمان میں دو پلاٹ لے لو ایک بیچ کر دوسرے پر گھر بنا لینا۔ میں نے انکار کیا حالانکہ مجھے خوش فہمی ہے کہ اس دور میں کوئی بھی کاغذ نواز شریف کے سامنے رکھ دیتا تو وہ اگلے منٹ میں دستخط کر کے میرے حوالے کر دیتا۔ معلوم نہیں ہم سب اتنے بے رحم کیوں ہوتے ہیں کہ کوئی صحافی دانشور کسی کی حمایت کرے یا مخالفت ہم سمجھتے ہیں کہ اس نے ضرور کچھ وصول کیا ہوگا۔ پوری زندگی میں سبزہ زار کا شاید ایک کنال کا پلاٹ ان اخبار نویسوں کے ساتھ مجھے بھی ملا جس کے لیے نہ میں نے کوئی درخواست دی اور نہ کٹوتی کی کوشش کی ورنہ کسی ڈھنگ کی آبادی میں بھی پلاٹ مل جاتا۔ ڈاکٹر صفدر محمود ماشا اللہ زندہ ہیں جنگ پبلشرز سے ان کی دو کتابیں شائع ہوئی تھیں۔ وہ جنگ کے لئے کالم بھی لکھتے تھے اور آج بھی لکھتے ہیں۔ ایک دن جنگ میں وہ میرے کمرے میں آئے اور مذاق میں بولے تجھ پر ایمانداری کا دورہ پڑا ہوا ہے ۔ مگر یہ سیکرٹری اطلاعات کی حیثیت سے میں نے سبزہ زار میں کچھ پلاٹ منظور کروائے ہیںکہ جن صحافیوں کے پاس واقعی پلاٹ نہیں ہیں انہیں دلواﺅں اور مجھے معلوم ہے کہ تم نے کوئی پلاٹ نہیں لیا۔ میں نے کہا میں اپنے بھائی ڈاکٹر مزمل صاحب کے پلاٹ کے آدھے حصے پر اپنا گھر بنوا رہا ہوں وہ بولے اچھا پیسے نہ جمع کروانا لیٹر ہی بھیج دینا مکان کی تعمیر میں کام آ جائیں گے۔ چند ہفتے بعد ملتان روڈ کا کوئی پراپرٹی ڈیلر آیا اور کہا آپ نے تو قیمت بھی جمع نہیں کروائی بہت سی معمولی رقم بنا کر وہ بولا آپ جا کر دیکھ لیں سبزہ زار کے آخری حصے میں جہاں آپ کا پلاٹ ہے کئی فرلانگ تک گڑھے ہی گڑھے ہیں بس اس سے زیادہ قیمت آپ کو نہیں مل سکتی۔ یہ آفر شاید ایک لاکھ روپے سے بھی کم تھی لیکن اللہ شاہد ہے نہ میں نے پلاٹ مانگا نہ کوئی درخواست دی۔ یہ ایک مہربانی ہے تو ڈاکٹر صفدر محمود کی نوازشریف سے اس کا کوئی تعلق نہیں ہے اور شاید اس کو ا س کا پتا بھی نہیں ہوگا۔جو لوگ میری داستان پڑھ رہے ہیں ان میں سے شایدکوئی محسوس کر رہا ہو کہ میں اپنی پارسائی کے دعوے کر رہا ہوں میں نے پہلے بھی کہا اور اب پھر کہہ رہا ہوں میرا دوست نوازشریف ظاہری عبادات میں مجھ سے کہیں زیادہ پکا مسلمان ہے ۔ میاں شریف دوپہر تک اتفاق مسجد ہی میں بیٹھتے تھے اس گھرانے میں مذہبی تقاریب میلاد ہوتے رہتے۔ ایک بار نواز شریف نے کہا آ پ بیگم صاحبہ کوخواتین کی تقریب میں میرے گھر ضرور بھیجئے گا کل خواتین کا میلاد ہے اس کے ا صرار پر میں نے یاسمین سے کہا اور ا سے خود اپنی گاڑی میں ماڈل ٹاﺅن چھوڑ کر آیا۔ اس کے کہنے کے مطابق تین گھنٹے بعد یاسمین کو واپس لینے گیا اگلے روز نواز شریف نے پوچھا آپ نے اپنے گھروالوں کو نہیں بھیجا میں نے کہا میں تو یاسمین کو خود چھوڑنے گیاتھا اور لینے بھی آیا تھا لیکن باہر ہی سے چلا گیا کیونکہ اندر خواتین بڑی تعداد میں موجود تھیں۔ نواز شریف نے کہا انہوں نے کسی کو بتایا ہی نہیں میں نے تو خاص طور پر گھر کی خواتین سے کہا تھا۔ میں نے کہا آپ کو بطور وزیراعلیٰ خبروں کی جو روزانہ سمری ڈی جی پی آر سے جاتی ہے وہ یاسمین بھیجتی ہیں۔ لیکن انہوں نے کبھی کسی سرکاری افسر سے تذکرہ بھی نہیں کیا وہ واقعی مزاج کے اعتبار سے درویش طبع خاتون ہیں۔ میں اپنی بات ختم کرنے سے پہلے کہنا چاہتا ہوں کہ اللہ کی ذات گواہ ہے میں بہت گناہ گار انسان ہونگا مگر نواز شریف تو کیا ایوب خان سے لے کر بھٹو صاحب، ضیاالحق، نواز شریف بینظیر فاروق لغاری معراج خالد اس سے بھی پہلے حنیف رامے، مصطفی کھر، پرویز الٰہی، چودھری شجاعت حسین کسی ایک حکمران سے نہ میں نے کچھ مانگا نہ انہوں نے مجھے کچھ دیا۔ ان میں سے بعض لوگوں کے ساتھ میرے بہت دوستانہ تعلقات رہے وہ میرے گھر کے چھوٹے سے ڈرائینگ روم میں متعدد بار آئے مگر زندگی کے اتنے برس گزارنے کے بعد اب مجھے خدا کے حضور پیش ہونا ہے میرے نامہ¿ اعمال میں بہت سی کوتاہیاں ہیں مگر حکمرانوں سے کچھ لینے دینے کا صفحہ ہمیشہ سے خالی ہے۔ ہارون آباد میں اپنے والد کی طرف سے ملنے والی زمین جو شاید ساڑھے تین مربع تھی بیچنے کے بعد بہاولنگر کے گھر صادق آباد میں الاٹ شدہ زرعی زمین اخبار نکالنے میں یہ سب کچھ بک گیا۔ پنجاب سندھ کے پی کے اور بلوچستان کے علاوہ کشمیر میں بھی میری ایک انچ زمین ہے نہ کوئی دوسری جائیدادحتیٰ کہ دنیا کے کسی بھی ملک میں نہ میری کوئی جائیداد ہے اور نہ بنک بیلنس اور انشاءاللہ خدا کے حضور پیش ہوں گا کہ کندھوں پر یہ بوجھ ہرگز نہیں ہو گا۔ میں یہ عرض کرنا بھی ضروری سمجھتا ہوں کہ میں نے آج تک کسی دوسرے ملک کی شہریت بھی حاصل کی نہ اقامہ نہ وظیفہ نہ گرانٹ اور نہ ہی کوئی چیئرٹی۔ سیاست میں جتنے لوگ زندہ ہیں وہ مجھے ایک ہزار الزام دے سکتے ہیں لیکن لوٹ مار کی کرپشن ناجائز طریقے سے پراپرٹی کا کوئی الزام مجھ پر نہیں مجھے افسوس ہے کہ نواز شریف بارے اس تحریر میں تفصیل سے یہ تذکرہ کرنا پڑا کیونکہ برسوں سے میں لوگوں کے یہ طعنے سنتا رہا کہ بتائیں نواز شریف اور اس کے ساتھیوں اور دیگر حکومت سے مجھے کیا مالی منفعت ہوتی تھی جو میں نے اس کا ساتھ دیا۔ یہ بھی ایک زمانے میں مشہور ہوا کہ روزنامہ ”خبریں“ بھی نواز شریف کے پیسے سے نکالا گیا حالانکہ اس میں رتی بھر صداقت نہیں یوں بھی نواز شریف کو ہر اخبار جگہ دیتا تھا اور آج بھی دے رہا ہے اسے مجھ جیسے اکھڑ مزاج شخص کو کوئی پیسہ دینے کی کیا ضرورت۔ آگے بڑھنے سے پہلے میں ایک بار پھر یہ بات واضح کردوں کہ نواز شریف کے بعد میں نے ا یک بار پھر ایک شخص پر اپنی توجہ لوٹائی ہے اور وہ ہے عمران خان۔ مجھے عمران سے بھی کچھ نہیں چاہیے۔ اس کی پارٹی جانے اور وہ جانے لیکن 20 سال پہلےاس میز پر سامنے والی کرسی پر وہ ساری رات بیٹھا رہا تھا اور مہینوں کی کوشش کے بعد میں نے اسے قائل کیا تھا کہ سیاست میں آﺅ۔ خدا کرے نواز شریف کرپشن کے تمام الزامات سے بری ہو جائے۔ مجھے اس کی ذات سے بھی کچھ نہیں چاہیے تھا۔ میں آج بھی اسے اپنا پرانا دوست سمجھتا ہوں حالانکہ وہ میرا نام سن کر کانوں کو ہاتھ لگاتا ہے۔ چند سال پہلے ایک مشترکہ دوست نے بتایا کہ ایک روز جاتی عمرہ میں کسی مسئلے پر میرا یعنی ضیاشاہد کا ذکر چھڑ گیا۔ میاں صاحب پہلے تو خاموش رہے پھر بولے ضیا شاہد کی بات چھوڑو میں تو اپنے بچوں سے بھی کہتا ہوں کہ ان سے دور رہو کیونکہ نہ ان کی دوستی اچھی نہ ان کی دشمنی اچھی۔ میں آج بھی عمران خان کے بارے میں خوش فہمی رکھتا ہوں کہ وہ پاکستان میں کرپشن سے پاک نظام حکومت لانے کا دعویٰ کرتا ہے میرے خیال میں اسے موقع ملنا چاہیے چونکہ میری معلومات کے مطابق وہ کرپٹ نہیں ہے البتہ میں اسے بھی فرشتہ نہیں سمجھتا بلکہ انسان سمجھتا ہوں اس سے غلطیاں ہو سکتی ہیں مگر اس کی نیت ٹھیک ہے اور مجھے ان سے بڑی امیدیں ہیں۔نواز شریف مجھے ملنا بھی پسند نہیں کرتا اور مجھے اس سے ملنے کا کوئی شوق بھی نہیں ہے۔ مگر میرا پرانا دوست کسی دن آنکھیں بند کر کے بیٹھ جائے اور دل پر ہاتھ رکھ کر میرے سوال کا جواب دے۔ کہ ضیاشاہد نے تم سے کچھ مانگا تھا کچھ لین دین ہواتھا۔ کیا وہ ایک آئیڈلسٹ نہیں تھا جو نواز شریف کے عروج کے دور میں اپنے خوابوں کا پاکستان چاہتا تھا۔ قائداعظم کا وہ پاکستان جس کے بارے میں میرے حقیقی لیڈر اور بانی پاکستان نے کہا تھا کہ میرے بنائے ہوئے پاکستان میں غریب کو روٹی، مظلوم کو انصاف اور محروم کو چھت نہیں ملتی تو مجھے ایسا پاکستان نہیں چاہیے۔ نواز شریف !آﺅ قرآن پاک پر ہاتھ رکھ کر کہو کیا ہم نے گھنٹوں اس خواب کے بارے میں باتیں نہیں کی تھیں۔عہد نہیں کیے تھے پھر یہ پانامہ لیکس اور آف شور کمپنیاں اور لندن کے فلیٹس کہاں سے آگئے۔ دنیا کی عدالتیں شاید تمہیں چھوڑ دیں مگر میرے دوست! کیا ضمیر کی عدالت میں بری ہو جاﺅ گے؟ جس دن ضمیر کی عدالت سے بری ہو جاﺅ کسی پی اے سے کسی سرکار سے نہ کہنا میرے فون پر براہ راست حکم دینا ضیاشاہد میں ضمیر کی عدالت سے بری ہو گیا ہوں آﺅ اور ایک اچھے اور صاف ستھرے پاکستان کے لیے میرا ہاتھ بٹاﺅ اور نواز شریف! ا گر تم لاہور میں ہوئے اور آدھ گھنٹے میں‘ میں تمہارے پاس نہ پہنچ جاﺅں تو میرا نام بدل دینا اور میں یہ بات تمہارے برادرخورد شہباز شریف کی طرح نہیں کہہ رہا جو اتنی بار کہہ چکے ہیں کہ فلاں کام نہ کیا تو میرا نام بدل دینا اور لوگ مذاق میں کہتے ہیں کہ حساب کیا جائے تو اب تک شہباز کے نام بارہ چودہ مرتبہ تبدیل ہو چکے ہونے چاہئیں۔بہت برس بعد جب میں نے” خبریں“ کا اجرا کیا تو بھی اس کے لئے وسائل جمع کرتے ہوئے نواز شریف سے کوئی مدد لی اور نہ اس سے کوئی سرکاری سہولت حاصل کی۔ یاسمین کو 19ویںگریڈ کی ملازمت سے فارغ ہونے کے بعد میرے دوست کرامت علی خان (جو سیکرٹری اطلاعات بھی رہے) نے 18 گریڈ کی ملازمت دی جس پر اس صابر اور شاکر خاتون نے اُف تک نہ کی۔ کرامت صاحب بولے ضیاصاحب! میں اتنا ہی کر سکتا ہوں اگر کوئی سپیشل کنٹریکٹ دے سکتا ہے اور جتنی چاہے تنخواہ مقرر کر سکتا ہے تو وہ نواز شریف ہے جاﺅ اور اس سے کہو۔ میں نے کہا بہت شکریہ میں نواز شریف کے پاس نہیں جاﺅں گا نہ کچھ مانگوں گا میں نے اپنی دوستی کی بنیاد کسی غرض اور کسی مطلب پر نہیں رکھی۔ ایک بار جب مرحوم میر خلیل الرحمن کے کہنے پر میں دوبارہ جنگ سے منسلک ہوا تو جم خانہ لاہور کے بالمقابل مال روڈ پر اتفاق لمیٹڈ کے دفتر کی ایک عمارت ہوا کرتی تھی۔ جب انسان ایک غلطی کرتا ہے تو بار بار آ کر فریقین جوں کے توں موجود ہوں تو دوسری غلطی بھی ہو جاتی ہے۔ اس بلڈنگ میں میٹنگ روم میں اجلاس ہوا ایک اخبار کا منصوبہ زیر بحث آیا جو مجموعی طور پر نواز شریف اور آئی جی آئی کو سپورٹ کرے گا۔ میں نے اس میٹنگ میں شمولیت کے دوران سنا کہ اس کمپنی کے ڈائریکٹر پرویز الٰہی، ہمایوں اختر، چوہدری اقبال گجر، شہباز شریف اور کچھ دیگر مسلم لیگی ہونگے لیکن اچانک دروازہ کھلا اور جنرل حمید گل فوجی وردی میں ملبوس اندر داخل ہوئے۔ ان کے بغل میں سٹک (چھڑی) تھی اور لہجہ تحکمانہ ،انہوں نے کہا آپ یہاں کیا وقت ضائع کر رہے ہو۔ نئے الیکشن کا اعلان ہونے والا ہے ماڈل ٹاﺅن پہنچو کسی اور جگہ سے ہوکر میں بھی وہاں پہنچتا ہوں۔ وہ ان دنوں ملتان کے کور کمانڈر ہوتے تھے ان کے جانے کے بعد مجلس برخواست ہوگئی۔ صرف شہباز صاحب اور میں بیٹھے رہے۔ میں نے کہا جناب مجھے اجازت ہے۔ انہوں نے کہا آپ نے اتنا کام کیا ہے۔ کمپنی نہ سہی میں تمہیں فنانسر دیتا ہوں۔ انہوں نے گھنٹی بجا کر ایک چھوٹے قد کے ایک شخص کو بلایا جو سفید شلوار قمیض میں ملبوس تھا۔ شہباز بولے بھٹی! ”توں اخبار تے کچھ پیسہ لاویں گا“۔ ان دنوں وہ وہاڑی سے ا یم این اے اور پنجاب میں دوائیں سپلائی کرنے کے حوالے سے میڈیسن کنگ کہلاتے تھے۔ انہوں نے میرا ہاتھ پکڑا اور کہا ا پنی گاڑی کی چابی میرے بندے کو دے دو اور میرے ساتھ بیٹھو، یوں اکبر علی بھٹی صاحب کا اخبار ”پاکستان“ نام رکھنے‘ عمارت بنوانے‘ بیرون ملک سے مشینری منگوانے سے لے کر سٹاف کی تین ماہ تک ٹریننگ کرنے کے کام میں کم و بیش ایک سال مصروف رہنے کے بعد میں نے ”پاکستان“ اخبار نکالا جو زبردست کامیابی کی کہانی تھا لیکن صرف چار ماہ سترہ دن یہ اخبار نکلا اور ایک لاکھ کی تعداد سے زائد چھپنے لگا تو نواز شریف وزیراعظم بن چکا تھا۔ چین کے دورے میں بطور ا یڈیٹر دوسرے صحافیوں کے ساتھ میں بھی بیجنگ گیا۔ واپس آیا تو اکبر علی بھٹی آگ بگولا ہو رہا تھا اس نے کہا پیسہ میرا اور سیریں تمہاری۔ آپ میری بجائے وزیراعظم کے ساتھ کیوں گئے میں نے حیرت سے ا س کی طرف دیکھا اور کہا بھائی آپ ایم این ا ے ہیں کئی ایم این اے بھی ساتھ گئے تھے آپ کی پارٹی ہے جتنے چاہیں دورے کریں یہ تو چیف ایڈیٹر کے طور پر مجھے بلایا گیا تھا۔ موٹا اور چھوٹے قد کا بندہ بولا میں خود چیف ایڈیٹر بنوں گا۔ میں نے کہا مجھے جہاز میں پتا چل گیا تھا کہ آپ نواز شریف کے پاس میری شکایت لے کر گئے تھے کہ میں جو خبر چھپوانا چاہتا ہوں ضیاشاہد انکار کرتا ہے۔ بھٹی صاحب! میں نے نواز شریف کو بتایا تھا کہ جو آپ کا ٹینڈر منظور نہیں کرتا آپ اس کے خلاف ذاتی کردار کشی پر مبنی ایسی خبریں چھپوانا چاہتے تھے جس کے نتیجے میں اخبار پر ہتک عزت کا کیس بن سکتا ہے اور اخبار مقدمہ ہار سکتا ہے کیونکہ ایسے مضحکہ خیز الزامات کا کوئی ثبوت نہیں ہوتا۔ نواز شریف جواب میں خاموش رہا تھا اور جہازمیں وزیراعظم کے مخصوص کیبن میں اس نے مجھے کہا تھا ضیاصاحب! اس نے پیسہ لگایا ہے کوئی فائدہ تو حاصل کرے گا۔ میں نے کہا اخبار پر کیس تو چیف ا یڈیٹر کو بھگتنا پڑے گا۔ اخبار کے مالک کو نہیں۔ میں پیشہ ورانہ دیانت کے مطابق اخبار چلا رہا ہوں By and Large اخبار مسلم لیگ ن کی حمایت کرتا ہے۔ بھٹی صاحب نے مجھ سے وعدہ کیا تھا کہ وہ اخبار کے دفتر میں نہیں بیٹھیں گے۔ اب انہوں نے اخبار کے صحن میں اپنا کمرہ بنوا لیا ہے اور سارا دن اس ”وہاڑی ہاﺅس“ میں ان کے ووٹر آتے رہتے ہیں میں اخبار چھوڑ دوں گا لیکن اکبر علی بھٹی میٹرک پاس ہے یا نہیں پنجاب حکومت کا سب سے بڑا میڈیسن ڈیلر ہے۔ جعلی ٹینڈر بھرنے میں ان کا جواب نہیں لیکن وہ دوبارہ پیدا ہو جائے تو بھی اخبار نہیں چلا سکتا۔ یہ کہہ کر میں وزیراعظم کے کیبن سے نکل کر اپنی سیٹ پر آ کربیٹھ گیا۔ پاکستان واپسی پر مجھے دفترجانا تھا لہٰذا میں نے آفس کی گاڑی ہنڈا اکارڈ کی چابی بھٹی صاحب کے سپرد کی یہ اخبار بڑی محنت سے میں نے نکالا تھا اس لئے مشورے کے طور پر کہا کہ میری نوکری کوئی مسئلہ نہیں۔ میں نے پھر وہی جملہ ادا کیا جو ”جنگ“ کے بارے میں کہا تھا کہ میں جنگ میں پیدا نہیں ہوا تھا اس طرح ”پاکستان “سے جانے کے بعد بھی جب تک خدا کو منظور ہے میں صحافی رہوں گا شاید اس سے بہتر کوئی نوکری مجھے مل جائے۔ میں نے گھر سے ا پنی ذاتی گاڑی ٹیوٹا منگوائی اور بھٹی صاحب سے ہاتھ ملا کر وہ دفتر چھوڑ دیا جس کی تعمیر بھی میں نے اپنے سامنے کرسی پر بیٹھ کر کروائی تھی۔ میں نے کہا تھا کہ بھٹی صاحب اس میں اپنا نام ضرور لکھوا لیں لیکن سٹاف کی کوئی تبدیلی نہ کریں مگر بھٹی صاحب نے آنے والے چند برسوں میں آٹھ ایڈیٹر بدلے اور آخری ایڈیٹر ایک اخبار کے کرائم رپورٹر کو بنا دیا چونکہ بھٹی صاح کو تھانوں میں بہت کام پڑتا تھا بالآخر بینک کے قرضوں کے باعث اسے ان شرائط پر بیچ دیا کہ جو آئے اس کا قرضہ اپنے نام کروا لے شکر ہے میرے پرانے دوست مجیب الرحمن شامی نے اس ڈوبتی ہوئی کمپنی کو خرید لیا۔ وہ مجھ سے زیادہ اہل ہیں کہ وہ نواز شریف سے کوئی بھی کام لے سکتے ہیں۔ موجودہ اخبار ان کی محنت سے چل رہا ہے۔  میں نے یہ ساری داستان اس لئے سنائی کہ روزنامہ” خبریں“ کے اجراءمیں بھی نہ نواز شریف کی کوئی حمایت حاصل تھی اور نہ میں نے کبھی ان سے مدد کی درخواست کی۔ اس کے باوجود ”خبریں“ نے تحریک نجات کے زمانے میں بینظیر بھٹو حکومت کے خلاف نواز شریف کا تنہا ساتھ دیا کہ برس ہا برس گزرنے کے باوجود تحریک نجات کے دنوں میں کی جانے والی اخباری تشہیر یعنی پبلسٹی کے بل جو شاید 64 لاکھ سے اوپر تھے ابھی تک مسلم لیگ ن نے ادا نہیں کئے حالانکہ یہ اشتہارات پرویز رشید نے جو پی ٹی وی کے سربراہ بھی بنے اور بعد ازاں وفاقی وزیر اطلاعات بھی رہے پانچ محل میں” خبریں“ کے دفتر میں بیٹھ کر بنواتے تھے اور ہماری ہی فیکس مشین پر دوسرے اخباروں کو بھجواتے تھے۔ کمپوز ہم کرواتے تھے کوئی اخراجات نہیں لیتے تھے اس کے باوجود یہ 64 لاکھ روپے کا بل صرف ”خبریں “کو نہیں ملا۔ اس سے زیادہ رقم کے تحریک نجات کے تمام اشتہاروں کے بل دوسرے اخبارات کو ادا کئے گئے۔ جب بھی میں پوچھتا کہا جاتا کہ” آپ تو اپنے آدمی ہیں کچھ دیر ٹھہر جائیں“۔ اس اپنے آدمی کو برس ہا برس گزرنے اور تین بار وزیراعظم رہنے کے باوجود مسلم لیگ ن سے ا شتہارات کی رقم ادا نہیں کی گئی۔ اب میں نے اپنے اکاﺅنٹ آفس سے کہا ہے کہ ایک بار پھر مسلم لیگ ن کے نئے سربراہ شہباز شریف کو یہ بل بھیج دیں کیونکہ اس بات سے سبھی واقف ہیں۔ نواز شریف بھی شہباز شریف سب سے بڑھ کر پرویز رشید بھی اور مشاہد حسین بھی جو بعد ازاں وزیر ا طلاعات بھی رہے اور میں نے ا ن کے پاس جا کر بھی کئی بار یاد دلایا۔ مجھے پنجاب حکومت یا وفاقی حکومت سے کوئی شکایت نہیں۔ ہمارے ہاں جو اشتہارات چھپتے ہیں ان کی باقاعدہ ادائیگی ہوتی ہے میں تو مسلم لیگ ن کی بطور پارٹی شکایت کر رہا ہوں کہ اس جماعت نے کسی وجہ کے بغیر اس اخبار کا بل ادا نہیں کیا جس کی تحریک نجات میں اس کے ا یڈیٹر نے پارٹی کے کارکن کی حیثیت سے کہ اسے سربراہ کی طرف سے خود اس کی خواہش کے پیش نظر کچھ عرصے کے لیے پارٹی کی مرکزی مجلس عاملہ کا رکن بھی بنایا گیا اور ایک بار پارٹی سربراہ نے مزید عزت دینے کے لئے نائب صدر بنانے کی خواہش کا اظہار بھی کیا جسے ہمارے ایک اور دوست اور مہربان چودھری شجاعت حسین نے بحیثیت صدر پنجاب یہ کہہ کر رکوا دیا کہ ابھی انتظار کریں۔ میں نے اس پارٹی میں جانے کی غلطی کی البتہ برسوں بعد جب پرویز رشید کی مہربانی سے یہ خبر چھپی کہ کسی اصول قاعدے کے بغیر کسی شوکاز نوٹس کی عدم موجودگی میں اچانک اسے مرکزی مجلس عاملہ سے الگ کر دیا گیا ہے تو میں کبھی نواز شریف کے پاس جا کر احتجاج کے لئے گیا اور نہ کوئی شکایت کی۔ پاکستان میں پارٹی نہیں ہوتی شاہی خاندان ہوتے ہیں۔ جس طرح مولانا فضل الرحمن مفتی محمود کے صاحبزادے جمعیت علمائے اسلام کے بادشاہ، اسفند یار ولی عبدالولی خان کے صاحبزادے اے این پی کے بادشاہ مسلم لیگ ق کے بادشاہ چودھری شجاعت حسین پیر پگاڑا کی مسلم لیگ کے بادشاہ مردان علی شاہ اور اب ان کے صاحبزادے بادشاہ، ایم کیو ایم کا تخت و تاج بانی تحریک کے پاس، عبدالصمد اچکزئی کے بعد ان کا بیٹا محمود اچکزئی، پاکستان پیپلز پارٹی کا تاج بلاول بھٹو کے سر جو بھٹو صاحب کی بیٹی کے فرزند، بھٹو صاحب کے بیٹے سڑک پر مارے گئے البتہ پارٹی کا ”سرمایہ“ بھٹو کا دامادزرداری۔ شاہ احمد نورانی چل بسے تو آج کل سوشل میڈیا پر ان کے بیٹے انس نورانی کا سکہ جمایا جا رہا ہے۔ یہ سیاسی جماعتیں ہیں یا رائل فیملیز یعنی شاہی خاندان اور اب نواز شریف کی جگہ اصلی بادشاہت مریم نواز کے پاس کہ ان کے دونوں بیٹے قانون کی نظر میں مفرور، سمدھی اسحاق ڈار خزانے کے مدارالمہام۔ نااہلی کے باعث پارٹی صدربمشکل دینا پڑا تو بھی نواز شریف کا بھائی شہباز نیا پارٹی سربراہ۔ پچھلے دنوں نواز شریف نے کہا کہ انہیں پاکستان کی حالت بدلنے کے لیے مزید 20/25 برس درکار ہیں۔ اگر جناب پرویز رشید صاحب بھٹو کو پھانسی لگوانے کے بعد اگلے سیاسی مشن میں کامیاب ہو گئے تو شریف فیملی تو حاضر ہے۔ ہم کیا اور آپ کیا اس ملک کے عام عوام تو نالیوں میں گندگی کھانے والا وہ کیڑا ہیں جن کی کیا مجال کہ کسی بھی شاہی خاندان کے آگے وہ سر اٹھا کر بات بھی کر سکے۔ یہ تھوڑی بہت اور بچی کھچی گھاس پر منہ مارتے ہوئے ڈھور ڈنگر، کیا کبھی ان کا دور بھی آئے گا؟ معلوم نہیں نواز شریف اور پرویز رشید جب کبھی اللہ کی بارگاہ میں حاضر ہوں گے کہ میری عُمر اِن سے زیادہ ہے میں شاید ان سے پہلے چل بسوں لیکن نواز شریف اور آج کے پارٹی صدر اور مسلم لیگ اس سوال کا جواب ضرور سوچ لیں کہ آپ نے جو دینا ہے جس کا وعدہ کیا گیا تھا اسے کس بنیاد پر اتنے برسوں روکا۔ صرف اس لیے کہ وہ شخص یا ادارہ آپ کے خلاف ہرگز ہرگز کوئی مقدمہ لڑنا چاہتا ہے اور نہ کوئی سکینڈل بنانا چاہتا ہے۔ مگر جب تحریک نجات کے دنوں میں چھپنے والے اشتہارات کا 64لاکھ سے زیادہ بل کا معاملہ اوپر پیش ہوا تو میں نے اپنے ادارے کا معاملہ خدا تعالیٰ کے سپرد کیا ہوا ہے البتہ دنیا میں ادائیگی تحریک نجات کے زمانے کے بل 64 لاکھ آج دو ہزار اٹھارہ میں کیا ویلیو ہوگی۔ نماز، حج، روزہ اور زکوٰة کے مجھ سے کہیں زیادہ پابند لوگو! یہ ضرورسوچ لیں کہ یہ کوئی وجہ ہے کہ میاں صاحب آپ سے ناراض ہیں پہلے ان سے معافی مانگو پھر سب کچھ مل جائے گا۔ کس بات کی معافی جناب! کیا میں نے کوئی اخلاقی جرم کیا۔ میرے دوست میاں اظہر ن لیگ سے نکالے گئے وہ اکثر کہا کرتے تھے کہ نواز شریف کو دوستوں اور ساتھیوں کی ضرورت نہیں بلکہ اسے تیل مالشیے چاہئیں۔ یہ سطریں لکھنے والا کچھ نہیں چاہتا جناب! اللہ کے سامنے میں بھی پیش ہوں گا اور آپ بھی پیش ہوں گے بس اس سے پہلے کوئی شکوہ نہیں جناب!!!ایک اور پرانا واقعہ بھی ملاحظہ کریں۔ نواز شریف وزیراعلیٰ بننے کے بعد پہلی بار وزیراعظم بنا تو ایک واقعہ ضرور عرض کروں گا۔ مجھے ان کے ایک معتمد نے فون پر دعوت دی اور کہا میاں صاحب نے یاد فرمایا ہے۔ اسلام آباد میں وزیراعظم ہاﺅس کے اندر حلف برداری کی تقریب کے بعد ان سے ملاقات کا اہتمام کیا گیا ہے میں ایک شام پہلے اسلام آباد پہنچا تو معلوم ہوا میریٹ میں مسلم لیگ کی طرف سے نواز شریف کو وزیراعظم نامزد کیا جا رہا ہے۔ میریٹ کے لاﺅنج میں داخل ہوا تو ہمیشہ سے یہاں ایک نمائشی گاڑی رکھی جاتی رہی ہے۔ میں شیشے کے دروازوں سے اندر داخل ہوا اور پوچھا نئے وزیراعظم کے لئے تقریب کہاں ہو رہی ہے۔ دو تین لوگوں نے بتایا انتظار کریں۔ وہ باہر آ رہے ہیں۔ میں ہال کی طرف جانے والے برآمدے کے اختتام پر کھڑا ہو گیا۔ کچھ دیر بعد نواز شریف باہرنکلا۔ اس کے ساتھ غلام مصطفی جتوئی نگران وزیراعظم بھی تھے دائیں طرف جناب شہباز شریف اور چوہدری نثار بھی تھے جونہی وہ قریب پہنچے تو میں نے آگے بڑھ کر مبارکباد دی۔ یہ واقعہ تحریک نجات سے پہلے کا ہے جب پہلی مرتبہ نواز شریف وزیراعظم بنا تھا۔ نواز شریف کا قافلہ قریب آیا میںنے سب سے ہاتھ ملایا۔ نواز شریف نے کہا ضیاصاحب! آپ نے ہمیشہ محبت کی ہے آئندہ بھی خیال رکھیے گا۔ آج خوشی کا دن بھی ہے اور بڑی ذمہ داری بھی آن پڑی ہے، آپ کو ئی مشورہ دیں۔اللہ شاہد ہے اس نے یہی کہا تھا اور خدا کو حاضر و ناظر جان کر وہی کہہ رہا ہوں جو میںنے اس دن کہا تھا۔ میں نے کہا جناب! اللہ نے آپ کو بہت بڑی عزت دی ہے۔ میرا مخلصانہ مشورہ ہے کہ صبح حلف اٹھانے کے بعد آپ اپنے اثاثہ جات اور کارخانوں کی تفصیل بتائیں اور اعلان کریںکہ آج کے بعد آپ ا پنے کاروبار میں کوئی توسیع نہیں کریں گے۔ اللہ نے آپ کو بہت کچھ دیا ہے۔ اب مزید کسی چیز کی آپ کو ضرورت نہیں۔ یہ اعلان تاریخی ہو گا کہ آج کے بعد چونکہ آپ حکومت میں ہیں لہٰذا کوئی مزید کاروبار نہیں کریں گے۔ سب سے پہلے جتوئی صاحب ہنسے۔ میں کراچی میں نوائے وقت کا ریذیڈنٹ رہا تھا اور اس زمانے میںان سے میری بہت دوستی ہوتی تھی وہ بولے ضیاصاحب! یہ آپ نے کیا کہہ دیا یہ کیسے ہو سکتا ہے میں تنگ برآمدے میں ان کا راستہ روکے کھڑا تھا اس لئے جلدی بھی تھی میںنے فوراً کہا جناب مجھے اندازہ ہے کہ شاید مشکل کام ہو لیکن اگر آپ نیک نیتی اور دیانتداری سے بھی بزنس جاری رکھیں گے اور نیا بزنس کریں گے تو یہ الزام عائد ہو گا کہ آپ حکومت میں ہونے کے سبب سرکاری محکموں سے رعایت لے رہے ہیں یا بنکوں سے قرضے پہ قرضہ مل رہا ہے۔ اللہ کا آپ پر بہت فضل ہے۔ آپ کاروبار میں مزید توسیع روک دیں۔ جب تک آپ سیاست میں ہیں۔ آپ سارے پاکستان کے حاکم ہیں اور منتخب وزیراعظم بن گئے ہیں۔ اب آپ کو دولت یا وسائل کی مزید ضرورت نہیں، نواز شریف نے حسب عادت کہ جب وہ کسی بات کا فوری جواب نہ دینا چاہے تو سوال دائیںبائیں لڑھکا دیتا ہے شہباز صاحب سے پنجابی میں کہا، ایہہ تُسیں ایہدا جواب دیو“۔ شہباز صاحب نے مختصر جواب دیا اور کہا ہم اپنا فیملی بزنس تو نہیں چھوڑ سکتے۔ کاش میرا دوست میری بات مان لیتا، واقعی اتفاق لمیٹڈ کے پاس اللہ کا دیا اتنا کچھ تھا کہ اس کی دس نسلیں بیٹھ کر کھا سکتی تھیں۔ میں الوداعی مصافحہ کر کے ایک طرف ہٹ گیا اور قافلہ بیرونی دروازے کی طرف بڑھ گیا مجھے اچانک ڈپریشن محسوس ہونے لگی۔ میں قریب رکھی ہوئی کرسیوں پر بیٹھ گیا اس وقت تک مجھے نواز شریف سے واقعی بڑی محبت تھی۔ میں نے انسانی اور بالخصوص اسلامی تاریخ کا بغور مطالعہ کیا تھا میںنے مقدمہ ابن خلدون بار بار پڑھا تھا۔ میں مسلم سکالرز کے اس فلسفے سے بھی آگاہ تھا کہ تاجر کو کیوں حکمران نہیں بنانا چاہیے۔ میں بینظیر بھٹو کی مخالفت ہی میں سہی مگر پنجاب کے وزیر اعلیٰ اور ان کی حکومت کی پلاٹوں اور نوکریوں اور وسائل رزق کی بری طرح بندر بانٹ سے پوری طرح آگاہ تھا مگر میں کچھ بھی نہیں کر سکتا تھا میں نہیں چاہتا تھا کہ میرا دوست جس میں بہت سی خوبیاں تھیں اس آزمائش میں ناکام ہو۔ میری خواہش تھی کہ وہ نظام کو درست کرے میرٹ کو آگے لائے۔ حلال اور حرام کے درمیان لکیر کھینچے۔ میں ایک لوئر مڈل کلاس سے مڈل کلاس میں آنے والا ایک سیلف میڈ انسان آنکھیں بند کر کے سوچ رہا تھا کہ اس ملک کو تباہی سے بچانے کے لئے نواز شریف ایک بڑا کردار ادا کرسکتا ہے۔ ایوب خان یحییٰ خان ضیاءالحق کی نسبت اتفاقاً مجھے اس کی قربت مل گئی تھی۔ مجھے کوئی رشتہ دار طعنہ دیتا کہ تو نالائق پُتر ہے۔ حنیف رامے ضیاءالحق نواز شریف تیرے کتنے جاننے والے ملک اور صوبے کے حاکم بنے مگر تو نے باپ دادا کی زمین بھی بیچ دی نہ کوئی نئی زمین الاٹ کروائی نہ گھر بنائے نہ پراپرٹی‘ تو میں یہ سوچ کر خوش ہوتا کہ میں نے اپنے بچوں کے رزق میں حرام کی آمیزش نہیں کی۔ میں آئیڈیلسٹ تھا کاش میرا دوست نواز شریف بھی ماضی میں مسابقت کی بنیاد پر مجبوراً سرکاری سہولتیں اور سرکاری مراعات من پسند لوگوں میں بانٹنے کی بجائے سسٹم کی اصلاح کرتا تو ہم بینظیر دورکی کوتاہیوں سے سبق حاصل کرتے ہوئے ظلم و ناانصافی سے بچ سکتے تھے ا ور ملک کو بچا سکتے تھے اور میرا دوست تو یکسر نہ بدلا تھا اور نہ بدلنے کی کوئی خواہش اس میں مجھے محسوس ہوئی۔ رات بھر پریشانی رہی اگلے دن میں بوجھل دل سے نواز شریف کی تقریب میں شامل ہوا۔ انسان بھی عجیب مخلوق واقع ہوئی ہے۔ قدرت کا نظام ایسا ہے کہ بار بار امید ٹوٹتی ہے اور پھر بندھ جاتی ہے۔ میں دھکم پیل میں زبردستی ہاتھ ملانے کا کبھی شوقین نہیں رہا۔ میں ایک کرسی پر بیٹھ گیا اور گردوپیش منایا جانے والا جشن دیکھتا رہا۔ نواز شریف مصافحہ کرنے کے لیے میری طرف آیا اس کے ساتھ اس وقت پی ٹی وی کا ایم ڈی انور حسین تھا جو ذاتی طور پر بھی میرا جاننے والا تھا۔ نواز شریف نے مجھ سے ہاتھ ملاتے ہوئے کہا ضیاصاحب! ہمیں اس ملک کی اکانومی ٹھیک کرنی ہے، نواز شریف نے کہا انور صاحب پی ٹی وی کا ایک ہفتہ وار پروگرام شروع کرو ”معیشت کی بحالی“ اور ہر شعبے میں جو نقصان ہو چکا ہے اس پر لوگوں سے رائے لو اور مستقبل کے لیے ٹیکنیکل پروفیشنل لوگوں سے رائے مانگو۔ میری تجویز ہے کہ یہ پروگرام ضیاشاہد سے کرواﺅ۔ انور حسین نے اثبات میں سرہلایا اور میرا ہاتھ پکڑ کر بولا ضیاصاحب! آپ نے یہ پروگرام کرنا ہے اور ہم ایک سال تک ہر ہفتے اس پروگرام کو چلائیں گے۔میں نے کہا کہ ہم سب انسان ہیں غلطیوں کے پتلے بار بار دھوکے کھانے والے۔ مجھے نواز شریف کی بات پسند آئی واقعی اس ملک کو معاشی طور پر مضبوط بنانا ضروری ہے پورا ایک سال میں لاہور ٹی وی سے مختلف اخباروں میں نوکری کے باوجود یہ پروگرام کرتا رہا۔ میں گناہگار انسان ہوں مگر میری ماں کی تربیت ہمیشہ میرے ذہن پر چھائی رہی میں نے فوراً سوچا کہ میں اس پروگرام کے لئے کوئی معاوضہ نہیں لونگا اور نیک نیتی سے قومی جذبے کے طور پر اس ملک کی خدمت کروں گا۔ اشرف عظیم صاحب لاہور ٹی وی میں کرنٹ افیئر کے ڈائریکٹراور ضیاءالرحمن امجد بطور پروڈیوسر مجھے ملے۔ جہاں تک مجھے یاد پڑتا ہے کہ اس ہفتہ وار پروگرام کا معاوضہ 1500 روپے ملتا تھا۔ میں نے حبیب بنک ڈیوس روڈ پر الگ اکاﺅنٹ کھلوایا اور ضیاءالرحمن امجد صاحب کے علاوہ پی ٹی وی کے تین چار کارکنوں کو پتا تھا جن سے میں نے کہہ دیا تھا کہ یہاں کی آمدنی یہیں خرچ ہونی چاہیے، میری پیشکش ہمیشہ سے رہی کہ میں نے کبھی پی ٹی وی سے ملنے والی رقم کبھی استعمال نہیں کی۔ کسی کارکن کی بچی کی شادی ہو یا بچوں کے لیے تعلیمی اخراجات کے لیے ضرورت۔ میں شاید پانچ سات برس تک حبیب بنک ڈیوس روڈ کے اس اکاﺅنٹ سے بڑی خاموشی سے ضرورتمند لوگوں کی مدد کرتا رہا، میں کیا اور میری بساط کیا۔ ہم تو ا تنے ہی جوگے تھے مگر جن کو ہم نے اختیار اور اقتدار دیا ان کی غلط بخشیاں برسوں سے گلی گلی مشہور ہیں۔ ہر بار ا لیکشن ہوتا ہے تو بے شمار لوگوں کی طرح میرے دردمند دل سے بھی یہ دعا نکلتی ہے یا ا للہ ایسے حکمران آئیں جو عدل و انصاف پر مبنی نظام لا سکیں۔ وہ نظام جن کے لیے قائداعظم نے وعدہ کیا تھا کہ اس ملک کو اسلامی فلاحی ریاست بنائیں گے۔ میں گناہوں کی پوٹ ہوں نیکوکار لوگوں کے مقابلے میں ایک منٹ بھی کھڑا نہیں ہو سکتا۔ اللہ مجھے معاف کرے مگر اللہ کی ذات گواہ ہے کہ اس عاصی اور قصوروار نے ہمیشہ اس بات پر عجز و انکسار اختیار کیا کہ یااللہ مجھے کسی مالی لوٹ کھسوٹ اور بددیانتی سے بچانا حاکموں کی ہر بدعنوانی پر میرا دل کڑھتا ہے۔ مجھے حضرت عمرؓ اور حضرت عمر بن عبدالعزیز کی خلافت کے واقعات یاد آئیں تو میں کانپ اٹھتا ہوں۔ میرا دوست محمد نواز شریف واقعی ایک معصوم آدمی تھا اس کا دل واقعی ایک شفاف آئینے کی طرح تھا۔ میرا بس چلتا تو میں اسے لوٹ کھسوٹ کی دلدل میں دھنسنے سے بچا لیتا۔ اس میں بڑی صلاحیت تھی وہ مجھ سے زیادہ نمازیں پڑھتا تھا اللہ اور رسول کا سچا عاشق تھا مگر میرا دوست اس بری طرح اس مکرو فرویب کے نظام میں بے دست و پا کر دیا گیا مگر میں اسے بچانے کے لئے کچھ بھی نہ کرسکا۔


سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں




دلچسپ و عجیب
کالم
آپ کی رائے
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved