تازہ تر ین

وقت آ گیا پاکستان ، افغانستان ملکر خطے میں امن تلاش کریں ، آرمی چیف

کابل (مانیٹرنگ ڈیسک) چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ، افغان صدر سے ملاقات کر کے وطن واپس پہنچ گئے۔ پاک فوج کے شعبہ برائے تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق جنرل قمر جاوید باجوہ نے اپنے دورے کابل کے دوران افغان صدر اشرف غنی سے ون آن ون ملاقات کی اور ان سے وفد کی سطح رپر بھی بات ہوئی یہی نہیں سپہ سالار نے اتحادی افواج کے سربراہ جنرل نکولسن، افغان چیف ایگزیکٹو ڈاکٹر عبداللہ عبداللہ سے بھی ملاقات ہوئی جبکہ آرمی چیف امن اقدامات پر افغان حکام کو مبارکباد دی۔ سیکرٹری خارجہ، ڈی جی آئی ایس آئی بھی ملاقات میں موجود تھے۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر)کی جانب سے جاری بیان کے مطابق آرمی چیف جنرل قمرجاوید باجوہ افغان صدر کی دعوت پر منگل کو کابل پہنچے جہاں انہوں نے اشرف غنی سے ملاقات کی ہے۔ ملاقات میں باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔افغان صدر سے ملاقات میں پاکستان افغانستان ایکشن پلان فار سولیڈیرٹی پر عمل درآمد کے علاوہ دوطرفہ تعلقات اور خاص طور پر امن و مصالحت کی کوششوں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔جنرل باجوہ کی کابل روانگی سے قبل پاکستانی فوج کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور نے ٹوئٹر پر ایک پیغام میں کہا ہے کہ پاکستان افغانستان کی اتحادی حکومت، امریکہ اور نیٹو فورسز کی طرف سے ملک میں قیامِ امن کی کوششوں کی کامیابی کا خواہاں ہے۔پاکستان اور افغانستان کے درمیان تعلقات اتار چڑھاو کا شکار رہتے ہیں تاہم دو طرفہ رابطوں میں حالیہ مہینوں میں بہتری آئی ہے۔مئی کے اواخر میں افغانستان کے ایک اعلی سطحی وفد نے پاکستان کا دورہ کیا تھا جس میں افغانستان کے قومی سلامتی کے مشیر حنیف اتمر، انٹیلی جنس ادارے این ڈی ایس کے سربراہ معصوم استنکزئی، فوج کے سربراہ محمد شریف یفتالی اور وزیر داخلہ واعظ برمک بھی شامل تھے۔اس دورے میں افغان وفد نے پاک فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ کے علاوہ پاکستان کے قومی سلامتی کے مشیر لیفٹننٹ جنرل ریٹائرڈ ناصر جنجوعہ سے بھی ملاقات کی تھی۔اس ملاقات کے بعد فوج کے شعبہ تعلقات عامہ(آئی ایس پی آر)سے جاری ایک بیان کے مطابق جنرل قمر جاوید باجوہ نے افغان وفد سے کہا تھا کہ طویل تنازعات سے دونوں ممالک کو بھاری نقصان اٹھانا پڑا اور اب وقت آ گیا ہے کہ پاکستان اور افغانستان مل کر خطے میں امن کا راستہ تلاش کریں۔جنرل باجوہ کا کہنا تھا کہ دونوں ملکوں کو ایک دوسرے پر اعتماد ہونا چاہیے کہ وہ اپنی سرزمین کسی صورت ایک دوسرے کے خلاف استعمال ہونے نہیں دیں گے۔افغانستان میں امن و مصالحت کی کوششوں میں بھی حالیہ مہینوں کے دوران تیزی آئی ہے۔صدر اشرف غنی نے اقتدار میں آنے کے بعد پہلی مرتبہ رواں ماہ 20 جون تک افغان طالبان کے خلاف جنگ بندی کا غیر مشروط اعلان کیا ہے جس کے جواب میں طالبان کی طرف سے عیدالفطر کے موقع پر تین روز کے لیے حملے روکنے کے بیان سامنے آیا ہے۔گزشتہ ہفتے ہی امریکہ کے وزیرِ خارجہ مائیک پومپیو نے پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ سے ٹیلی فون پر رابطہ کر کے دیگر معاملات کے علاوہ جنگ سے تباہ حال افغانستان میں امن و مصالحت کی کوششوں پر تبادلہ خیال کیا۔امریکی حکومت کی ایک اعلی عہدیدار لیزا کرٹس نے گزشتہ ہفتے تصدیق کی تھی کہ امریکہ نے پاکستان سے کہا ہے کہ وہ طالبان کے ساتھ براہِ راست مذاکرات میں افغان حکومت کی مدد کرے،پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے افغان صدر اشرف غنی کی دعوت پر منگل کو کابل کا دورہ کیا۔

 


سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں




دلچسپ و عجیب
کالم
آپ کی رائے
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved