تازہ تر ین

پانی کا بحران اورمردہ ضمیر حکمران

جاوید ملک …. مساوات
روزنامہ خبریں میں شائع ہونیوالی ایک رپورٹ کےمطابق پانی کی سخت قلت کا سامنا کرنے والے ممالک کی عالمی فہرست میں پاکستان کا نمبر تیسرا ہے ۔ سن 2025 ءتک پاکستان میں پانی کی کمیابی کا مسئلہ سنگین تر ہو سکتا ہے۔ ماہرین کے بقول اس صورتحال میں حکام کو فوری ایکشن لینے کی ضرورت ہے ۔
عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی ایک تازہ رپورٹ کے مطابق بھی پانی کی سنگین قلت کے شکار ممالک کی فہرست میں پاکستان تیسرے نمبر پر ہے ۔ اقوام متحدہ کے ادارے یو این ڈی پی اور آبی ذخائر کے لیے پاکستانی کونسل برائے تحقیق (پی سی آر ڈبلیو آر) نے خبردار کیا ہے کہ سن دو ہزار پچیس تک یہ جنوب ایشیائی ملک پانی کے شدید بحران کا شکار ہو سکتا ہے ۔ پاکستان کے لیے اقوام متحدہ کے ہیومنیٹیرین کوآرڈینٹر نیل بوہنے کے مطابق پانی کے اس بحران کی وجہ سے پاکستان کا کوئی علاقہ بھی نہیں بچ سکے گا۔
محققین نے ایسے اندازے بھی لگائے ہیں کہ سن دو ہزار چالیس تک شہریوں کی پانی کی طلب کو پورا کرنے کے حوالے سے پاکستان شدید مشکلات کا شکار ہو سکتا ہے ۔ اس صورتحال میں کئی عالمی اداروں نے پہلی مرتبہ پاکستانی حکام کو خبردار کیا ہے کہ پانی کے بحران سے نمٹنے کے لیے فوری ایکشن نہ لیا گیا تو صورتحال قابو سے باہر ہو سکتی ہے ۔ کئی ماہرین نے تو یہ بھی کہہ دیا ہے کہ پاکستان میں پانی کا بحران دہشت گردی سے زیادہ بڑا خطرہ ہے ۔
ماہرین کے مطابق پاکستان میں تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی اور شہری علاقوں میں وسعت پانی کے بحران کی بنیادی وجوہات ہیں۔ اس کے ساتھ ماحولیاتی تبدیلیاں، پانی کی ناقص منیجمنٹ اور سیاسی عزم کی کمی نے اس معاملے کو زیادہ شدید کر دیا ہے ۔ موسمیاتی تبدیلوں کے نتیجے میں عالمی سطح پر حدت میں اضافہ ہو رہا ہے ۔ پاکستان کے اقتصادی مرکز کراچی میں گزشتہ مہینے میں گرمی کی لہر کے باعث 65 افراد مارے گئے تھے ۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان میں گرمی کی لہروں اور قحطوں کی وجہ ماحولیاتی تبدیلیاں ہی ہیں۔ ماہرین کے مطابق گزشتہ کچھ سالوں سے مون سون کے موسم کی پیشن گوئی مشکل ہو گئی ہے جبکہ ملک کے کئی علاقوں میں موسم سرما مختصر ہو گیا ہے ۔ ان کا کہنا ہے کہ ڈیموں کے نہ ہونے کی وجہ سے پاکستان بارش کے پانی کو ذخیرہ نہیں کر سکتااورپاکستان کو پانی کی ذخائر تعمیر کرنے کے لیے سرمایا کاری کرنا ہو گی۔
میڈیا رپورٹوں کے مطابق رواں ماہ کے دوران پاکستان میں پانی کے دو بڑے ذخائر منگلا اور تربیلا ڈیموں میں پانی کی سطح انتہائی خطرناک حد تک کم ہو گئی ہے ۔ ان خبروں پر سوشل میڈیا پر بحث جاری ہے لیکن حکام نے اس نئے بحران سے نمٹنے کی خاطر ابھی تک کوئی ایکشن نہیں لیا ۔ انڈس ریور سسٹم اتھارٹی (IRSA) ارسا کے مطابق پاکستان کے دو بڑے آبی ذخائر (منگلا اور تربیلا ڈیموں) میں پانی صرف تیس دن کی ضرورت کے لیے ہی ذخیرہ کیا جا سکتا ہے جبکہ بھارت ایک سو نوے دنوں تک کے استعمال کے لیے پانی اسٹور کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے اور امریکا تو نو سو دنوں تک پانی ذخیرہ کر سکتا ہے ۔
جنوبی ایشیائی امور کے ماہر میشائل کوگلمان کے مطابق پاکستان میں پانی کا بحران جزوی طور پر انسانوں کی طرف سے ہی پیدا ہوا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اس مسئلے کے حل کی خاطر حکومت کو فوری اقدامات کرنے کی ضرورت ہے ۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانی رہنما¶ں اور تمام فریقین کو اس چیلنج سے نمٹنے کی خاطر ذمہ داری اٹھانا ہو گی اور سیاسی عزم کا مظاہرہ کرنا ہو گا۔ کوگلمان نے اصرار کیا کہ اس بحران کی ذمہ داری ایک دوسرے پر عائد کرنے سے اسے حل نہیں کیا جا سکتا۔
پاکستان میں پانی کے ذخائر قائم کرنے کے ساتھ ساتھ پانی کو ضائع ہونے سے روکنے کی ضرورت بھی ہے۔ پالیسی ادارہ برائے پائیدار ترقی (ایس ڈی پی آئی) کے مطابق پاکستان میں پانی کا غلط استعمال ہر سطح پر ہو رہا ہے اور اسے روکنے کے لیے بھی کسی ادارے حکومت یا حکمران کو کوئی فکر نہیں ہے ۔
پاکستان میں پانی کے بحران میں شدت دیکھے جانے کے بعد کئی عالمی سفارتکاروں نے سوشل میڈیا پر ایک مہم بھی شروع کی، جس میں عوام سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ پانی کے بے دریغ استعمال سے گریز کریں۔ ان میں پاکستان میں تعینات جرمن سفیر مارٹن کوبلر بھی شامل تھے ، جنہوں نے ٹوئٹر پر اپنی ایک تصویر کے ساتھ واضح کرنے کی کوشش کی کہ کئی طریقوں سے پانی کے ضیاع سے بچا جا سکتا ہے ۔
رواں برس اپریل میں مسلم لیگ ن کی سابق حکومت نے پاکستان کی پہلی قومی واٹر پالیسی کا اعلان کرتے ہوئے وعدہ کیا تھا کہ پاکستان میں پانی کے بحران پر قابو پانے کی خاطر پہلے سے جاری کوششوں کو مزید بہتر بنایا جائے گا۔ تاہم ماہرین سابق حکومت پاکستان کی طرف سے کیے گئے ان اعلانات کو سیاسی اعلان ہی قرار دیا ہے کیونکہ اقتدار میں رہنے والی دونوںبڑی سیاسی پارٹیوں مسلم لیگ ن اور پاکستان پیپلزپارٹی سمیت دیگر پچھلی حکومتوں نے گزشتہ چالیس سال کے دوران اس مسئلے کی بڑھتی ہوئی سنگینی کے بارے کبھی غور تک نہیں کیا ۔
دسمبر17 20 ءمیں جاری کی جانیوالی عالمی بینک کی ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان سالانہ 108 ملین ٹن زرعی اشیاءپیدا کرتا ہے جن کی مالیت 13 ارب امریکی ڈالر کے برابر ہوتی ہے ۔گزشتہ سالوں کے دوران گو کہ مجموعی پیداوار (جی ڈی پی )میں زراعت کا حصہ کم ہوا ہے، اس کے باوجود یہ شعبہ جی ڈی پی میں 21.6 فیصد کی شراکت کررہا ہے ،اس کے علاوہ زرعی شعبہ مجموعی طور پر روزگار کے 65 فیصد مواقع بھی میسر کرتا ہے جبکہ برآمدات سے ہونیوالی آمدنی میں اس شعبے کا حصہ 60 فیصد سے زیادہ ہے ۔
رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ پاکستان دنیا کے ان نمایا ں ممالک میں شامل ہے جہاں48 مختلف اقسام کی زرعی اشیاءپیدا کی جاتی ہیں جن میں چاول،کپاس ،گنے اور گندم کی اہم فصلیںبھی شامل ہیں ایسی فصلوں کے حوالے سے صوبہ سندھ اور پنجاب کو خصوصی اہمیت بھی حاصل ہے ۔رپورٹ کے مطابق اس حوالے سے دیکھاجائے تو پاکستان کی 70 فیصد آبادی زراعت کے شعبہ سے وابستہ ہے اور زراعت کا سیدھا تعلق زرعی پانی کے ساتھ ہے جو روزبروز کم سے کم تر ہوتا چلاجارہا ہے۔ یہ ڈرا دینے والی صورتحال ہے، ارسا کا کہنا ہے کہ بارشیں کم ہونے کی وجہ سے اس سال بھی ڈیموںمیں پانی کی آمد کم رہی ہے ۔
بتایا گیا ہے کہ پنجاب میں سردی کی فصلوں کے لیے زرعی پانی کا ذخیرہ تاریخی اوسطوں سے چالیس فیصد کم رہا۔ ارسا کے مطابق ہمارا 90 فیصد سے زیادہ پانی زراعت میں استعمال ہوتا ہے جبکہ دوسری طرف شہریوںمیں پینے کے پانی کی طلب میںبھی اضافہ ہورہا ہے کیونکہ شہر پھیلتے جارہے ہیں جبکہ وہاں معقول یا محتاط اربن واٹر مینجمنٹ موجود نہیں ہے۔ کراچی کے کئی علاقے تو پہلے ہی کیپ ٹاﺅن جیسی صورتحال کا سامنا کررہے ہیں۔
2017 ءکی مردم شماری کے اعدادوشمار نے پانی کی دستیابی کے اس حساب کو پوری طرح بدل کر رکھ دیا ہے تازہ مردم شماری کے بعد فی کس سالانہ پانی 850 کیوبک میٹر ہے جو پچھلی مردم شماری کے مطابق ہزار کیوبک میٹر تھا جس کا واضح مطلب یہ ہے کہ پاکستان پانی کی قلت والے ممالک کی فہرست میں پہلے نمبر وںمیں شامل ہوگیا ہے ۔
ماہرین کے مطابق بڑے بڑے آبی ذخائر کی عدم موجودگی اورخشک سردیوںکی وجہ سے پانی کے زیر زمین ذخائر پر بھی اضافہ بوجھ بڑھتا ہے کیونکہ کاشتکار اور پانی فراہم کرنیوالے ادارے بے تحاشہ مقدار میں قیمتی زمینی پانی کھینچ لیجاتے ہیں صرف پنجاب میں ہی کم وبیش بارہ لاکھ زرعی ٹیوب ویلز شہری زرعی اور صنعتی ضروریات کو پورا کررہے ہیں اس کے مقابلے میں زیر زمین ذخائر میں بہت کم پانی ڈالا جارہا ہے ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان کو سالانہ تین سے چار ایم اے ایف کے خسارے کا سامنا ہے اور ہمارے زیر زمین آبی ذخیرے میں خطرناک حد تک کمی ہورہی ہے زیر زمین پانی کی کمی کو پورا کرنے کے لیے رین واٹر اور ٹریٹ شدہ پانی کے ذریعے پورا کرنے کے دو حل تو موجود ہیں مگر ان اقدامات کو بڑے پیمانے پر عملی طور پر کرنے کے لیے جو مالی اور دیگر وسائل درکار ہیں وہ رقم حکومتیں دوسری عیاشیوںمیں اڑاتی چلی گئی ہیں ۔ماہرین کا کہنا ہے کہ جس تیزی سے آبی ذخائر میں کمی اور ضرورتوںمیںاضافہ ہورہا ہے، اس حوالے سے ہمیں آئندہ سالوںمیں بہت جلد تربیلا کے سائز کا کم ازکم ایک ڈیم بنانا چاہیے ۔
پاکستان میں اس وقت نگران حکومت قائم ہے جبکہ پچیس جولائی کو عام انتخابات کا انعقاد کیا جا رہا ہے ۔ پانی کے بحران کے حل کی کوششوں کے سلسلے میں نہ تو نگران حکومت کی کوئی ترجیح دکھائی دے رہی ہے اور پانی کی قلت کا معاملہ نہ ہی ان انتخابات میں حصہ لینے والی پاکستان تحریک انصاف ،مسلم لیگ ن،پاکستان پیپلزپارٹی یا کسی اور سیاسی جماعت کے منشور کا حصہ ہے، یہیںسے پاکستان کے سیاستدانوں سیاسی جماعتوں کے سربراہوں پاکستان پر حکومت کرنے والی اشرافیہ کی ترجیحات کا اندازہ لگایاجاسکتا ہے کیا یہ المناک حقیقت اور سچائی نہیں ہے کہ گزشتہ ستر سال سے پاکستان کے عوام کا خون پی کر اپنی نسلوں کا مستقبل محفوظ بنانے والے حکمران پاکستان کے عوام کی آنیوالی نسل کو پینے کے پانی کی فراہمی کی یقین دہانی بھی نہیں کرارہے ۔۔۔۔؟؟؟
(کالم نگارسیاسی وسماجی ایشوزپرلکھتے ہیں)
٭….٭….٭


سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں




دلچسپ و عجیب
کالم
آپ کی رائے
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved