تازہ تر ین

دھریجہ صاحب خدا حافظ‘خس کم جہاں پاک(1)

ضیاشاہد….خصوصی مضمون

ظہوردھریجہ صاحب کاخط ملا‘ ان کا خیال ہے کہ انہوں نے جب سے خبریں میں کالم لکھنا چھوڑا ہے یکے بعد دیگرے دو مضامین میں ان کی مخالفت کی گئی ہے۔ موصوف کا خیال ہے کہ شاید ان کے خبریں چھوڑنے سے زلزلہ آگیا ہے اور ادارہ خبریں کے کارکنوں پر مایوسی اور غم کے سائے مسلط ہیں۔ بھائی صاحب! پچھلے25 برس میں ڈیڑھ سو سے زیادہ کالم نویسوں‘ نیوز ایڈیٹروں‘ چیف رپورٹروں‘ رپورٹروں اورسب ایڈیٹروں نے خبریں کو چھوڑا ہے البتہ سوڈیڑھ سو لوگ پہلے برسوں کے آج تک کام کررہے ہیں۔ جو چلے گئے ان سے زندگی بھر اچھے تعلقات رہے‘ ہرشخص کو حق حاصل ہے کہ اگر اسے بہتر شرائط پر کام ملتاہے توہ اپنا ادارہ تبدیل کرے۔مجھے ہرگز آپ کے جانے کا رتی برابر ملال نہیں بلکہ سچ تو یہ ہے کہ میرے سینے سے ایک بوجھ اُتر گیاہے۔ میں آپ سے بہت پہلے سے اس علاقے کا رہائشی ہوں‘ میرا بچپن اور لڑکپن جنوبی پنجاب کے دل ملتان میں گزرا۔ میں یہاں کی زبان‘ تہذیب‘مظلوم اور محروم طبقات سے محبت کرتا ہوں، اس کے لئے مجھے آپ سے سرٹیفکیٹ لینے کی ضرورت نہیں۔ میں نے ہمیشہ آپ کے کالم کانٹ چھانٹ کے بعد چھاپے۔ آپ ایک انتہا پسند‘ متعصب، اینٹی سرائیکی اور پاکستان میں مختلف لسانی طبقات کے درمیان کسی خفیہ ایجنڈے کے تحت باہم نفرتیں پھیلانے اور لڑائیاں کروانے کے مشن پرگامزن ہیں۔ میرے ذہن میں یہ تھا کہ میں آپ کی تنگ نظری دور کردوں گا اورصرف علاقے کے مسائل پر مثبت تنقید اورقابل عمل حل کو چھاپتا رہوں گا۔ میں باربار آپ کو سمجھاتا رہا پھر بھی آپ کے اندر کا زہر ختم نہیں ہوا۔ اس لئے میں واقعی مطمئن ہوں کہ علاقے کی جائز مشکلات پر لکھنے کے لئے آپ کی حوصلہ افزائی کی لیکن جہاں آپ کے اندر سے جئے سندھ کا متعصب اور اینٹی سرائیکی حضرات کا دشمن نکلا میں نے اسے دبانے‘سنوارنے کی پوری کوشش کی۔ کبھی کبھی میں ناکام بھی ہو جاتاتھا لیکن میں مجموعی طورپر آپ کے کالم سے نکلنے والے ہر لفظ کو پاکستانیت اور آئین وقانون کے تحت ایڈٹ کیا۔ برس ہابرس سے آپ واحد کالم نویس ہیں جس کاکالم اکثر اوقات میں خود پڑھتا تھا یا پڑھوا کر سنتا تھا۔ آپ کو غلط فہمی ہے کہ میں آپ کے لئے مرا جارہا ہوں۔ آپ جتنے بڑے لکھاڑ ہیں مجھے اچھی طرح معلوم ہے۔ اگر سرائیکی زبان اتنی ہی مقبول ہے تو پھر اس زبان میں چھپنے والا آپ کا روزنامہ ”جھوک“تو دس بیس لاکھ کی تعداد میں شائع ہونا چاہئے تھا۔ جبکہ ہمارے دفتر کی رپورٹ یہ ہے کہ جس کے لئے میں بھی ہمیشہ محکمہ اطلاعات پنجاب میں اشتہاروں اور جائز مراعات کے لئے آواز اٹھاتا رہا وہ اوسطاً2سو کی تعداد میں چھپتا ہے‘ اخبار مارکیٹ میں شاید دس پندرہ اخبار آتے ہیں باقی اخبار آپ باہر تقسیم کردیتے ہیں اوربدلے میں سرائیکی تحریک کو چلانے کے لئے خوب چندہ بازی کرتے ہیں۔ آج تک میں نے خبریں چھوڑنے والے کسی کارکن کے بارے میں ایک لفظ لکھا نہ چھاپا۔ آپ پہلی ذات شریف ہیں جس کے بارے میں ‘ میں نے سرائیکی اینٹی سرائیکی بارے مباحثے کے دو فریق یعنی آپ اورآپ کے ساتھی ایک طرف، انورقریشی اورآپ کی تحریک کے مخالف دوسری طرف تھے۔ میں نے ہمیشہ ہر نقطہ نظر کواشاعت کی جگہ دی اور جن دو مضامین پر آپ کو اعتراض ہے وہ آپ ہی کے ناقدین ظفرمحمودچودھری اور انورقریشی کی تحریریں ہیں جن کو رنجیت سنگھ کی اولادیں ثابت کرنے کیلئے آپ نے ایڑی چھوٹی کا زور لگایا تھا۔ میں نے سختی سے منع کردیاہے کہ آج کے بعد آپ کے حوالے سے ایک لفظ بھی شائع نہ کیاجائے۔ پہلے مضامین بھی سابقہ بحث کے حوالے سے شائع ہوئے تھے، آج کے بعد آپ رورزنامہ خبریں میں اپنا اوراپنے کسی ساتھی کانام بھی نہیں پڑھیں گے۔ قارئین کی خدمت میں گزارشات کا ایک حصہ ختم ہوا۔خوش رہیں اورجہاں جی چاہے لکھیں‘ میں ظفرمحمود چودھری کو جانتا نہیں لیکن آخری مضمون جو آپ کے بارے میں چھپا اس کاایک جملہ ایسا ہے جس کے بارے میں ‘ میں متفق ہوں۔ اتنے برسوں میں جتنے لوگوں نے مجھے تنقید کانشانہ بنایا کہ آپ نے کس سانپ اوربچھو کو پال رکھا ہے،میں واقعی سمجھتا ہوں کہ ”خس کم جہاں پاک“ آپ نے جو آخری دو خطوط لکھتے ہیں، ان کے مندرجات کی طرف آتے ہیں۔برسوں تک روزنامہ خبریں میں سرائیکی تحریک کے حوالے سے انتہا پسندانہ کالم لکھنے والے ظہور دھریجہ صاحب نے مجھے جو پہلا خط لکھا ہے اس میں انہوں نے لکھا ہے کہ جونہی میں نے ایک دوسرے اردو اخبار میں کالم لکھنا شروع کیا ہے خبریں میں میری کردار کشی کی مہم شروع کر دی گئی ہے۔ پھر موصوف نے مجھ پر اٹیک کیا ہے کہ اگر ایک اخبار سے دوسرے اخبار میں جانا جرم ہے تو یہ آپ کی کتاب سے اقتباس پیش کر رہا ہوں جس میں آپ نے لکھا ہے کہ آپ نے کتنے اخبار چھوڑے۔ موصوف نے اس کتاب سے نقل کیا ہے کہ میں یعنی ضیاشاہد روزنامہ تسنیم لاہور میں مترجم تھا۔ ہفت روزہ اقدام میں کالم نویس‘ روزنامہ کوہستان میں سب ایڈیٹر‘ روزنامہ حالات میں ڈپٹی ایڈیٹر‘ ماہنامہ اردو ڈائجسٹ میں ڈپٹی ایڈیٹر‘ ہفت روزہ کہانی میں ایڈیٹر پبلشر‘ روزنامہ مغربی پاکستان میں ایڈیٹر‘ ہفت روزہ صحافت میں ایڈیٹر پبلشر پرنٹر‘ روزنامہ نوائے وقت لاہور میں ڈپٹی ایڈیٹر‘ ریذیڈنٹ ایڈیٹر کراچی‘ روزنامہ جنگ لاہور میں ڈپٹی ایڈیٹر‘ جوائنٹ ڈپٹی ایڈیٹر اورروزنامہ پاکستان میں چیف ایڈیٹرتھا۔میں یہ سارے ”جرائم“ تسلیم کرتا ہوں کیونکہ یہ میری کتابوں کا فلیپ ہے جو میں نے خود لکھا ہے۔ افسوس کہ جئے سندھ کی تحریک کے بھارت نواز اس دانشور نے جب سے سرائیکی علاقے بلکہ سابق ریاست بہاولپور کے شہر خان پور میں سکونت اختیار کی ہے، دوسروں پر جھوٹ کے طومار باندھنا ہمیشہ سے اس کا طریقہ کار رہا ہے۔ جس سے میں بار بار پچھلے برسوں میں منع کرتا رہا اور یہ واحد کالم نگار ہے جس کا کوئی کالم پڑھے یا سنے بغیر میں چھپنے نہیں دیتا تھا کیونکہ اس جھوٹے سرائیکی نام نہاد دانشور جو سرائیکی بھی جھوٹا ہے کہ اس علاقے میں پیدا نہیں ہوا بلکہ سندھی ہے۔ لکھتا ہے کہ میں نے بھی اس کی طرح زیادہ پیسوں کے لالچ میں اخبار بدلے۔پہلی بات یہ ہے کہ میں تسنیم میں مترجم تھا اوراس کی بندش کے بعد میں نے اسے چھوڑا۔ ہفت روزہ اقدام میں ملازم نہیں، اعزازی کالم نویس تھا جہاں سے پیسے ملنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ کوہستان میں سب ایڈیٹر ضرور تھا مگر جب آدھے سے زیادہ سٹاف نے وہیں سے نکل کر نیا روزنامہ حالات شروع کیا جو جسٹس کیانی کا اخبار تھا اور جس کے ایڈیٹر سعادت خیالی کوہستان میں ہمارے چیف رپورٹر تھے۔ حالات میں ہم زیادہ پیسوں پر نہیں گئے تھے بلکہ ایک گروپ کم تنخواہ اور کم مراعات پر جسٹس کیانی کے نام سے منسوب اخبار میں گیا تھا۔ حالات کی بندش کے بعد میں ماہنامہ اردو ڈائجسٹ میں گیا اور سات سال وہاں ڈپٹی ایڈیٹر رہنے کے بعد میں نے اپنا ہفت روزہ کہانی شروع کیا جس کا میں ایڈیٹر پبلشر تھا۔ کہانی بند ہو گیا تھا جب میں مغربی پاکستان کا ایڈیٹر بنا۔ چند سال بعد میں نے دوبارہ اپنا ہفت روزہ صحافت شروع کیا جو 63 ہزار ہفتے کی اشاعت تک پہنچا لیکن جب ضیاءالحق نے سیاسی پابندیاں عائد کیں اور پری سنسر شپ عائد کر دی اورسیاسی پارٹیوں کا نام چھاپنا بھی خلاف قانون قرار پایا تو میں نے رضاکارانہ طور پر صحافت بند کر دیا اور آزادی صحافت کے علمبردار روزنامہ نوائے وقت میں ملازمت کر لی حالانکہ میرے ساتھیوں کا کہنا تھا کہ نیوز پرنٹ منظور شدہ ہے‘ ٹینڈر کے سرکاری اشتہار بھی ملتے ہیں، ڈمی چھاپو اور عیش کرو۔ میرے پاس اپنا پرنٹنگ پریس تھا جس کو کمرشل بنیادوں پر چلا تا تو اچھی دال روٹی کما سکتا تھا۔ریکارڈ کی بات ہے کہ ماہوار آمدنی سے ایک تہائی پر روزنامہ نوائے وقت سے منسلک ہوا اور میگزین ایڈیٹر سے صلاحیت کی بنیاد پر پہلے ڈپٹی ایڈیٹر اور بعدازاں ریذیڈنٹ ایڈیٹر کراچی سٹیشن مقرر ہوا۔ وہاں بھی زیادہ تنخواہ پر نہیں بلکہ اصولی اختلاف کی بنیاد پر نوائے وقت سے استعفیٰ دیا اور ایک ماہ کے نوٹس کے بعد دوسرے مہینے کے آغاز پر ایڈ آرٹس اشتہاری ایجنسی میں کاپی ڈائریکٹر بن گیا۔ وہاں سے میر خلیل الرحمن مجھے جنگ لاہور میں لے گئے۔ میر شکیل الرحمن ماشاءاللہ حیات ہیں ،انہوں نے کہا تنخواہ کیا لیں گے، میں نے کہا بڑے میر صاحب سے پوچھ لیں‘ جب تک میں نوائے وقت اور جنگ میں رہا، میں نے نہ کبھی تقاضا کیا کہ اتنی تنخواہ لوں گا بلکہ میں ہمیشہ تنخواہ کی بات کرتے ہوئے بھی شرما تا تھا۔ اللہ شاہد ہے پوری زندگی کبھی ملازمت اس لیے نہیں چھوڑی کہ دوسری جگہ سے پیسے زیادہ مل رہے ہیں۔ پاکستان جیسا کامیاب اخبار ایک سال کی محنت کے بعد نکالا اور تعداد اشاعت ایک لاکھ سے تجاوز کر گئی تو فنانسر اکبر علی بھٹی سے اختلاف ہوگیا۔انہوں نے کہا کہ میں اپنا نام چیف ایڈیٹر کے طور پر چھاپوں گا لیکن آپ نے بڑی محنت کی ہے ،دفتر بھی نہ آئیں ،گھر پر بیٹھ کر تین سال تنخواہ لیتے رہیں۔ ہنڈا اکارڈ گاڑی آپ کے پاس ہے ،اسے بھی رکھیں۔ میں نے شکریہ ادا کیا اورکہا جب کام نہیں کروں گا تو تنخواہ کیوں لوں۔ میں نے گاڑی واپس کی اور گھر آ گیا۔2سال تیاری کی اور پھر کچھ دوستوں سے پیسے جمع کیے، باقی حبیب بنک اور سمال انڈسٹریز سے قرض لیا اور خبریں اخبارنکالا۔ جماعت اسلامی کے لیاقت بلوچ اور چودھری رحمت الٰہی سے روزنامہ جسارت لاہور کی بلڈنگ قسطوں پر لی،جس کی بیسمنٹ میں جہلم کے بنے پریس کے دو یونٹ لگے تھے۔ 6 سیکنڈ ہینڈ یونٹس گلف نیوز دبئی سے خرید کر لایا۔ اس سلسلے میں میرے دوست حنیف رامے نے بڑی مدد کی بلکہ ا پنے بیٹے ابراہیم رامے کو میرے ساتھ بھیجا۔دھریجہ صاحب! یہ مختصر داستان ہے اس میں اگر کسی جگہ زیادہ پیسے لے کر ادارہ چھوڑنے کی بات ثابت ہو جائے تو میں ملتان میں چوک گھنٹہ گھر کے سامنے آپ سے اور پڑھنے والوں سے معافی مانگ لوں گا۔ میرے بھائی جس کا جتنا ظرف ہوتا ہے وہ اتنا ہی مظاہرہ کرتا ہے۔ آپ نے کتابوں پر سے میری زندگی کے سارے اخبار ‘ رسالے گنوا کر طعنہ دیا ہے۔ اگر پورے پاکستان کی اخباری صنعت میں سے کوئی شخص یہ ثابت کر دے میں نے زیادہ پیسوں کے لیے کبھی نوکری چھوڑی ہو تو جو چور کی سزا وہ میری۔ دھریجہ صاحب! میں آپ کی بات کا جواب دینا نہیں چاہتا تھا اور نہ آپ کو اس قابل سمجھتا ہوں کہ آپ کو میں صفائیاں دوں لیکن آج یہ جی ضرور چاہتا ہے کہ آپ کا اصلی چہرہ سامنے لاﺅں۔ یہ درست ہے کہ میں نے آپ کے کالم چھاپنا شروع اس لیے نہیں کیے کہ آپ بڑے توپ لکھاری ہیں، جب آپ نے لکھنا شروع کیا تو شاید آپ کے محلے میں بھی کوئی آپ کو نہیں جانتا تھا۔مجھے ایک نہیں تین مرتبہ اسلام آباد میں حساس اداروں نے آپ کے بارے میں یہ معلومات دیں کہ سقوط ڈھاکہ 1971ءکے بعد بھارت نے سرائیکی تحریک کے حوالے سے جنوبی پنجاب میں مرکز گریز تحریکوں کی سپانسرشپ شروع کی۔ میرا بچپن اور لڑکپن ریاست بہاولپور اور جنوبی پنجاب میں گزرا تھا۔ مجھے سرائیکی زبان اور تہذیب سے پیار تھا۔ مجھے اس علاقے کی محرومی تکلیف دیتی تھی ورنہ میں تو فرسٹ ایئر سے لاہور میں مقیم تھا۔ اگرچہ میں گڑھی یاسین سندھ میں پیدا ہوا تھا‘ لیکن لڑکپن ملتان اور جوانی لاہور میں گزری۔ میں اسلام آباد میں ہر شخص سے بحث کرتا تھا کہ جنوبی پنجاب ہو یا سابق ریاست بہاولپور، اس علاقے پر حکومت کی توجہ نہیں ہے۔ یہاں تعلیم اورعلاج کی کمی ہے، صنعتیں نہ ہونے کے برابر ہیں‘ زراعت ڈوب رہی ہے، غریب اور امیر میں فرق بڑھتا جا رہا ہے۔ زمینداروں کا ظلم مزارعین اور غریب کسانوں پر ناقابل برداشت ہو گیا ہے۔ وہ بدقسمت ملازمین اور مزارعین پر خوفناک کتے چھوڑ دیتے ہیں تو ایسے مریضوں کا میں نے نشتر ہسپتال میں علاج کروایا اور ظالم زمینداروں کا پیچھا کر کے ان کو گرفتار کروایا۔ میں جتوئی میں مختاراں مائی کی خبر گیری کو پہنچا، جس سے 6 افراد نے خوفناک زیادتی کی تھی۔ میں میانوالی میں ونی ہونے والی بچیوں کو بچانے کے لیے گیا۔ آپ نے کیا کیا دھریجہ! صوفیا کی اس محبت بھری سرزمین پر پنجابیوں اورمہاجروں کیخلاف نفرت پھیلانے کے سوا کوئی چیز جھولی میں ہے تو بتائیں۔ میں نے تو ہر مظلوم کو خواہ وہ کوئی زبان بولتا ہو، گلے سے لگایا اور تم منافق اور شرپسند ہو جو اس سرزمین پر نفرت کے بیج بوتے ہو۔تمہارا ہر دوسرا تیسرا کالم میں نصف سے زیادہ کاٹ دیتا تھا کیونکہ اس میں لسانی بنیادوں پر نفرت ہوتی تھی۔ ظالم خواہ اردو سپیکنگ ہے‘ پنجابی ہے‘ بلوچ ہے یا پٹھان ہے‘ سرائیکی ہے یا سابق ریاست بہاولپور کا ریاستی یا جانگلی ہے۔ میری ماں نے مجھے انسان سے پیار کرنا سکھایا ہے اور اے مسخ شدہ ذہن کی جئے سندھ تحریک کے اینٹی پاکستان کن ٹُٹے، نام نہاد دانشور ،آپ نفرتیں بانٹتے رہے۔سنیں! آپ کی کون کون سی حرکتیں تھیں جن کا میں نے نوٹس لیا اور آپ کو بار بار سمجھایا۔آپ نے مظفر گڑھ سے مجھے پانچ وکیل بھجوائے جنہوں نے کھاتے اور کھتونیاں مجھے دکھائیں۔ آپ کی شان میں قصیدے پڑھے اور کہا ہم سب 3 اضلاع کا ریکارڈ مرتب کر چکے ہیں اور جنوبی پنجاب کے پڑھنے والو! خواہ آپ کا تعلق کسی زبان سے ہے، میں حلف اٹھا کر کہتا ہوں میں ان کی بات سے خوفزدہ ہو گیا۔ انہوں نے مجھے پلان بتایا کہ جب ہم صوبے کی منزل کو پا لیں گے تو ” son of the soil“ کو مالا مال کر دیں گے۔کیونکہ ہماری تحریک شروع ہو چکی ہے۔ 1947ءکے بعد جتنے لوگ باہر سے آئے تھے اور جن کو زمینیں مکان الاٹ ہوئے تھے ،اس پر سرائیکی لوگوں کا حق تھا۔ ہم ان کی زمینیں، جائیدادیں، فیکٹریاں، مکان اور دکانیں چھین لیں گے۔ میں نے کہا خددارا یہ منفی سوچ بدلیں۔ وہ کہنے لگے ،آپ سندھی ہیں اور ملتان میں رہے ہیں ،پنجابیوں کی حمایت نہ کریں ۔ (جاری ہے)(”خبریں“ کے چیف ایڈیٹر اور کئی کتابوں کے مصنف ہیں)٭….٭….٭

 

میں نے پھرکہا 1971ءمیں لسانی نفرت کی بنیاد پر اپنے ملک کو ٹوٹتا دیکھ چکا ہوں،میں جب تک زندہ ہوں اس نفرت کے خلاف لڑتا رہوں گا۔میں نے کہا پاکستان کے اندر رہتے ہوئے اپنے حقوق کے لئے لڑیں ،میں آپ کے ساتھ نہیں بلکہ ہراول دستے میں ہوں گا، زبان کو نفرت کی تحریک نہ بنائیں۔ انھوں نے کہا آپ تو ظہور دھریجہ اور عاشق بزدار جیسے دھرتی کے سپوتوں کے مضمون چھاپتے ہیں۔ میں نے کہا کہ میں گلی گلی خون بہتے ہوئے نہیں دیکھ سکتا۔ 1947-48ءمیںصحیح ہوا تھا یا غلط لیکن آج 60,50 سال بعد جس کو زمین یا دکان سے نکالیں گے وہ بندوق یا لاٹھی لے کر لڑنے مرنے کے لئے تیار ہو جائے گا۔آپ الگ صوبے کے لئے کوشش کرو تا کہ اپنے وسائل اپنے صوبے اور لوگوں کے لئے استعمال کر سکیں۔ 1947ءکی طرح نقل مکانی کے اسباب پیدا نہ کرو۔سندھ کے وڈیروں کی طرح دھریجی سوچ بھی نفرت پر استوار ہوئی ہے۔ اس سوچ کے حامل لوگوں کو نہ عقل ہے نہ شعور۔ پچھلے 10 برس سے میں دھریجہ اینڈ کمپنی کو سمجھاتا رہا کہ زبان اور تہذیب کی خدمت کرو۔ ان کی ترقی کے لئے مجھے بتاﺅ کیا کرنا ہے۔ میں انہیں مثالیں دے کر بتاتا رہا کہ کیا میں نے ونی ہونے والی لڑکیوں سے پوچھا تھا کہ وہ کون سی زبان بولتی ہیں۔ میں نے مختاراں مائی سے اس کا شجرہ نصب پوچھا تھا۔ کیا میں نے احمدپور شرقیہ میں غربت کے ہاتھوں کنٹینر کے الٹنے سے پٹرول برتنوں میں بھرنے والوں سے قومیت پوچھی تھی۔ کیا میں نے کسی بھی مظلوم سے سوال کیا تھا کہ سرائیکی ہو یا غیر سرائیکی۔ بدبخت، کبڑے ذہن کے لوگوں کو کیا معلوم کہ انسانیت سب سے بڑی برادری ہے۔ میں نے کبھی نہیں کہا کہ سرائیکی بُرے لوگ ہیں۔ پانچویں سے دسویں جماعت تک گورنمنٹ ہائی سکول ملتان نواں شہر میں پڑھتا تھا تو میری رہائش قدیر آباد میں تھی۔ خدا کی قسم جتنی محبت مجھے ان سرائیکی بولنے والی خالاﺅں اور ماسیوں سے ملی، جتناپیار میںنے سرائیکی دوستوں سے حاصل کیا وہ میری زندگی کا سرمایہ ہے لیکن میں کیا کروں میں تو برس ہا برس تک لاہور میں رہنے کے باوجود ملتان اور بہاولنگر کو نہیں بھولا۔ لیکن آج مجھے بتایا جاتا ہے کہ نواب مظفر خان پر سکھوں کے لیڈر رنجیت سنگھ نے حملہ کیا تو پندرہ بیس ہزار لڑکیوں نے کنوﺅں میں چھلانگیں لگا دی تھیں کہ وہ اپنی عزت کو زندگی سے زیادہ عزیز سمجھتی تھیں۔ یہ جملہ بھی دھریجہ صاحب آپ کا۔ ٹھیک ہے، مسلمان لڑکیوں کو ایسا ہی کرنا چاہئے تھا۔لیکن ذلیل اورخبیث ذہن یہاں پنجابی کو گالی دینے سے باز نہیں آتا۔ دھریجہ صاحب! آپ کے گزشتہ دنوں کالم لکھا کہ رنجیت سنگھ نے لاہور پر قبضہ کیا تو اہل لاہور نے کوئی احتجاج نہ کیا۔ آپ مسلسل اپنے مضامین لکھتے رہے کہ ہم لاہوری رنجیت سنگھ کی ناجائز اولادیں ہیں۔ اورتو کسی ہندو کی اولاد ہے کہ جئے سندھ سے تحریک تعلق رکھنے والے ہندوﺅں کی اولاد تھے، جہاں سے وہ وسیب میں آئے اوریہاں نفرت پھیلائی ہے۔ میں نے آپ کے کالموں کو بہت کاٹتا رہا لیکن نفرت کے جس زہر میں آپ کے الفاظ ڈوبے ہوتے تھے کچھ نہ کچھ پھر بھی باقی رہ جاتا تھا۔میں نے آپ کو بار بار سمجھایا کہ سرائیکی پارٹیاں جو منتشر اور کمزور ہیں، انہیں ایک پلیٹ فارم پر جمع کریں اور کسی قومی سیاسی جماعت سے معاہدہ کریں کہ اتنے فیصد سیٹیں سرائیکی الائنس کو دی جائیں کیونکہ آپ کی کوئی ایک پارٹی کبھی ایم این اے اور ایم پی اے تو درکنار بلدیاتی ادارے کا کونسلر اور ممبر ضلع کونسل بھی منتخب نہیں کروا سکی۔ میں نے کہا یہ ایک دوستانہ مشورہ ہے، میں نے یا میرے کسی عزیز رشتے دارنے ووٹ نہیں مانگنے ہیں۔ آپ وہ کوتاہ قد، خود پرست ہو کہ میں نے لاہور میں بیٹھ کر سرائیکی تنظیموں کا الائنس بنانے کا مشورہ کیا۔ کچھ تنظیمیں اور جماعتیں آپ کے ساتھ ہوں گی لیکن اکثر آپ کو ناپسند کرتی ہیں۔ نو میں نہ تیرہ میں، ایک چھوٹا سا سرائیکی اخبار نکالنے والے نام نہاد دانشور نے کچھ چھوٹی موٹی تنظیموں کو جمع کیا اور اگلے روز خبر چھپوائی کہ وہ اس اتحاد کے کنوینر بن گئے ہیں۔ لاحول ولاقوة اور پھر لیڈر بننے کا نشہ آپ کو ایسا چڑھا کہ آپ نے خان پور سے ملتان تک ایک ہی دن میں 5 مقامات پر خطاب کیا۔ بعد میں پتہ چلا یہ خطاب نہیں مقامی نمائندوں سے گٹھ جوڑ کر کے خبر روزنامہ خبریں کے نیوز ڈیسک پر بھجوا دی جاتی تھی جہاں اس سرائیکی نوجوان کا سکہ چلتا تھا جسے میں بہاﺅالدین زکریا یونیورسٹی سے ایم اے پاس نوجوانوں میں سے رکھا تھا۔پھر چشم فلک نے ایک اورمنظر مجھے دکھایا۔ مرحوم تاج محمد لنگاہ میرے دوست تھے یا وہ ظاہر کرتے تھے کہ میرے دوست تھے۔ وہ اکثر میرے دفتر لاہورآتے اور فرمائش پر اپنا ٹی وی انٹرویو کراتے۔ ایک ایسے ہی انٹرویو میں وہ جذباتی ہو گئے اور ان کا اندر کا ذہن سامنے آتا گیا ۔وہ بولے ضیا صاحب! اگر ہمارا حق نہ ملا تو ہم بھی بنگالیوں کی طرح بھارت کی طرف مدد کے لئے دیکھیں گے۔ ہزاروں لوگوں نے مکالمہ دیکھا۔ میں نے اس کاسختی سے نوٹس لیا ۔میں نے کہا لنگاہ صاحب بہاولپور ہو یا ملتان میں الگ صوبوں کا حامی ہوں۔ پنجاب کے 2 یا 3 حصے ہونے چاہئیں لیکن میری ساری زندگی یہ سوچ رہی کہ پاکستان کی سرحدوں کے اندر ایک صوبہ بنائیں یا دس لیکن جو اس مقصد کے لئے بنگالیوں کی بغاوت کی مثال دے گا اور بھارت سے امداد طلب کرے گا، میں اسے پاکستان کا دشمن خیال کروں گا اورمیں اس پر لعنت بھیجتا ہوں۔ اس انٹرویو کو ہزاروں لوگوں نے دیکھا۔ اس کی خبر اگلے روز اخبار میں بھی چھپی۔ میں بھارت ہو یا اسرائیل اسے پاکستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت کا حق نہیں دے سکتا۔ جنوبی پنجاب صوبہ محاذ پچھلے دنوںبنا۔ ہمارے اخبار نے الگ صوبے کی حمایت پچھلے 22 سال سے شروع کر رکھی ہے۔ آپ کیا اور آپ کے ایسے کالم کیاچھپتے، اگر کانٹ چھانٹ نہ کی جاتی تو آئین کے آرٹیکل 6 کا اطلاق ہو جاتا کہ آپ نفرت پھیلانے کے ماسٹر مائنڈ ہیں۔دھریجہ صاحب! آپ ایک ملک دشمن تحریک کے بھونپو ہیں ۔میں نے آپ پر بڑی محنت کی اور جا بجا آپ کی پاکستان دشمن لسانیت پرستی کو ایڈٹ کر کے چھاپتا رہا مگر نام نہاد سرائیکی دانشوروں کی یہ آواز کہ الگ صوبہ ہو اور اس علاقے کی غربت اور پسماندگی دور ہو، مجھ سے زیادہ اس کے لئے آواز بلند کرنے والا کوئی اور ہے تو پتہ نہیں لیکن کیااس کے لئے نخبہ تاج لنگاہ بننا ضروری ہے۔ یہ بی بی ایف سی کالج میں لیکچرر ہے اور تاج لنگاہ کی نام نہادسیاسی وارث ہیں۔ موصوفہ لکھتی ہیں اور کہتی ہیں کہ بنگالیوں کی آزادی کی تحریک نے انہیں اپنے حقوق کے لئے تحریک چلانے کیلئے قوت بخشی۔موصوفہ مانتی ہیں کہ 1971ءیعنی سقوط ڈھاکہ سے پہلے سرائیکی ایک زبان نہیں تھی۔ سابق ریاست بہاولپور میں ریاستی کہلاتی تھی، ملتان میں ملتانی کہتے تھے، ڈی جی خان میں ڈیروی تھی۔ تب بقول خاتون کے فیصلہ ہوا کہ سارے نام ختم کر کے سرائیکی رکھا جائے۔پھر بھارت کے پیٹ میں مروڑ اٹھا۔ نخبہ لنگا کو بھارتی یونیورسٹیوں میں دعوت دی گئی کہ آ کر تقریر کریں۔ ظہور دھریجہ جیسے سابق جئے سندھ کے سقہ بندکارکنوں کو جنہوں نے اب وسیب میں آ کر سرائیکی تحریک کی قیادت سنبھالی تھی، انہی میں مشرقی پنجاب کی یونیورسٹیوں میں سرائیکی تحریک کیلئے لیکچرز دینے کیلئے بلایا گیا۔ ماشاءاللہ امرتسر اور ہریانہ کو کتنی فکر تھی کہ سرائیکی علاقے کو آزادی ملے۔ یہ وہی دور ہے جس کے بارے میں نے کہا کہ اسلام آباد میں آبپارہ والوں کو یہ اطلاع ملی کہ سرائیکی آزادی کے نام پربھارت امداد کر رہا ہے۔دھریجہ صاحب! جنوبی پنجاب بشمول سابق ریاست بہاولپورمیں غربت کا یہ عالم ہے کہ لوگوں کو تن ڈھانپنے کیلئے کپڑا نہیں ملتا۔کاش جس سندھ سے آپ کا تعلق ہے،اس میں سرخ اجرک کی بجائے آپ اور آپ کے ساتھیوں نے نیلی اجرک کو متعارف کروایا، اتنے کپڑے میں تو مردانہ شلوار قمیض بنتی ہے نہ زنانہ لیکن کینیڈا میں بیٹھا ہوا آپ کا فنانسر صرف نیلی اجرک کی تقسیم کیلئے پیسے دیتا ہے۔ بچوں اور بڑوں کا تن ڈھانپنے کیلئے اسے کوئی شوق نہیں۔ کوئی این جی او نہیں بناتا کوئی امدادی فنڈز قائم نہیں کرتا ،اسے آپ سمیت یہ فکر ہے کہ سرائیکی نوجوان کہیں پنجابی، مہاجر، پٹھان، بلوچ، جنوبی پنجاب سے ملنے نہ پائے۔ ہمارے یہاں ادارے کمزور ہیں ورنہ آب پارہ کے ریکارڈ میں تو بہت کچھ موجود ہے۔ خدا کا شکر ہے کہ جنوبی پنجاب میں الگ صوبہ بن رہا ہے اور انشاءاللہ اس علاقے کے مسائل حل ہونگے۔ یہ بھی مقام مسرت ہے کہ جنوبی پنجاب محاذ کے لوگ ہوں یا موجودہ تحریک انصاف جس میں محاذ کے اکثر لوگ شامل ہو چکے ہیں لیکن جنوبی پنجاب سے نئی ابھرتی ہوئی تحریک کے لیڈروں یوسف رضا سے لے کر شاہ محمود قریشی، جہانگیر ترین اور ذوالفقار کھوسہ تک ،میں نے سبھی کے انٹرویو کیے ہیں، سب کا کہنا ہے کہ یہ صوبہ انتظامی بنیادوں پر ہو گا لسانی بنیادوں پر نہیں۔دھریجہ صاحب! آپ کی سوچ پٹ چکی ،آپ کا تعصب شکست کھا گیا۔ اتنے برس میں آپ کو اور آپ کے ساتھیوں کو سمجھاتا رہا کہ صوبہ تب بنے گا جب سرائیکی نان سرائیکی کی بحث چھوڑیں گے کیونکہ کوئی انتخابی حلقہ ایسا نہیں جہاں آبادی مخلوط نہ ہو یعنی لسانی طور پر مختلف گروہ ایک ہی حلقے میں موجود نہ ہوں۔ آپ مزید نعرہ لگا لیں، آپ کی سوچ شکست کھا گئی۔ جنوبی پنجاب ہو یا سابق ریاست بہاولپور بھی صوبہ بن گئی تو کونسا ایسا شہر ،قصبہ یا حلقہ ہے جہاں صرف سرائیکی آباد ہوں۔ اللہ کے بندو! ابھی تک آپ کو عقل نہیں آئی اور آپ سرائیکستان کا شور مچاتے ہیں۔ آپ بھی یہیں ہیں میں بھی یہی ہوں۔ آپ سے پہلے میں نے لسانی منافرت سے پاک صوبے کا نعرہ لگایا ، یہ نعرہ حقیقت پسندانہ تھا ،اس لیے اسے کامیابی ملی۔ آپ مظفر گڑھ کے پانچ ضلعوں کے وکیلوںسے کہیں باقی ضلعوں کے بھی سرائیکی، نان سرائیکی مالکان کی لسٹیں مکمل کر لیں، انشاءاللہ آپ، عاشق بزدار اور دوسرے متعصب پارٹیوں کے لیڈروں کی یہ خواہش کبھی پوری نہیں ہوگی اور پاکستان میں گلی گلی لڑائی کرانے کا بھارتی منصوبہ کبھی کامیاب نہیں ہو گا۔ زیادہ بہتر ہے کہ دھریجہ ٹولہ اب واپس جئے سندھ کے علاقے میں لوٹ جائے کہ متعصب سوچ کو کبھی کامیابی نہیں ملے گی۔ انشاءاللہ ہم پاکستان کے اندر رہتے ہوئے اور صوبوں کی ضرورت ہو گی تو وہ بھی بنائیں گے مگر بارڈر سے باہر بھارت کی طرف دیکھنے اور امریکہ، کینیڈا اور اسرائیل سے مدد مانگنے والوں کا منہ کالا ہو گا۔دھریجہ صاحب !میں نے تو اپنی زندگی میں زیادہ پیسوں کے لیے نوکری نہیں چھوڑی لیکن چلتے چلتے آپ دو تین سوالوں کا جواب دیں۔ اللہ جانتا ہے مجھے معلوم نہیں آپ کو ملتان آفس کیا معاوضہ ملتا تھا کیونکہ یہ پرانی بات ہے اور مجھے یاد نہیں لیکن یہ آپ کا گھٹیا ذہن ہے کہ میں نے اسے روکا ہو گا یا موجودہ ریذیڈنٹ ایڈیٹر میاں غفار سے کہا ہو گا کہ ان کا معاوضہ بند کر دیں۔ آپ اس سوال کا جواب دیں کہ اگر واقعی ہی ایسا ہوا ہے تو کیا آپ نے مجھے فون پر بھی اطلاع دی کہ میرا معاوضہ اچانک بند کر دیا گیا ہے۔حالانکہ آپ سے ہفتے میں 2 سے 3 بارفون پر بات ہوتی ہے۔ میںنے تو سرائیکی زبان کے علامہ اقبال یعنی شاکر شجاع آبادی کو 3 مرتبہ سرکاری امداد دلوائی لیکن بزرگ بیمار شاعر کا کہنا ہے کہ آپ اس کے پیسے کھا گئے۔ آج بھی ٹاپ کے کالم نویس اور صحافی مجھے عزت اور محبت سے ملتے ہیں اور میں بھی ان کا نہایت احترام کرتا ہوں لیکن اللہ شاہد ہے کہ ان میں سے ایک بھی ظہور دھریجہ نہیں۔ میرے سابق کولیگ میری کتابوں کی تقریبات میں آتے ہیں، ہمیشہ محبت احترام سے ملتے ہیں اور میں ان کی ترقی، خوشحالی اور اچھے مستقبل کی دعا کرتا ہوں۔ آپ صرف ایک استثنیٰ ہیں جوکہ ملک دشمن نظریات کا حامل ہے ،آپ اور آپ کے ساتھی بھارت، امریکہ، کینیڈا اور اسرائیل کی طرف دیکھتے رہے ہیں۔ آپ کے گروہ حضرات نے سقوط ڈھاکہ پر بغلیں بجائیں اور سرائیکی تحریک کیلئے اس کو سنگ میل قرار دیا۔ اگر اس ملک میں ادارے مضبوط ہو گئے تو آپ جیسے ملک دشمنوں اور انتہا پسندوں کا حشر بہت بُرا ہو گا۔ سیاسی آزادی اور حقوق سب کا حق ہے مگر گلی گلی لڑائی کروانا ،لسانی عصبیتوں کو جگانا کسی صورت معاف نہیں کیا جا سکتا۔ دھریجہ اینڈ کمپنی مجھے یقین ہے اگر سرائیکی بولنے والوں کی اکثریت کو دیکھا جائے تو وہ پاکستان سے پیار کرتی ہے، یہی وجہ ہے کہ آپ جیسے چند سیاسی کن ٹٹوں کی بات پر کوئی عمل کرتا تو پنجاب اسمبلی ہو یا قومی اسمبلی یا سینٹ سابق ریاست بہاولپور، ملتان، مظفر گڑھ اور ڈیرہ غازی کے اضلاع سے آپ کی نام نہاد سرائیکی تنظیمیں اکثریت میں ایوانوں میں بیٹھی ہوتیں۔ آپ پڑی فروش ہیں یا مردے نہلانے والے ،یہ خطاب میں نے نہیں دیئے، آپ ہی کے مخالفوں نے دیئے ہیں۔ میں آپ کی کبڑی سوچ کا مخالف ہوں ،میں افراد کا نہیں نظریات کا حامی اور مخالف رہا ہوں۔ لیکن دھریجہ صاحب! آپ شکست کھا گئے ہیں۔ آپ ملیا میٹ ہوگئے ۔آپ کے علاقے کے لوگوں نے فیصلہ کرلیا کہ وہ لسانی بنیادوں پر صوبہ نہیں بنائیں گے۔ آپ کو لوگوں نے مسترد کردیا۔ یاد کرو وہ دن جب میں آپ سے کہتا رہا کہ نفرت کے بیج نہ بونا۔ آج آپ اور آپ کے ساتھیوں کو جنوبی پنجاب کے عوام کی اجتماعی سوچ نے دھتکار دیا۔ یہ میرا جنوبی پنجاب ہے ،یہ میری ا سابق ریاست بہاولپور ہے۔ نشتر گھاٹ سے بہاولپور، بہاولنگر اور میلسی میں ستلج کے پانی کی سارا سال بندش پر میں نے اللہ کو حاضر ناظر جان کر اس علاقے کے لوگوں کی خدمت کی۔ میں نے آپ کی سیاست نہیں کرنی۔ چندہ جمع نہیں کرنا، نفرتوں کو فروغ دیکر اپنی جیبیں نہیں بھرنی‘ لیکن میں نے اپنے خلوص اور پیار سے اس علاقے کے محروموں اور مظلوموں کیلئے جدوجہد کی ہے۔ مجھے کچھ نہیں چاہیے ،نہ کوئی سیاست نہ کوئی سیٹ نہ پیسہ جبکہ آپ کے اندر کی سیاہی آپ کے چہرے پر آچکی ہے۔ جتنے پیسے بھی کما لیں، آپ کے چہرے پر کبھی رونق نہیں آئے گی۔ ملک دشمنوں، غریب دشمنوں کے نصیب میں ہمیشہ دھتکار اور نفرت ہوتی ہے۔ بہاولپور‘ ہارون آباد سے جامپور جتوئی تک مجھے اس علاقے کے لوگوں کی خوشحالی چاہئے۔ میں پڑوسی کو پڑوسی کے خلاف نہیں بھڑکاتا کہ کون کیا زبان بولتا ہے اور لنگڑے دانشور! میں نفرت کے سودے نہیں بیچتا۔ آپ بار بار میرے سمجھانے کے باوجود نفرتیں بانٹتے رہے۔ آپ خود سرائیکی وسیب سے تعلق نہیں رکھتے، آپ اس علاقے کے مامے کب سے بن گئے؟ بچھو کی فطرت کبھی نہیں بدلتی ، اس کا صرف ایک ڈنگ ہوتا اور وہ نفرت کا ٹیکہ لگانے کے سوا کچھ نہیں کرسکتا ہے۔ میری عمر آپ سے زیادہ ہے۔ میں آپ سے پہلے بھی خدا حضور پیش ہوسکتا ہوں۔ لیکن دھریجہ صاحب! آب حیات آپ نے بھی نہیں پی رکھا۔سن اوکبڑی سوچ کے پاکستان دشمن!رسول پاک نے اپنے آخری خطبے میں ارشاد فرمایا تھا کہ آج کے دن تم میں کوئی عربی ہے نہ عجمی۔ بتا او جئے سندھ کے مبلغ !آپ قیامت کے دن لسانی اور عصبی منافرت پھیلانے کا کیا جواب دو گے؟۔ لکھ دی لعنت پاکستان کے دشمنوں پر۔


سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں




دلچسپ و عجیب
کالم
آپ کی رائے
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved