تازہ تر ین

نواز شریف،سزا موخر کرنے کی کوشش

عبدالودودقریشی

میاں نواز شریف، مریم نواز شریف اور کیپٹن صفدر کے بارے میں جو تین ریفرنس احتساب عدالت میں زیر سماعت ہیں جن پر باری باری فیصلہ آئے گا چونکہ مذکورہ الزامات کو مسترد کرنے کے لئے اور بیرون ملک خریدی گئی جائیداد کا ذریعہ بتانے سے شریف فیملی قاصر رہی لہٰذا میاں نواز شریف کو اپنے وکلاءسمیت یہ علم ہے کہ انھیں ان مقدمات میں سزا ہونا ضروری ہے 25جولائی 2018ءکو ہونے والے انتخابات سے قبل اگر میاں نواز شریف کو بدعنوانی میں سزا ہوجاتی ہے تو ان کا گراف اور بھی نیچے آجائے گا لہٰذا میاں نواز شریف کی خواہش ہے کہ ان کے خلاف عدالتی فیصلہ انتخابات کے بعد آئے جبکہ سپریم کورٹ نے احتساب عدالت کو ایک ماہ کے اندر فیصلہ کرنے کا حکم دیاہے اسی فیصلے کو بہانہ بنا کر میاں نواز شریف کے وکیل خواجہ حارث نے اپنا وکالت نامہ واپس لے لیا یقینایہ وکالت نامہ میاں نواز شریف کی مرضی اور منشاءکے مطابق ہی واپس لیا گیا ہے میاں نواز شریف عدالت میں اگر نیا وکیل پیش کرتے ہیں تو نیا وکیل مقدمے کی تیاری کے لئے وقت چاہے گا اور یوں جب نئے سرے سے وکیل بحث و مباحثہ شروع کرے گا تو اس میں خاصی تاخیر ہوجائے گی یہی میاں نواز شریف کی منصوبہ بندی ہے کہ ان کے خلاف فیصلے کو موخر کیا جائے۔میاں نوازشریف کا اگر نیا وکیل آتا ہے تو وہ اپنی موشگافیاں پیش کرنے کے لئے وقت چاہے گا مگر عدالت مزید وقت نہیں دے گی کیونکہ سپریم کورٹ ایک ماہ میں فیصلہ کرنے کا حکم صادر کر چکی ہے لہٰذا میاں نواز شریف کے آنے والے وکیل بھی چند دنوں میں وکالت نامہ واپس لیں گے اس کے پس پردہ محرکات میں وہ پراپیگنڈہ مہم ہے جو شروع کی جائے گی کہ انہیں مناسب دفاع کا موقع ہی نہیں دیا گیا۔مسلم لیگ ن کی اجتماعی حکمت عملی ہے کہ مسلم لیگ ن کی قیادت کے خلاف کوئی فیصلہ انتخابات سے قبل نہ آئے بصورت دیگر پارٹی کو اس سے ناقابل تلافی نقصان ہوگا قیادت کے خلاف آنے والے فیصلے پر اگر ورکر ہر شہر اور ضلع میں احتجاج کرتے ہیں تو اس پر انہیں ریاستی طاقت کا سامنا کرنا پڑے گا جس میں ان کی شکست یقینی ہے اور یوں وہ اپنی تمام تر توجہ ووٹ حاصل کرنے کی بجائے میاں نواز شریف کے تحفظ میں صرف کردیں گے جس سے پارٹی کو انتہائی کم ووٹ پڑیں گے اور شکست ان کا مقدر ہوگی۔سزا میں تاخیر کا ایک فائدہ ہوگا کہ انتخابات کے دوران میاں نواز شریف اور مریم نواز رشریف ہر جگہ یہ کہہ سکیں گی کہ وہ سو سے زائد بار عدالت میں پیشیاں بھگت چکے ہیں مگر ایک ایسی جگہ ثابت نہیں کی گئی کہ جہاں سے ہم نے چوری کی ہورشوت لی ہو توپھر ہم پر الزام کس بات کا ہے جبکہ یہ کہانی وائٹ کالر کرائم سے پہلے کی ہے اس زمانے میں لوگ قومی دولت لوٹتے تھے اور جب کوئی ان پر اعتراض کرے تو یہ کہتے تھے کہ پہلے یہ ثابت کیا جائے کہ ہم نے چوری کہاں سے کی ہے مگر نئے قوانین ساری دنیا میں آگئے ہیں اور ملزم کوثابت کرنا پڑتا ہے کہ اس کے پاس جو اثاثے اور دولت ہے اس نے کہاں سے حاصل کئے ہیں اس کے ذرائع کیا تھے ذرائع ثابت نہ کرنے والا مجرم اور سزا یافتہ قرار پاتا ہے مگر میاں نواز شریف اور ان کی پارٹی کا ابھی تک یہ موقف ہے کہ وہ لوگوں کو یہ کہہ کر بیوقوف بنا لیں گے کہ ان کے پاس لندن میں جائیدادیں تو ضرور ہیں مگر اس کے لئے رقم ہم نے کہاں سے چوری کی پہلے وہ چوری بتائی جائے پھر اس چوری میں شامل ملزموں کو کیا سزا ہوئی کہاں ایف آئی آر درج ہوئی اور عدالتوں نے اس پر کیا فیصلے دیئے پھر ہمارے پاس آکر اس جرم میں شریک مجرم قرار دیا جائے اور اس فیصلے کے بعد ہمارے جائیدادوں پر پوچھ گچھ ہو۔برطانیہ میں بانی متحدہ کے گھر اور بینکوں سے جو رقوم برآمد ہوئیں تو اس پر انہوںنے یہ موقف اختیار کیا کہ یہ جائز ہیں اور پاکستان سے آئی ہیں اور جب پاکستان حکومت نے ان بھاری رقوم پر اپنی ملکیت کا برطانوی حکومت کو خط لکھا تو ان کے وکلاءنے برطانوی حکومت سے کہا کہ پہلے حکومت پاکستان یہ ثابت کرے کہ یہ رقوم کہاں اور کیسے چوری کی گئی ہیں اور اس حوالے سے پاکستان میں کوئی مقدمہ درج ہوا ہے جس پر اب حکومت پاکستان نے خدمت خلق فاﺅنڈیشن سے چوری ہونے والے چار ارب روپے کا مقدمہ درج کیا ہے اور یہ کاروائی جاری ہے پاکستان کے قومی احتساب بیورو میں بھی جب اشرافیہ کی بدعنوانی کا احتساب کرنے کے لئے قوانین مرتب کئے گئے تو اس میں پہلی شق یہ ڈالی گئی کہ جس بھی سرکاری ملازم،وزیر یا ارکان پارلیمنٹ کے بینکوں،گھروں یا کسی اور طرح جو بھی اثاثے سامنے آئیں اس کا ملزم ثبوت پیش کرے گا کہ اس نے یہ اثاثے کہاں سے اور کیسے بنائے ہیں میاں نواز شریف یہی گردان ہر جگہ دہراتے ہیں کہ مجھ پر کہیں سے بھی رشوت لینے ،کمیشن لینے یا چوری کا کوئی ثبوت نہیں ہے مگر وہ اس طرف نہیں آتے کہ جو جائیدادیں برطانیہ میں ان کے بچوں کے نام ہیں وہ کہاں سے آئیں اور مریم نواز شریف نے تو یہاں تک کہا کہ مجھ پر یہ الزام ہے میری تو پاکستان میں کوئی پراپرٹی نہیں بیرون ملک کہاں سے آئی،ایک بچے نے ٹی وی میں کہا کہ وہ جس مکان میں رہتا ہے وہ کرائے کا ہے اس پر بی بی سی ٹی وی کے نمائندے نے پوچھا کہ وہ کرایہ کس کو ادا کرتے ہیں مالک کون ہے تو اس نے کہا کہ مجھے بھی اس کا پتہ نہیں ہے پھر اس نے کہا کہ وہ کرایہ پاکستان سے ان کے والد صاحب دیتے ہیں جبکہ میاں نواز شریف کا یہ موقف ہے کہ ان کا ان فلیٹوں سے کوئی تعلق ہی نہیں ہے پنجاب میں بلاشرکت غیرے تیس سالوں سے وقتاً فوقتاً اور گذشتہ دس سال سے تسلسل کے ساتھ حکمران رہنے والی پارٹی جو موروثی پارٹی ہے کہ بچوں نے یہ جان لیا تھا کہ شاید اب پاکستان میں کوئی ادارہ،کوئی قانون، کوئی آئین انہیں نہیں پوچھ سکے گا وہ سابقہ حکمرانوں کے جلال کو بھول گئے کہ یہاں ایوب خان بھی تھا،ذوالفقار علی بھٹو بھی تھا نواب آف کالا کاغ بھی تھا مگر آج ان کا نام حقارت سے لیا جاتا ہے اور ان کا نام لینے والے زیر عتاب آجاتے ہیں میاں نواز شریف کو انتخابات سے پہلے اگر سزا ہوتی ہے یا بیرون ملک جانے کی کوشش میں گرفتار ہوجاتے ہیں تو مسلم لیگ ن احتجاج کرے گی اور اگر معاملہ کچھ بڑھتا ہے تو پھر انتخابات میں تاخیر بھی ہوسکتی ہے۔جبکہ چیف جسٹس،چیف الیکشن کمشنر اور نگران وزیر اعظم یہ نہیں چاہتے مگر ناگزیر حالات کی وجہ سے انتخابات میں تاخیر ایک آئینی ضرورت ہے۔
٭٭٭


سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں




دلچسپ و عجیب
کالم
آپ کی رائے
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved