تازہ تر ین

اخبارات کو اشتہارات کے پیسوں کی ادائیگی پر سپریم کورٹ کا شکریہ : ضیا شاہد ، شیخ رشید کے فیصلے پر نظر ثانی اپیل نہیں ہوسکے گی : ایس ایم ظفر ، مشرف کو ریلیف ادھوری یقین دہانی تھی : ڈاکٹر امجد ، چینل ۵ کے پروگرام ” ضیا شاہد کے ساتھ “میں گفتگو

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) تجزیوں اور تبصروں پر مشتمل چینل ۵ کے خصوصی پروگرام ”ضیا شاہد کے ساتھ“ میں چیف ایڈیٹر خبریں گروپ آف نیوز پیپرز ضیا شاہد نے کہا کہ دو جج حضرات نے شیخ رشید کو اہل قرار دیا ہے۔ ایک جج قاضی فائز عیسیٰ کا بہت مشہور فیملی بیک گراﺅنڈ ہے۔ اس لئے کہ یہ بلوچستان کے یحییٰ بختیار کی طرح بہت پرانی شخصیت قاضی عیسیٰ صاحب جن کا تعلق پاکستان بننے کے وقت پاکستان مسلم لیگ سے تھا اور وہ قائداعظم کے جانثار شمار ہوتے تھے۔ قاضی فائز عیسیٰ انہی قاضی عیسیٰ صاحب کے صاحبزادے ہیں اور بہت آزاد جج شمار ہوتے ہیں۔ آج انہوں نے جو الگ نوٹ لکھا اس کو اختلافی نوٹ تو نہیں کہہ سکتے لیکن انہوں نے ایک طرح سے دو ججوں کے فیصلے سے اتفاق نہیں کیا بلکہ انہوں نے بعض بنیادی اصولوں کی طرف توجہ دلائی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر ایک شخص کی یہ بات تسلیم کر لی جائے کہ اس کو فلاں بات یاد نہیں رہی تھی اور اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ بس یاد نہیں رہا تھا تو پھر کسی دوسرے شخص کو اس بنیاد پر کس طرح سے نااہل قرار دیا جا سکتا ہے۔ قانونی حلقوں میں شام سے یہ بحث شروع ہے کہ قاضی عیسیٰ فائز نے کہا اس میں کتنا سچ ہے۔ قانونی حلقوں کی بات کے حوالے سے پروگرام میں سینئر قانون دان ایس ایم ظفر نے ٹیلی فونک گفتگو کی۔ جس پر ایس ایم ظفر نے کہا کہ مجھے اس وقت افسوس ہوا تھا جب میں نے پانچ ججوں کا فیصلہ پڑھا جس میں میاں نواز شریف کو نااہل قرار دے دیا گیا تھا چونکہ اس کی دلیل کمزور تھی۔ لیکن عدالتوں کے دلائل اپنی جگہ اور فیصلہ اپنی جگہ، دلیل کا کمزور ہونا اس چیز کی نشاندہی کرتا ہے کہ فیصلہ قابل ریویو ہے۔ نامعلوم کس وجہ سے نوازشریف نے فیصلے کے خلاف ریویو داخل نہیں کیا۔ میرا یقین ہے کہ اگر وہ ریویو داخل کرتے تو جج صاحبان مجبور ہو جاتے کیونکہ اس وقت رائے آنی شروع ہو گئی تھی کہ ان کے خلاف فیصلہ کمزور ہے۔ شاید وہ نظر ثانی کر لیتے لیکن کسی کلائنٹ یا ایسے شخص کو جسے انصاف ملنا چاہئے، یا جس کا خیال ہے کہ میرے ساتھ انصاف نہیں ہوا، مایوس ہو کر بیٹھ رہنا بھی اتنی ہی بڑی غلطی ہے۔ اور اس کے لئے وہ چاہے جتنی بڑی دلیل دے درست نہیں ہے۔ انصاف کے لئے آخری چوکھٹ تک کھٹکھٹانی ضروری ہوتی ہے۔ قاضی عیسیٰ فائز سے متفق ہونے کے حوالے سے سوال پر انہوں نے کہا کہ ضیا صاحب میں بہت عجیب قسم کی بات کرنے لگا ہوں اور اس کے لئے شاید مزید بحث نہ کر سکوں۔ لیکن تین ججز کا جو پہلے فیصلہ آیا تھا جس کی سربراہی آصف سعید کھوسہ صاحب کر رہے تے۔ بہت عمدہ اور اچھی انگرازی الفاظ میں جب انہوں نے فیصلہ دیا جو کہ بعد کے فیصلے سے بھی زیادہ کمزور تھا کہ ان کی نظر میں نواز شریف نااہل ہو چکے ہیں۔ میں آپ سے پوچھتا ہوں کہ میڈیا نے ان تین ججز کے فیصلے کو تاریخی فیصلہ کیوں قرار دے دیا تھا اور کیوں بہت عرصہ اس کی توسیع میں لگے رہے۔ یہاں تک کہ ایک پریشر تمام لوگوں نے ذہنوں پر بن گیا کہ وہی فیصلہ درست ہے کہ جس میں نواز شریف کو کسی نہ کسی صورت نااہل کر دیا جائے۔ مجھے یقین ہے کہ اگر یہ پریشر نہ بنتا تو جج صاحبان جنہوں نے بعد میں فیصلہ لکھا اور تین ججز کے درمیان شامل ہوئے، وہ اپنا فیصلہ یقینا بہتر دلیلوں پر وضاحت دے کر کرتے۔ ضیا شاہد نے پوچھا کہ شیخ رشید کے اہل ہونے کے فیصلے کے خلاف کیا کوئی کورٹ میں جا سکتا ہے اور وہ کون سی کورٹ ہو گی جہاں سے فیصلے کے خلاف اپیل کی جا سکتی ہے۔ ایس ایم ظفر نے کہا کہ فیصلے تو تبدیل ہوں گے اور آئندہ بھی ریویو ہوتے رہیں گے مگر جو نتیجہ ہے اس کا ریویو نہیں ہو سکے گا۔ اس کی معیاد ختم ہو چکی ہے۔ شیخ رشید کے حوالے سے فیصلہ پڑھا نہیں لیکن ان کو اللہ کا شکر ادا کرنا چاہئے کہ وہ اس فیصلے میں بچ گئے ہیں۔ میں ان کو مبارک دیتا ہوں۔ ضیا شاہد نے کہا کہ تحریک انصاف ان کے مقابلے میں حسب سابق جس طرح پچھلی مرتبہ انہوں نے کوئی امیدوار کھڑا نہیں کیا تھا۔ اس لئے وہ اس بار بھی ان کے مقابلے میں کوئی امیدوار کھڑا نہیں کر رہی۔ ظاہر ہے کچھ نہ کچھ اثرورسوخ تو اس علاقے میں شیخ رشید صاحب کا بھی ہے۔ جب وہ آزاد اور تحریک انصاف کی مدد کے بغیر کھڑے ہوئے تھے تو بھی انہوں نے کچھ نہ کچھ ووٹ ضرور لئے تھے۔ اب جبکہ تحریک انصاف بھی ان کی حمایت کرے گی تو پچھلی مرتبہ کی طرح میرے خیال میں 90 فیصد وہ جیت جائیں گے اور ان کے یہ کہنے کا مطلب کہ تگڑے ہو جاﺅ میں آ رہا ہوں، یہی ہے کہ میں جیت کے آ رہا ہوں۔ پرویز مشرف کو سپریم کورٹ کی جانب سے وطن واپسی کے لئے 2 بجے تک کا ٹائم دینے اور عدالت سے نکلتے ہی گرفتار کر لئے جانے پر کوئی گارنٹی نوٹس نہ دینے کے حوالے سے سوال پر ضیا شاہد کا کہنا تھا کہ اُردو شاعری میں بڑے مزے مزے کے شعر ہیں اور مصرے تو بہت ہی کمال کے ہیں، اس قسم کا مصرعہ۔ مجھے اس صورتحال کو دیکھ کر یاد آیا ہے کہ ”اس سادگی پہ کون نہ مر جائے اے خدا، کہ لڑتے ہیں اور ہاتھ میں تلوار بھی نہیں۔ قصہ یہ ہے کہ جن جج صاحبان نے یہ کہا اور چیف جسٹس صاحب نے فرمایا اس پر یہی کہہ سکتے ہیں کہ ’کمال ہے، واہ واہ!۔ پروگرام میں آل پاکستان مسلم لیگ کے رہنما اور پرویز مشرف کے ترجمان ڈاکٹر امجد نے ٹیلی فونک گفتگو کی۔ ضیا شاہد نے ان سے سوال کیا کہ پرویز مشرف کے حوالے سے فیصلے کے الفاظ یہ تھے کہ ایئرپورٹ سے لے کر عدالت تک ان کو گرفتار نہیں کیا جائے گا اور اس وقت بھی اس پر بہت بہت ہوئی تھی اور رات بھر ٹاک شوز میں قیاس آرائی ہوتی رہی اور ایئرپورٹ سے سپریم کورٹ کی عمارت تک تو واقعی ان کو کوئی گرفتار نہیں کرتا، چیف جسٹس صاحب کے حکم کے مطابق، لیکن اس بات کی کیا ضمانت ہے کہ جونہی وہ عدالت سے باہر نکلیں گے تو کسی نہ کسی کیس میں، جو کافی زیر التوا کیسز ہیں ان کے خلاف، اس میں گرفتار کر لئے جائیں گے۔ لہٰذا عام خیال ہی تھا کہ جب تک چیف جسٹس صاحب کی طرف سے ان کو مکمل یقین دہانی نہ ہو تو وہ کوئی بچے ہیں کہ پاکستان آ جائیں گے۔ جس پر ڈاکٹر امجد نے کہا کہ یہ آدھی یقین دہانی نہیں بلکہ ان کو صرف عدالت میں بلانے کے لئے اور اس کیس میں ان کو وہاں حاضر ہونے کے لئے ایک عارضی ریلیف ہے۔ لیکن جس طرح نواز شریف اور دیگر کہہ رہے کہ ان کو کیوں یہ ریلیف دیا کہ ان کو گرفتار نہیں کیا جائے گا تو عدالت تو ریلیف دے ہی اسس لئے رہی ہے تا کہ وہ ہمارے سامنے پیش ہو سکیں۔ یہ کوئی مشرف صاحب کے فائدے کے لئے نہیں ہے، اس لئے بھی کہ وہ اگر راستے میں ہی کسی اور کیس میں گرفتار ہو جاتے ہیں تو وہ ادھر چلے جائیں گے، اس کیس میں تو نہیں آئیں گے۔ اس کیس میں گرفتاری کی کوئی وجہ ہی نہیں ہے۔ یہ کیس نااہلی کا پہلے کا فیصلہ ہے جس پر ہم نے کہا ہے کہ ان کو غلط نااہل کیا ہے؟ ان کو الیکشن ان کی اجازت دیں۔ یہ کوئی واضح ریلیف نہیں ہے۔ آج ہم نے سپریم کورٹ میں چیف جسٹس صاحب اور اس بنچ سے استفسار کیا کہ آپ عدالت تک تو کہہ رہے ہیں، آپ اگر یہ اجازت دیتے ہیں کہ پرویز مشرف پاکستان واپس آ کر دوسرے لیڈران کی طرح الیکشن مہم چلا سکیں گے اور وہ آزادانہ نقل و حرکت کر سکیں گے تو پھر ہم پرویز مشرف کو بلا لیتے ہیں تا کہ ان کے اور دوسروں کے برابر حقوق ہوں۔ جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ یہاں تک کے لئے ہم کہتے ہیں، اس کے بعد کا فیصلہ ہم ان کے آنے کے بعد کریں گے۔ میرے خیال میں ریلیف کے اعتراض پر لوگ اپنی اپنی جگہ ترجمہ کر رہے ہیں لیکن ہم یہ سمجھتے ہیں کہ ریلیف ان کو عدالت تک لا کر شامل کرنے تک ہے۔
ترجمان پرویز مشرف کا کہنا تھا کہ اگر اکبر بگٹی کا قتل ہوا یا بے نظیر بھٹو صاحبہ کا ہوا یا لال مسجد میں آپریشن ہوا۔ جس کے نتیجے میں رشید غازی صاحب کی وفات ہو گئی۔ تینوں قتل کے کیسز پرویز مشرف پر ڈالے ہوئے ہیں۔ یہ سیاسی کیسز ہیں۔اگر آرمی چیف کسی دستے کو آرڈر دے گا کہ فلاں جگہ پر جا کر کارروائی کرے۔ دہشت گرد ہیں یا ملک دشمن ہیں تو وہ دستہ نہیں کرے گا۔ اگر اس طرح کے قتل کے مقدمات ایک سابقہ آرمی چیف پر بنائیں گے تو پھر آئندہ کوئی ٓارمی چیف بھی حکومت کے سامنے یہ نہیں کرے گا کہ بس ان آپریشنز کی اجازت دیتا ہوں یا ان آپریشنز کی نگرانی کرتا ہوں یا دہشت گردوں کا خاتمہ کرتا ہوں۔ جیسا کہ ردالفساد میں باجوہ صاحب کر رہے ہیں۔ اس سے پہلے راحیل شریف صاحب کیا تھا اور اس سے پہلے کیانی صاحب نے سوات میں کیا۔ سیاسی جماعتوں کی طرف سے روایت ڈال دی گئی ہے۔ جنہوں نے یہ مقدمات جان بوجھ کر پرویز مشرف کو نقصان پہنچانے یا فوج کو شرمندہ کرنے کے لئے تیار کئے تھے۔ پرویز مشرف نے 2008ءمیں استعفیٰ دیا، اس کے بعد 30 اپریل 2009ءتک وہ ملک کے اندر رہے۔ 10 مہینے ملک کے اندر رہے، پیپلزپارٹی کی حکومت تھی اور پنجاب میں نواز شریف کی حکومت تھی اور شروع میں دونوں بڑے گلے بھی ملتے رہے اور وفاقی حکومت بھی مشترکہ تھی جنہوں نے مشرف صاحب سے حلف لیا۔ اس دوران ان پر کوئی مقدمہ قائم نہیں کیا گیا، نہ لال مسجد کا، نہ بگٹی صاحب کا، نہ جج نظر بندی کا اور نہ ہی بے نظیر قتل کا۔ جب وہ ملک سے چلے گئے تو تقریباً 2 سال کے بعد 2011ءمیں جان بوجھ کر پیپلزپارٹی کے رحمان ملک نے ایف آئی اے میں اپنی کمیٹی بنائی اور ان کو یہ کہا کہ اس کیس میں مشرف صاحب کو بھی ڈال دیں۔ یعنی ان پر جان بوجھ کر تین سال بعد بینظیر قتل کا الزام ڈال دیا گیا۔ اسی طرح بگٹی صاحب کا ڈال دیا گیا۔ اسی طرح پنڈی اسلام آباد کے وکلاءجو سابقہ چیف جسٹس کے حمایتی تھے اور ان کی پنڈی میں مومنٹ کے انچارج تھے، ان وکلاءنے مل کر اسلام آباد میں جا کر کیس دائر کر دیا کہ مشرف صاحب نے ججز کو نظر بند کیا تھا، انہیں اور ان کے بچوں کو باہر نہیں جانے دیا، ان کے امتحانات رہ گئے اور انہیں کھانا نہیں دیا۔ یہ چیزیں روایت اورغلط ہیں۔ سیاسی لوگ اپنے کام سیاست سے کریں، یہ نہیں کہ کوئی ادارے کا سربراہ ہے اور اس نے اگر کوئی ایکشن لیا ہے، آرڈر پاس کیا ہے یا آرمی یا صدر نے وزیراعظم کے کہنے پر کسی ایڈوائس پر سائن کئے تو آپ اس کو 4,3 قتل کے مقدمات، ایک اغوا کا پپرچہ اور آئین کو توڑنے کے بدلے انہیں ملک کا سنگین ترین غدار کہہ دیا جائے۔
سپریم کورٹ کی جانب سے فیصلہ کہ چینل مالکان سیلری ادا کریں اس پر چینل مالکان کی جانب سے اشتہاری کمپنیوں کی طرف پیسے رکے ہونے کے نقطہ کو اٹھایا گیا جس پر بات کچھ آگے بڑھی اس حوالے سے چیف ایڈیٹر خبریں گروپ نے کہا کہ وہاں بحث ہو رہی تھی، اصل مقدمہ، اس کی بنیاد سوموٹو نوٹس تھا، جس کو ازخود اختیار کا نوٹس کہتے ہیں۔ خود سپریم کورٹ نے، چیف جسٹس صاحب نے اس بنچ کے سامنے پیش کیا تھا۔ اصل کیس یہ تھا کہ قومی فنڈ، عوامی فنڈ استعمال کیا جا رہا ہے۔ جس بھی پراجیکٹ کہ ہسپتال ہو، سکول ہو یا کوئی سکیم ہو یا پاور جنریٹنگ یونٹ ہوں اس پر بڑی بڑی تصویریں سیاسی لیڈروں کی چھپ رہی ہیں۔ جس کا نوٹس لیا گیا۔ لیکن جب ہم وہاں پیش ہوئے، اصل میں وہ ایک ہی پیشی میں ختم ہو جانا چاہئے تھا، وکیل صاحبان آپس میں بات چیت کر رہے تھے، یقیناً قابل لوگ تھے لیکن میں نے محسوس کیا کہ اخبارات کے ایڈیٹرز کا نقطہ نظر شاید صحیح طریقے سے پیش نہیں ہو رہا۔ لہٰذا میں نے کہا کہ میں کسی کاغذ پر جواب دینے کی بجائے میں خود پیش کرنا چاہتا ہوں۔ جس پر انہوں نے کہا کہ جو ضیا شاہد صاحب آپ بتائیں تو میں نے تھوڑا، عام طور پر 5,4 منٹ سے زیادہ سپریم کورٹ میں بولے نہیں دیتے کیونکہ رش بہت ہوتی ہے۔ لیکن میں نے پورے چودہ منٹ تقریر فرمائی اور میں نے کہا جناب آپ حکم دیتے ہیں کہ اخبارات فوراً ادائیگی کریں۔ تو میں نے کہا ہم اخبار اور چینل میں دو مہینے پیچھے تھے، ہم نے 7 دن میں پونے دو کروڑ کا بندوبست کیا اور آٹھویں دن وہ ادائیگی کر دی۔ لیکن جناب میرا کہنا یہ ہے کہ یہ 6 کروڑ روپے کے چیک میرے پاس ہیں جو باﺅنس ہوئے ہوئے ہیں، سال بھر سے اور 14 کروڑ روپے ہم نے مزید لینے ہیں 14 اور 6، 20 ہو گئے، اس کے علاوہ بہت سارے پیسے ہم نے سینٹرل گورنمنٹ کے سرکاری اشتہارات کے مختلف اخباروں میں لینے ہیں۔ حضور ہماری بھی ادائیگی کا بندوبست کروائیں، ہمیں تو آپ ڈنڈا دکھاتے ہیں، ہم ڈر جاتے ہیں کہ سپریم کورٹ نے جو آرڈر کیا آنکھیں بند کر کے ہم اس پر عمل کریں۔ لیکن ہم نے کہاں سے پیسے لینے ہیں۔ جہاں سے لینے ہیں وہ تو ہمیں دیتے ہیں اور سرکاری محکمے واجبات نہیں دیتے۔ چیف جسٹس کی مہربانی ہے وہ میرا نقطہ نظر سمجھ گئے۔ انہوں نے کہا کہ میں اس بات کو یقینی بناﺅں گا کہ آپ کے واجبات آپ کو ملنے چاہئیں۔ چنانچہ انہوں نے ایک جملے کے اندر آرڈر کیا تو جتنے سرکاری اشتہارات کے بل ہیں ایک ہفتے کے اندر اندر وہ اخبارات کو ادا کئے جائیں۔ ساتھ ہی انہوں نے مجھے کہا کہ اے پی این ایس سے ایک آدمی، سی پی این ای سے ایک بندہ اور پاکستان ایڈورٹائزنگ ایسوسی ایشن سے ایک بندہ اور سنٹرل گورنمنٹ، فیڈرل گورنمنٹ کے سیکرٹری صاحب یا انن کا نامزد ایک بندہ، ان چار بندوں کی کمیٹی بناتا ہوں جو بیٹھ کر ایک ہفتے کے اندنر ادائیگی کروائیں۔ میں نے کہا کہ مجھے بہت سفر کرنا پڑے گا، میں نے اپنی سیکرٹری جنرل اعجاز الحق کو کو کہا، اے پی این ایس سے سرمد صاحب گئے، ادھر سے واجد صاحب گئے اور اے پی آئی اور سلیم صاحب سے مقرر ہوئے۔ ایک ہفتہ تو ایک طرف سوا مہینہ گزر گیا۔ سرکاری واجبات کون دیتا ہے۔ ہم نے پھر شور مچایا اور سپریم کورٹ کے آرڈرز کے تحت انہوں نے کہا کہ آپ فوراً یہ ادائیگی کریں چنانچہ پرسوں پہلی ادائیگی 35 کروڑ روپے کا چیک اے جی پی آر سے بن کر متعلقہ چار ایجنسیوں کو چلا گیا۔ ہم اس پر شکریہ کا اشتہار بھی چھاپ رہے ہیں اور خط بھی لکھا ہے کہ جناب آپ کا بہت شکریہ۔ باقی بھی کچھ واجبات ہیں لیکن میں اس بات پر خوش ہوں کہ اگر چیف جسٹس صاحب نے ہماری سرزنش کی، کوئی بات نہیں ان کا حق ہے، جہاں کہیں بے قاعدگی ہو۔ لیکن انہوں نے ہمارا موقف بھی سنا کہ ہماری بھی ادائیگی کروائیں۔ نہ صرف ادائیگی ہوئی بلکہ نہیں ہو رہی تھیں اور دوبارہ ان کا سخت حکم آیا اوار پرسوں 35 کروڑ کی ادائیگی کے چیک جاری ہو گئے۔ جس پر میں چیف جسٹس صاحب کا بہت شکر گزار ہوں۔

 


سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved