تازہ تر ین

چیف جسٹس کا قومی اقدام اورہمارا فرض

نصیر ڈاھا …. گستاخی معاف
خبروں کا ہجوم ہے لیکن سب کی سب کثیف، کہیں کوئی لطافت موجود نہیں کہ جو ذہن کے بھاری اور بوجھل پن کو کثافتوں کی دبیز تہوں سے نکال کر لطافتوں کے باریک پردوں کی لپیٹ میں لے لے اور بے چینی، مایوسی اور دلِ ناتواں کی بے قرار دھڑکنوں کو کسی لمحے چین و سکون میسر آسکے۔ ہر طرف وہی جملے سننے کو مل رہے ہیں جنہیں سنتے سنتے دن، ہفتے اور عشرے ہوچکے ہیں۔ وہی خبریں گھوم پھر کر سامنے آرہی ہیں جن کی بابت پہلے سے ہی طے شدہ پروگرام چل رہے ہیں۔ نیا پن کیا ہے اور کیا مستقبل میں کوئی نیا پن بھی سامنے آئے گا؟ اس بابت کوئی ایسی خبر نہیں جسے خبریت قرار دیا جاسکے۔ دلچسپ بات یہ بھی ہے کہ چھوٹے درجے کے ایسے تجزیہ کار جو سوشل میڈیا پر خوب متحرک ہیں ، اپنی پیش گوئیوں کے سچ ثابت ہونے کی خوشی میں پرانے مضامین کے تراشے شیئرکرتے ہوئے باور کروارہے ہیں کہ ان کی مستقبل میں بھی مزید پیش گوئیاں سچ ثابت ہونگی۔ دراصل ہم زبردستی یہ باور کروانا چاہتے ہیں کہ جناب ! میں نے پہلے ہی یہ کہہ دیا تھا اور اب بھی یہ کہہ رہاہوں کہ ایسا ہوگا، ویسا ہوگا۔۔۔۔یہ جو کچھ بھی کہا جارہاہوتا ہے، یہ دراصل اونٹ کی وہ کروٹ ہوتی ہے جو ایک جانب جھک رہی ہوتی ہے اور جس کی بابت رائے قائم ہوجاتی ہے کہ اونٹ اِسی بل بیٹھے گا لیکن کوئی یہ نہیں جانتا کہ جب یہ کروٹ زمین کے ساتھ لگے گی تب کیا پتا اونٹ جھرجھری لے کر دوبارہ سے کھڑا ہوجائے اور پھر کھڑا ہی رہے، کبھی بیٹھے ہی نہ۔۔۔۔
آج کل سیاست کا اونٹ کیا ہے اور وہ کس کروٹ بیٹھ رہاہے؟ اور یہ کہ ہمیں جس نوعیت کی سیاست دیکھنے اور کرنے کو مل رہی ہے، کیا یہ واقعی سیاست ہے ، یا سیاست کے لبادے میں ایک ڈھکوسلا ہے ، جس کی سمجھ کسی کو نہیں لیکن ہر کوئی اپنے تئیں رہنما بننے کے چکر میں ہے۔ آج اس گرداب سے کچھ دیر کے لئے خود کو نکالتے ہیں اور ذہن کو ذرا تروتازہ کرنے اور دل کی خوشی وطمانیت کی خاطر کسی اور راہ کو کھوجتے ہیں ۔ ذہنی افتاد اور قلبی پریشانی کا ایک حل یہ بھی ہے کہ کچھ دیر کے لےے اس مسئلے کو فراموش کردیاجائے اور کسی دوسری بات کی بابت سوچا اور غورکیا جائے لیکن صرف ایسے معاملے کی بابت جس میں کچھ نہ کچھ روشن اور خوشنما پہلو ضرور موجود ہوں ، جو چاہے دیکھنے میں ہی خوب بھلے لگیں، کم ازکم وقتی طور پر اختلاج کچھ دیر کیلئے تو تھم جائے گا اور پریشان کن لمحے کچھ دیر کیلئے دائرے سے باہر نکل جائیں گے۔
سپریم کورٹ نے ایک خصوصی فنڈ قائم کیا ہے اور جس کی ابتدا جناب چیف جسٹس نے اپنی گروہ سے خطیر رقم دے کر کی ہے۔ فنڈ کے قیام کا مقصد دیامر بھاشا ڈیم اور مہمند ڈیم کی جلد تعمیر کو عمل میں لانے کیلئے اخراجات کی ادائی ہے اور ایسا قوم کے تعاون سے ممکن بنانے کی سبیل کی جارہی ہے۔ اِسی قوم کے تعاون سے ہی نیلم جہلم ہائیڈوپاور پراجیکٹ بھی تکمیل کے آخری مراحل میں ہے ۔ یہ ایک ہزار کے لگ بھگ میگاواٹ کا حامل منصوبہ ہے ۔ سپریم کورٹ کی جانب سے قبل ازیں یہ رائے سامنے آئی تھی کہ کالاباغ ڈیم کے لےے اتفاق رائے پیدا کرنے کی کوشش کی جائے گی ۔ اِس سلسلے میں ماہرین کی مختلف آراءسامنے آئیں جو سب کی سب ڈیم کے حق میں تھیں۔ حتیٰ کہ یہاں تک کہہ دیا گیا کہ اگر کالاباغ کے نام سے کسی کو اختلاف ہے ، تو اِ س کا نام ہی بدل دیتے ہیں ۔ ایک فارمولا تیار کیا گیا جس کے تحت تحفظات ظاہر کرنے والے صوبوں کو زیادہ سے زیادہ حصہ دینا تھا لیکن جناب چیف جسٹس جلد ہی سمجھ گئے کہ اس مسئلے کے حل کیلئے جس قدر توانائی خرچ ہوگی اور جس قدر بھاگ دوڑ کرنا پڑے گی، اتنے میں دو ڈیم تیار ہوسکتے ہیں اور اس میں بھی زیادہ تردد نہیں کرنا پڑے گا چنانچہ حتمی رائے کے طور پر دیامر بھاشا ڈیم اور مہمند ڈیم کے نام قرعہ فال نکلا۔ ۔۔یہ جناب چیف جسٹس کے اُن اقدامات کا نتیجہ ہے جو وہ ملک میں پانی کی کمی کے مسئلے کے حل کے سلسلے میں اٹھا ئے جارہے ہیں۔حال ہی یہ رپورٹ بھی سامنے آچکی ہے کہ منگلا اور تربیلا ڈیموں میں قابل استعمال پانی کی سطح تقریباً ڈیڈ لیول تک پہنچ چکی ہے۔ یہی صورتحال باقی ڈیموں کی بھی ہے ۔ ہماری بدقسمتی کی انتہا بھی دیکھیے کہ ہم دریاﺅں میں بہنے والے پانی کا 80سے 90فیصد حصہ سمندر کی نذر کررہے ہیں لیکن کوئی یہ سوچنے اور کرنے پر تیار نہیں کہ چلیں میرے حصے میں چاہے کچھ نہ آئے لیکن کم ازکم میرے بھائی کو تو استفادے کا کچھ موقع مل جائے۔ ایسی قربانی دینے کی ہمت اور جرا¿ت ہم میں سے کوئی بھی کرنے کو تیار نہیں اور ہم ہیں کہ سب کچھ ضائع ہوتا ہوا دیکھ رہے ہیں۔
اگرچہ ایک رائے یہ بھی سامنے آرہی ہے کہ قوم سے تعاون کی اپیل کرنے کے بجائے سپریم کورٹ کو چاہیے کہ وہ کرپشن کیسوں میں حاصل ہونے والی رقوم اس مد میں خرچ کرے۔ شاید یہاں کوئی قانونی رکاوٹ آڑے آرہی ہے کہ ایسی رقوم کو قومی خزانے میں جمع کروانا لازمی ہوتا ہے۔ کچھ لوگ کہہ رہے ہیں کہ ماضی میں ”قرض اتارو، ملک سنوارو“ جیسی مہم میں حاصل ہونے والے خطیر فنڈز کی بابت کچھ پتا نہیں چلا کہ وہ کہاں استعمال ہوئے۔ دراصل ہمارے ہاں بے اعتمادی کی ایک فضا قائم کردی گئی ہے اور اس فضا میں اخلاص اور منافقت ایک دوسرے میں اِس قدر گھل مل گئے ہیں کہ معلوم ہی نہیں پڑتا سچ کیا ہے اور جھوٹ کیا۔۔کس نے ملمع کاری کر رکھی ہے اور کس کے چہرے کے حقیقی خدوخال واضح اور نمایاں ہیں۔ اب جبکہ ملک کا سب سے معتبر ادارہ سپریم کورٹ یہ کریڈٹ لینا چاہتا ہے کہ اُس نے ملک و قوم کے فائدے کے لئے اور یہ کہ ہمارے آنے والی نسلوں کے مستقبل کو محفوظ بنانے کی خاطر ایک شاندار قدم اٹھایا ہے ، تو کم ازکم اس پر اعتماد ضرور کرنا چاہیے اور یہ کہ اس سلسلے میں اپنا دستِ تعاون بھی دراز کرنا چاہیے۔ یہ امر انتہائی خوش آئند ہے کہ سب سے پہلے فوج نے اس کارِ خیر میں تعاون کرنے کا اعلان کیا ہے اور کہا ہے کہ افسران دو دن اور جوان ایک دن کی تنخواہ جناب چیف جسٹس کے فنڈمیں عطیہ کرینگے۔ ویل ڈن! فوج کہ جس کے متعلق ہمارے سیاست دان فرماتے ہیں کہ وہ ملک کا خطیر بجٹ صرف کرتی ہے۔ فوج کے لےے یہ خطیر بجٹ کیوں ضروری اور لازم ہوتا ہے اس پر پھر کبھی کالم لکھوں گا اور ثابت کروں گا کہ فوج بجٹ کے ایک بڑے حصے کی حق دار کیوں ہے اور یہ کہ کوئی اور دوسرا ادارہ اس اہل کیوں نہیں۔ فوج نے ثابت کردیا کہ وہ صرف ملکی سلامتی کی ہی ذمہ دار نہیں بلکہ بحرانوں کو جنم دینے والے اسباب کے خاتمے میں بھی اپنا اہم کردار اداکرنے کی خواہاں ہیں۔ آئیے! ہم بھی اِس سلسلے میں اپنااپنا کردار ادا کریں۔ قطرہ قطرہ مل کر دریا بنتا ہے۔ ہم اگر کوشش کریں یہ تو یہ دریا سمندر بھی بن سکتا ہے۔ ہمیں قحط ، خشک سالی اور اپنی آباد و خوشحال زمینوں کو بنجر بنانے سے بچانے کیلئے اپنے حصے کی شمع روشن کرنا ہوگی، اپنے حصے کا فنڈ دینا ہوگا۔ ہماری آج کی چھوٹی سی قربانی ایک بہت بڑے اور شاندار مستقبل کی بنیاد رکھنے میں مددگار ثابت ہوگی۔
جناب چیف جسٹس کا یہ اقدام یہیں تک کافی نہیں، انہیں چاہیے کہ وہ مزید نئی راہیں اختراع کریں۔ قانون میں ایسی ترمیم بھی ہو کہ کرپشن اور لوٹی ہوئی دولت بازیاب کرواکر ایسے قومی فنڈ میں جمع کروائی جائے اور پھر اس فنڈ کو قوم کی خیر وفلاح کے منصوبوں کے لےے استعمال کیا جائے۔ اس طرح ایک جانب قومی تعاون اور دوسری جانب لوٹی ہوئی دولت سے حاصل ہونے والی رقوم سے کم وقت میں خاطر خواہ نتائج حاصل کےے جاسکتے ہیں۔ یہ سب اقدامات جلد اور تیزترین کاوشوں کے متقاضی ہیں۔ نیز مستقبل میں ایسے مزید نئے منصوبوں کی داغ بیل ڈالنا بھی لازم ہے اور طے کرلیا جائے کہ دریائی پانے کے کم ازکم نصف حصے کو اپنے استعمال میں بہر صورت لانا ہے۔ اگرچہ یہ سب حکومت کے کرنے کا کام تھا۔ حکومت ! جو عوام کی فلاح و بہبود کی ذمہ دار ہوتی ہے اور جو ایسے منصوبوں کو عمل میں لاتی ہے جن کی بنیاد پر روشن مستقبل کی عمارت کھڑی ہوتی ہے۔ حکومتوں کے کرنے کے کام اب عدلیہ کے حصے میں آرہے ہیں۔ نیک نامی اور خیر وفلاح کے لئے قدم اٹھانے والوں کی کوئی تحصیص نہیں ہوتی۔ اصل مقصد ملک اور قوم ہوتے ہیں۔ کاش ! اس منصوبے کے نتیجہ خیز ہونے کی اطلاع جلد ہی ملے ۔۔
(دبئی میں مقیم‘ سیاسی وسماجی موضوعات پرلکھتے ہیں)
٭….٭….٭


سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں




دلچسپ و عجیب
کالم
آپ کی رائے
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved