تازہ تر ین

ریحام زادی

نوین روما……..اظہار خیال
کہاوت ہے ”کھسیا نی بلی کھمبا نوچے“ بالکل یہی حال ریحام خان کی کتاب میں محسوس ہو رہا ہے کہ جب کچھ نہ ہو سکا تو کتاب ہی لکھ ڈالی THE WOMAN WHO FOUGHT ALONE غالباً یہی اس کتاب کا اردو مطب بنتاہے وہ عورت جو اکیلے لڑی، بات ثقیل ہے ،ہضم نہیں ہورہی Alone کا لفظ یہاں جچ نہیں رہا کیونکہ نہ تو انھوں نے کوئی Fight کی ہے اور نہ ہی یہ کتاب اکیلے لکھی ہے۔ مختلف لوگوں نے مختلف پیرا گراف لکھوائے ہیں اورEditing ان کے بیٹے نے کی ہے اور اب وہ اپنے آپ کو Alone سمجھ رہی ہیں تو نام میںاکیلا پن کیسے آئیگا ؟کتاب کے جوpromosنشر کروائے گئے ہیں وہ بہت زیادہ فحش اور اخلاقیات سے گرئے ہوئے ہیںجس میں بہت ساری خواتین کو ذلیل کرنے میں کوئی کسر نہیں اُٹھارکھی گئی اور ایک خاتون جو اس دنیا میں نہیں انکے بارے میںبھی انتہائی غلیط باتیں کئی ہیں۔
انسان کی اصلیت اس کی زبان سے ظاہر ہوتی ہے اور تحریر بھی ایک ہماری زبان ہے ،اس کتاب میں جو زبان استعمال کی گئی ہے جو حالات و واقعات بیان کئے ہیں ،سمجھ نہیں آرہا کہ تین ماہ کی مختصر مدت میں ریحام صاحبہ کپتان اور اس کے حلقہ احباب کو کیسے اتنا زیادہ جان گئی جو کہ جمائمہ نوسال کی رفافت میں بھی نہ جان پائی۔ خیرآج ہم عمران اور ریحام کے بارے میں ذرا مختلف انداز میں بات کرنا چاہتے ہیں لیکن کوئی بات شروع کرنے سے پہلے میں اُن تالیوں کی گونج کو سننا چاہوں گی جو مجھے میلبرن کے سیڈیم میں 1992ءکے فائنل میچ سے آرہی ہیں ۔ہری ٹی شرٹس پہنے میرے دیس کی کرکٹ ٹیم جس کے ماتھے پر ورلڈ کپ کا سہرا باند ھنا عمران خان کے حصے میں آیا تھا اور کوئی شک نہیں یہ بہت بڑی پاکستانی قوم کے لئے کامیابی تھی او راس عظیم فتح پراُنھیں ہلا ل امتیاز دیا گیا۔
1983 ءمیں صدارتی تمغة حسنِ کارکردگی دیا گیا۔پوری دنیا سے چندہ اکٹھا کر کے شوکت خانم جیسے ادارے کی نہ صرف بنیاد رکھی بلکہ آج بھی وہ ادارہ بہترین خدمات انجام دے رہا ہے۔نمل یو نیورسٹی اپنی مثال آ پ ہے،اور ان تمام خدمات میں ان پر کوئی کرپشن،ہیرا پھیری کا ایک واقعہ بھی سامنے نہیںآیا۔اور نا ہی کرکٹ کی خریدو فروخت ان کے زمانے میں را ئج تھی۔تو ایسا آدمی جس نے تمام کام صرف ملکی خدمات کے لیے انجام دیے، اس پر ایک امپورٹ کی گئی خاتون کے عجیب و غریب الزامات کچھ مصنوعی لگتے ہیں۔
کیا یہ ہمارا وطیرہ بن گیا ہے کہ ہم دوسروں پر کیچڑ اچھالیں ،الزامات کی سیاست کریںاور میاں بیوی کا تعلق تو بڑا پردے کا ہو تا ہے اور تعلق رہے نا رہے، ماضی میں بھی ان کے درمیان کیا ہوا،یہ عوام کے درمیان لانے والے موضوعات نہیں،خدا کا فرنان ہے ۔”میاں بیوی ایک دوسرے کا لباس ہیں“شرم و حیا ہیں،ایسی تحریریں لکھنا اپنے بیڈ روم کا دروازہ کھول دینے کے مترادف ہے۔لیکن قصووار صرف ریحام ہی نہیں بلکہ کپتان بھی برابر کے شریک ہیں۔اُن کی عقابی آنکھوں سے گیند تو گر نہیں پاتی تھی،وکٹوں کوفوکس کر کے ایک ہی تھرو میں ٹھاہ کر کے اُڑا دیتے تھے،ایک عورت جو اُن کے لیے خاصی بدنامی کا باعث بننے والی تھی، اُ سے پہچان ہی نا سکے۔
قطع نظر ان سب باتوں کے کہ عمران خان دنیائے کرکٹ کا ایک بہت بڑا نام ہے جنھیں دنیا کا بہترین باﺅلر قرار دیا گیا ہے، اور اُنکی اور بھی بہت سی خدمات ہیں لیکن وہ ایک انسان بھی تو ہیں،اور انکی والدہ کی شدید خواہش تھی کہ اُ نکا بیٹااُنکی زندگی میں شادی کر لے لیکن عمران خان کی یہ خواہش تھی کہ پہلے وہ اپنا مقصد پورا کرلیں ،ورلڈ کپ اپنے ملک لے آئیں ۔۔۔والدہ کی خواہش تو پوری نہ کر سکے لیکن ورلڈ کپ جیتنے کے بعد جب اُنھوں نے شادی کی تو وہ کامیاب نہ ہو سکی،پہلی شادی کے بعد دوسری ،پھر تیسری،اسی بات کی علامت بھی ہو سکتی ہے کہ وہ اپنا گھر بسانا چاہتے ہوںکیونکہ ان کی ماں کی خواہش تھی لیکن دو شادیاں ناکام ہوئیں۔ جہاں تک مجھے گمان گزرتا ہے ان کی بیویوں کے ناموں کا ان کی ازدواجی زندگی پر بڑا اثر رہا ہے اور یہ بات تو اب کپتان کو بھی ماننا ہو گی کیونکہ اب انکے ہاتھ کی سب سے چھوٹی انگلی میں پتھر جڑی انگوٹھی جو ہے اور علم حروف کی اہمیت سے وہ بھی انکار نہیں کریں گے۔
جمائمہ ان کی پہلی بیوی جن کا نام انھوں نے جمیلہ رکھا اور افسوس ہم سب پر کہ ان کے جمیلہ کہنے کے باوجود ہم اسے جمائمہ جمائمہ ہی پکارتے رہے کہ جاﺅ ہم تمہیں مسلمان مانتے ہی نہیں۔ حالانکہ ہمیں اسے خوش آمدید کہنا چاہیے تھا ،یہ اس کا فعل تھا کہ وہ دل سے اسلام قبول کرچکی یا نہیں ہم اسے عزت دیتے تو اسے بھی ہمارے مذہب کی اعلی روایات کا پتہ چل جاتا ۔خیر ہمارا موضوع ہے، جمائمہ کے نام کا مطلب ۔ اس کا مطلب ہے© فاختہ، عمران نے بھی یہی سمجھاہوگا کہ یہ پر امن فاختہ میری زندگی کی بہترین رفیقہ حیات ثابت ہو گی لیکن دونوں کے درمیان تہذیبوں کا ٹکرا ﺅ ہوا اور شادی نو سال کی رفاقت کے بعد ختم ہو ئی لیکن دونوں طرف سے ایک دوسرے پر کوئی الزام نہ لگا ،جمائمہ کے نام کا اثر ہوا اور آج تک اس نے بہترین اخلاقیات کا مظاہرہ کیا۔
پھر ایک طویل عرصے تک عمران خان اکیلے رہے اور ایک دن ان کی ملاقات ریحام خان سے ہوگئی کیونکہ وہ لندن پلٹ تھیں ،اس لیے غالباً پہلی ملاقات میں ریحام نے کپتان سے گفتگو میں خوب سنایا ہو گا کہ میں بھی ولایتی معاشرے کو خوب جانتی ہوں اور بات چیت بھی یقینا انگریزی میں ہوئی ہو گی اور کپتان نے سوچا ہو گا کہ یہ بھی جمائمہ جیسی سوچ رکھتی ہے لیکن وہ یہ بھول گئے تھے کہ وہ ولائیت جا کر آئی ہے۔ پھر کپتان نے ریحام سے اس کے نام کا مطلب پوچھا ہوگا تو اس نے بتایا ہوگا شبنم کے قطرے۔اُوس کے گیلے گیلے قطرے جو ڈائریکٹ جنت سے آتے ہیں۔ فوراً ہی عمران نے سوچاہو گا کہ بنی گالہ میں جب شبنم کے قطرے پڑیں گے تو کیا منظر ہوگا۔۔ کپتان سندرسپنوں میں کھو گئے ہوں گے، وہ نہیں جانتے تھے کہ یہ بارش رحمت نہیں، زحمت ثابت ہونے والی ہے، ریحام ریحام نہیں تغیانی کا پیش خیمہ ثابت ہونے والی ہے۔
انسان جب اپنی منزل کی طرف بڑھتا ہے تو خوش قسمتی اسکا انتظار کرتی ہے لیکن جب کوئی برا سایہ پڑتا ہے تو خوش قسمتی میں کم بختی بھی آجاتی ہے ،کبھی کبھی میں سوچتی ہوں کی عمران خان کو ریحام خان سے کیا ملا، تین ماہ کی شادی بھی کوئی شادی ہے بھلا۔نہ ادھر کے رہے نہ اُدھر کے،نہ خدا ہی ملا نہ وصالِ صنم، سر بہ سر منزل۔اُوپرسے کتاب اور کتاب میں بلیک بیری۔اپنی منزل کے قریب تھے کہ سونامی کہتے کہتے ریحامی نے گھیر لیا بلکہ اس طوفان کو خود دعوت دی ۔ اب اللہ خیر کرے۔
عمران خان کی نئی شادی بشریٰ مانیکا سے ہو گئی ہے جو ان کی روحانی پیشوا بھی رہی ہیں ۔ بشریٰ کا مطلب۔۔۔ خوش خبری ہے اور مانیکا کو کپتان نے یقینا (انگریزی لفظ) مونیکا خیال کیا ہوگا ،جسکا مطلب ہے رائے دینی والی۔پہلے تو عمران خان نے خوش خبری چھپائی، پردے ہی پردے میں رائے لینے لگے، اب عمران خان کو پردے پہ یقین ہو گیا ہے اور لگتا ہے وہ پردے کے پیچھے ان کو خوش خبری سنا چکی ہے اور بہت جلد قوم کو بھی آگا ہ کریں گی کہ شریعت میں کتنا پردہ جائز ہے۔
(کالم نگارقومی و سماجی موضوعات پرلکھتی ہیں)
٭….٭….٭


سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں




دلچسپ و عجیب
کالم
آپ کی رائے
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved