تازہ تر ین

کثرت آبادی ،نعمت یا زحمت!

اختر سردار چودھری….اظہار خیال
آبادی کا عالمی دن ہرسال 11 جولائی کو منایا جاتاہے۔اس سال 2018 ءمیں9 2 واں آبادی کا عالمی دن منایا جا رہا ہے۔آبادی میں اضافہ کے خلاف جو لمبی لمبی تقریریں کرتے ہیں ۔اگر ان کے والدین ایسا کرتے کہ نئی نسل کو پیدا نہ کرتے تو ایسے خود غرض افراد کا دنیا میں وجود نہ ہوتا (ہمارا نظریہ اسلام کے عین مطابق ہے کہ اللہ کے اختیار میں پیدائش اور موت ہے)ایسے انسانوںنے خود تو جنم لے لیا لیکن آنے والی نسل کو حق زندگی دینے سے گریزاں ہیں کہ اس سے وسائل میں کمی ہو جائے گی (جیسے انہوں نے اس دنیا میں ہمیشہ رہنا ہے )۔
ماہر معاشیات ”مالتھس“ نے یہ نظریہ پیش کیا کہ آبادی ایک دو چار آٹھ سولہ بتیس اور چونسٹھ کے حساب سے بڑھتی ہے جبکہ وسائل میں اضافہ ایک دو تین چار پانچ چھ اور سات کے حساب سے ہوتا ہے ۔اگر اس نظریہ کو درست مان لیا جائے تو آبادی میں اضافہ سنگین خطرات لیے ہوئے ہے ۔زیادہ آبادی کے لیے زیادہ خوراک،رہائش،تعلیمی ادارے،روزگار ،وسائل کی ضرورت ہوتی ہے اور اگر وسائل کم رفتار سے بڑھیں تو بھوک،غربت،جرائم، جہالت پھیلتی ہے ۔جو فساد کا سبب بنتی ہے ۔عالمی ماہرین کا کہنا ہے کہ دنیا کی آبادی اس تیزی سے بڑھ رہی کہ جس تیزی سے وسائل مہیا نہیں ہو رہے ۔آج سے پہلے ایک کھیت سے جتنی فصل ہوتی تھی آج اس سے کئی گنا زیادہ ہو رہی ہے ۔اگر آبادی میں اضافہ ہوا ہے تو وسائل میں بھی ہوا ہے۔وسائل کم نہیں ہیں بلکہ وسائل کی منصفانہ تقسیم نہیںہے۔ یعنی چند افرادکے پاس دنیا کی 60 فیصد دولت ہے اور دوسری طرف دنیاکی60 فیصد آبادی غریب ہے ۔زمین میں وسائل کا اتنا خزانہ رکھا ہے کہ جو آنے والی نسلوں سے بھی ختم نہیں ہو گا ۔
اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ دنیا بھر کے بے شمار مسائل آبادی میں اضافے سے جڑے ہوئے ہیں ۔آبادی میں اضافے سے دیگر مسائل کے ساتھ اکثریت کا صحت کی سہولتوں سے محروم ہونا ، خوراک کی فراہمی میں مشکلات ، رہائش، تعلیم اور دیگر بنیادی اشیاءجو ضروری ہیں اس سے آبادی کی اکثریت محروم رہتی ہے ۔ کچھ ممالک میں آبادی پر کنٹرول کے لےے پالیسی سازی میں روایتی اور مذہبی نظریات آڑے آتے ہیں۔ماہرین کے مطابق روز مرہ جرائم ، چوری، ڈاکہ زنی، لوٹ مار، دھوکہ دہی، نجی اورسرکاری شعبہ میں سنگین بدعنوانیوں اور قتل و غارت گری کی ایک بنیادی وجہ زیادہ آبادی بھی ہے ۔
دنیا کی آبادی 1800 ءمیں صرف ایک ارب تھی۔پہلے آبادی کو دو گنا(دو ارب) ہونے میں 127سال(1927 ءمیں) لگے ۔پھر اس کے بعد صرف 33 سال میں (1960 ء)میں تین ارب ہوئی ،اسی طرح 2012 ءمیں 7 ارب ہوگئی اور 2025 ءمیں9ارب ہونے کا امکان ہے ۔ زراعت کے لیے زمین کا رقبہ کم ہورہا ہے ۔ شہر گنجان تر ہوتے چلے جارہے ہیں۔ پینے کے پانی کی فی کس دستیاب مقدار گھٹ رہی ہے ۔نوجوانوں کو روزگار کے مواقع کم مل رہے ہیں۔پاکستان بڑھتی ہوئی آبادی سے پیدا ہونے والے مسائل کا شکار ملک ہے ۔
جبکہ وسائل میں اسی شرح سے اضافہ نہیں ہو سکا۔ ماہرین کا کہنا کہ نہ صرف سیاسی جماعتوں بلکہ سماجی اور مذہبی جماعتوں کو بھی عوم میں یہ شعور پیدا کرنا چاہیے کہ بچے دو ہی اچھے ۔آبادی میں اضافہ کے باعث غربت میں بھی اضافہ ہو رہا ہے اور ایک اندازے کے مطابق ملک کی نصف آبادی غربت کی زندگی گزار رہی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ زمین و سمندر میںاتنے وسائل ہیں کہ اب تک ان میں ایک فیصد بھی کمی نہیں ہوئی ہے ۔اسی طرح اللہ نے زمین میں وسائل کا اتنا خزانہ رکھا ہے کہ جو آنے والی نسلوں سے بھی ختم نہیں ہو گا ۔وسائل کم نہیں ہیں بلکہ وسائل کی منصفانہ تقسیم نہیں ہے یہ ہی اصل وجہ ہے ۔رب کی دھرتی پر رب کے نظام کے نفاذ نہ ہونے کی وجہ سے مسائل اور مشکلات ہیں ۔پاکستان میں اس وقت جو غربت اور معاشی بد حالی ہے، اس کی وجہ آبادی کا بڑھنا نہیں ہے بلکہ وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم ہے ۔
دوسری طرف صرف 200 خاندانوں کے پاس پاکستان کی مجموعی آبادی سے زیادہ دولت ہے ۔چند افراد کے پاس دنیا کی 60 فیصد دولت ہے اور دوسری طرف دنیا کی60 فیصد آبادی غریب ہے یہ ہی حال زمین یا رہائش،غذا کا ہے ۔امراجتنی غذا ضائع کرتے ہیں اور جتنی مہنگے کھانے کھاتے ہیں ،اس میں اگر کمی آجائے تو پاکستان میںکوئی بھوکا نہ سوئے ۔مختصر قومی و صوبائی اسمبلی اور ایم پی اے ،ایم این اے ،وزرا وغیرہ کے اخراجات دیکھیں، ان کی جو اندرونی وبیرونی بینکوں میں دولت ہے، اس کو دیکھیں تو یہ بات سمجھ میں آتی ہے اصل مسئلہ آبادی نہیں وسائل کے مسائل نہیں ،وسائل کی تقسیم کا مسئلہ ہے ،نا انصافی ہے ،اللہ کی نافرمانی کی سزا ہے ۔
ایک بات اور بھی غور طلب ہے ۔اکثر یورپی ممالک میں بچے دو ہی اچھے پر عمل کیا گیا تو وہاں اب آبادی میں ہوشربا کمی ہورہی ہے ۔یہ ممالک مجبور ہیں، باصلاحیت اور ماہرفن نوجوانوں کو پوری دنیا سے درآمد کر رہے ہیں ۔رشتہ بھی دے رہے ہیں، کام بھی دام بھی، وہاں نوجوانوں کی کمی ہو چکی ہے ۔اسی طرح فرانس میں اعلان کیا کہ جو خاتون سب سے زیادہ بچے پیدا کرے گی اسے سب سے بڑا سول قومی ایوارڈ دیا جائے گا۔روس کی حکومت نے عوام سے کہا کہ شادی کے بعد ہسپتال میں آئیں اور صرف بچہ پیدا کر کے چلے جائیں، اسکی تمام ضروریات حکومت کی طرف سے پوری کی جائیں گی۔یہ ہی حال برطانیہ اور امریکہ کا ہونے والا ہے ۔
پاکستان آبادی کے لحاظ سے دنیا کا چھٹا بڑا ملک ہے اور اس کے 20کروڑ سے زائد نفوس کا 40 فیصد 12 سے29 سال کی عمر کے لوگوں پر مشتمل ہے ۔ یہ تعداد اس سے کہیں زیادہ بھی ہوسکتی ہے جتنی بتائی جاتی ہے ۔پاکستان کی یہ بڑھتی ہوئی آبادی مصیبت نہیں بلکہ اسے رحمت بھی قرار دیا جا سکتا ہے ۔پاکستان کی آبادی کا ایک بڑا حصہ نوجوانوں پر مشتمل ہے اور اگر ان نوجوانوں کو صحت مندانہ سرگرمیوں میں استعمال کیا جائے تو یہ ملکی ترقی میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔
(کالم نگارسماجی ایشوزپرلکھتے ہیں)
٭….٭….٭


سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں




دلچسپ و عجیب
کالم
آپ کی رائے
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved