تازہ تر ین

باپ بیٹی اورتاریخ کادھارا

محمد فیصل سلہریا….زبان زد عام
اپنا نہیں وہ شیوہ کہ آرام سے بیٹھیں
اُس در سے نہیں بار، تو کعبے ہی کو ہو آئے
70 سالہ تاریخ کا دھارا بدلنے کا نعرہ مستانہ بلند کرنے کے بعد باپ بیٹی نے جمعہ کو وطن واپسی کا اعلان کیا ہے۔ اللہ کرے نعرے کی لاج رہ جائے۔ ہمارے خطے میں باپ بیٹی کی سیاسی جوڑی تو نئی بات نہیں البتہ اکٹھے گرفتاری ضرور نئی بات ہو گی۔ ہندوستانی سیاستدانوں کا جیل جانا سیاسی قد بڑھانے کا باعث بنتا تھا۔ جیل بھیجنے والا انگریز تھا اور جانے والوں کا مطالبہ آزادی۔ الا ماشاءاللہ یہ روایت آج کیسی پستی کو چھو رہی ہے کہ سیاستدانوں کا جیل جانے کو باعث عار نہ سمجھنا تو برقرار ہے البتہ باعث سزا بدعنوانی قرار پاتی ہے۔ (بنگلہ دیش میں جماعت اسلامی کے رہنماﺅں کو دی جانے والی حالیہ سزائیںالبتہ استثنا رکھتی ہیں)۔ ورنہ تو صورتحال یہ ہو گئی ہے کہ جس سیاستدان کا دامن موئی کرپشن نامی داشتہ سے الجھتا نہیں اس کی پاکی داماں پر شک ہی کیا جاتا ہے یا اس کی ذہنی حالت پر شک۔ قائد اعظم محمد علی جناحؒ کی اصول پرستی اور دور اندیشی کو سلام کیے بغیر چارہ نہیں جنہوں جیل جانے سے پرہیز ہی رکھا جیسے انہوں نے بھانپ لیا تھا کہ انگریز تو چلا جائے گا مگر جیل جانے کی سیاسی رسم وہ آڑ بن جائے گی جس کی اوٹ سے قومی خزانے کو نقب لگانے کا قبیح سلسلہ جاری ہو جائے گا۔
آفتاب دنیا نے بھی نہ جانے کیا کیا کچھ دیکھ رکھا ہے اور کتنے نالوں نے اس کے سینے میں شگاف ڈال رکھے ہیں، ایک مرزا غالب کے نالے پہ ہی کیا موقوف:
وہ نالہ، دل میں خس کے برابر جگہ نہ پائے
جس نالے سے شگاف پڑے آفتاب میں
اب ایک منظر اس کے سینے میں شگاف ڈالنے کے لیے اور تیار ہے۔ قائد اعظمؒ کی مسلم لیگ کے دعویدار اور تاحیات قائد بیٹی سمیت یہ جرم ثابت ہو جانے پر گرفتار ہوں گے کہ لندن میں جائیداد کا بار ثبوت نہ اٹھا سکے۔ اس سبکی کی تاب نہ لاتے ہوئے اب انہوں نے 70 سالہ ملکی تاریخ کا دھارا بدلنے کا بیڑہ اٹھا لیا ہے۔ ہمارے سیاسی اسلاف لندن سے علمی اثاثہ حاصل کر کے وطن لوٹتے کہ اپنی قوم کو آزادی کی دولت سے مالامال کر سکیں۔ اب لندن میں اثاثے بنانے کے لیے وطن آنا جانا لگا رہتا ہے تاکہ قوم کو عالمی مالیاتی اداروں کی غلامی میں رکھا جا سکے۔ قوم کو دکھی دل کے ساتھ متنبہ کیا جا رہا ہے کہ کیا یہ ملک اس لیے بنا تھا کہ مٹھی بھر لوگوں کی غلامی کی جائے۔آپ نے سچ فرمایا بلکہ آج کل آپ اکثر سچ ہی فرما رہے ہیں مگر اس فرق کے ساتھ اور بہت بڑے فرق کے ساتھ:
سر آئینہ میرا عکس ہے، پس آئینہ کوئی اور ہے
ڈان لیکس میں پس آئینہ والوں کی جھلک بھی صاف دکھائی دے گئی تھی۔قوم کو مذکورہ اداروں کی بیڑیوں کیساتھ کس کے رکھنا ہی ن لیگ کی تجربہ کاری ہے۔ جس کا اسے بڑا ناز ہے اور انتخابی مہم میں اس کا ڈھنڈورا سب سے زیادہ پیٹا جاتا ہے۔ برسبیل تذکرہ ڈان لیکس کا مسودہ اگر من گھڑت نہیں تھا تو اس میں بیان کیا گیا نواز شریف کا موقف بعد میں ان کا بیانیہ کیوں نہ بنا۔ خبر کے مطابق شہباز شریف جب اجلاس میں شریک عسکری عہدیدار سے الجھتے ہیں تو نواز شریف قائدانہ اور مدبرانہ انداز میں یہ کہتے ہوئے معاملہ سلجھاتے ہیں کہ ماضی میں جو ہوا وہ کسی ایک ادارے کی نہیں بلکہ ریاست کی پالیسی تھی اب ہمیں آگے کی جانب دیکھنا چاہیے۔ ملتان میں ڈان لیکس فیم رپورٹر ہی کو عجلت میں بلا کر ممبئی حملے والا بیان دینے کی پھرکیا مجبوری آن پڑی تھی۔ 70 سالہ تاریخ کا دھارا بدلنے کے لیے ڈان لیکس والا بیانیہ ہی لے کر چلتے تو بات بنتی۔ پھر ہم ایسے ناقدوں کو بھی طوعاً و کرھاً آپ کا ہم زبان ہوئے بنا نہ بنتی۔ مگر آپ تو اس دھارے کو غیروں کے حق میں موڑنے کے درپے ہیں۔ آپ اس مملکت خداداد کو لبرل بنانے کے مشن پر کمربستہ ہیں۔ ممتاز قادری کی پھانسی بھی اسی منزل کو پانے کی چغلی کھاتی ہے۔ حالانکہ اس اقدام کے پیچھے کسی مخلوق کا دباﺅ تھا نہ عوام کا۔ باقی ہر کام کے لیے آپ کے ہاتھ بندھے رہے۔ اکتوبر 2015 ءمیں آپ امریکا یاترا کرتے ہیں جس میں آپ کی چہیتی بیٹی خصوصی طور پر آپ کی سنگت کرتی ہیں۔ اسی یاترا میں وائٹ ہاﺅس کی ایک خصوصی تقرب میں موصوفہ کی سیاسی مہورت اترتی ہے اور تعلیم کاشعبہ تفویض ہوتا ہے۔ واپسی پر اگر کوئی قابل ذکر کام آپ کی سرکار کے ہاتھوں سرزد ہوا تو وہ ہے ممتاز قادری کی پھانسی۔ آپ پاکستان کو لبرل ملک بنانے کا ارادہ ظاہر کرتے ہیں۔ پرویز رشید کی سربراہی میں لبرلز کی ایک ٹیم ن لیگ کو ہنس کی چال سکھانے میں جتی ہوئی تھی۔ ن لیگ کے ساتھ نتھی بلاوجہ کے اسلامی تشخص کو ختم کر کے امریکا بہادر کو یقین دلانا مقصود تھا کہ وزارت عظمیٰ کے لیے مریم نواز شریف سے بہتر کوئی انتخاب نہیں ہو سکتا۔ مریم نواز کے سوشل میڈیا اور ان لبرلز کے ”روحانی“ اتحاد کے بعد ن لیگ کا جو نیا فریم بنا چودھری نثار کے لیے اس میں جگہ نہ رہی۔ ڈان لیکس اسی اتحاد کی مشترکہ اور فخریہ پیشکش تھی۔ سابق سپہ سالار کی روایتی شرافت آڑے نہ آتی تو عدالت اور قوم کا خاصا وقت اور توانائی بچ جاتی اور ایون فیلڈ فلیٹس کیس کا فیصلہ آنے کے بعد ن لیگ کی ترجمان کو یہ کہنے کا موقع بھی نہ ملتا کہ نواز شریف پر کرپشن تو ثابت نہیں ہوئی۔ گویا کہنا یہ مقصود ہے کہ ہر بار جوانی ہی نہیں کبھی کبھار لبرل بھی لے ڈوبتے ہیں۔
آپ ان کے کہنے پر چلے ہیں 70 سالہ تاریخ کا دھارا موڑنے۔ دھارا موڑنے کے لیے پہلے دھارے کا حصہ بننا پڑتا ہے۔ اس کا رخ محض انگلیوں کے اشارے اور خواہشات کے زور سے نہیں موڑا جا سکتا۔ جب آپ کے سینے میں دل نہیں وہ دھرتی دھڑکے جس پر آپ سانس لے رہے ہیں تو پھر کہیں دھارا موڑنے کی جسارت کا سوچا جا سکتا ہے۔ دھارے کو اندر سے موڑا جاتا ہے، باہر سے نہیں۔ اب آپ دھارے سے باہر نکل گئے ہیں، آپ نے موقع ضائع کر دیا۔ اب غیروں کی روحانی اور لبرلز کی اخلاقی مدد سے اس کا رخ موڑنے کا دیوانہ پن نہ کیجیے اور اپنا رخ بدلیے۔ جب انسان رنگے ہاتھوں پکڑا جائے تو عافیت اسی میں ہوتی ہے کہ چالاکی کے بجائے سادگی سے کام لیا جائے۔ اگر آپ دھارے کا رخ بدلنے میں واقعی سنجیدہ ہیں اور جمہوریت کو استعمال نہیں کر رہے تو اب کردار کو اپنا ہتھیار بنا نا ہوگا۔ اس ہتھیار کے ذریعے آپ دھارے کی دھڑکن کو پا سکتے ہیں۔ یہ دھڑکن پانے کے لیے آپ کو چالاک لومڑیوں کی سنگت چھوڑ کر شاہین صفت افراد کی صحبت میں رہنا ہو گا جو آپ کو کردہ نہ کردہ غلطیوں کا بوجھ اٹھانے کے بجائے اعترافات کی عظمت اور اس کی بلندیوں سے روشناس کرائیں ۔ بلندیوں پر رہنے والوں کو اپنے اثاثوں کی نہیں، ساکھ کی فکر ہوتی ہے جس کے بل بوتے پر وہ پرواز جیسی نعمت سے سرفراز ہوتے ہیں۔ ساکھ رکھنے والوں کی ہمیشہ جیت ہوتی ہے۔ وہ اغراض کی پستی پر اترتے ہی نہیں۔ کیا آپ اس قومی اور ملی دھارے میں پھر سے شامل ہونے کے لیے اپنا رخ بدلنے کے لیے تیار ہیں، چاہے اس کے لیے خود سے جنگ ہی کیوں نہ کرنا پڑے۔ اڈیالہ جیل کی خاموشی سے پوچھیے گا جہاں ممتاز قادری کو پھانسی دی گئی تھی۔جواب ہاں میں آئے تو یقین جانیے اس دھارے کے دلارے آپ ہی ہیں، پھر جدھر چاہے اس کا رخ موڑیے گا۔
(کالم نگارسیاسی وسماجی موضوعات پرلکھتے ہیں)
٭….٭….٭


سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں




دلچسپ و عجیب
کالم
آپ کی رائے
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved