تازہ تر ین

نواز،زرداری کے بعد مشرف کی باری

عبدالودودقریشی

بدعنوانی اور اربوں روپے کے اثاثے بنانے کے الزام میں نیب راولپنڈی نے جنرل پرویز مشرف ان کے بیٹے،بیٹی اور داماد کو طلب کر لیا ہے۔مبینہ طور پر جنرل پرویز مشرف کے بیٹے بلال،بیٹی عائلہ اور داماد عاصم کے علاوہ ان کی بیگم صاحبہ مشرف کے پاس آمدن سے زیادہ اثاثہ جات ہیں۔جنرل پرویز مشرف نے خود ہی ترنگ میں آکر یہ اعلان کر دیا تھا کہ وہ سعودی عرب میں تھے کہ اچانک رات کے وقت ان کادروازہ کھٹکٹایا گیا جب دروازہ کھلا تو ایک بینک کا منیجر سامنے تھا اور اس نے کہا کہ آپ کا بینک اکاﺅنٹ کھولنا ہے کیونکہ شاہ عبداللہ نے کروڑوں ڈالر جمع کروا دیئے ہیں۔جنرل پرویز مشرف کا یہ بیان کسی مذاق سے کم نہیں۔ یہ بات قطری خط کی ہی طرح ہے پاکستان میں صحافیوں اور باخبر لوگوں کو معلوم ہے کہ ڈالر کہاں سے آئے اور کس ادارے سے حاصل کیئے گئے جنرل پرویز مشرف اپنی کتاب میں امریکیوں کو ”دہشتگرد “دے کر رقوم حاصل کرنے کا ذکر بھی کرچکے ہیں ،انکے پاس جو دولت ہے وہ درحقیقت پاکستانی قوم کی ہے اور پاکستان سے ہی لے جائی گئی ہے 2013ءکے انتخابات میں پرویز مشرف نے لوگوں کو کروڑوں روپے دیئے،ٹیکسلا سے تعلق رکھنے والے ایک وزیر نے مجھے ایک شام بتایا کہ مجھے جنرل پرویز مشرف نے کہا انتخابات مفت میں نہیں لڑے جاتے میرے سٹاف سے کچھ رقم لے جانا جو کروڑوں روپے میں تھی مگر میں نے اس رقم کو لینے سے انکار کر دیا جبکہ اس طرح کی رقوم اور لوگوں کو بھی دی گئیں۔سعودی عرب کے حکمران ایسے نہیں کہ وہ لوگوں کو رقوم دیتے پھریں انھوں نے تو غیر ملکیوں کے بچوں پر بھی سعودی عرب میں تعلیم حاصل کرنے پر ٹیکس لگا دیا ہے سال میں دوسری بار عمرہ کرنے پر بھی بھاری رقم وصول کرتے ہیں اورپانچ سال میں دوسری بار حج کرنے والے سے بھی ہزاروں روپے وصول کیئے جاتے ہیں اس کے علاوہ سعودی حکومت نے ہر حاجی اور عمرہ کرنے والے سے فنگر پرنٹ لینے کے نام پر دوہزار روپیہ فی کس بٹورنا شروع کر دیا ہے۔پرویز مشرف کون سے آل سعود سے تعلق رکھتے ہیں یا عبدالوہاب نجدی کے بڑے مبلغ تھے کہ انھیں رات کے اندھیرے میں بینک منیجر بھیج کر کروڑوں ڈالر دے دیئے گئے۔جنرل پرویز مشرف نے اپنے دور میں یہ بات ضرور پھیلائی تھی کہ شاہ خالد اسے بھائی کہتا ہے مگر سعودیہ میں تو حکمران خاندان میں بھائی بھائی کو ایک آنکھ نہیں بھاتا۔اور یہی حکمرانی کا درس بھی ہے۔
میاں نواز شریف کے خلاف بدعنوانی کے الزام میں مقدمات چلنے کے دوران لوگ یہ سوال کررہے تھے آصف زرداری اور پرویز مشرف کے خلاف یہ عمل کیوں نہیںکیانواز شریف کو سزا کے بعد حکمت عملی کے تحت آصف زرداری کو نوٹس جاری کیئے گئے اور اب آصف زرداری اور فریال تالپور کو طلب کر لیا گیا ہے جس طرح آصف زرداری نے پرویز مشرف کے ساتھ ملی بھگت کرکے این آر او کیا پھر اقتدار میں آکر خود صدر بن کر آئینی تحفظ حاصل کرتے ہوئے اپنے تمام شریک ملزموں کو باری باری بری کروایا اور جب کوئی شریک مجرم ہی نہ تھا توآصف زرداری خود بخود بری ہوتے گئے سپریم کورٹ کی ہدایت کے باوجود 62ملین ڈالر فرانس سے پاکستانی خزانے میں آنے کے بجائے آصف علی زرداری کے اکاﺅنٹ میں دوبئی آپہنچے۔ابھی تک جنرل پرویز مشرف کے اثاثوں کا تذکرہ ہے مگر وقت کے ساتھ ساتھ جنرل احسان کے اثاثوں کا بھی حساب کتاب ہوگا مبینہ طور پر ان کے پاس بھی بڑے اثاثے ہیں جو انکی معلوم آمدن سے بڑھ کر ہیں۔یقیناً افواج پاکستان جب اس معاملے کا کھوج لگائے گی تو ضرور فوج کا اپنا احتسابی نظام بہت سارے راز اگلوا لے گا۔
چیف جسٹس میاں ثاقب نثار جو کررہے ہیں شاید ہی دنیا کی تاریخ میں کسی جج نے ایسا کیا ہو جبکہ یہ کرنا ان کی ذمہ داری میںبھی آتا ہے۔صرف ان کی نہیں ہر پاکستانی کی ذمہ داری ہے کہ ملک کو لوٹنے والے لوگوں کو انصاف کے کٹہرے میں لایاجائے۔اربوں روپے کے محلات،اسلحہ،غنڈے اور اپنا حلقہ انتخاب رکھنے والے سیاستدان ہر ایک کو للکارتے ہیں کہ ہم سے حساب مانگنے والو آپ کا بھی یوم حساب قریب آئے گا یہی بات گذشتہ روز کیپٹن صفدر نے کی،یہی بات نہال ہاشمی نے کی اور اسی انداز میں خواجہ سعد رفیق کہتے رہے کہ ہم لوہے کہ چنے ہیں انہیں چبانا آسان نہیں۔مگر ذرا سی جرات کے بعد لوہے کے یہ چنے غاروں میں چھپتے پھر رہے ہیں فوج ایک سے زائد مرتبہ یہ کہہ چکی ہے کہ کوئی بھی سابق فوجی آفیسر کسی بدعنوانی اور قانون کی خلاف ورزی کا مرتکب ہوا ہے تو اس کے خلاف قانون حرکت میں آنا چاہیئے اور اگر وہ کسی فوجی نظم و ضبط کی خلاف ورزی کا مرتکب ہوا اس پر فوج کاروائی کرے گی لہٰذا پرویز مشرف وغیرہ کو فوج سے منسوب کرنا درست نہیں ۔ وہ ایک سیاسی جماعت کے سربراہ رہے،سیاستدان ہیں اور ان کے ساتھ نواز شریف،آصف زرداری کی طرح ہی ڈیل کیاجانا چاہیئے اور جرم کی صورت میں کیفرکردار تک پہنچانا چاہیئے۔آصف علی زرداری اور پرویز مشرف کے خلاف منی لانڈرنگ،آمدن سے زائد اثاثہ جات کے حوالے سے عدلیہ کا فیصلہ قابل تحسین ہے جس سے قوم کو اطمینان ہوگا کہ ملک لوٹنے والے ایک نہ ایک دن شکنجے میں آجائیں گے اور انھیں زندگی بھر کھلی چھٹی نہیں ملے گی۔آصف علی زرداری ،میاں نواز شریف،جنرل پرویز مشرف،اسحاق ڈار کئی بینکوں کے سربراہ اور سابقہ گورنر سٹیٹ بینک کے بیرون ملک بھاری اثاثے ہیں جن کا ان سے سوال پوچھا جانا چاہیئے سٹیٹ بینک کے سابق گورنر اشرف وترا کو بیرون ملک سے بلا کر گورنر سٹیٹ بینک کس نے لگایا اور وہ کونسا راز تھا جس کی بنیاد پر وہ ملک سے باہر بھاگ گئے انھیں نہ طلب کیا گیا نہ برطرف کیا گیا بلکہ اس حد تک شراب نوشی کی کہ لوگ اٹھا کر انھیں بیرون ملک کے ایک ہسپتال میں لے گئے اور دودن بعد انھیں ہوش آیا ہوش میں آنے کے بعد انھوں نے اسحاق ڈار کے بارے میں کیا انکشافات کئے اور برطرفی کے بعد کیوں آج تک پاکستان نہیں آئے اسکی تفتیش ہونی چاہئے۔ ان کے پاس کس کس ملک کی شہریت ہے اس کو آج تک پردہ راز میں کیوں رکھا گیا ہے اگر سپریم کورٹ اس حوالے سے تحقیقات شروع کرے تو ایک ایسے بڑے راز کا انکشا ف ہوگا جو ساری قوم کو حیرت زدہ کر دے گا کہ سٹیٹ بینک کے نوٹ چھپوانے والے شعبے میں کیا کچھ ہوتا رہا اور یہ کام گذشتہ دس سالوں سے جاری تھا۔
٭٭٭


سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں




دلچسپ و عجیب
کالم
آپ کی رائے
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved