تازہ تر ین

زرداری کی پکی یاری

توصیف احمد خان

آخر ہوش آہی گیا…الیکشن کمیشن کو۔بعد از خرابی بسیار اس نے وہ کام کر دیا جس کا پورے ملک میں انتخابات کی تاریخ کے اعلان کے ساتھ ہی واویلا تھا، ہر کوئی کہہ رہاتھا کہ یہ جو بلدیاتی ادارے ہیں ان کو معطل کریں کیونکہ یہ انتخابات کے حوالے سے بہت خرابیاں پیدا کرینگے۔
پنجاب میں قریباً سارے ادارے ن لیگیوں کے پاس ہیں، سندھ میں پیپلزپارٹی اور کے پی میں تحریک انصاف ان پر چھائی ہوئی ہے ، رہ گیا بلوچستان تو اس کا ذکر نہ کرنا ہی مناسب ہے، اس کا تو باوا آدم ہی نرالاہے۔
اب یہی کہا جاسکتا ہے کہ بڑی دیر کی مہرباں آتے آتے، انتخابات میں صرف دو ہفتے باقی ہیں ، بلدیاتی اداروں اور بلدیاتی نمائندوں نے جو کچھ کرنا ہوگا وہ کرچکے ہونگے، اب تو لوگ ویسے بھی خاموش ہوگئے تھے کہ انکی آواز صدا بصحرا ثابت ہورہی تھی، یہ ادارے نہ بھی معطل کئے جاتے تو شاید کوئی خاص فرق نہ پڑتا، لیکن یہ بڑوں کے معاملات ہیں انہیں وہی بہتر سمجھتے ہیں، انہوں نے اب تک مناسب نہیں سمجھاتھا، سو انکی مرضی…اب مناسب سمجھا ہے تو بھی انکی مرضی…عوام تو بیچارے مجبور ِمحض ہیں… بہت کچھ گنواکر یا بہت کچھ ہونے کے بعد ہوش میں آئے …تو کیا ہوا…!
کچھ ہوا…کچھ ہوگا…یا نہیں ہوگا… اس کو یہیں چھوڑتے ہیں، حسین لوائی کی طرف چلتے ہیں جس کے بارے میں آئے روز نئے نئے انکشافات ہورہے ہیں، ہمیں تو ایسا لگتا ہے کہ انہوں نے سب کی آنکھوں میں دھول جھونک کر بنکاری کا ایک متبادل نظام بنارکھاتھا جس کا سکہ پوری دنیا میں چلتا تھا، معلوم نہیں اس سے کون کون فائدہ اٹھاتا تھا، اور تو اور یہ پاکستان سٹاک مارکیٹ کا صدر تک بن بیٹھا ، فنی نوعیت کا تو ہمیں علم نہیں جو بظاہر نظر آتا ہے وہ یہ ہے کہ گھر کی بات گھر میں ہی رہ جائے اور متعلقہ حکام کی بھی آخر آنکھ کھل گئی ، جنہوں نے حسین لوائی کو صدارت سے باقاعدہ الگ کردیاہے…لیکن سوال یہ ہے کہ کون اسکا پشت پناہ تھااور کس کس نے سارے قصے میں ہاتھ رنگے۔
اور تو کسی کو جانتے نہیں مگر محترم آصف علی زرداری اور انکی ہمشیرہ محترمہ کے اسمائے گرامی سرفہرست ہیں، انکے بیرون ملک جانے پر پابندی لگا دی گئی ہے اور کل سپریم کورٹ میں طلب کرلئے گئے ہیں، آج انہیں ایف آئی اے نے طلب کررکھا ہے ۔
جتنے منہ اتنی باتیں…جنہیں سن سن کر کان پک گئے ہیں ، مثلاً یہ تک کہا جارہاہے کہ بظاہر لڑائی کے باوجود درپردہ نوازشریف اور زرداری میں رابطے قائم ہیں یعنی ٹریک ٹو ڈپلومیسی جاری ہے اور دونوں کوئی حکمت عملی بنارہے ہیں جو 25جولائی کو ہونے والے انتخابات کے حوالے سے ہے، یہ معاملہ دیکھتے ہوئے ان لوگوں کے ہاتھ پاو¿ں پھول گئے جن کو اسٹیبلشمنٹ کہا جاتا ہے …اسٹیبلشمنٹ تو کئی قسم کی ہوتی ہے مگر بتانے والوں نے یہ نہیں بتایا یہ کس قسم کی اسٹیبلشمنٹ تھی، اگر یہ خاص قسم کی اسٹیبلشمنٹ ہوتی تو اسکے ہاتھ پاو¿ں پھولنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، وہ تو خود دوسروں کا پتہ پانی کردیتی ہے۔
کہا یہ گیا ہے کہ نوازشریف صاحب کو پیغامات بھیجے گئے ، ان سے کہا گیا کہ واپس نہ آئیں، سیاست نہ کریں، خاموشی کے ساتھ زندگی گذاریں تو ”ستے ای خیراں“ یعنی سب کچھ ٹھیک ٹھاک رہیگا، لیکن وہ ضدی قسم کے انسان ہیں، کسی بات پر اڑ جاتے ہیں تو اڑ جاتے ہیں، انکے انکار کے بعد بہت کچھ ہوا…زرداری کے ساتھ انکے رابطوں کی اطلاعات بھی منظر عام پر آرہی تھیں، جس پر نوازشریف کے ساتھ ساتھ زرداری صاحب کو بھی سبق سکھانا ضروری تھا…یہ سب کچھ جس کا ذکر سن رہے ہیں، ایسا ہی ہے تو سبق سکھانا بنتا ہی ہے ۔
ویسے ایک کو داد نہ دینا زیادتی ہوگی، نوازشریف کو نہیں زرداری کو…نوازشریف تو وعدے توڑنے کے عادی ہیں، سارے وعدے وعیداس وقت تک یاد رہتے ہیں جب اقتدار سے باہر ہوتے ہیں، اقتدار میں آکر انہیں بھولنے کا مرض لاحق ہوجاتا ہے، اگرچہ زرداری صاحب بھی قرار دیتے ہیں کہ سیاسی معاہدے قرآن و حدیث نہیں مگریاری اور باری کے معاملے میں بڑے پکے ثابت ہوئے ہیں، نوازشریف صاحب کے ساتھ اقتدار کی باری لگارکھی تھی تو مشکل وقت میں بھی انہوں نے اس ریت کو نہیں توڑا، باری لینے کا سلسلہ انہوں نے یہاں بھی جاری رکھاہے، نوازشریف مشکل میں آئے ، سپریم کورٹ کے حکم سے ان پر مقدمہ چلا، آخر کار بھاری جرمانے کے ساتھ دس برس قید کی سزا ہوئی …زرداری صاحب بولے ہم کیوں پیچھے رہیں…”ہماں یاراں دوزخ…“کے مصداق وہ بھی اس میدان میں کود پڑے جس سے نوازشریف کو گذرنا پڑا ہے…زرداری کا معاملہ اسی طرح سپریم کورٹ میں ہے جس طرح نوازشریف کاتھا، اسکے خلاف اسی طرح جے آئی ٹی بن چکی ہے جس طرح نوازشریف کے خلاف بنی تھی، میاں صاحب دہائی دیتے رہے کہ جے آئی ٹی میں انکے مخالفوں کو شامل کرلیا گیا ہے تو زرداری صاحب کے ساتھ بھی ایسا ہی ہوا ، بتایا جاتا ہے کہ جس شخص کو سات رکنی جے آئی ٹی کا سربراہ بنایاگیا ہے وہ زرداری کے ایک کٹر مخالف ڈاکٹر ذوالفقار مرزا کے عزیز ہیں، مرزا صاحب کسی دور میں زرداری صاحب کے یار ہوتے تھے مگر معلوم نہیں بعد میں کیوں ان بن ہوگئی ، اب دیکھتے ہیں جے آئی ٹی کیا رپورٹ دیتی ہے اور سابق صدر محترم سابق وزیراعظم محترم کی طرح سیدھے جیل جاتے ہیں یا ماضی کی طرح انکا کوئی چھومنتر کام آجائیگا…اصولی طور پر دیکھا جائے تو انکا جیل جانا ہی بنتا ہے ۔
لوائی کے معاملے میں ہوشربا انکشافات ہورہے ہیں ، بتایا یہ جارہاہے کہ 35نہیں70ارب کی منی لانڈرنگ ہوئی 65جعلی بنک اکاو¿نٹس کا انکشاف ہوا ہے اوریہ پانامہ سے بھی بڑا سکینڈل بننے جارہاہے، جو اطلاعات ملی ہیں وہ درست ہیں تو اس سکینڈل کے کچھ کردار ٹیکس ڈائریکٹری کے مطابق ان 23افراد کی فہرست میں شامل ہیں جو کھرب پتی کا درجہ رکھتے ہیں، یہ ٹیکس ڈائریکٹری 1993کی ہے جس میں ایک شخص خواجہ محمد حکیم کے اثاثے 284ٹریلین سے بھی زائد بتائے جاتے ہیں، یعنی صرف یہی اثاثے لے لئے جائیں تو ملک کی تقدیرسنور سکتی ہے ، یہیں پر بس نہیں، ایک اور صاحب خواجہ محمد جاوید دوسرے نمبر پر ہیں جن کے اثاثوں کی مالیت ذرا کم یعنی 258ٹریلین سے زیادہ ہے خواجہ حکیم نے 5کھرب سے زائد ٹیکس بھی اداکیا، دلچسپ امر یہ ہے کہ بظاہر ان کے کاروبار کے بارے میں کسی کو کچھ معلوم نہیں، کاروباری حضرات نے اپنے ارد گرد سب کو دیکھ لیا مگر موصوف انہیں کہیں نظر نہیں آئے …پھر یہ کیا ہیں…؟ خود ہی بتانا چاہیں تو بتادیں، اس سے بہتوں کا بھلا ہوگا ، باقی سپریم کورٹ میں اور جے آئی ٹی میں تو سب کچھ بتانا ہی پڑیگا۔
اس سلسلے کے ایک اور شخص کے بارے میں دلچسپ انکشاف ہوا جس کے اکاو¿نٹس میں اربوں روپے پڑے ہیں ، ایف آئی اے کی ٹیم اس کے پاس پہنچی تو وہ تھر تھر کانپتے ہوئے بتانے لگا کہ میں تو فلاں تاجر کے پاس 25ہزار روپے کی ملازمت کرتا ہوں…میں نے پوری زندگی میں ارب روپے تو کیا کوئی عرب تک نہیں دیکھا۔
جی…! تو کیا سمجھے آپ؟
٭٭٭

 


سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں




دلچسپ و عجیب
کالم
آپ کی رائے
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved