تازہ تر ین

میرا دوست نوازشریف (36

 

ضیا شاہد
یہ ایک واقعہ نہیں ہے۔ ایسے بیسیوں نہیں سینکڑوں واقعات مجھے یاد ہیں۔ سنجیدہ مسائل، علمی بحثوں، قانونی موشگافیوں‘ اپوزیشن کے ردعمل، پریس کی نکتہ چینی‘ ان میں سے کوئی بھی عمل ایسا نہیں جس پر نوازشریف مطلق توجہ دے۔ اس کے ہاں جو خیال ذہن میں آ جائے یا دو چار جی حضوریے واہ واہ کر کے خراج تحسین پیش کر دیں وہی فیصلہ ہو جاتا ہے۔ صرف ایک رکن قومی اسمبلی نے جو بعد میں بہت بڑے مقام پر فائز ہوئے اور ان دنوں نوجوان تصور کئے جاتے تھے‘ ڈرتے ڈرتے پوچھا میاں صاحب اگر قومی اسمبلی کے ارکان وزیراعظم کو ہٹا نہیں سکتے تو وہ اسمبلی میں کیا کام کریں۔ میاں صاحب نے دوسرے کمرے میں جاتے ہوئے کہا کہ آپ لوگ گلی محلے کی صفائی کروائیں اور پانی اور گلیوں کا بندوبست کروائیں جس کے لئے آپ کو فنڈز ملیں گے۔ یہ بات کہہ کر نوازشریف چونکہ کمرے سے غائب ہو چکا تھا لہٰذا وہ نوجوان رکن اسمبلی جو امتداد زمانہ کے ساتھ سیانہ ہو چکا ہے اور بار بار کہتا ہے میرا حقیقی قائد نواز شریف ہے‘ جل کر بولا‘ گویا اب بطور ایم این اے میرا کام موری ممبری کا ہے۔ اور میں نے گلیاں بنوانی، نالیاں تعمیر کروانی ہیں۔
پندرہویں آئینی ترمیم کے وقت ایک اور دلچسپ واقعہ پیش آیا۔ آئینی ترمیم کے وقت قومی اسمبلی میں دو تہائی اکثریت کی ضرورت ہوتی ہے لہٰذا اپوزیشن پارٹی کے علاوہ چھوٹے گروپوں کی بھی حاجت پڑتی ہے۔ اخبارات میں چھپا کہ پیپلزپارٹی کی طرف سے تو ہر دور میں خورشید شاہ جیسے لوگ ہمیشہ آ جاتے ہیں تاہم بلوچستان اور کے پی کے کے دوستوںکی بھی ضرورت پڑی۔ پھر خبریں چھپیں کہ بلوچستان سے اکبر بگٹی صاحب کی پارٹی نے وفاقی حکومت سے 4 کروڑ روپے وصول کئے اور پندرھویں ترمیم کے حق میں اپنے چند ووٹ ڈال دیئے۔ اس خبر پر اکبر بگٹی صاحب نے روزنامہ خبریں پر دس، بیس یا پچاس کروڑ روپے کا ہتک عزت کا دعویٰ کر دیا۔
برسوں پہلے جب میں کراچی میں روزنامہ نوائے وقت کا ریذیڈنٹ ایڈیٹر ہوتا تھا کہ اکبر بگٹی صاحب ہمیشہ میٹروپول ہوٹل میں آ کر ہفتوں ٹھہرتے تھے۔ میری ذوالفقار علی بھٹو کے دور سے ان سے نیاز مندی تھی اور میں اکثر اس وجیہہ و شکیل بلوچ لیڈر سے ملنے جاتا تھا۔ وہ ولی خان، اچکزئی، بزنجو وغیرہ کے خلاف تھے اور بھٹو صاحب کی طرف سے ان پر سیاسی پابندیوں اور نیپ کو خلاف قانون قرار دیئے جانے کے بھی مخالف تھے۔ البتہ انہوں نے اردو زبان کے خلاف ایک تحریک شروع کی تھی جس پر بحث کے لئے میں ہمیشہ ان کے پاس جاتا تھا کیونکہ پاکستان کی قومی زبان ہونے کے علاوہ میں اُردو کو ہمیشہ چاروں صوبوں میں رابطے کی زبان خیال کرتا ہوں۔ بھٹو صاحب کے زمانے میں جب ولی خان اینڈ کمپنی کو حیدرآباد ٹربیونل کے سلسلے میں جیل بھیجا گیا تو حبیب جالب کے انقلابی اشعار کو ہمارے دوست شہباز شریف صاحب نے نئی زندگی دی اور جب تک میرے پرانے ساتھی شعیب بن عزیز ان اشعار کی نشست و برخاست بتاتے رہے۔ شہباز صاحب نے حبیب جالب کے شاعری کو خوب استعمال کیا۔ البتہ عزیزم شعیب کا کہنا ہے کہ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ شہباز شریف نے ”15 لکھی“ مشیروں میں انہیں بھی شامل کیا تھا بلکہ آخری چھ ماہ میں شعیب صاحب ”سیانت“ سے کام لیتے ہوئے یہ کہنا شروع کر دیا کہ شہباز صاحب اب شعروں کے سلسلے میں مجھ سے مشورہ نہیں لیتے جس کا ثبوت یہ ہے کہ اب شہباز صاحب اکثر شعر غلط پڑھتے ہیں اور شعیب صاحب اس بات پر اسی طرح مضطرب تھے جیسے میں نے اپنے وقت کے برصغیر کے معروف موسیقار خورشید انور کو شمع سینما کے قریب اقبال زبیری کے پڑوس میں موجود اپنے گھر میں آہ و فغاں کرتے دیکھا تھا کہ جب سے نور جہاں نے ان کی موسیقی میں گائیکی ختم کی ہے ان کی آواز میں نہ رس رہا ہے نہ لوچ، نہ گائیکی کا لطف ہے اور نہ راگ پہاڑی کا وہ مخصوص انداز جس نے قصور کی نوری کو پاکستان کی ملکہ ترنم بنا دیا تھا۔ میں یہ سطریں لکھ رہا تھا تو کسی نے بتایا کہ میرے دوست شعیب بن عزیز کو بھی نیب نے طلب کرلیا ہے کہ 10 لاکھ سے اوپر ماہوار معاوضے پر سرکاری نوکری سے ریٹائرمنٹ کے بعد کیوں واپس بلا لیا تھا۔ مجھے یہ خبر کچی پکی لگتی ہے کیونکہ میرا دوست 10 لاکھی نہیں 15 لاکھی ہے۔ شعیب بن عزیز کو یہ آرٹ حاصل ہے کہ وہ چودھری ظہور الٰہی کا بھی پی آر او تھا، چودھری پرویز الٰہی کا بھی ڈی جی پی آر بنا اور پرویز الٰہی کی حکومت کے خاتمے پر وہ ظہور الٰہی روڈ سے ماڈل ٹاﺅن شہباز شریف کے گھر زمین دوز سرنگ بنانے میں کامیاب ہو گیا کہ وہ شہباز شریف صاحب کا بھی معتمد خاص تھا۔ پرویز مشرف دور میں وہ میرے پیارے دوست میاں عامر کی کراچی میں یونیورسٹی کا وائس چانسلر بھی مقرر ہوا اور چند ماہ پہلے یہ افواہ عام تھی کہ بذریعہ شہباز شریف وہ پاکستان چائنہ عوامی دوستی کا مشیر اعلیٰ مقرر ہو رہا ہے اور اس کی تنخواہ اور مراعات یو این او کے جنرل سیکرٹری سے کچھ ہی کم ہوں گی، میرے دوست میں اس قدر زبردست صلاحیتیں ہیں کہ آرمی چیف سے چیئرمین نیب تک، صدر ممنون کی جگہ آنے والے نئے صدر کے میڈیا ایڈوائزر سے لے کر مرحوم اسلامی کانفرنس کی نشاة ثانیہ کا ٹھیکہ بھی راحیل شریف کی طرح سعودیوں سے حاصل کر سکتا ہے اور راحیل شریف سے دس گنا زیادہ معاوضہ حاصل کرنے کا حق رکھتا ہے۔ شعیب بن عزیز کے بارے میں یہ بھی معلوم ہوا کہ شہباز شریف نے انہیں ایک تگڑی رقم پاکستانی فلموں کی بہتری کے لئے مرحمت فرمائی اور سید نور اپنی بیگم صائمہ کے ہمراہ کئی فلموں کے پراجیکٹ بنا کر شعیب بن عزیز کے پاس پہنچا کہ پتہ چلا تھا کہ معیاری فلموں کے لئے شعیب بن عزیز حکومت کی طرف سے بلاسود سرمایہ فراہم کریں گے۔ لیکن یہ کہانی نفس مضمون سے کچھ الگ ہے لہٰذا پھر سہی۔
بات ہو رہی تھی اکبر بگٹی کی۔ پاکستان میں پی آئی اے کی تباہی نے جہاں اور بہت نے نقصان پہنچائے ہوں وہاں ملک کے مختلف علاقوں میں صوبوں اور شہروں کو ایک دوسرے سے الگ کر دیا ہے۔ مثلاً مجھے ایک مدت سے یہ پتہ ہے کہ لاہور سے کوئٹہ فلائیٹ سے جائیں تو اگلے روز واپسی نہیں ہو سکتی۔ لاہور کے اخبارات بھی روزانہ کوئٹہ نہیں جا سکتے۔ کراچی سے کوئٹہ اور لاہور سے کوئٹہ روزانہ فلائٹیں جاتی ہیں۔ آپ بہاولپور جائیں تو واپسی پر دو دن فلائٹ نہیں ملتی۔ ڈی جی خان‘ بہاولپور اور دوسرے بہت سے شہر اپنی روزانہ فلائٹ سے محروم ہیں۔ اگر آپ مظفر آباد آزاد کشمیر میں جائیں تو ساٹھ ستر برس میں اسلام آباد سے مظفر آباد فلائٹ موجود نہیں ہے۔ حالانکہ سری نگر اور جموں دونوں علاقے بھارتی ہوائی اڈوں سے مسلسل بذریعہ پرواز منسلک ہیں۔ مظفر آباد میں ایک زمانے میں ایک ایئرپورٹ بنا تھا جس کے آثار آج بھی موجود ہیں شاید بیس نشستوں کا جہاز چلایا گیا تھا لیکن بند کر دیا گیا اور اب وزیراعظم آزاد کشمیر ہوں یا صدر آزاد کشمیر‘ سپیکر اسمبلی ہوں یا ارکان اسمبلی، سپریم کورٹ مظفر آباد کے چیف جسٹس ہوں یا ہائیکورٹ مظفر آباد کے چیف جسٹس اور دوسرے جج صاحبان ‘مظفر آباد سے ساڑھے 5 گھنٹے کی زمینی مسافت کے بعد اسلام آباد پہنچتے ہیں۔ پاکستان کی بہترین فضائی کمپنی پی آئی اے جو دنیا میں اعلیٰ کارکردگی کے باعث نمبر ون سمجھی جاتی تھی جس میں ریٹائرمنٹ کے بعد شاہین پاکستان ایئرمارشل اصغر خان اور ایئرمارشل نور خان بھی سربراہ رہے اسے بدانتظامی، لوٹ کھسوٹ، اقربا پروری اور کراچی کے ایک گروہ کی یلغار نے بُری طرح تباہ کر دیا ہے۔ بہرحال میں اکبر بگٹی کے بلوچستان ہائیکورٹ کے مقدمے کے سلسلے میں کوئٹہ پہنچا۔ آغا خانیوں کا ہوٹل سرینا وہاں کا سب سے بڑا رہائشی پراجیکٹ ہے۔
(جاری ہے)


سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں




دلچسپ و عجیب
کالم
آپ کی رائے
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved