تازہ تر ین

اغوا کار جسم فروشی کرواتے رہے ، پولیس سر پرست بن گئی ، صلح کیلئے دباﺅ ، ” خبریں ہیلپ لائن “ کی ٹیم مظلوموں کے گھر پہنچ گئی

فیصل آباد(رپورٹ:یونس چوہدری، تصاویر راشد علی) فیصل آباد کے نواحی تھانہ ڈجکوٹ کے علاقہ سے اغوا کاروں نے نابالغہ 13سالہ حوا کی بیٹی کو اغوا کر کے راجن پور کے ”چھوٹو گینگ کے رکن“ کو لاکھوں روپے میں فروخت کر دی اور چار سال بعد واپس لا کر ”اغوا کاروں “نے نو عمر لڑکی کو جسم فروشی کے دھندے پر لگا دیا۔ اغوا کنندگان خود بھی اجتماعی زیادتی کر کے حوا کی بیٹی کی عزت تار تار کرتے رہے اور اس کو جان سے مارنے کی بھی کوشش کی گئی اور بچی کو مختلف مقامات پر رکھا گیا اور اغوا کاروں کی رشتہ دار نے بچی کے فرضی والدین بن کر اپنے عزیز سے جعلی نکاح کروا دیا۔ بے پناہ ظلم و تشدد سہنے کے بعد لڑکی وحشی درندوں کے چنگل سے موقع پا کر فرار ہو گئی اور خدا ترس لوگوں کی مدد سے عرصہ سات سال بعد اپنے والدین کے پاس پہنچ گئی جبکہ بچی کے والدین کا کہنا ہے کہ فروری 2018میں تھانہ ڈجکوت میں واقعہ کا مقدمہد رج ہوا مگر پولیس نے ملزمان گرفتار نہیں کیے مقدمہ کا تفتیشی افسر رانا سلیم اور سی پی او آفس میں تعینات ٹیلی فون آپریٹر ندیم قاسم”نوٹوں کی چمک“ پر ملزموں کے حمایتی بن گئے۔ میری کوئی شنوائی نہیں ہو رہی۔ خبریں ہیلپ لائن چیف ایڈیٹر روز نامہ خبریں کی ہدایت پر مظلوم خان کے گھر واقع چک نمبر 86گ ب گرالہ پہنچ گئی۔ یہاں محمد ارشد اس کی بیوی کنیز بی بی نے اپنی بیٹی خدیجہ ارشد کے ہمراہ بتایا کہ 2011میں تیرہ سال کی عمر میں چک نمبر 88گ ب اروڑہ کے اعجاز، رمضان، عمران ان کی بہن رضیہ اور اس کے خاوند مقصود نے ورغلا کر میری بیٹی خدیجہ کو اغوا کر کے چھوٹو گینگ کے رکن عارف کو دو لاکھ میں فروخت کر دی جو کہ اشتہاری اور پولیس کو مطلوب ہے۔ میں بیٹی کے بارے میں پوچھنے کےلئے رضیہ اور مقصود کے پاس گیا جواب میں انہوں نے کہا کہ اگر بچی کے بار ے میں کوئی بات کی یا رپورٹ کروائی تو تمہارا گھر برباد کر دیں گے اور مجھے سنگین نتائج بھگتنے کی دھمکیاں بھی دیں اور میری بیٹی نے واپس آنے کے بعد ہمیں بتایا کہ اعجاز اور اس کے بھائی مجھ سے زیادتی کرتے رہے اور لوگوں سے بھی زیادتی کرواتے تھے اور مجھے حرامکاری کے اڈے پر بھی رکھا گیا اور اسلحہ کے زور پر جسم فروشی کرنے پر مجبور کیا گیا اور رضیہ نے ہماری بیٹی کو اپنی فرضی بیٹی بنا کر اپنے بھائی اعجاز کے ساتھ نکاح کر کے جعلی نکاح نامہ تیار کر لیا۔ انہوں نے بتایا کہ ظلم و تشدد اور زیادتیاں برداشت کرنے کے بعد ہماری بیٹی موقع پا کر فرار ہو گئی اور خدا ترس لوگوں نے ہمارے پاس پہنچا دیا اور تھانہ ڈجکوٹ پولیس نے ہماری بیٹی خدیجہ ارشد کی مدعیت میں ملزموں کے خلاف مقدمہ درج کر لیا جس کے بعد سی پی او آفس کے ٹیلی فون آپریٹر ندیم قاسم نے رابطہ کر کے صلح کےلئے لاکھوں روپے کی پیشکش کی مگر میں نے صلح سے انکار کر دیا اور کہا کہ اگر تم نے صلح نہ کی تو ہم پرچہ رفع دفع کروا دیں گے اور آپریٹر ندیم قاسم نے تفتیشی رانا سلیم سے ملی بھگت کر کے اشٹام پیپر پر جعلی صلح نامہ تیار کر کے مقدمہ پر اثر انداز ہو گیا اور تفتیشی افسر نے مجھ سے بھی 25ہزار روپے رشوت وصول کی۔ مگر اس نے مرکزی ملزم اعجاز کو گرفتار کر کے بےگناہ کر دیا اور دوسرے ملزمان کو گرفتار ہی نہیں کیا۔ ایک سوال کے جواب پر ظلم و ستم کا شکار بچی کے والد نے بتایا کہ ڈجکوٹ پولیس سے انصاف نہ ملنے پر میں نے عدالت سے رجوع کر لیا ہے اور انصاف فراہمی کےلئے چیف جسٹس آف پاکستان، چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ، چیف آف آرمی سٹاف، سی پی او فیصل آباد اور ڈائریکٹر انٹی کرپشن کو درخواستیں دے دیں ہیں اس امر پر مظلوم خاندان نے اعلیٰ حکومتی حکام سے فوری نوٹس لےکر ملزموں کو گرفتار کر کے کیفرکردار تک پہنچانے کا مطالبہ کیا ہے۔


سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں




دلچسپ و عجیب
کالم
آپ کی رائے
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved