تازہ تر ین

اسٹبلشمنٹ کیا نہیں کر سکتی؟

اسرار ایوب….قوسِ قزح
ہم بالعموم یہ سمجھتے ہیں کہ اسٹبلشمنٹ کچھ بھی کر سکتی ہے، حتی کہ الیکشن میں کسی جماعت کو من پسند اکثریت بھی دلا سکتی ہے، یہی نہیں بلکہ جسے چاہے وزیرِ اعظم بھی بنوا سکتی ہے۔ تو کیا ہمیں یاد نہیں کہ 1988ءمیں اسٹبلشمنٹ نے ہر ممکن کوشش کی کہ بے نظیر بھٹووزیرِ اعظم نہ بن سکیں لیکن کیا وہ وزیرِ اعظم بن نہیں گئیں؟ اور 1990ءمیں کسے معلوم نہیں کہ اسٹبلشمنٹ ”اسلامی جمہوری اتحاد“کے بانی صدر غلام مصطفی جتوئی کو وزیرِ اعظم بنانا چاہتی تھی تاکہ میاں نواز شریف Outgrow نہ کر سکیں لیکن کیا ایسا ہو سکا؟ کیا ہم اُس ”غیر جانبدارانہ، منصفانہ اور شفاف“الیکشن کو بھی بھول چکے ہیں جو جنرل پرویزمشرف نے کروایا جب اسٹبلشمنٹ اور بھی زیادہ مضبوط تھی لیکن” ق لیگ“ سادہ اکثریت بھی حاصل نہیں کر سکی؟
یہ تاثر بھی درست نہیں کہ اسٹبلشمنٹ نہ کہے تو ”الیکٹیبلز“ (جنہیں عرفِ عام میں ”لوٹا“کہا جاتا ہے)سیاسی وفاداریاں تبدیل نہ کریں،تو کیا ہم یہ نہیں جانتے کہ سیاست لوٹوں کا ”پیشہ “ہے اور ہر اُس جماعت میں جانا ان کی ذاتی ضرورت ہے جس کا طوطی بول رہا ہویا بولنے والا ہوبالکل ویسے ہی جیسے میڈیا کے ”الیکٹیبلز“یعنی مختلف مشہورو معروف ٹی وی اینکر(دیکھتے ہی دیکھتے )بہتر معاوضے اور پوزیشن کے لئے اُس ٹی وی چینل کے ساتھ منسلک ہونے میں بھی قباحت محسوس نہیں کرتے جس کے خلاف دوسرے چینل پر بیٹھ کر پورے پورے پروگرام کئے ہوتے ہیں، لیکن کیا یہ اینکر اس بیانیے کو تبدیل کر سکتے ہیں جونئے چینل کے چیف ایگریکٹو کا ہوتا ہے؟ لوٹے ہمارے سیاسی نظام کا ناگزیر حصہ ہیں جن کے بغیر(اور تو اور)قائدِ اعظم کی سیاست بھی نہیں چلتی تھی ورنہ وہ انہیں جیب میں اٹھائے کیوں پھرتے، پھینک کیوں نہ دیتے، کیا آپ کو بابائے قوم کا یہ فرمان یاد نہیں کہ ”میری جیب میں چند کھوٹے سکے ہیں“؟
یہ خیال بھی یکسر غلط ہے کہ اسٹبلشمنٹ سیاستدانوں کے خلاف فقط جھوٹے کیس بنواتی رہتی ہے، آپ موجودہ الیکشن میں کسی بھی سیاسی جماعت کے ٹکٹ ہولڈرز پر نظر دوڑائیں، کرپشن فری امیدواروں کی تلاش ہو تو شاید دو چار ہی مل سکیں یا شاید وہ بھی نہ ملیں۔ کرپشن کیونکہ ہماری ثقافت کا حصہ بن چکی ہے لہذا دیگر اداروںکی طرح اسٹبلشمنٹ میں بھی بدعنوان عناصر موجود ہیں لیکن ان کی دال کرپٹ سیاستدانوں کی وجہ سے گلتی ہے بصورتِ دیگر اسٹبلشمنٹ کسی صورت سیاست پر بھاری نہیں پڑ سکتی۔ آپ خود ہی فرمائیے کہ پانامہ لیکس کے ذریعے شریف فیملی کی جو کرپشن منظرِ عام پر آئی کیا وہ انہوں نے خود نہیں کی یا اس بدعنوانی کے حوالے سے میاں صاحب نے” فلور آف دی ہاﺅس“ اور ان کے بچوں نے ٹی وی چینلوں پرسرِعام جو جھوٹ بولے ، کیا وہ اسٹبلشمنٹ نے بلوائے؟ یاآصف علی زرداری اور فریال تالپور کا نام 35ارب کی جس منی لانڈرنگ میں بولا گیا کیاوہ اسٹبلشمنٹ نے کروائی؟
برگیڈیئر اے آر صدیقی کی کتابImage & Reality The Military in Pakistan; پڑھنے کا موقع ملے تو پتہ چلے گا کہ اسٹبلشمنٹ (جس سے مراد اب فوج ہی لی جاتی ہے) کو ہمارے یہاں جو کرشمائی ، دیومالائی اور پر اسرار مقام حاصل ہے وہ حقیقت کے برعکس ہے اور ان حدود و قیود سے مطابقت نہیں رکھتا جنکی پابندی فوج پر لازم ہے ، دوسرے لفظوں میں یوں کہیے کہ میاں صاحب اپنی بدعنوانی پر پردہ ڈالنے کے لئے جسے ”خلائی مخلوق“ کہہ رہے ہیں، وہ بھی دراصل زمینی مخلوق ہی ہے۔
فوج ہمارے ملک کا سب سے مضبوط ادارہ ضرور ہے لیکن اس کی وجوہات باطنی نہیں بلکہ ظاہری ہیں اور وہ یہ کہ فوج میں جس قدریکجہتی ، قانون کی بالادستی اور میرٹ کی پاسداری ہے ،کسی دوسرے ادارے میں نہیں۔یہی تینوں چیزیں اگر اہلِ سیاست بھی سیکھ لیں توآپ خود ہی فرمائیے کہ کیا پاکستان مضبوط ترین ممالک میں شامل نہ ہو جائے، ہمارے پاس اور کس چیز کی کمی ہے؟
اسٹبلشمنٹ کے ہر کام کو شک سے دیکھنا کوئی اچھی بات نہیں، وہ اپنی سمجھ بوجھ کے مطابق اپنا کام کر رہی ہے اوراس میں کام کرنے والے لوگوں کا تعلق بھی اسی بیمار معاشرے سے ہے جس میںہمارے سمیت ہر کوئی اپنی اپنی بساط کے طابق اپنی اتھارٹی کو ”مِس یوز“کر رہا ہے، تو اختیارات سے اسٹبلشمنٹ کا تجاوز کونسی عجیب بات ہے؟ اسٹبلشمنٹ میں کام کرنے والے لوگوں کی ذہانت بھی سقراط، ارسطو یا افلاطون جیسی نہیں بلکہ ہماری آپ کی جیسی یا شاید اس سے بھی کم ہے ، اسٹبلشمنٹ کی حکمتِ عملی اس سے زیادہ کچھ نہیں ہوتی کہ اپنی پسند کے سیاستدان کو مسندِ اقتدار پر بٹھایا جا سکے اور زیادہ مضبوط نہ ہونے دیا جائے۔ مثلاً عمران خان کو حساب کتاب میں رکھنے کے لئے ضروری ہے کہ میاں نواز شریف کو مکمل طور پر ختم نہ کیا جائے،ورنہ میاں صاحب کی وکٹ اڑانے سے پہلے جان بوجھ کر ”نو بال“ کیوں کرائے جاتے؟ لیکن جس طرح نواز شریف کو” آﺅٹ گرو“کرنے سے کوئی نہیں روک سکا، ویسے ہی عمران خان کو بھی نہیں روکا جاسکتا۔ نوازشریف اس لئے قابوآگئے کہ وہ بدعنوانی کی انتہا کو چھو چکے تھے، عمران خان نے وعدوں کی پاسداری کی اور کرپشن سے اجتناب کیا توانہیں فی الواقعہ ایک نیا پاکستان بنانے سے کوئی نہیں روک سکتا بلکہ اس کام میں اسٹبلشمنٹ بھی ان کا ہاتھ بٹانے پر مجبور ہو گی بصورتِ دیگر ان کا حال بھی” بجا طور پر“میاں صاحب سے مختلف نہیں ہو گا۔
(شعبہ قدرتی آفات کے ماہر اورقومی امورپرلکھتے ہیں)
٭….٭….٭


سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں




دلچسپ و عجیب
کالم
آپ کی رائے
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved