تازہ تر ین

یوم شہدائے کشمیر

محمد جمیل …. منزل
13 جولائی ےوم شہدائے کشمیر ان شہداءکی یاد دلاتا ہے جنہوں نے اپنی جانوں کا نذرانہ دے کر آزادی کی مشعل کو اپنے خون سے روشن کئے رکھا۔ مہاراجہ کے مظالم کے خلاف جو تحریک 13 جولائی1931ءکو 22کشمیریو ں کو ےکے بعددیگرے شہیدکر نے پر شروع ہوئی اور قطع نظر اس کے کہ ریاستی تشدد کے ذریعے اسے کچل دیا گیا، مسلمانان کشمیر کی بیداری میں اس نے اہم کرادار ادا کیا۔ اسی تحریک کے نتیجے میں انگریز حکومت مہاراجہ کے مظالم کی تحقیقات کرانے پر مجبور ہوئی اور گلانسی کمیشن کی رپورٹ کے بعد مسلمانوں کو یہ احساس ہوا کہ تحریک کو مضبوط بنیادوں پر استوار کرنے کے لیے ایک تنظیم کی ضرورت ہے ۔ لہٰذا چودھری غلام عباس اور شیخ عبداللہ نے ”آل جموں اینڈ کشمیر مسلم کانفرنس“ تشکیل دی اور 15 سے 17 اکتوبر 1932ءمیں اس کا پہلا اجلاس سرینگر میں منعقد ہوا۔ 1934ءمیں ریاست کے پہلے انتخابات ہوئے اور مسلم کانفرنس نے 21 نشستوں میں سے 16 پر کامیابی حاصل کر لی جبکہ دو برس بعد 1936 ءمیں 21 میں سے 19نشستیں حاصل کر لیں۔
19جولائی 1947ءکو مسلمانوں کی واحد نمائندہ جماعت مسلم کانفرنس نے کنونشن منعقد کر کے پاکستان کے ساتھ الحاق کی قرار داد پاس کی، جس میں کہا گیا :© ©”مسلم کانفرنس کا یہ کنونشن اس نتیجہ پر پہنچا ہے کہ جغرافیائی حالات، مجموعی آبادی کی 80 فیصد مسلم اکثریت، پنجاب کے اہم دریاﺅں کی ریاست میں گزرگاہیں، زبان، ثقافتی، نسلی اور معاشی تعلقات اور ریاست کی سرحدوں کا پاکستان سے ملحق ہونا ایسے حقائق اس بات کو ضروری قرار دیتے ہیں کہ ریاست جموں و کشمیر پاکستان کے ساتھ الحاق کرے“۔ اس قرارداد کا اعلان ہوتے ہی کانگریس متحرک ہو گئی، پولیس اور فوج میں تبدیلیوں کے علاوہ آر ایس ایس اور ہندو مہا سبھا کے جتھوں کو ریاست میں بلوا لیا گیا۔ ان تمام انتظامات کے باوجود 14 اگست کو جب پاکستان ایک آزاد ملک کی حیثیت سے دنیا کے نقشے پر ابھرا تو پوری ریاست پاکستان زندہ باد کے نعروں سے گونج اٹھی۔ جب کشمیریوں کی مدد کے لیے رضاکار کشمیر میں داخل ہوئے تو یہ بھارت کی حکومت ہی تھی جس نے اقوام متحدہ میں مسئلہ کشمیر اٹھایا اور سلامتی کونسل نے اس تنازع کے حل کے لیے قراردادیں پاس کیں۔
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں کشمیری عوام کو یہ حق تفویض کیا گیا کہ وہ استصواب رائے کے ذریعے پاکستان یا بھارت کے ساتھ الحاق کر لیں۔ بہر کیف ےہ مسئلہ آج بھی متنازعہ ہے اور بھارت کے ساتھ نام نہاد الحاق کو کشمیری عوام کی تائید حاصل نہیں۔ مہاراجہ ہری سنگھ کا بیٹا کرن سنگھ اپنی سوانح حیات میں لکھتا ہے کہ ”مہاراجہ ہری سنگھ کو بڑی پیچیدہ صورتحال کا سامنا تھا کہ وہ بھارت یا پاکستان میں سے کس کے ساتھ الحاق کرے۔ اگر وہ پاکستان کے ساتھ الحاق کرتا تو ریاست کا ہندو علاقہ شمالی ہندوستان میں فرقہ وارانہ فسادات میں اپنا حساب چکا لیتا۔ اگر وہ بھارت سے الحاق کرتا تو ریاست کی 75 فیصد مسلم آبادی کے علیحدہ ہونے کا خطرہ تھا۔ اس پس منظر میں ریاست کی پرامن تقسیم دونوں قوموں میں ہونی چاہیے تھی“۔ اس اقتباس سے یہ واضح ہو جاتا ہے کہ مہاراجہ ہری سنگھ بھارت کے ساتھ الحاق کے لیے تیار نہیں تھا، مگر ایک سازش کے تحت کشمیر تک رسائی کے لیے مسلم اکثریتی علاقہ گورداسپور، ریڈکلف نے کروڑوں روپے رشوت لے کر بھارت کو دے دیا اور ماﺅنٹ بیٹن کو گورنر جنرل کا عہدہ دے کر کشمیر پر قبضہ کر لیا گیا۔
برصغیر کی آزادی اور اس کی تقسیم کے وقت سرحدوں کے تعین کے بارے میں باﺅنڈری کمیشن کے لئے رہنما اصول یہ تھا کہ ملحقہ مسلم اکثریتی علاقے پاکستان اور ہندو اکثریت والے علاقے بھارت کے حوالے کر دیئے جائیں۔ برصغیر کی ریاستوں کے بارے میں واضح فیصلہ نہ کیا گیا اور قانون آزدای ہند میں صرف یہ کہا گیا کہ ہندوستانی ریاستوں سے تاج برطانیہ کی عملداری ختم ہو گئی ہے۔ بعد ازاں ماﺅنٹ بیٹن نے والیان ریاست کو مشورہ دیا کہ وہ اپنے محل وقوع اورآبادی کے مفادات کو مدنظر رکھتے ہوئے پاکستان یا بھارت میں سے کسی ایک ملک کے ساتھ الحاق کر لیں۔ 15 اگست 1947ءسے قبل تمام ریاستوں نے بھارت یا پاکستان کے ساتھ الحاق کا فیصلہ کر لیا ماسوائے جو ناگڑھ، حیدر آباد اور کشمیر جن کے الحاق کے سلسلے میں تنازع پیدا ہو گیا۔ 15 اگست کو نواب جوناگڑھ نے اعلان کیا کہ انہوں نے پاکستان میں شامل ہونے کا فیصلہ کر لیا ہے، جسے 15 ستمبر کو پاکستان نے قبول کر لیا، مگر ماﺅنٹ بیٹن نے ایک تار کے ذریعے قائداعظم ؒکو پیغام دیا کہ جو ناگڑھ کی پاکستان میں شمولیت ان اصولوں کی نفی ہے جن کی بنیاد پر برصغیر کی تقسیم عمل میں آئی۔
مسئلہ کشمیر پر پاکستان اور بھارت کے درمیان دو بھرپور جنگیں اور کم از کم دو چھوٹی جنگیں ہو چکی ہیں۔ پچھلے 7 6 برسوں میںکئی مرتبہ مذاکرات ہوئے جو بھارت کی ہٹ دھرمی کی وجہ سے بے نتیجہ رہے۔ دریں اثناءکشمیریوں نے بے مثال قربانیاں دیں اور 1988ءسے لے کر آج تک تقریباً 90 ہزار کشمیریوں نے اپنی جانوں کا نذرانہ دے کر ایک نئی تاریخ رقم کی، جس نے بھارتی قیادت کو سوچنے پر مجبور کر دیا ہے کہ اس مسئلے کا کوئی نہ کوئی حل نکلنا چاہیے۔ مگر 13 دسمبر 2001کو بھارتی پارلیمنٹ پر دہشت گردوں کے حملے کی آڑ میں بھارت نے کشمیر، پنجاب، راجستھان اور سندھ کی سرحدوں پر فوج کا زبردست اجتماع کیا اور دونوں ممالک کی فوجیں آمنے سامنے آ کھڑی ہوئیں۔ اس صورت حال سے بھارت اور پاکستان کے امن پسند شہری تشویش میں مبتلا تھے کہ کہیں چھوٹی سی چنگاری سے شروع ہو کر آگ اس پورے خطے کو بھسم نہ کر دے۔ گو کہ پوری دنیا کشمیر کو فلیش پوائنٹ تصور کر تی ہے، مگروہ بھارت کی آبادی، نام نہاد جمہوریت اور بڑی مارکیٹ کے حوالے سے اس پر دباﺅ ڈالنے کے تیار نہیں۔
29برس قبل کشمیریوں نے جو مسلح جدوجہد شروع کی تھی، اس میں 11ستمبر 2001ءکے واقعات کے بعد کمی آئی ہے، مگر یہ بھی ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ بھارتی چھاﺅنیوں پر حملے اور کرنل بریگیڈیئر تک کے رینک کے افسران کی ہلاکتیں کسی وقتی ابھار کا پتہ نہیں دیتیں بلکہ سٹریٹجی کے حوالے سے کبھی ایڈوانس کرنے اور کبھی پیچھے ہٹنے کے مراحل آتے رہیں گے۔ آج بھارت نے ایک طرف پاکستان کے ساتھ تمام مسائل اور تنازعات طے کرنے کے لیے مذاکرات کاذکر کرتا ہے۔ مگر دوسری جانب کشمیر میں تشدد آمیز کاروائیاں بھی جاری رکھے ہوئے ہے، نیز کشمیر میں جب بھی مزاحمت بڑھتی ہے تو بھارت پاکستان کو موروالزام ٹھہراتا ہے۔ بہرکیف بھارت کے حکمرانوں میں سے کوئی بھی اگر یہ سمجھتا ہے کہ وہ روایتی ہتھیاروں کی برتری یا فوج کی اکثریت کی بنیاد پر لاہور میں جشن فتح منا سکتا ہے یا راجستھان سے یلغار کر کے سندھ کو پاکستان سے کاٹ سکتا ہے، یا وہ دریاﺅں کا رخ موڑ کر یا پانی روک کر پاکستان کو صحرا بنا سکتا ہے تو وہ احمقوں کی جنت میں رہ رہا ہے، کیونکہ پاکستان اس کے بعد ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھا نہیں رہے گا۔ دنیا بھر کے تجزیہ نگار یہ سمجھتے ہیں کہ اگر پاکستان کو دیوار کے ساتھ لگانے کی کوشش کی گئی یا جنگ مسلط کی گئی تو بھارت کا فتح کی سمت چھوٹا سا قدم بھی پاکستان کو مجبور کر سکتا ہے کہ وہ غیر روایتی ہتھیار استعمال کرے۔ آج بھارت اور پاکستان کے عوام کی اکثریت جنگ کے خلاف ہے، کیونکہ اس جنگ میں جو بھی فاتح ہو گا وہ بھی مکمل تباہی سے دو چار ہو گا، بالفاظ دیگر اس بھیانک جنگ میں فاتح اور مفتوح کا تصور ہی مٹ جائے گا۔
تاریخ گواہ ہے کہ آزادی کے جذبے کو کچلنے کے لیے فوجی طاقت کا استعمال ہمیشہ بے ثمر ہی رہتا ہے۔ تاریخ انسانی اس امر پر بھی گواہ ہے کہ ظلم کبھی نہیں پنپتا۔ برطانوی سامراج کا حال ہمارے سامنے ہے، جس کی سلطنت میں سورج کبھی غروب نہیں ہوتا تھا ،اب وہاں سورج طلوع ہی نہیں ہوتا۔ ویت نام میں امریکا اور افغانستان میں سوویت روس کو جو سبق حاصل ہوا، بھارت کے عقابوں کو ان سے عبرت پکڑنی چاہیے کہ کوئی بھی عظمت کے خواب دیکھنے والی یا توسیع پسندانہ عزائم رکھنے والی قیادت جب مہم جوئی کے راستے پر چل نکلتی ہے تو صرف عوام کی زبوں حالی پر ہی نہیں، بلکہ بڑی سے بڑی سلطنت یا ایمپائر کی شکست وریخت پر منتج ہوتی ہے۔ امید ہے کہ بھارتی قیادت ٹھوس زمینی حقائق کو مدنظر رکھتے ہوئے جوش جنوں پر غلبہ حاصل کرے گی اور جس طرح پاکستان کو فریق تسلیم کرتی ہے، اسی طرح کشمیریوں کو بھی فریق تسلیم کر کے مذاکرات کو منطقی انجام تک پہنچائے گی۔
(کالم نگار سینئر صحافی ہیں)
٭….٭….٭


سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں




دلچسپ و عجیب
کالم
آپ کی رائے
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved